’یہ ہماری جنگ نہیں‘: مکہ اتحاد کے تحت سعودی عرب میں فوجی دستے بھیجنے کے معاملے پر ترکی میں بحث

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 9 منٹ

مکہ دفاعی اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب میں فوجی دستے تعینات کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان اور ترکی میں اس کے ممکنہ اثرات پر بحث جاری ہے۔

پاکستان نے 30 سے 40 ہزار فوجی سعودی عرب بھیجنے کی میڈیا رپورٹس پر کہا ہے کہ یہ آپریشنل رازداری کا معاملہ ہے اور اسے میڈیا میں قیاس آرائیوں کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا۔

دوسری جانب ترکی میں بھی یہ معاملہ زیرِ بحث ہے اور حکومت کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے اس معاہدے کو فعال کرنے کی شرائط پر محتاط ردِعمل دے رہے ہیں۔

ترک میڈیا سعودی عرب میں ہونے والے اجلاس اور مشترکہ اعلامیہ پر ترک وزیرِ خارجہ کے بیان کا حوالہ دے رہا ہے جس میں اُن کا کہنا ہے کہ پانچ اکتوبر کے اجلاس میں یہ بات ہوئی ہے کہ سعودی عرب کو ’کس قسم کی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔‘

حکومت کے حامی کئی میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ اس معاونت میں فوجی سازوسامان کی فراہمی تو شامل ہو سکتی ہے، لیکن فوجیوں کی تعیناتی نہیں۔

خیال رہے کہ پیر کو ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک نے سعودی عرب میں تیزی سے فوجی دستے تعینات کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سات اگست 2026 کو طے پانے والا وہ دفاعی معاہدہ پہلی بار فعال ہونے جا رہا ہے جس کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اگرچہ مشترکہ اعلامیے میں یمن یا حوثیوں کا نام نہیں لیا گیا تاہم مکہ اور مدینہ پر حملوں کی مذمت کی گئی جبکہ سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے اجلاس کے بعد ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس نے حملوں سے نمٹنے کے لیے یکجہتی اور مشترکہ موقف کی تصدیق کی اور ان حملوں کے خلاف اجتماعی جوابی صلاحیتوں کو فعال کرنے کی تصدیق کی۔‘

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی اور ترک فوجیوں کی تعیناتی کب ہو گی اور اس کا جنگ پر کیا سٹریٹجک اثر پڑے گا۔

ترکی میں بحث اور سرکاری میڈیا کا محتاط ردِعمل

ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ’ٹی آر ٹی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ حقان فیدان نے باہمی دفاع کی شق کے نفاذ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

فیدان نے سعودی عرب کے ’انتہائی تعمیری رویے‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ان تمام پہلوؤں پر بات چیت کی کہ یمن کے معاملے میں سعودی عرب کو کس قسم کی حمایت فراہم کی جا سکتی ہے اور مسئلے کے پرامن حل کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے مکہ معاہدے کو ’ادارہ جاتی شکل دینے‘ کے اقدامات اور اتحاد کے لیے ایک روڈ میپ پر بھی بات کی، تاہم اُنھوں نے اس کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔

’ٹی آر ٹی‘ کے چھ اکتوبر کو نشر ہونے والے بلیٹن میں فیدان کے تبصروں کو تو نمایاں کیا گیا لیکن معاہدے کو فعال کرنے کی شق کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے چھ اکتوبر تک مشترکہ بیان ترکی زبان میں شائع نہیں کیا تھا، البتہ اس نے پانچ اکتوبر کو انگریزی میں یہ اعلامیہ جاری کیا تھا۔

فوج بھیجنے کے بجائے فوجی تعاون پر زور

ترک حکومت نواز ذرائع ابلاغ نے پانچ اکتوبر کے بیان کے بعد سعودی عرب میں کسی بھی ترک فوجی دستے کی تعیناتی کے امکان کو بڑے پیمانے پر کم اہمیت دے کر پیش کیا۔

