وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انڈیا کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی ’یکطرفہ معطلی‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے پانی کو اپنی ’ریڈ لائن‘ قرار دیا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ’یادگارِ فتح‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا ہے تھا کہ ’پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے۔ اگر انڈیا راہ است پر نہیں آیا تو اسے براہ راست جواب دیا جائے گا۔‘
یاد رہے انڈیا کی حکومت نے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے ایک جوابی قدم اٹھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔
پاکستانی وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع اور سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا بھی ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کو تمام تنازعات سے پاک دیکھنا چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دنیا نئے تنازعات سے دور رہے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ اسی سبب پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ’ذمہ دار ثالث‘ کا کردار ادا کیا۔
اپنی تقریر میں جہاں انھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ’تاریخی کردار‘ کو سراہا، وہیں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ معاہدے سے متعلق معاملات پر نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی بہت محنت کی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنھوں نے، پاکستانی وزیرِ اعظم کے مطابق، گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کر کے لاکھوں جانیں بچائیں۔
پاکستان کے گذشتہ کئی مہینوں سے افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات بھی کشیدگی کا شکار ہیں اور اسلام آباد کابل پر شدت پسندوں کو پناہ دینے کے الزامات بھی عائد کرتا رہا ہے۔
اس حوالے سے پاکستانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم افغانستان میں بھی امن اور استحکام چاہتے ہیں، لیکن افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا ناقابلِ برداشت ہے۔‘