’خطرناک شخص‘ جس نے جان بوجھ کر مردوں اور نوجوانوں میں ریپ کے ذریعے وائرس منتقل کیا

،تصویر کا ذریعہNorthumbria Police
- مصنف, ّڈنکن لیدرڈیل
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
برطانیہ کے شہر نیوکاسل کی کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ ایک ’خطرناک‘ ریپسٹ نے جان بوجھ کر پانچ نوجوان مردوں اور 15 اور 17 برس کے دو لڑکوں کو ایچ آئی وی منتقل کیا۔ اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جس میں کم از کم 23 سال قید شامل ہے۔
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ 43 سالہ ایڈم ہال نے 2016 سے 2023 کے دوران نیوکاسل میں آن لائن یا بارز میں نشانہ بنائے گئے ’کمزور‘ مردوں کو ’درد اور نقصان‘ پہنچانا چاہا۔
سنڈرلینڈ شہر کے علاقے واشنگٹن کے رہائشی ہال کو سات متاثرین کو شدید جسمانی نقصان پہنچانے کا مجرم قرار دیا گیا۔ انھوں نے ان میں سے چار کا ریپ کیا تھا۔
متاثرین نے کہا کہ وہ خود کو ’پامال‘ محسوس کرتے رہے اور انھیں عمر بھر کی بیماریاں اور صدمہ لاحق ہوا۔ جج ایڈورڈ بینڈلوس نے کہا کہ ’خود غرض‘ ہال نے متاثرین سے ان کا مستقبل چھین لیا ہے۔
نارتھمبریا پولیس نے بتایا کہ ہال کے مجرم ثابت ہونے کے بعد مزید مشتبہ متاثرین سامنے آئے ہیں اور ایک اور تفتیش جاری ہے۔
ہال نے خود کو سزا سنائے جانے کی عدالتی سماعت کے لیے جیل سے باہر آنے سے انکار کیا تھا۔ استغاثہ کی وکیل کاما میلی کا کہنا ہے کہ ہال نے متاثرین کو ’جان بوجھ کر ایچ آئی وی منتقل کرنے‘ کے لیے ’ریپ کا استعمال کیا۔‘
عدالت کو بتایا گیا کہ 2010 میں اپنی تشخیص کے بعد سے صحت کے ماہرین ہال کے رویے پر ’انتہائی تشویش‘ میں مبتلا رہے اور انھوں نے بار بار ہال کو دوسروں کو لاحق خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ہال اس بات سے ’بخوبی آگاہ‘ تھے کہ ان کے لیے ادویات لینا ضروری ہے تاکہ وائرس غیر متعدی رہے اور یہ کہ ان کے لیے اپنے جنسی ساتھیوں کو ایچ آئی وی کی تشخیص کے بارے میں بتانا لازم تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت کو بتایا گیا کہ انھوں نے دونوں معاملوں میں جھوٹ بولا۔ میلی کا کہنا تھا کہ ہال نے ’جان بوجھ کر‘ ادویات نہ لینے کا فیصلہ کیا اور ’خطرناک ترین جنسی سرگرمی‘ کے لیے ’کمزور‘ مردوں کو نشانہ بنایا۔
استغاثہ نے کہا کہ ہال کی ’حقیقی جنسی دلچسپی‘ جارحانہ اور بالادست رہ کر ’درد اور نقصان‘ پہنچانے میں تھی۔

میلی نے کہا کہ صحت عامہ کی سہولیات میں بہتری کے باوجود ایچ آئی وی ’عمر بھر رہنے والی اور ناقابل واپسی حالت‘ ہے جس میں ’صحت کے بڑے خطرات‘ لاحق ہوتے ہیں اور اس کے لیے علاج درکار ہوتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ریپ کے متاثرین کے لیے نقصان اس لیے بھی بڑھ جاتا ہے کہ جب بھی وہ ادویات لیتے ہیں تو انھیں ’روزانہ کی بنیاد پر‘ ہال کی دی ہوئی اذیت کی یاد دہانی ہوتی ہے۔
متاثرین میں سے ایک شخص کو ہال نے جب ریپ کیا تھا اس وقت ان کی عمر 18 برس تھی۔ انھوں نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ انھیں ’انتہائی ہولناک اور غیر انسانی انداز میں پامال کیا گیا‘ اور انھیں ایسا صدمہ ملا جسے وہ ہر روز برداشت کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ خود کو ’گھن، شرمندگی اور مکمل تنہائی‘ کا شکار محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ’ایسے دن بھی آتے ہیں جب مجھے لگتا ہے کہ میں صرف سانس لے رہا ہوں، زندگی نہیں جی رہا۔‘