حکومت نواز ’اے خبر نیوز چینل‘ کی ویب سائٹ نے فوجی حکمتِ عملی کے ماہر کمال اولچار کے حوالے سے کہا: ’فوجی تعیناتی اور صلاحیتیں الگ [چیزیں] ہیں۔۔۔ بٹالین، کمانڈوز یا بریگیڈز بھیجنا ایک فوجی تعیناتی کے مترادف ہو گا۔ لیکن صلاحیتوں کی تعیناتی ایک مختلف صورتِحال ہو گی۔‘

اولچار نے ترکی کے مقامی طور پر تیار کردہ خودکش ڈرونز کو اس کی ’سب سے اہم صلاحیتیں‘ قرار دیا اور کہا کہ ترکی ریاض کو اپنے فضائی دفاعی نظاموں کے بعض اجزا کے ساتھ وہ فوجی اہلکار بھی فراہم کر سکتا ہے جو انھیں چلا سکیں۔

اُنھوں نے مشترکہ بیان میں کسی بھی ممکنہ تعیناتی کے لیے ممالک کی پارلیمنٹ سے منظوری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوجی تعیناتی کی ترک پارلیمنٹ سے منظوری لینا ہو گی۔

سلامتی امور کے مبصر کوشکن باسبوغ نے حکومت نواز سی این این ترک نیوز چینل کو بتایا کہ مشترکہ بیان کی ’فوری طور پر یہ تشریح نہیں کی جانی چاہیے کہ سعودی عرب میں فوجی دستے تعینات کیے جائیں گے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ترکی کا کردار مسلح ڈرونز پر مشتمل ہو سکتا ہے۔

حکومت نواز ملیئت اخبار کے مدیرِ اعلیٰ اوزائے شندیر نے بھی این ٹی وی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ بیان سے یہ اشارہ نہیں ملتا کہ باہمی دفاعی شق کے تحت سعودی عرب میں لڑاکا فوج تعینات کی جائے گی۔

اگرچہ حکومت کے حامی بیشتر ذرائع ابلاغ نے محتاط مؤقف اختیار کیا، لیکن حکومت نواز ترکیہ اخبار نے زیادہ جرات مندانہ مؤقف اپنایا اور چھ اکتوبر کی ایک سرخی میں کہا کہ ’ترک فوجی سعودی عرب میں تعینات کیے جائیں گے۔‘

’یہ ہماری جنگ نہیں ہے‘

کئی ترک مبصرین نے سعودی عرب میں فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی پر تنقید کی ہے۔ دیگر مبصرین نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونِ ملک فوجی تعیناتی کے لیے قانونی طور پر پارلیمانی منظوری درکار ہوتی ہے، جو تاحال حاصل نہیں کی گئی۔

امریکی کانگریس کے رکن جو ولسن کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے صحافی حسین گونائی نے کہا کہ سعودی عرب میں ترک فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی پر امریکی حکام ’سب سے پہلے خوشی منانے والے‘ تھے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایسا اقدام ترک مفادات سے زیادہ امریکی مفادات کی خدمت کرے گا۔

سخت گیر مؤقف رکھنے والے ریٹائرڈ ایڈمرل جیم گوردینیز نے کہا کہ حوثیوں کے ساتھ کسی تصادم میں ترکی کی شمولیت ’اسرائیل اور امریکہ پر علاقائی دباؤ کم کر دے گی۔‘

گوردینیز نے کہا: ’مکہ معاہدہ ترکی کو اس کے اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات سے دور کرکے ایسی فوجی پوزیشن میں کیوں دھکیل رہا ہے جو امریکہ۔اسرائیل محور کے علاقائی اہداف سے ہم آہنگ ہو سکتی ہے؟ ترکی کو یمن کی ایسی جنگ کا فریق نہیں بننا چاہیے جو اس کی اپنی نہیں ہے۔‘

مبصر آردان زین ترک نے کہا: ’آئیے اس بات پر متفق ہوں: اس ملک کے بیٹوں کا یمن میں کوئی کام نہیں۔ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ ہمیں سعودی عرب کا دفاع کیوں کرنا چاہیے؟ جب [سعودی] تیل اور پیٹرو ڈالرز سے امریکہ فائدہ اٹھا رہا ہے تو اگلی صف میں ہم کیوں کھڑے ہوں؟‘

بائیں بازو کے مبصر فاتح یاشلی نے بھی حوثیوں کے خلاف مکہ معاہدے کے سخت گیر مؤقف کا موازنہ اسرائیل کے خلاف مسلم اکثریتی ممالک کی مبینہ بے عملی سے کیا۔

