نیپال میں زیر زمین سُرنگوں میں پھنسے سینکڑوں افراد کو بچانے کا غیر معمولی آپریشن: ’مجھے 50 فیصد امید ہے کہ وہ زندہ ہیں‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

نیپال میں آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے کے مطابق تبت، نیپال کے سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کُن سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کے بعد 3,900 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ دریائے تریشولی کے کنارے واقع پن بجلی منصوبوں پر کام کر رہے تھے اور سیلاب کے باعث ان منصوبوں سے منسلک سرنگوں میں کیچڑ بھر جانے کے باعث وہ وہاں پھنس گئے ہیں۔

سرنگوں میں پھنس جانے والے ان 600 کے لگ بھگ ورکرز کی زندگیاں بچانے کے لیے مختلف ممالک کے ماہر انجینیئرز سرنگوں کے اندر ہوا پمپ کر رہے ہیں۔ اگرچہ امدادی ٹیم ایک سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوئی، تاہم وہاں کسی شخص کے نہ ملنے پر یہ ٹیم واپس لوٹ آئی۔

نیپال کے ایک پن بجلی منصوبے پر کام کرنے والے 33 سالہ لاپتہ انجینیئر اورَس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے بی بی سی نیپالی سے گفتگو میں کہا کہ ’کاش ہم انھیں ڈھونڈ سکیں۔ کاش وہ گھر واپس آ جائیں۔‘

سرنگوں میں موجود افراد کو بچانے کے لیے کی جانے والی امدادی کارروائیوں کی قیادت چین اور نیپال کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے ماہرین بھی اس آپریشن میں شریک ہیں۔

ایک متاثرہ پن بجلی پلانٹ میں کام کرنے والے ایک شخص کی اہلیہ سیتا پانڈے نے نیپالی روزنامہ کانتی پور سے گفتگو میں کہا کہ ’مجھے اب بھی 50 فیصد امید ہے کہ وہ زندہ ہیں، کیونکہ سُرنگ کے اندر آکسیجن کا نظام موجود تھا۔‘

نیپال اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک پن بجلی پر انحصار کرتا ہے اور گذشتہ کئی برسوں سے نیپال نے اپنے دریائی نظاموں پر کئی نئے پن بجلی کے منصوبے شروع کیے ہیں جبکہ پرانے پلانٹس کی توسیع کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق کم از کم 11 ایسے پن بجلی منصوبے، جو مکمل ہو چکے تھے یا زیر تعمیر تھے، سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

ریسکیو ٹیموں نے ہفتے کے اختتام پر ایک سرنگ میں ہوا پمپ کرنا شروع کی، تاہم پھنسے ہوئے افراد کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔

پیر کے روز امدادی اہلکار ایک پن بجلی گھر تک جانے والی سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوئے، لیکن واپسی پر انھوں نے بتایا کہ انھیں اندر کوئی شخص نہیں ملا۔

پلانٹ کے اندر پھنسے ایک اور شخص کے رشتہ دار جیون کھڈکا نے ’کانتی پور‘ اخبار سے گفتگو میں کہا کہ ’جتنا زیادہ وقت گزر رہا ہے، ہماری امید اتنی ہی کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ آپریشن بہت تیزی سے آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ ہمارے لیے ہر لمحہ قیمتی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ انتہائی سست رفتار امدادی کارروائی ہے، جو مایوس کُن ہے۔‘

وزیر اعظم بالین شاہ نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں میں ’تیزی‘ لائی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیپال میں آنے والا سیلاب کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔

انھوں نے پیر کی شب فیس بک پر جاری بیان میں لکھا کہ ’یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمالیائی خطے میں ہمیں درپیش خطرات موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم عالمی برادری کے سامنے موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیش آنے والی آفات کے مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھائیں۔‘

امدادی کارروائیوں سے متعلق خبر کے لیے بے چینی سے منتظر ایک اور خاتون پریا کھاریل ہیں، جن کے بھائی سیلاب کے وقت اپر تریشولی ون منصوبے میں انجینیئر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

