آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تقریباً ہر بیماری کا سراغ لگانے والا نیا ’میٹا جیونومک‘ ٹیسٹ کیا ہے؟
- مصنف, ڈیوڈ کاکس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
کورونا وائرس (کووڈ-19) کی تشخیص میں اہم کردار ادا کرنے والی جینیاتی ٹیکنالوجی اب طب کی دنیا میں ایک نئی پیش رفت کا ذریعہ بن رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈاکٹر بیماریوں کا تیزی سے پتا لگا سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں بروقت علاج کے لیے اہم فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔
دسمبر 2019 کے آخر میں چین کے تین بڑے شہروں کے ماہرین کی ایک ٹیم نے نمونیا کے پراسرار کیسز کی تحقیقات شروع کیں۔ ان مریضوں کو شدید بیماری کے باعث ہسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا اور بیماری سے پہلے یہ سب ووہان کی ہوانان سی فوڈ مارکیٹ جا چکے تھے۔
جب سائنس دانوں نے مریضوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا تو وہ کسی ایسے وائرس یا جراثیم کی شناخت نہیں کر سکے جس کے بارے میں وہ پہلے سے جانتے تھے۔ اس لیے انھوں نے اس وائرس کی جانچ کا ایک جدید طریقہ استعمال کیا جسے ’میٹا جینومک ٹیسٹنگ‘ کہا جاتا ہے۔
عام ٹیسٹ میں کسی مخصوص وائرس یا جرثومے کو تلاش کیا جاتا ہے، لیکن میٹا جینومک ٹیسٹنگ کے ذریعے کسی نمونے میں موجود مختلف خوردبینی جانداروں کے جینیاتی مواد کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، چاہے اس سے قبل ان کی شناخت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔
اس طریقے سے سائنس دانوں کو پتا چلا کہ مریضوں کے نمونوں میں موجود وائرس کا تعلق کورونا وائرس کے خاندان سے ہے۔ اس خاندان کے بعض وائرس پہلے بھی انسانوں میں نمونیا اور سانس کی شدید بیماریوں کا سبب بن چکے تھے، جن میں مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) بھی شامل ہے۔
اس طرح سائنس دانوں نے اس نئے وائرس کی شناخت کی، جو بعد میں کووڈ-19 کی عالمی وبا کا سبب بنا۔
سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر نرنجن ناگاراجن کے مطابق یہ ماضی کے مقابلے میں ایک انقلابی پیش رفت تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’وائرس کی شناخت ہوتے ہی کووڈ-19 کی تشخیص کے ٹیسٹ کے طریقے تیزی سے تیار کیے گئے، جس سے بیماری کا پتا لگانے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں میں مدد ملی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی دوران دنیا بھر میں اس وائرس کے علاج اور اس کے خلاف ویکسین تیار کرنے کی کوششیں بھی تیز ہو گئیں۔
پراسرار جراثیم کی کھوج
جب کسی مریض کو غنودگی، بخار، سر درد اور کمزوری جیسی علامات کے ساتھ اعصابی امراض کے وارڈ میں لایا جاتا ہے، تو ڈاکٹر جانتے ہیں کہ یہ ایک ہنگامی صورتِ حال ہے اور مریض کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
یہ علامات میننجائٹس یا اینسیفلائٹس جیسی سنگین بیماریوں کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔ یہ بیماریاں دماغ یا ریڑھ کی ہڈی کو متاثر کرتی ہیں۔
لیکن ایسے مریضوں کے علاج میں ڈاکٹروں کو ایک مشکل درپیش ہوتی ہے۔ انھیں یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ بیماری کسی وائرس یا بیکٹیریا کی وجہ سے ہوئی ہے یا جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے اپنے ہی جسم پر حملہ کر رہا ہے۔
درست علاج کا انتخاب اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ بیماری کی اصل وجہ کیا ہے۔ لیکن ایمرجنسی میں ڈاکٹروں کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے وقت کم ہوتا ہے اور معلومات بھی محدود ہوتی ہیں۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو سے وابستہ متعدی امراض کے ماہر پروفیسر چارلس چیو کہتے ہیں کہ ’ایسے مریضوں کے بارے میں فوری فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ اسی لیے ڈاکٹر اکثر انفیکشن اور خودکار مدافعتی بیماری، دونوں امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج شروع کر دیتے ہیں۔‘
ان کے مطابق بعض اوقات ان دونوں بیماریوں کا علاج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ انفیکشن کی صورت میں مریض کو جراثیم کے خلاف دوائیں دی جاتی ہیں، جبکہ خودکار مدافعتی بیماری میں ایسی ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں جو مدافعتی نظام کی سرگرمی کم کرتی ہیں۔
اس کے باوجود وقت کی کمی کے باعث اکثر ڈاکٹروں کے پاس دونوں امکانات کے تحت علاج شروع کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔
