طالبان اقتدار پانچ برسوں میں افغان خواتین کے لیے تعلیم و روز گار کے مواقع محدود تر: ’دنیا کو طالبان سے مختلف انداز میں بات کرنی ہو گی‘

    • مصنف, لیز ڈوسیٹ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 14 منٹ

کابل کے جنوب میں ایک گاؤں میں سفیدی کیے گئے تہہ خانے میں ایک درجن نوجوان خواتین مربے بنانے میں مصروفِ عمل ہیں۔

وہ چیری اور آلو بخارے کو دیگچیوں میں ابالنے کے دوران ہلا رہی ہیں اور شیشے کے مرتبانوں پر اس مربے کے لیبل چسپاں کر رہی ہیں۔

اس طرح کے منصوبے اُن گنی چنی جگہوں پر ہی اب موجود ہیں جہاں طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں خواتین کو مہارتیں حاصل کرنے اور روزگار حاصل کرنے کے مواقع میّسر ہیں۔

اس منصوبے کی سربراہی 47 سالہ افغان خاتون ناجیہ کر رہی ہیں، جو نو بچوں کی ماں ہیں اور جن کی شادی 14 برس کی عمر میں ہوگئی تھی۔

اگر حکام نے لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے لیے ثانوی سکولوں اور جامعات کے دروازے بند نہ کیے ہوتے تو اس ورکشاپ میں کام کرنے والی بہت سی خواتین، جن میں ناجیہ کی بیٹیاں بھی شامل ہیں، ایک بالکل مختلف مستقبل کے لیے تعلیم حاصل کر رہی ہوتیں۔

لیکن اب خواتین کے اس روزگار پر بھی پابندیاں مزید سخت کی جا رہی ہیں۔ حالیہ قواعد کے مطابق خواتین کو اپنی مصنوعات بازار تک پہنچانے کے لیے مردوں سے کہنا پڑتا ہے جبکہ تجارتی میلوں میں اُن کی اشیا کی نمائش کے لیے لگائے گئے سٹالوں پر صرف مرد ہی بیٹھ سکتے ہیں۔

طالبان اس کے لیے مختلف وجوہات پیش کرتے ہیں جن میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ خواتین مناسب حجاب یا سر ڈھانپنے کا اہتمام نہیں کر رہیں۔

ناجیہ کہتی ہیں کہ ’دنیا کو طالبان سے مختلف انداز میں بات کرنی ہو گی کیونکہ موجودہ طریقہ کار بالکل کام نہیں کر رہا۔ افغان خواتین کی زندگیوں میں تبدیلی آنا ضروری ہے کیونکہ ہم امید کھوتے جا رہے ہیں۔‘

اس قدامت پسند تحریک کے اقتدار سنبھالنے کے پانچ برس بعد خواتین کو عوامی زندگی کے بیشتر شعبوں سے خارج کر دیا گیا ہے اور 12 برس سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی ہے۔

افغانستان کے اندر اور باہر بہت سے لوگ ایک ہی اہم سوال پوچھ رہے ہیں کہ طالبان سے رابطہ رکھنے کا بہترین طریقہ کیا ہے تاکہ حقیقی اور بامعنی تبدیلی حاصل کی جا سکے؟

یہ مسئلہ گہری تقسیم کا سبب بنا ہوا ہے۔ مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں اور اس سے وابستہ متضاد مسائل کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔

ان میں خواتین کے حقوق، طالبان کے غیر متوقع احکامات، بین الاقوامی پابندیاں اور ایک بگڑتے ہوئے انسانی بحران کے دوران امداد میں کٹوتیاں شامل ہیں۔

اس سب کے بیچ بین الاقوامی ردِعمل بھی منقسم ہے۔ مغربی ممالک عموماً انسانی حقوق پر توجہ دیتے ہیں جبکہ بعض دیگر ممالک سرمایہ کاری کے مواقع میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ خود مغرب کے اندر بھی اس حوالے سے موجود ردِعمل کے بارے میں اختلافِ رائے موجود ہے۔

اب بہت سے لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں، وہ مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔

مکالمہ ضروری

افغانستان کے لیے مکمل سفارتی تنہائی کی حمایت کرنے والی آوازیں بہت کم ہیں خاص طور پر ایسے وقت میں جب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے دو کروڑ 20 لاکھ افراد (ملک کی تقریباً نصف آبادی ) اپنی بقا کے لیے کسی نہ کسی شکل میں غیر ملکی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔

ملک یکے بعد دیگرے کئی بحرانوں کا سامنا کر چکا ہے جن میں شدید معاشی بحران، تباہ کن قدرتی آفات، ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ جھڑپیں اور قریب و دور کے ممالک سے بے دخل کیے گئے لاکھوں افغانوں کی اس غریب ملک میں واپسی شامل ہے۔