انھوں نے بی بی سی نیوز نیپالی کو بتایا کہ ’جو لوگ پن بجلی منصوبے سے واپس آئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سرنگ کے اندر لوگ موجود تھے۔ اس لیے امید ہے کہ اگر فوج جلد وہاں پہنچ جائے تو انھیں بچایا جا سکتا ہے۔‘

امدادی کارروائیوں میں نیپالی حکام کی معاونت کرنے والے آسٹریلوی انجینیئر آرنلڈ ڈکس نے کہا کہ امدادی ٹیموں کو سرنگوں کا سراغ لگانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ورلڈ ایٹ ون میں کہا کہ ’اِن سرنگوں کے تمام نشانات ختم ہو چکے ہیں۔ ہر چیز غائب ہے۔‘

ڈکس کے مطابق جب ریسکیو اہلکار بجلی گھروں کا درست مقام معلوم کر لیتے ہیں تو پھر رسائی کا بہترین طریقہ طے کیا جا سکتا ہے، جس میں عموماً کھدائی کرنا اور ’بڑے بڑے پتھروں کو دھماکوں سے توڑنا‘ شامل ہوتا ہے۔

بین الاقوامی ٹنلنگ ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ نے کہا کہ ’یہاں ایسے پتھر موجود ہیں جو انتہائی بڑے سائز کے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا۔ یہ واقعی ایک غیرمعمولی آپریشن ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں اب بھی زیر زمین پھنسے افراد کے زندہ بچ جانے کی کچھ امید ہے کیونکہ ممکن ہے سرنگوں کے اندر کا ماحول اوپر سے آنے والے شدید سیلاب سے کسی حد تک تحفظ فراہم کر سکا ہو۔

نیپال کی وزارت صحت کے ایک ترجمان نے بی بی سی نیپالی کو بتایا کہ اب تک ملنے والی تقریباً 900 لاشوں میں سے صرف چار فیصد کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔

سیلاب سے سب سے پہلے متاثر ہونے والے علاقوں سے بہہ کر نیچے کے علاقوں میں آنے والی لاشوں کی ضلع چتون میں عارضی تدفین کا عمل جاری ہے۔ ضلع چتون میں تقریباً 300 لاشیں بہہ کر کناروں تک آئی ہیں۔

علاقے میں فضا تعفن کی بُو سے بھری ہوئی تھی جبکہ ماسک اور حفاظتی لباس (PPE) پہنے اہلکار نامعلوم لاشوں کو ٹرکوں میں منتقل کر رہے تھے۔

ہفتے کے اختتام پر شہر کے باہر جنگل کے ایک بڑے حصے میں قبریں کھودی گئیں۔ طبی عملے اور رضاکاروں نے نامعلوم لاشوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کا کام جاری رکھا۔

ضلع کے چیف آفیسر گنیش آریال نے بی بی سی نیپالی کو بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت ہونے کے بعد اہلخانہ اپنے پیاروں کی باقیات حاصل کر سکیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس کافی تعداد میں لاشوں کو محفوظ رکھنے (مردہ خانے) کا نظام موجود نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں عارضی تدفین کے اس آخری متبادل کا انتخاب کرنا پڑا۔ ہم واقعی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔¬

دریں اثنا تبت میں چینی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ پنچن لامہ، جو تبتی بدھ مت کے دوسرے بڑے روحانی رہنما سمجھے جاتے ہیں، نے یادگاری دعائیہ تقریب منعقد کی، جبکہ امدادی ٹیمیں کمر تک کیچڑ میں ڈوب کر تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت کے علاقے میں ہلاکتوں کی سرکاری تعداد 16 ہے جبکہ 546 افراد لاپتہ قرار دیے گئے ہیں۔ تاہم سیلاب کی ویڈیوز اور معلومات پر چین میں سخت سینسرشپ عائد کی گئی ہے۔

چینی حکام نے ان افراد کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کیا ہے جو سیلاب سے متعلق سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں کر رہے تھے کہ جانی نقصان کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ ایکشن میں وارننگ، جرمانے اور مختصر مدت کی حراست شامل ہو سکتی ہے۔

ادھر نیپال میں بھی حکام نے ایسے آن لائن مواد کو ہٹانے کے احکامات جاری کیے ہیں جسے وہ سیلاب کے بارے میں غلط معلومات یا گمراہ کن دعوے قرار دیتے ہیں۔