ہال نے متاثرین کو اپنی ’خود غرضی‘ اور ’بے دردی‘ کا نشانہ بنایا
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایک اور متاثرہ شخص نے عدالت کو بتایا کہ وہ ’نہایت بے فکر 17 سالہ نوجوان‘ تھا جس کا مستقبل اس بڑی عمر کے شخص پر بھروسا کرنے کی ’غلطی‘ کے باعث ’ہمیشہ کے لیے داغ دار اور ناقابل واپسی‘ ہو چکا ہے۔
انھوں نے کہا ’جو زندگی میں جی سکتا تھا اس کے لیے میرے دل میں ایک بڑا خلا ہے۔‘ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی جوانی کی خواہشات کو دھوکہ دیا ہے۔
انھوں نے ہال کو ایک درندہ قرار دیا جس نے انھیں ’دھوکہ دیا۔‘
تیسرا متاثرہ شخص انفیکشن کے وقت 19 برس کا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے انتہائی بدنیتی سے نقصان پہنچایا گیا۔‘
جج بینڈلوس نے کہا کہ ہال کا سزا سنائے جانے کی سماعت میں شرکت سے انکار ان کی ’اس بے حسی کے عین مطابق‘ ہے جو انھوں نے ’دوسروں کو تکلیف دیتے وقت دکھائی‘۔
انھوں نے کہا کہ متاثرین سبھی ایک جیسی ’غمگین اور دل دہلا دینے والی کہانیاں‘ بیان کرتے ہیں اور کہا کہ ’ان سب کا مستقبل چھین لیا گیا ہے اور یہ سب جان بوجھ کر ہال کے باعث ہوا۔‘
سماعت کے دوران عدالت نے ہال کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ایچ آئی وی کوئی سنگین بیماری نہیں۔ جج نے کہا کہ مردوں کو ایک ’مستقل اور ناقابل واپسی‘ بیماری دی گئی جس سے ’زندگی بھر طبی علاج پر انحصار‘ جڑا ہے۔
بینڈلوس نے کہا کہ ہال کو اس انفیکشن کے خطرے کے بارے میں ’مکمل طور پر اور بارہا‘ خبردار کیا گیا۔ اس کے باوجود انھوں نے خود کو ’متعدی‘ رکھا اور جنسی ساتھیوں سے اپنی حالت کے بارے میں جھوٹ بولا جو ’نمایاں درجے کی بدنیتی‘ کو ظاہر کرتا ہے۔
جج نے کہا کہ ہال نے جنسی عمل کے بعد بھی مردوں کو سچ نہیں بتایا جس سے وہ بروقت علاج حاصل کرنے اور وائرس کی شدت کم کرنے کے موقع سے محروم ہوگئے۔
ریپ کے حوالے سے جج نے کہا کہ ہال نے متاثرین کو اپنی ’خود غرضی‘ اور ’بے دردی‘ کا نشانہ بنایا اور انھیں ان کی خیریت میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔
عدالت نے انھیں ایک ’خطرناک‘ مجرم قرار دیا جو دوسروں کے لیے ’شدید نقصان کے خطرے‘ کا باعث ہیں۔
’موقع پرست‘
ہال اس جرم سے انکار کرتے ہیں۔
ان کے وکیل کریگ ہیسل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل اس دعوے پر قائم ہے کہ اگر وہ مردوں میں ایچ آئی وی پھیلانے کا ذریعہ تھے بھی تو انھوں نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیا۔
انھوں نے استغاثہ کی طرف سے ریپ کے دعوؤں سے بھی اختلاف کیا اور کہا کہ جنسی عمل منصوبہ بندی کے تحت نہیں بلکہ ’موقع پرستانہ‘ تھے۔
نارتھمبریا پولیس کی ڈیٹ چیف انسپکٹر ایما سمتھ کے مطابق مارچ میں ہال کے مجرم ثابت ہونے کے بعد مزید مردوں نے الزامات لگائے ہیں جو ’زیرِِ تفتیش‘ ہیں۔
انھوں نے کہا ’جو کوئی بھی یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایڈم ہال کا شکار بنا ہے وہ ضرور سامنے آئے۔‘
ہال کو منشیات کی خرید و فروخت کے جرم میں بھی سزا سنائی گئی، جن میں سے کچھ اس نے اپنے ایک متاثرہ شخص کو ریپ کرنے اور اسے انفیکشن سے پہلے دی تھیں۔
جیوری ایک آٹھویں مرد کے خلاف ریپ کے الزام پر کسی فیصلے تک نہیں پہنچ سکی اور عدالت کو بتایا گیا کہ استغاثہ یہ مقدمہ مزید نہیں چلائے گی۔
ہال کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جس میں کم از کم 23 سال اور 42 دن شامل ہیں تاکہ حراست میں گزارے گئے وقت کا حساب رکھا جا سکے۔

