اور ایک حقیقت سے چشم پوشی ممکن نہیں کہ اب اقتدار طالبان کے ہاتھ میں ہے۔

15 اگست 2021 کو طالبان جنگجوؤں کے کابل میں داخل ہونے کے بعد سے گزرنے والے برسوں میں اس گروہ کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور اس نے اپنی حکمرانی کو مزید مضبوط کیا ہے حالانکہ اسے بیرونِ ملک مقیم مسلح مخالف گروہوں اور دولتِ اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں کی وقفے وقفے سے ہونے والی کارروائیوں کا سامنا بھی رہا۔

افغانستان میں زیراقتدار طالبان ٹیکس محصولات اکٹھا کر رہے ہیں اور بیجنگ، ماسکو، ابوظہبی اور تاشقند سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ کان کنی، توانائی اور دیگر شعبوں میں معاہدے کر رہے ہیں۔

تاہم وہ اب بھی دہشت گردی اور انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی پابندیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

روس وہ واحد ملک ہے جس نے باضابطہ طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے، جبکہ انھیں اب تک نیویارک میں اقوام متحدہ میں افغانستان کی اُس نشست پر براجمان ہونے کی اجازت نہیں ملی جسے وہ اپنا جائز حق سمجھتے ہیں۔

لیکن اب رسمی سفارتی تسلیم کیے جانے کا معاملہ پہلے جیسی بنیادی اہمیت نہیں رکھتا۔

ایک سابق سینئر اقوام متحدہ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’مغرب تسلیم کیے جانے کے معاملے پر اپنی دلیل کھوتا جا رہا ہے۔‘

ان کا اشارہ اُن ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد کی جانب ہے جو معاہدے کرنے، سفارت کاروں کو قبول کرنے، سفارت خانے چلانے اور دیگر اقدامات کے ذریعے عملاً طالبان حکومت کو تسلیم کر چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان اقوام متحدہ میں باضابطہ تسلیم کیے جانے کے خواہش مند ہیں، لیکن یہ اب اتنا مؤثر سفارتی ہتھیار نہیں رہا جتنا شروع میں تھا۔‘

کابل میں وزارتِ خارجہ کے بلند حفاظتی حصاروں کے اندر طالبان سفارت کار دنیا بھر میں اُن افغان سفارت خانوں کی فہرست میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں جو اب اُن کے کنٹرول میں آ چکے ہیں، نہ کہ اُس سابق حکومت کے جو طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے برسرِ اقتدار تھی۔

اس وقت 40 سے زیادہ افغان سفارت خانے طالبان کے زیرِ انتظام ہیں۔

طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہتے ہیں کہ ’اگر ہم اپنے تعلقات میں پیش رفت چاہتے ہیں تو ہمیں دور سے بات کرنے کے بجائے سفارتی سطح پر ایک دوسرے کے قریب آنا ہو گا۔‘

ہماری ملاقات جنوبی افغانستان کے شہر قندھار میں ہوئی جسے طالبان حکومت میں اصل مرکزِ اقتدار سمجھا جاتا ہے۔

یہیں طالبان کے گوشہ نشین امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ بتدریج اپنی سیاسی اور عسکری بنیاد مضبوط کرتے رہے ہیں۔

اسی شہر سے انھوں نے سینکڑوں احکامات جاری کیے ہیں جن میں سے بہت سے خواتین اور لڑکیوں کے عوامی زندگی میں کردار کو محدود کرنے سے متعلق ہیں جسے وہ ان کے تحفظ کے لیے ایک اسلامی ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔

طالبان کے اقتدار میں آنے کے پانچ برس مکمل ہونے کو بہت سے مبصرین ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔

ایک حالیہ بین الاقوامی اجلاس میں ایک سینیئر اقوام متحدہ عہدیدار نے بند کمرہ اجلاس کے دوران صورتحال کو ’ایک غیر مستحکم اور ممکنہ طور پر خطرناک توازن‘ قرار دیا۔

اس کے باوجود افغانستان عالمی توجہ کے مرکز سے کافی حد تک اوجھل ہو چکا ہے۔

یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کیے ہوئے ہیں، جبکہ یورپ کے لیے اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی آمد کو کیسے روکا جائے۔

یہ ایک حیران کن تبدیلی ہے۔

حال ہی میں افغانستان میں اپنے ملک کے نمائندے کے طور پر رہنے والے ایک مغربی ملک کے سفارت کار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’2001 سے 2021 تک مغربی ممالک کی وسیع کوششوں کو دیکھتے ہوئے یہ غیر معمولی بات ہے کہ آج افغانستان کو اتنا نظر انداز کیا جا رہا ہے۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ اصل سفارتی خلا دراصل امریکہ ہے۔