کئی مبصرین نے کسی بھی ممکنہ فوجی تعیناتی کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھائے اور اس بات کو نمایاں کیا کہ ترکی کی پارلیمان نے ابھی تک مکہ معاہدے کی توثیق نہیں کی ہے۔

خارجہ پالیسی کی تجزیہ کار گونول تول نے ایکس پر انگریزی زبان میں پوسٹ کرتے ہوئے کہا: ’ترک قانون بیرونِ ملک فوجی تعیناتی کے لیے پارلیمانی اجازت کا تقاضا کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ (کم از کم فی الحال) ترکی کا کردار زمینی فوجیوں کی تعیناتی کے بجائے دیگر فوجی صلاحیتوں پر مشتمل ہونے کا زیادہ امکان رکھتا ہے۔‘

پاکستان کا موقف کیا ہے؟

پاکستان کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدے کے اعلان کے بعد سے یہ بارہا کہا جا چکا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ دفاع ہے۔

منگل کو پاکستان کی وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنے عزم کو پہلے ہی انتہائی واضح کر چکا ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کی سودے بازی کی گنجائش نہیں ہے۔‘

گذشتہ ماہ ہی ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، معاہدے کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ مشترکہ دفاعی ڈھال فراہم کرنا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوا تو تینوں ممالک مل کر فیصلہ کریں گے، تاہم مکہ دفاعی معاہدے کی آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں اور کوئی بھی ملک یا فوج اپنی آپریشنل تفصیلات جاری نہیں کرتی۔

گذشتہ ہفتے خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستانی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے 30 سے 40 ہزار فوجی سعودی عرب میں تعینات کیے ہیں۔ تاہم منگل کو پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے ان خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’اجتماعی دفاعی صلاحیت کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق تفصیلات کا تعلق آپریشنل رازداری سے ہے اور انھیں میڈیا کی قیاس آرائیوں کا موضوع نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کی فوج کا ایک دستہ رواں برس اپریل سے سعودی عرب میں تعینات ہے۔

اس بارے میں اس وقت سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان سے ایک فوجی دستہ مشرقی خطے میں واقع شاہ عبدالعزیز فضائی اڈے پر پہنچا ہے۔

سعودی وزارت دفاع کی طرف سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی دستہ پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ عسکری ہم آہنگی کو مضبوط بنانا، عملی تیاری کے معیار کو بلند کرنا، اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے فروغ میں تعاون فراہم کرنا ہے۔

واضح رہے کہ اپریل 2015 میں پاکستانی پارلیمنٹ نے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت والے اتحاد میں شامل ہونے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ اس فیصلے سے سعودی عرب کی ایران کے حمایت یافتہ باغیوں کے خلاف ایک وسیع سنی محاذ بنانے کی کوششوں کو دھچکا سمجھا گیا تھا۔

پاکستانی اراکین پارلیمنٹ نے کہا تھا کہ ’پاکستان کو یمن تنازع میں غیر جانبدار رہنا چاہیے تاکہ وہ بحران کے خاتمے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر سکے۔‘

اس اعلان کی کیا اہمیت ہے؟

حوثیوں کے خلاف فوجی مہم شروع ہوتے ہی اس اعلان کا وقت علامتی اہمیت کا حامل ہے۔ خلیج میں ایک اور مغربی اہلکار نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ سعودی اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ انھیں حوثیوں کے خلاف جوابی فوجی مہم شروع کرنے کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل ہو۔

پاکستان مسلم دنیا کا واحد ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک ہے۔ اس نے خود کو غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کے طور پر بھی کام کیا ہے۔

ترکی نیٹو کا رکن ہے اور اس نے خود کو اسرائیل کے حریف کے طور پر دکھایا ہے۔ اسرائیل غزہ میں جنگ کی وجہ سے عرب اور مسلم دنیا میں شدید غیر مقبول ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ماہرین نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی قرار دیا ہے۔

مکہ معاہدے کا حوالہ دے کر، سعودی عرب اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف اس کی جوابی کارروائی کو وسیع علاقائی حمایت حاصل ہے۔