نیو یارک پولیس کا زہران ممدانی کی اہلیہ کے ساتھ محافظ دستہ شام و لبنان بھیجنےسے انکار: سفری انتباہ کے باجود رما دواجی کو ان ممالک کے لیے سکیورٹی کیوں نہیں دی جا رہی؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

نیو یارک کے میئر زہران ممدانی کی اہلیہ رما دواجی ستمبر میں شام اور لبنان کا دورہ کریں گی، تاہم اس حوالے سے کیے جانے والے سکیورٹی انتظامات پر ایک تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

تنازع اس وقت شروع ہوا جب میئر کے دفتر نے کہا کہ سکیورٹی خطرات کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز دی گئی ہے کہ نیو یارک پولیس کی ایک ٹیم دواجی کے ساتھ سفر کرے گی، تاہم پولیس نے ایسے کسی انتظام کی تردید کر دی۔

بعد ازاں ممدانی نے تسلیم کیا کہ ’غلط فہمی‘ ہوئی تھی اور واضح کیا کہ ان کی اہلیہ شام اور لبنان کا سفر نیو یارک پولیس کی کسی حفاظتی ٹیم کے بغیر کریں گی۔ امریکہ نے سفر کے حوالے سے انتباہ میں ان دونوں ممالک کو اوپر کے درجے میں رکھا ہوا ہے۔

میئر آفس کا بیان اور پولیس کی تردید

ہوا یوں کہ نیو یارک کے میئر کی ترجمان ڈورا بیکچ نے اخبار نیو یارک پوسٹ کو بتایا تھا کہ دواجی کی حفاظتی ٹیم شام اور لبنان کے خاندانی دورے میں ان کے ساتھ ہو گی، اور یہ فیصلہ نیو یارک پولیس کی ’پر زور سفارش‘ پر کیا گیا ہے۔

تاہم نیو یارک پولیس نے ایسے کسی انتظام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی نوعیت کے دوروں کے لیے اپنے اہلکار ان ممالک میں نہیں بھیجتی جن کے بارے میں سطح چار کے سفری انتباہات جاری ہوں۔

ان متضاد بیانات کے بعد ممدانی نے ٹی وی چینل پکس 11 کو انٹرویو میں کہا کہ ایک ’غلط فہمی‘ ہو گئی تھی اور ان کی اہلیہ نے ابھی سفر شروع نہیں کیا۔

انھوں نے واضح کیا کہ دواجی نیو یارک پولیس کی حفاظتی ٹیم کے بغیر سفر کریں گی۔

نیو یارک پوسٹ نے حفاظتی انتظامات سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ دواجی نے جولائی میں بیرونِ ملک بغیر پولیس سکیورٹی کے سفر کے بعد نیو یارک پولیس سے محافظ دستہ مانگا تھا۔

دواجی اس سے قبل خواتین کے لیے کام کرنے والے گروپ ویمن سینکچری کے زیرِ انتظام دو پروگراموں میں شرکت کے لیے ہسپانوی جزیرے مالورکا اور فرانسیسی جزیرے کورسیکا گئی تھیں۔

اخبار نے یہ نہیں بتایا کہ اس سفر کے دوران انھیں کسی خطرے کا سامنا ہوا یا نہیں، اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ آئندہ دورے کے لیے سکیورٹی کی درخواست کیوں کی گئی۔

ان کا شام اور لبنان کا دورہ 20 ستمبر سے شروع ہونے والا ہے۔ دورے کی مدت اور ان مقامات کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئیں جہاں وہ جائیں گی، اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کیا وہ کسی اور قسم کے حفاظتی انتظامات استعمال کریں گی۔

پولیس نے اہلکار بھیجنے سے انکار کیوں کیا؟

نیو یارک پولیس کے انکار کا تعلق دورے کی نوعیت سے ہے، کیونکہ یہ ایک خاندانی دورہ ہے اور شہر سے متعلق کسی سرکاری ذمہ داری کا حصہ نہیں۔ مزید یہ کہ دواجی نیو یارک بلدیہ میں کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھتیں۔

