’گراس ماشی‘: کشمیری خاتون جو اپنے ہنر سے جھیل کے نباتاتی فضلے کو آرائشی سامان میں بدل دیتی ہیں

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو
- مقام, سرینگر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
سرینگر کے علاقے زونی مر کی رہائشی 36 سالہ سمرن ارشاد بچپن سے ہی کاغذ کُوٹ کر چیزیں بنانے یا پیپر ماشی کی صنعت سے وابستہ ہیں۔
تاہم وہ روایتی دستکاری میں نئی جہتیں متعارف کرانے کی خواہش رکھتی ہیں اور اسی جستجو نے انھیں ایک نئے تجربے کی جانب راغب کیا۔
دو سال قبل اپنے کارخانے میں کام کے دوران سمرن کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ پیپر ماشی کی مصنوعات کسی ایسے خام مال سے بھی تیار کی جا سکتی ہیں جو آسانی سے اور بغیر قیمت کے دستیاب ہو۔ ابتدا میں انھوں نے دھان کے بھوسے اور مختلف اقسام کی گھاس پر تجربات کیے، مگر خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔
ایک روز گھر کے قریب واقع خوشحال سر جھیل کے کنارے چہل قدمی کے دوران ان کی نظر جھیل کی سطح پر تیرتے پودوں اور خود رو گھاس پر پڑی۔ یہ مشاہدہ ان کے کئی برس کے تجربوں میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا۔
وہ کہتی ہیں: ’دو سال تک مختلف اقسام کی گھاس آزمانے کے بعد جب میں نے جھیل کے آبی پودوں، کنول کے پتوں، تیرتی گھاس اور سبزہ ملا کر مصنوعات تیار کیں تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں کامیاب ہو گئی ہوں۔‘
پیپر ماشی کی دستکار سمرن نے اس نئے فن کو ’گراس ماشی‘ کا نام دیا ہے۔
اب انھیں گراس ماشی سے تیار کردہ گلُدانوں، کرسمس بالز اور آرائش کے دیگر سامان سے متعلق اتنے آرڈرز موصول ہورہے ہیں کہ انھیں دن رات کام کرنا پڑ رہا ہے۔
’یہ کچرہ نہیں قدرت کا خزانہ ہے‘

سمرن کا کہنا ہے کہ خوشحال سر جھیل میں موجود نباتاتی فضلے نے جھیل کی خوبصورتی بھی متاثر کر دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے بقول: ’یہ جھیل کچرے کے کنویں میں تبدیل ہو گئی تھی۔ اس میں موجود یہ خودرو پودے اور گھاس ہر دو ہفتے بعد اُگ آتے ہیں۔ پیپر ماشی کے لیے کاغذ خریدنا پڑتا ہے، لیکن گراس ماشی کے لیے خام مال مفت دستیاب ہے۔ میرے نزدیک یہ کچرا نہیں بلکہ قدرت کا خزانہ ہے۔‘
وہ سمجھتی ہیں کہ اگر سرکاری سطح پر اس فن کی حوصلہ افزائی کی جائے تو کشمیر کی جھیلوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں اور ماحول کا تحفظ بھی۔
’ایک چیز بنانے میں کئی کئی دن لگتے ہیں‘
سمرن کے مطابق گراس ماشی کی مصنوعات تیار کرنے کا عمل محنت طلب اور وقت طلب ہے۔
سمرن بتاتی ہیں کہ صبح اٹھ کر ناشتہ بنانے اور اپنے بیٹے کو سکول بھیجنے کے بعد وہ جھیل کا رخ کرتی ہیں، جہاں سے آبی پودے، گھاس پھوس اور سبزہ جمع کرتی ہیں۔ اس کے بعد یہ مواد کئی گھنٹوں تک سکھایا جاتا ہے۔
بعد ازاں اسے روایتی اوکھلی میں ہاتھ سے کوٹا جاتا ہے اور اس میں چاول کے آٹے سے تیار کیا گیا پیسٹ شامل کیا جاتا ہے۔ تیار شدہ آمیزہ سانچوں پر چڑھا کر خشک کیا جاتا ہے اور پھر سانچے نکالنے کے بعد مختلف حصوں کو جوڑ کر مصنوعات کی شکل دی جاتی ہے۔
سمرن کے مطابق آخری مراحل میں ان چیزوں کی باریک گھسائی اور نقش و نگار کا کام بھی کیا جاتا ہے، جس کے لیے گھاس پھوس سے بنا رنگ استعمال کیا جاتا ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’یہ صبر آزما کام ہے۔ بعض اوقات ایک چھوٹی سی چیز تیار کرنے میں بھی کئی کئی دن لگ جاتے ہیں۔‘
’مشین ہوتی تو میرا وقت بچ جاتا‘

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سمرن کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے اور وہ اب بھی گھاس پھوس اور جھیل کے نباتاتی فضلے کو کُوٹنے کے لیے روایتی اوکھلی استعمال کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر انھیں مناسب مشینری میسر آ جائے تو ان کے کام کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
’میرا زیادہ وقت (کچا مال) کوٹنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ مشین خریدنا چاہتی ہوں لیکن اس کی قیمت میری استطاعت سے باہر ہے۔ اگر حکومت اس فن کی حوصلہ افزائی کرے تو میں موصول ہونے والے تمام آرڈرز پورے کر سکتی ہوں۔ اور اگر اس فن کی سرپرستی کی جائے تو ہزاروں خواتین ایمپاور ہوسکتی ہیں۔‘
سمرن کا ارادہ ہے کہ مستقبل میں ایک ورکشاپ قائم کر کے اپنے علاقے کی خواتین کو بھی گراس ماشی کی تربیت دیں تاکہ وہ معاشی طور پر خود مختار ہو سکیں۔
ان کے بقول: ’میں چاہتی ہوں کہ جو خواتین گھر میں بیٹھے بیٹھے ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتی ہیں، انھیں بھی یہ فن سکھایا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس فن سے ’اگر میں چار پیسے کما رہی ہوں اور خود کفیل ہوں، تو وہ خواتین بھی کسی کی محتاج نہ رہیں۔‘
سمرن کی خواہش ہے کہ گراس ماشی کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ دستکاری کے شعبے میں اکثر اصل کاری گر کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا کیونکہ منافع کا بڑا حصہ درمیانی خریداروں اور برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) کے پاس چلا جاتا ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’میری خواہش ہے کہ یہ فن دنیا بھر میں پہنچے، لیکن اس کے ساتھ میں درمیانہ داری کے کلچر کو ختم کرنا چاہتی ہوں۔‘
وہ مستقبل میں اپنی مصنوعات آن لائن فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔



















