مانسہرہ میں گل نواز اور سمیرا کا قتل: ’لڑکے کا خاندان نسل در نسل دشمنی سے بچنا چاہتا تھا‘

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مانسہرہ کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ چھ اکتوبر کو شہر کے دو مختلف تھانوں کی حدود میں ہونے والے دوہرے قتل کے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ تھانہ سٹی اور تھانہ صدر کی حدود میں مارے جانے والے مرد اور خاتون کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر اُن کے اپنے اہلخانہ نے قتل کیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر مانسہرہ محمد اظہر خان کے آفس سے جاری ہونے والے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دوہرے قتل کے مقدمے میں ہلاک ہونے والے 27 سالہ گل نواز نامی شخص کو اُن کے بھائی نے جبکہ ہلاک ہونے والی 18 سالہ خاتون سمیرا کو بھی اُن کے ہی اپنے بھائی نے قتل کیا ہے۔

بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ان دونوں افراد کے قتل کی ایف آئی آرز چھ اکتوبر کو اُن کے لواحقین کی مدعیت میں چند گھنٹوں کے فرق سے درج کروائی گئی تھیں۔

درج مقدمات میں کیا کہا گیا؟

چھ اکتوبر کو مانسہرہ کے تھانہ صدر میں 18 سالہ سمیرا بی بی کے قتل کا مقدمہ اُن کے چچا زاد بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق مدعی مقدمہ نے بتایا کہ اُن کی چچا زاد بہن سمیرا گذشتہ ایک ماہ سے لاپتہ تھیں، جن کی گمشدگی کی رپورٹ پہلے ہی تھانہ سٹی میں درج ہے۔

مدعی مقدمہ نے دعویٰ کیا کہ سمیرا کی گمشدگی کے بعد اُن کے اہلخانہ کو اپنے طور پر معلوم ہوا تھا کہ اُن کی گُل نواز نامی شخص سے دوستی تھی۔ ’اسی معاملے پر علاقے میں جرگہ بھی ہوا کیونکہ ہمیں شک تھا کہ گل نواز نے سمیرا کو شادی کی غرض سے اغوا کر رکھا ہے۔‘

درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ چھ اکتوبر کو اہلخانہ کو اطلاع ملی کہ سمیرا کی لاش علاقے میں پڑی ہے، جس کے بعد رشتہ داروں نے اُس کی میت کو ہسپتال پہنچایا۔

چچا زاد بھائی کی مدعیت میں درج اس ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ سمیرا بی بی کو اُس کے سگے بھائی عابد نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔

یہ ایف آئی آر دفعہ 302 (قتل) اور دفعہ 311 (یعنی اگر قتل کے مقدمے میں مقتول کے تمام ورثا قصاص کا حق معاف کر دیں یا صلح کر لیں، تب بھی یہ دفعہ عدالت کو اختیار دیتی ہے کہ وہ ریاست کی طرف سے ملزم کو سزا دے) کے تحت درج کی گئی ہے۔

دوسری جانب گل نواز نامی شخص کے قتل کا مقدمہ بھی چھ اکتوبر کو ہی تھانہ سٹی مانسہرہ میں اُن کے بھائی کی مدعیت میں درج کروایا گیا تھا۔

اس مقدمے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اُن کے 27 سالہ بھائی گل نواز کی شادی سات برس قبل ہوئی تھی اور اُن کے تین بچے ہیں۔ ایف آئی آر میں بھائی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ گل نواز کی پانچ، چھ ماہ سے ایک خاتون سے دوستی تھی اور وہ خاتون اسی باعث اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی تھیں، تاہم انھیں سمجھا بجھا کر گھر واپس بھیج دیا گیا۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ گل نواز کے خاندان نے اس معاملے پر سمیرا بی بی کے لواحقین کے ساتھ دو مرتبہ جرگے بھی کیے اور چھ اکتوبر کو دوبارہ جرگہ ہونا تھا جب دوپہر کے اوقات میں انھیں اطلاع ملی کہ اُن کی بھائی گل نواز کی لاش سفیدہ کے مقام پر پڑی ہوئی ہے۔

ایف آئی آر میں بھائی کی جانب سے الزام عائد کیا کہ انھیں شبہ ہے کہ گل نواز کو سمیرا بی بی کے اہلخانہ میں سے کسی نے قتل کیا ہے۔

اب مانسہرہ پولیس نے ان دونوں واقعات کو نام نہاد غیرت کے نام پر قتل قرار دیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر مانسہرہ محمد اظہر خان نے اس حوالے سے اپنی پریس بریفنگ میں دعویٰ کیا ہے کہ گل نواز کے قتل میں اُن کا اپنا بھائی امجد جبکہ سمیرا بی بی کے قتل میں اُن کے بھائی عابد ملوث ہیں۔