ان کا اشارہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے کی جانب تھا جس کے تحت افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی کا عہدہ ختم کر دیا گیا جبکہ متعدد اداروں کو بھی بند یا محدود کر دیا گیا۔

ان میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) بھی شامل ہے جو ایک وقت میں افغانستان سے متعلق عالمی کوششوں میں مرکزی کردار کا حامل تھا۔

طالبان کے اندر بھی اس بات پر مایوسی پائی جاتی ہے کہ دنیا طالبان کے ساتھ تعلقات کا کوئی نیا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ یا قادر دکھائی نہیں دیتی۔

یہ سوچ خاص طور پر ان افراد میں ہے جو امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے بعض سخت احکامات سے اختلاف رکھتے ہیں۔

کابل کے نواح میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ایک مدرسہ چلانے والے طالبان کے بانی ارکان میں سے ایک ملا عبدالسلام ضعیف کہتے ہیں کہ ’ہم بین الاقوامی برادری کا حصہ بننا چاہتے ہیں!‘

عام سکولوں کے برعکس مدرسوں میں ہر عمر کی لڑکیوں کو داخلہ دیا جاتا ہے جبکہ بعض (خاص طور پر نجی مدرسوں میں) مذہبی تعلیم کے علاوہ دیگر مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔

ملا عبدالسلام ضعیف کہتے ہیں کہ ’صرف دباؤ ڈالنے سے نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔‘

افغانستان کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نے روسیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے نہ ہی امریکیوں کے سامنے۔ پھر طالبان اب کیوں ہتھیار ڈالیں گے؟‘

مذاکرات

اقوام متحدہ کے حکام کا خیال ہے کہ افغانستان میں ان کی موجودگی سے فرق پڑتا ہے، چاہے وہ محدود ہی کیوں نہ ہو۔

ان کا اشارہ قیدیوں کے ساتھ برتاؤ ’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘ کے قوانین کے نفاذ اور انسانی امداد کی رسائی بہتر بنانے جیسے معاملات کی جانب ہے جہاں ان کے مطابق کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ گزشتہ پانچ برس کے مذاکراتی عمل کو یوں بیان کرتا ہے کہ ’پیش رفت سست رہی ہے، چھوٹے چھوٹے اقدامات کیے گئے ہیںتو وہیں کئی بار معاملات پیچھے بھی رہ گئے ہیں۔‘

اس کے باوجود اقوام متحدہ کا موقف ہے کہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

کابل میں اقوام متحدہ کے مشن کی قائم مقام سربراہ جارجیٹ گیگنن کہتی ہیں کہ ’رکا ہوا عمل بھی کسی عمل کے نہ ہونے سے بہتر ہے۔‘

طالبان کے خلاف زیادہ سخت مؤقف نہ اپنانے پر اقوام متحدہ کو تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ 2024 میں ہونے والے دوحہ مذاکرات میں طالبان وفد کو شرکت کی اجازت دی گئی حالانکہ افغان خواتین کو مذاکراتی عمل میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کا موقف ہے کہ ان مذاکرات میں تمام اہم مسائل پر بات ہوئی تھی جبکہ بعد میں ہونے والی ملاقاتوں میں خواتین کی شرکت بھی رہی۔

اب ’موزیک‘ کے نام سے ایک نیا مذاکراتی عمل شروع کیا گیا ہے جس میں چھ اہم موضوعات پر بات چیت ہو رہی ہے۔

ان میں انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، جامع حکومت اور انسدادِ دہشت گردی شامل ہیں جبکہ طالبان کی جانب سے پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور سفارتی نمائندگی جیسے مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں۔

جارجیٹ گیگنن کہتی ہیں کہ ’اعتماد اور باہمی تعاون آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے جس سے مشکل مسائل پر بات چیت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔‘

ان کے مطابق یہ ’ایک طویل سفر کے چھوٹے چھوٹے قدم‘ ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’دباؤ اور دھمکیاں اب تک مؤثر ثابت نہیں ہوئیں۔ بہتر نتائج کے لیے مشترکہ پیغام اور مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔‘

اقوامِ متحدہ کے اندر بھی بعض شکوک رکھنے والوں کو خدشہ ہے کہ ’موزیک! حکمتِ عملی بھی کامیاب نہیں ہو گی۔