یہ فیصلہ شام اور لبنان کی سکیورٹی صورتحال سے بھی جڑا ہوا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے دونوں ممالک کو سفری انتباہ کی سطح چار، یعنی ’سفر نہ کریں‘، میں شامل کر رکھا ہے، جو اس کا بلند ترین انتباہی درجہ ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ درجہ ایسے حالات میں دیا جاتا ہے جہاں مسافروں کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہوں اور امریکی حکومت کی ہنگامی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت بہت محدود ہو یا بالکل ہی موجود نہ ہو۔

لبنان کے بارے میں امریکی انتباہ میں بد امنی، جرائم، اغوا، دہشت گردی اور تشدد یا مسلح تنازع کے اچانک پھوٹ پڑنے کے خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔

شام کے بارے میں محکمہ خارجہ دہشت گردی، بد امنی، اغوا، یرغمال بنائے جانے، جرائم اور مسلح تنازعات کے خطرات سے خبردار کرتا ہے۔ محکمہ یہ بھی بتاتا ہے کہ دمشق میں امریکی سفارت خانہ 2012 سے بند ہے اور امریکی حکومت اپنے شہریوں کو معمول کی یا ہنگامی قونصلر خدمات فراہم نہیں کر سکتی۔

یہ انتباہ امریکی شہریوں کے ان ممالک کے سفر پر قانونی پابندی نہیں لگاتا، لیکن اس کا یہ مطلب ضرور ہوتا ہے کہ حکام خطرات کی سطح اور ہنگامی مدد فراہم کرنے کی دشواری کے باعث وہاں سفر نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

نیو یارک پولیس انویسٹیگیٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ سکاٹ منرو نے کہا کہ پولیس کا مؤقف سیاسی نہیں بلکہ اہلکاروں کی حفاظت سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک پولیس اہلکار صرف قانون نافذ کرنے یا سکیورٹی تعاون سے متعلق سرکاری فرائض کے لیے جاتے ہیں، ذاتی یا خاندانی دوروں کے لیے نہیں۔

نیو یارک پولیس کے سابق کمشنر بل بریٹن نے بھی دواجی کے ساتھ پولیس اہلکار بھیجنے کے خیال کو 'غیر دانش مندانہ' قرار دیا۔ ان کے مطابق ایسا کرنے سے اہلکار خطرے میں پڑ سکتے ہیں، اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور وفاقی حکومت و متعلقہ ممالک کے ساتھ وسیع رابطہ کاری درکار ہوگی۔

یہ دورہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران متوقع ہے، جب نیویارک میں سکیورٹی معمول سے کہیں زیادہ سخت ہوتی ہے تاکہ غیر ملکی وفود اور ان کی رہائش گاہوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

کیا اس سے پہلے بھی نیو یارک پولیس نے میئر یا ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ سفر کیا ہے؟

نیو یارک پولیس کا میئر یا ان کے خاندان کے افراد کے ساتھ شہر سے باہر جانا کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ ایگزیکٹو پروٹیکشن یونٹ خطرات کے جائزے کی بنیاد پر سکیورٹی فراہم کرتا ہے۔

تاہم ماضی کی مثالوں کے مقابلے پر دواجی کے مجوزہ دورے کی نوعیت اور دورے کا مقام مختلف ہیں۔

2014 میں نیو یارک پولیس کی ایک ٹیم اس وقت کے میئر بل ڈی بلاسیو، ان کی اہلیہ شیرلین میکرے اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ اٹلی کے 10 روزہ دورے پر گئی تھی۔