محمد اظہر خان کے مطابق یہ معاملہ کئی دنوں سے چلا آ رہا تھا اور ابتدائی تفتیش میں پتا چلا کہ دونوں خاندانوں میں اس بات پر متعدد جرگے بھی منعقد ہو چکے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے دستیاب شواہد کی مدد سے چھ روز کے اندر دونوں افراد کے قتل میں ملوث افراد کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا اور اُن کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

’لواحقین نے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی‘

تھانہ سٹی مانسہرہ کے تفتیشی افسر محمد شہزاد نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ جب گل نواز اور سمیرا بی بی کی ایک ہی روز شہر کے مختلف مقامات سے لاشیں برآمد ہوئیں تو گل نواز کے بھائی نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے غلط طور پر مقدمہ درج کروایا، جس میں سمیرا کے لواحقین کو نامزد کیا گیا۔ تاہم ابتدائی تفتیش میں ہی یہ سامنے آ گیا تھا کہ ’گل نواز کو اُن کے اپنے بھائی امجد نے قتل کیا تھا۔‘

محمد شہزاد کے مطابق تفتیش کے دوران پتا چلا کہ گل نواز کے بھائی نے درج مقدمہ میں جو دعویٰ کیا کہ مقتولہ سمیرا کو اُن کے گھر واپس بھیج دیا گیا تھا، وہ بھی بظاہر غلط ہے۔ انھوں نے کہا ’متعدد جرگوں کے بعد اور دباؤ میں آ کر گل نواز نے سمیرا کو واپس بھیجا، اور اُن کے واپس آتے ہی اُن (سمیرا) کے بھائی نے اُن کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح سمیرا کے چچا زاد بھائی کی طرف سے بھی درج مقدمہ ’گمراہ کن‘ تھا، کیونکہ یہ مقدمہ ’جس شخص کے مدعیت میں درج ہوا تھا، پولیس کی تفتیش کے مطابق وہ خود بھی اس میں ملوث تھا۔‘

پولیس افسر محمد شہزاد کا دعویٰ ہے کہ ’جب گل نواز کے خاندان کو سمیرا کے قتل کا پتا چلا اور یہ بھی کہ اب سمیرا کا خاندان مقامی فرسودہ روایت کی بنیاد پر گل نواز کے خاندان کو ’چور‘ قرار دے رہا ہے تو گل نواز کے خاندان نے یہ بہتر سمجھا کہ انھیں بھی قتل کر دیا جائے تاکہ معاملہ دو خاندانوں کی طویل اور نسل در نسل دشمنی تک نہ پہنچ جائے۔‘

ایس ایچ او تھانہ صدر مانسہرہ محمد عامر نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں افراد کے اہلخانہ نے درج مقدمات میں بہت سے حقائق ’پولیس سے چھپائے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پولیس کے پاس دونوں واقعات کے ملزمان کے خلاف عدالتوں میں پیش کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور لواحقین کی جانب سے اپنے اپنے ملزمان کو معاف کرنے کے امکان کے باوجود سرکار کی مدعیت میں اس مقدمے کو آگے بڑھایا جائے گا، تاکہ مجرموں کو سزا دلوائی جا سکے۔‘

پاکستان میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات

حالیہ عرصے کے دوران پاکستان میں مبینہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل اگست 2026 میں راولپنڈی میں پولیس نے ٹک ٹاکر عائشہ گلمنہ کے قتل کے مقدمے میں اُن کے والد سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد پولیس کی جانب سے اسے مبینہ غیرت کے نام پر قتل قرار دیا گیا تھا۔

اسی طرح رواں سال جولائی کے دوسرے ہفتے میں خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان کی تحصیل داسو میں ’غیرت کے نام‘ پر ایک پولیس اہلکار اور ایک 22 برس کی خاتون کو قتل کیا گیا تھا جس کے الزام میں خاتون کے شوہر، والد اور بھائی سمیت سات ملزمان کے خلاف دوہرے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

جولائی 2025 میں راولپنڈی کے علاقے فوجی کالونی میں جرگے کے حکم پر سدرہ نامی خاتون کو 'غیرت کے نام' پر اُن ہی کے اہلخانہ نے قتل کر دیا تھا۔ جبکہ اپریل 2025 میں ضلع مانسہرہ ہی میں 'غیرت کے نام پر' ایک خاتون اور اُن کی چند ماہ کی بچی کا قتل کیا گیا تھا۔

مئی 2025 میں سندھ کے ضلع جامشورہ کے علاقے ’خدا کی بستی‘ میں ’غیرت‘ کے نام پر میاں، بیوی اور اُن کے دو بچوں کا قتل کیا گیا تھا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2024 میں ملک بھر میں نام نہاد غیرت کے نام پر مجموعی طور پر 346 افراد قتل ہوئے تھے، جن میں سے بیشتر کا تعلق سندھ اور پنجاب سے تھا۔