’شدت پسندوں سے کہا تھا کہ ہمارے علاقے سے نکل جائیں‘: بنوں میں مسافر گاڑیوں کے قریب دھماکوں میں سات افراد کی ہلاکت اور مقامی آبادی کے خدشات

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے قریب ڈومیل کے علاقے میں مسافر گاڑیوں کے قریب وقفے وقفے سے دو دھماکوں میں سات افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

ضلعی پولیس افسر یاسر آفریدی نے مقامی صحافیوں سے گفتگو میں دھماکوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ اُن کے بقول یہ واقعہ سنیچر کو ڈومیل کے علاقے میں تھانہ احمد زئی کی حدود میں پیش آیا ہے۔

علاقے سے تعلق رکھنے والے امن کمیٹی کے رہنما نور دراز نے صحافیوں کو بتایا کہ مقامی ڈرائیور اللہ نور کی گاڑی سواریوں کو لے کر روانہ ہوئی تھی اور جیسے ہی یہ مرکہ بیرہ کے پاس پہنچی وہاں دھماکہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس گاڑی میں ڈرائیور کے خاندان کے لوگ بھی تھے اور باقی سواریاں بھی موجود تھیں جن پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسافر گاڑی پر دھماکے کے بعد زخمیوں کو لے جانے والی گاڑی پر بھی کچھ فاصلہ پر ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کیا گیا ہے اس میں میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بنوں دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

بنوں میں محکمہ صحت کے ترجمان نعمان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تین زخمیوں کو خلیفہ گل نواز ہسپتال لایا گیا ہے جنھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

تاحال ان دھماکوں کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

ڈومیل کا علاقہ بنوں شہر سے کوئی 18 کلومیٹر کے فاصلے پر بنوں پشاور روڈ پر واقع ہے جبکہ مرکہ بیرہ کا مقام ڈومیل سے آٹھ کلومیٹر دور ہے۔

مرکہ بیرہ بنیادی طور پر ایک بڑا درخت ہے اور مقامی سطح پر مرکہ بیرہ جرگے کا مقام ہے جہاں علاقے کے لوگ مل بیٹھ کر اپنے مسائل پر جرگے کرتے ہیں۔ مرکہ مشاورت کو کہا جاتا ہے جبکہ بیر کے درخت کو بیرہ کہا جاتا ہے۔

اس دھماکے کی نوعیت کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں ابتدائی طور پر پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ریموٹ کنٹرول سے دھماکے کیے گئے ہیں جبکہ مقامی لوگوں نے ان خدشات کا اظہار بھی کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مسلح شدت پسندوں نے بارودی سرنگیں نصب کی ہوں تاہم پولیس اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔

پولیس کی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

ریجنل پولیس افسر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بکتر بند گاڑیاں، بم ڈسپوزل سکواڈ اور پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر موجود ہے، جہاں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بم ڈسپوزل ٹیموں نے کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کرنے کے لیے علاقے کی مکمل تلاشی لی ہے۔

’شدت پسندوں سے کہا تھا کہ وہ ہمارے علاقے سے نکل جائیں‘

ڈومیل کے اس علاقے میں ہاتھی خیل قوم اور دیگر اقوام رہائش پذیر ہیں اور اس علاقے میں مقامی لوگوں نے مسلح شدت پسندوں سے کہا ہے کہ وہ اس علاقے میں نہ آئیں۔

نور دراز نے صحافیوں کو بتایا کہ مسلح تنظیم میں مقامی علاقے کے لوگ شامل ہیں اور ’ہم نے ان سے کہا ہے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں کیونکہ ان کی موجودگی میں پھرعلاقے میں آپریشن ہو سکتے ہیں اور اس سے ان کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔‘

اس علاقے میں مقامی اقوام اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے علاوہ پولیس نے بھی کارروائیاں کی ہیں لیکن کشیدگی بدستور پائی جاتی ہے۔

بنوں کے قریب واقع تحصیل ڈومیل میں اپریل 2026 میں ڈومیل پولیس سٹیشن کو ایک خودکش کار بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچے سمیت پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

سکیورٹی حکام کے مطابق پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث حملہ آور اپنے ہدف تک مکمل طور پر پہنچنے میں ناکام رہا، تاہم دھماکے کے اثرات مقامی آبادی تک محسوس کیے گئے۔

گذشتہ ماہ بنوں میں نورڑ روڈ پر واقع فتح خیل پولیس چیک پوسٹ پر مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

ان واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے ڈومیل اور ملحقہ علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز میں اضافہ کیا، جن کے دوران کئی مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

بنوں کے ساتھ لکی مروت میں بھی تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں گذشتہ روز لکی مروت میں غزنی خیل کے علاقے خیرو خیل میں امن کمیٹی کے رہنما کے حجرے پر کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا گیا تھا جس میں 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔

خیرو خیل میں ایک ہفتہ پہلے جمعے کے روز ہی مسجد کے قریب دھماکہ ہوا تھا جب لوگ جمعے کی نماز ادا کر رہے تھے۔