تاہم بہت سے لوگوں کے نزدیک بنیادی کام جاری رکھنا، افغانستان کو مزید تنہائی کا شکار ہونے سے بچانا اور کمزور طبقات، خصوصاً خواتین، کے تحفظ کے لیے کام جاری رکھنا نہایت ضروری ہے۔

خاموش سفارت کاری

گرد آلود صوبائی دارالحکومتوں اور کسانوں کے کھیتوں میں، جہاں بین الاقوامی اور افغان امدادی ادارے زمینی سطح پر کام کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بات چیت روزانہ جاری رہتی ہے۔

یہیں وہ جگہ ہے جہاں گوشہ نشین امیر کے جاری کردہ احکامات کو ایسے عملی طریقوں میں ڈھالا جاتا ہے جنھیں ’ورک اراؤنڈز‘ کہا جاتا ہے۔

ان طریقوں کے ذریعے بعض اداروں میں خواتین گھر سے کام کر سکتی ہیں یا مردوں سے الگ کمروں، مختلف منزلوں یا حتیٰ کہ الگ عمارتوں میں کام کرتی ہیں۔

40 سال سے زیادہ عرصے سے افغانستان میں کام کرنے والے برطانوی خیراتی ادارے افغان ایڈ کے چیئرمین کرس کنڈر کہتے ہیں کہ ’افغانستان میں ہر چیز تعلقات پر منحصر ہے اور روزمرہ کی سطح پر یہی چیزیں معاملات کو آسان بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔‘

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ رسائی اور منصوبوں پر عمل درآمد سے متعلق زیادہ تر بات چیت تجربہ کار افغان عملہ کرتا ہے۔

حالیہ برسوں میں صوبائی شہروں اور قصبوں میں کیے جانے والے میرے دوروں سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض مقامی طالبان حکام عملی حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم کچھ دیگر اب بھی کسی بھی غیر ملکی امداد کے بارے میں گہرا شک رکھتے ہیں۔

ایک اور خیراتی ادارے نے مقامی معاہدوں کو ’زبانی اور غیر مستحکم‘ قرار دیا۔

کنڈر اس تنقید کو مسترد کرتے ہیں کہ امدادی اداروں کو اپنے منصوبے جاری رکھنے کے لیے اپنے اصولوں پر سمجھوتا کرنا پڑا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’طالبان کی اپنی ریڈ لائنز‘ ہیں اور ہماری اور ہمارے عطیہ دہندگان کی اپنی۔ ہم مختلف طریقۂ کار پر بات کرتے ہیں تاکہ دونوں فریق ایک دوسرے کا مؤقف سمجھ سکیں۔‘

یہاں بھی بہت سے امدادی اہلکار زیادہ متحد اور ہم آہنگ حکمتِ عملی اپنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

زیادہ سخت موقف

مربہ بنانے والی خاتون ناجیہ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں بات چیت جاری رکھنی چاہیے لیکن اب اس کے لیے شرائط طے کرنا ہوں گی۔‘

یہی مؤقف بیرونِ ملک مقیم خواتین کارکنوں اور انسانی حقوق کے گروہوں کا بھی ہے، جن کا کہنا ہے کہ اب تک ہونے والی بات چیت یک طرفہ رہی ہے اور طالبان نے اس کے بدلے میں کوئی اہم تبدیلی نہیں کی۔

ان کا اصرار ہے کہ جب تک ایسا نہیں ہوتا، مذاکرات کو امداد سے متعلق معاملات سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔

حالیہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب یورپی یونین کے حکام نے جون میں طالبان کی وزارتِ خارجہ کے ایک وفد کی برسلز میں میزبانی کی۔

طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد یہ پہلی بار تھا کہ ایسا ہوا۔

15 رکن ممالک کے نمائندوں نے ایک روزہ اجلاس میں شرکت کی جس میں ان افغان شہریوں کی واپسی کے طریقۂ کار پر بات ہوئی جنھیں یورپی یونین میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں تھا۔

یورپی یونین نے اسے ’تکنیکی سطح‘ کی بات چیت قرار دیا لیکن طالبان نے اسے مختلف انداز میں دیکھا۔ طالبان کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایجنڈے میں یورپ میں ممکنہ قونصلر موجودگی اور ’اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت‘ بھی شامل تھی۔

2022 سے 2025 تک افغان خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کے لیے امریکی خصوصی نمائندہ رہنے والی افغان نژاد سابق امریکی سفارت کار رینا امیری کہتی ہیں کہ ’سفارتی حلقے اچھی طرح جانتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ تکنیکی معاملات پر بات کرنے کے لیے پہلے سے ہی ذرائع موجود ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’برسلز میں ملاقات کا فیصلہ واضح طور پر سیاسی تھا، انتظامی یا عملی ضرورت کی بنیاد پر نہیں۔!۔

