ملکیت کا تنازع جس پر پولیس نے بھینس کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی، دلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انسانوں کی ولدیت، شناخت اور بعض اوقات کسی جرم کو ثابت کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جانا ایک عام سی بات ہے، لیکن انڈین ریاست بہار میں ایک ایسا غیر معمولی تنازع سامنے آیا ہے جس میں جانور کی ملکیت کا تنازع حل کرنے کے لیے پولیس نے ایک بھینس کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
معاملہ کچھ یوں ہے کہ بہار کے گاؤں سیوتر کے رہائشی سورج یادو اور اُن کے پڑوس کے گاؤں سے تعلق رکھنے والے پرکاش مانجھی ایک ہی بھینس پر اپنی اپنی ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
اور جب یہ معاملہ طول پکڑ کر سیاسی رنگ اختیار کر گیا تو مقامی انسپیکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) وکاس ویبھو نے اس معاملے کو جلد از جلد سائنسی طریقۂ کار کو بروئے کار لاتے ہوئے سلجھانے کا حکم صادر کیا، جس کے بعد فیصلہ ہوا کہ مبینہ طور پر چوری ہونے والی بھینس اور اُس کی مبینہ کٹڑی (بھینس کا مادہ بچہ) کا ڈی این اے کروایا جائے گا تاکہ ملکیت کا تنازع حل ہو سکے۔
سورج یادو نامی شخص کا دعویٰ ہے کہ کچھ روز قبل اُن کی بھینس گم ہو گئی تھی۔ انھوں نے پولیس میں اِس کی رپورٹ درج نہیں کروائی اور اپنے طور پر بھینس کو تلاش کرنے کا کام شروع کیا۔ سورج یادو کا دعویٰ ہے کہ اُن کے پاس گم ہونے والی بھینس کی کٹڑی (مادہ بچہ) بھی موجود ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق چند دنوں کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ بھینس قریبی گاؤں میں پرکاش مانجھی نامی شخص کے گھر میں بندھی ہوئی ہے۔ سورج یادو وہاں پہنچے اور بھینس کو کھول کر اپنے گھر لے آئے۔ دوسری جانب پرکاش مانجھی کا کہنا ہے کہ بھینس قانونی طور پر اُن کی ملکیت ہے اور وہی اس کے اصل مالک ہیں۔
جب دونوں افراد کے درمیان تنازع نے طول پکڑا تو مقامی پولیس نے بھینس کو تھانے پر لا کر باندھ دیا اور پھر ابتدائی طور پر پولیس نے ایک روایتی حل یہ نکالا کہ بھینس کو کُھلا چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ خود اپنے گھر کا راستہ ڈھونڈ لے۔
معاملے نے سیاسی رنگ کیسے اختیار کیا؟
مقامی افراد کے مطابق کھلا چھوڑنے پر بھینس سورج یادو کے گھر پہنچ گئی، لیکن اس فیصلے سے پرکاش مانجھی مطمئن نہ ہوئے اور انھوں نے باقاعدہ طور پر اس معاملے کی شکایت درج کروا دی۔ سورج یادو کا دعویٰ ہے کہ اُن کے گھر اس بھینس کا بچہ بھی بندھا ہوا ہے۔
تاہم مقامی پولیس سٹیشن کے تھانیدار اجے کمار کا کہنا ہے کہ بھینس دو دنوں تک تھانے میں بندھی رہی، پھر جب سورج یادو کے حامیوں نے ہنگامہ مچایا اور شہادت دی کہ بھینس سورج یادو کی ہے، تو انھوں نے اس بھینس کو اُن کے حوالے کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگدھ رینج کے آئی جی وکاس ویبھو نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے میں اب تک دو ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں: ایک مقدمہ ایس سی/ایس ٹی (انسداد مظالم) ایکٹ کے تحت درج ہوا جبکہ دوسرا بھینس کی ملکیت کے متعلق۔
بھینس کی ملکیت کا یہ معاملہ جلد ہی مقامی سیاست کا موضوع بھی بن گیا۔
سابق رُکن اسمبلی اجے یادو نے پولیس کے مقامی اعلیٰ حکام سے ملاقات کر کے سورج یادو نامی فریق کے ساتھ ناانصافی برتنے کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ ایک غریب آدمی کو بھینس کے تنازع پر اتنے مہنگے قانونی مقدمات میں الجھانا مناسب نہیں۔
دوسری طرف، ہندستانی عوام مورچہ (ایچ اے ایم) کے قومی ترجمان شیام سندر شرن نے پرکاش مانجھی کے حق میں پولیس سے ملاقات کی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہX
ڈی این اے ٹیسٹ کا فیصلہ
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مگدھ رینج کے آئی جی وکاس ویبھو نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ دونوں فریق اپنے دعووں پر قائم ہیں، اس لیے سائنسی شواہد کی مدد لینا ضروری ہو گیا تھا۔
پولیس نے دونوں دعویداروں سے اُن کے پاس موجود بھینسوں کے ریکارڈ طلب کیے، جن میں اس کی نسل اور خاندانی معلومات موجود ہو سکتی ہیں۔
تنازع کے بیچ موجود بھینس کے ڈی این اے کا موازنہ اُس کے مبینہ بچے (جو سورج یادو کے بقول اُن کے پاس موجود ہے) سے کیا جائے گا تاکہ اصل مالک کا تعین کیا جا سکے۔
مقامی ڈی آئی جی نے کہا کہ آج انھوں نے اپنے افسران کو متعلقہ تھانے روانہ کیا ہے تاکہ گاؤں والوں سے پوچھ گچھ کریں اور شواہد جمع کریں۔
انھوں نے کہا کہ فی الحال اس تنازعے کا واحد حل ڈی این اے ٹیسٹ نظر آتا ہے کیونکہ سورج یادو کا کہنا ہے کہ اُن کی بھینس کا بچہ یہ ثابت کر دے گا کہ یہ اُن کی ملکیت ہے۔
یہ خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی اور صارفین کے دلچسپ تبصرے نظر آئے۔ ایک صارف نے لکھا: 'بہار پولیس شاید دنیا کی پہلی فورس بن جائے گی جو بھینس کی ملکیت ڈی این اے سے ثابت کرے گی!'
ایک نے لکھا کہ 'بھینس کو شاید خود بھی نہیں معلوم ہو گا کہ وہ اتنی بڑی 'سیلیبریٹی' بن چکی ہے۔'
امت یادو نامی ایک صارف نے لکھا: ’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس والا زمانہ گیا، اب تو جس کی ڈی این اے رپورٹ اس کی بھینس والا زمانہ آ گيا ہے۔‘
بہرحال اس معاملے میں ابھی جانچ جاری ہے اور نتیجہ سامنے آنے پر بھینس کو اس کے اصل مالک کے حوالے کیا جائے گا۔
بھینس کا یہ معاملہ غیر معمولی لگ سکتا ہے، لیکن بہار پولیس اس سے قبل جانوروں سے متعلق اس نوعیت کی شکایات سے نمٹ چکی ہے۔
بہار کے علاقے پورنیہ میں، ایک شخص پولیس کے پاس ایک بیل کی 'گرفتاری' کی درخواست لے کر پہنچا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ بیل نے اس کا پیچھا کیا، سینگوں سے اس پر حملہ کیا اور اسے زمین پر گرا دیا اور زخمی کیا۔ پولیس نے بالآخر فریقین کو ایک ساتھ بلایا اور بات چیت کے بعد شکایت واپس لے لی گئی۔
اسی طرح پورنیہ ہی میں پولیس تین بکریوں کی موت کی تحقیقات بھی کر چکی ہے۔



