ڈی بلاسیو نے اپنے اور خاندان کے سفری اخراجات خود ادا کیے، جبکہ حفاظتی ٹیم کے اخراجات شہری انتظامیہ نے برداشت کیے۔ یہ دورہ مکمل طور پر نجی نہیں تھا بلکہ اس میں اطالوی حکام اور میئروں سے ملاقاتیں اور میڈیا انٹرویوز بھی شامل تھے۔

تاہم اُس دورے میں نیو یارک کے میئر خود موجود تھے، جبکہ اِس دورے میں صرف دواجی ہوں گی اور ان کے شوہر ان کے ہمراہ نہیں ہوں گے۔

نیو یارک شہر کے تحقیقاتی ادارے کی ایک انکوائری سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بلاسیو کی اہلیہ شیرلین نے اپنے شوہر کی 2019 کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران اپنی سکیورٹی ٹیم کے ساتھ شہر سے باہر دو دورے کیے تھے، جن کے لیے فراہم کی گئی سکیورٹی پر تقریباً آٹھ ہزار ڈالر خرچ ہوئے تھے۔

تاہم یہ دونوں دورے سیاسی انتخابی مہم سے متعلق تھے، نہ کہ بیرونِ ملک کسی نجی خاندانی دورے کا حصہ۔ انکوائری میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ڈی بلاسیو کی انتخابی مہم کے دوران ان کی سکیورٹی ٹیموں کے سفری اخراجات پر شہر نے تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار ڈالر خرچ کیے۔ انکوائری کے مطابق نیو یارک پولیس کے وسائل سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے تھے اور اس وقت تک ان اخراجات کی رقم شہر کو واپس نہیں کی گئی تھی۔

تحقیقات میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ اُس وقت نیو یارک پولیس کے پاس میئر اور ان کے اہلِ خانہ کو سفر کے دوران سکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے واضح اور تحریری ضابطے موجود نہیں تھے۔ انکوائری میں زیادہ واضح پالیسیوں کے نفاذ اور سفری اخراجات اور ان کے مقاصد کی دستاویزی تفصیل محفوظ رکھنے کی سفارش کی گئی۔

ایک نسبتاً حالیہ مثال میں نیو یارک پولیس کی ایک سکیورٹی ٹیم نے سابق میئر ایرک ایڈمز کے 2022 میں قطر کے دورے کے دوران ان کے ساتھ سفر کیا تھا اور سکیورٹی کے اخراجات شہر نے برداشت کیے تھے۔ تاہم یہ دورہ 2026 کے ورلڈ کپ میچوں کی میزبانی کے لیے نیو یارک کی تیاریوں سے متعلق تھا اور یہ میئر کے خاندان کے کسی فرد کا نجی دورہ نہیں تھا۔

رما دواجی کون ہیں اور وہ خطے کا دورہ کیوں کر رہی ہیں؟

29 سالہ رما دواجی شامی نژاد امریکی مصورہ اور فنکار ہیں۔ وہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پیدا ہوئیں اور نو برس کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ دبئی منتقل ہو گئیں۔

دواجی نیو یارک میں رہتی ہیں اور اپنے فن پاروں میں خواتین کے تجربات، سماجی تعلقات اور عرب خطے کی زندگی جیسے موضوعات کو پیش کرتی ہیں۔ وہ نیو یارکر، واشنگٹن پوسٹ اور بی بی سی سمیت متعدد میڈیا اور ثقافتی اداروں کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔

انھوں نے 2025 میں زہران ممدانی سے شادی کی، اس وقت تک ممدانی نے نیو یارک کا میئر منتخب ہو کر عہدہ نہیں سنبھالا تھا۔

میڈیا میں دواجی کو ’نیو یارک کی خاتونِ اول‘ کہا جاتا ہے، تاہم یہ کوئی سرکاری منصب نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی حکومتی اختیارات وابستہ ہیں۔ ممدانی اس سے پہلے واضح کر چکے ہیں کہ ان کی اہلیہ ان کی انتظامیہ میں کوئی کردار ادا نہیں کرتیں۔