ناقدین اسے ’بتدریج معمول پر لانے‘ کا عمل قرار دیتے ہیں۔

کیا یہ کامیاب رہے گا

کابل میں اپنے شیلٹر ہوم میں ملاقات کے دوران افغان سماجی کارکن محبوبہ سراج نے سوال اٹھایا کہ ’افغانستان میں گزرے ان پانچ برسوں کے بعد میرے پاس دکھانے کے لیے کیا ہے؟‘

2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد محبوبہ سراج اس وقت خبروں کی زینت بنی تھیں جب انھوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کی خاطر افغانستان میں ہی رہیں گی۔

اب 78 سالہ محبوبہ سراج کہتی ہیں کہ وہ ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

ان کا آخری شیلٹر، جو گھریلو تشدد سے بچ کر آنے والی 30 سے زیادہ افغان خواتین کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تھا، دسمبر میں بند کر دیا گیا۔

خواتین اور لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کے لیے طالبان قیادت سے کی جانے والی ان کی بارہا اپیلیں بھی بے اثر رہی ہیں۔

وہ افسردگی کے ساتھ کہتی ہیں کہ ’دنیا کو جو یہ چھوٹی چھوٹی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں یا یہاں وہاں جو معمولی سی گنجائش نظر آتی ہے، جن میں لڑکیوں کے خفیہ سکول بھی شامل ہیں، یہ سب صرف لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے ہیں۔‘

تاہم محبوبہ سراج عالمی برادری پر زور دیتی ہیں کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’بات چیت ہونی چاہیے لیکن یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ جب وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تو وہ محض رسمی گفتگو نہ ہو۔‘

’تبدیلی کا اختیار بین الاقوامی برادری کے ہاتھ میں نہیں‘

بعض دوسرے لوگ بھی اسی مؤقف کے حامی ہیں۔

طالبان حکام کے ساتھ غیر علانیہ بات چیت میں شامل رہنے والے ایک سابق افغان عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’صرف خاموش اور پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے ہی حقیقی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔‘

انھیں امید ہے کہ آئندہ سال کے آغاز میں منصب سنبھالنے والے اقوامِ متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل اس معاملے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کریں گے۔

تاہم آخرکار تبدیلی کا اختیار بین الاقوامی برادری کے ہاتھ میں نہیں۔

افغانستان سے طویل عرصے سے وابستہ ایک مغربی تجزیہ کار نے اس رپورٹ کے لیے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ مسئلہ یہ ہے کہ دنیا طالبان سے بات کرنے کے لیے درست زبان تلاش کر لے۔ پانچ سال بعد اب یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ حقیقی تبدیلی صرف افغانستان کے اندر سے ہی آ سکتی ہے۔‘

ماضی میں طالبان کے بعض سینیئر رہنماؤں نے امیر کے چند سخت ترین احکامات، خاص طور پر لڑکیوں کے سکول بند کرنے کے فیصلے پر اختلاف کا اظہار بھی کیا ہے۔ بعض نادر مواقع پر کچھ طالبان حکام امیر کے احکامات میں نرمی یا انھیں واپس لینے میں کامیاب بھی ہوئے۔

ایسی ہی ایک مثال گزشتہ سال ملک گیر انٹرنیٹ بندش تھی جس نے روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا تھا، لیکن بعد میں یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

کوئی آسان یا فوری حل ہے کہ نہیں

امیر کے احکامات کو حتمی سمجھا جاتا ہے۔ طالبان نے بارہا یہ دکھایا ہے کہ ان کے لیے اتحاد اور اقتدار سب سے زیادہ اہم ہیں۔ تعلیم جیسے حساس معاملے پر دنیا بھر کے اسلامی علما اور مسلم ممالک کی اپیلیں بھی ان کے مؤقف میں تبدیلی نہیں لا سکیں۔

پانچ برس بعد بھی صورتحال کا کوئی آسان یا فوری حل نظر نہیں آتا۔

ناجیہ کی مربہ بنانے والی ورکشاپ میں مقامی افغان اداروں سے لے کر اب بند ہو جانے والے یو ایس ایڈ تک کے تربیتی سرٹیفکیٹس آویزاں ہیں۔

یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلسل پابندیوں کے باوجود انھوں نے اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے اور خود کو بہتر کاروباری خاتون بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ افغانستان میں ایک نیا سماجی ڈھانچہ تشکیل پا رہا ہے۔ لیکن بہت سے افغان اب بھی ایک بہتر مستقبل کے لیے کوشش کر رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ دنیا انھیں فراموش نہیں کرے گی۔