اب میٹا جینومکس نامی جدید جینیاتی تکنیک ڈاکٹروں کو اس مشکل کا حل تلاش کرنے میں مدد دے رہی ہے۔
پروفیسر چارلس چیو اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایسا ٹیسٹ تیار کیا ہے جس کے ذریعے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود مائع، جسے سیریبروسپائنل فلوئیڈ کہا جاتا ہے، میں بیماری پیدا کرنے والے جراثیم اور وائرس کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔
اس ٹیسٹ کی مدد سے ایسے کئی مریضوں کی بیماری کی اصل وجہ معلوم ہوئی جن کے بارے میں پہلے یہ واضح نہیں تھا کہ وہ کس انفیکشن کا شکار ہیں۔
مثال کے طور پر ایک مریضہ کو میننجائٹس اور جگر کی خرابی کی تشخیص ہوئی تھی۔ ان کے لیے جگر کی پیوندکاری تجویز کی گئی تھی، لیکن جب ان کے سیریبروسپائنل فلوئیڈ کا میٹا جینومک ٹیسٹ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ دراصل ہیپاٹائٹس ای وائرس سے متاثر تھیں۔
یہ وائرس جگر کو متاثر کرتا ہے اور اس سے ہونے والی بیماری کا علاج ممکن ہے۔ لیکن امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی عام طور پر اس انفیکشن کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ نہیں کیے جاتے، جس کی وجہ سے بعض مریضوں میں اس کا پتا لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔
اب یہاں یہ سمجھنا بھی اہم ہوگا کہ میٹا جینومکس کیا ہے؟
میٹا جینومکس ایک جدید جینیاتی طریقۂ تشخیص ہے، جس کی مدد سے کسی نمونے میں موجود مختلف جراثیم اور وائرسوں کے جینیاتی مواد کا ایک ساتھ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے ایسے جراثیم کا بھی پتا لگایا جا سکتا ہے جن کی پہلے شناخت نہ ہوئی ہو۔
پروفیسر چارلس چیو کے مطابق ’ہم نے مریضہ کو وائرس کے خلاف دوا دی، جس سے ان کی طبیعت بہتر ہو گئی اور انھیں جگر کی پیوندکاری کی ضرورت نہیں پڑی۔‘
کچھ عرصہ پہلے تک میٹا جینومکس کے استعمال میں ایک بڑی مشکل یہ تھی کہ اس کے نتائج حاصل کرنے میں کافی وقت لگتا تھا۔
اس ٹیسٹ میں انسانی خلیات کے ڈی این اے اور جراثیم کے جینیاتی مواد میں فرق کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ بیماری کس وائرس کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے خصوصی مہارت درکار ہوتی ہے۔
سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر نرنجن ناگاراجن کہتے ہیں کہ ’ڈی این اے کی ترتیب معلوم کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے میں کئی دن اور بعض اوقات ایک ہفتہ بھی لگ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ’نتیجہ آنے سے پہلے مریض کی جان بھی جا سکتی ہے۔‘
تاہم اب ایسی مشینیں دستیاب ہیں جو صرف ایک سے دو گھنٹوں میں ڈی این اے کی ترتیب معلوم کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بڑی مقدار میں موجود جینیاتی معلومات کا تیزی سے تجزیہ کیا جا سکتا ہے، جس سے بیماری پیدا کرنے والے وائرس کی شناخت میں مدد ملتی ہے۔
ان نئی ٹیکنالوجیز کی بدولت میٹا جینومکس کے ذریعے بیماری کی وجہ معلوم کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز اور آسان ہو گیا ہے اور اب اسے طبی شعبے میں زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
وقت کے خلاف ایک دوڑ
جن لوگوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے، ان کے لیے معمولی سا انفیکشن بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
ان میں اعضا کی پیوندکاری کروانے والے مریض، کینسر کے مریض اور خودکار مدافعتی بیماریوں میں مبتلا افراد شامل ہیں۔
تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ کمزور مدافعتی نظام والے مریض اگر کسی انفیکشن کے باعث سیپسس، یعنی خون میں انفیکشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خطرناک کیفیت، کا شکار ہو جائیں تو ان کی موت کا خطرہ 23 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
تاہم ایسے مریضوں میں بیماری کی اصل وجہ کا فوری پتا لگانا آسان نہیں ہوتا۔
پروفیسر چارلس چیو کہتے ہیں کہ ’نمونیا یا سیپسس جیسی بیماریوں کی وجہ سینکڑوں مختلف جراثیم ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ڈاکٹروں کو کئی ٹیسٹ کروانے پڑتے ہیں اور بیماری کی اصل وجہ معلوم کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق بعض اوقات مریض کی جان بچانے کے لیے یہ وقت کے خلاف ایک دوڑ بن جاتی ہے۔
سنگاپور میں پروفیسر نرنجن ناگاراجن ایک تحقیقی منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کی مدد سے بہتر بنائی گئی میٹا جینومک جانچ کے ذریعے کمزور مدافعتی نظام والے مریضوں میں بیماری کی زیادہ تیزی اور درستگی سے تشخیص کی جا سکتی ہے یا نہیں، تاکہ انھیں بروقت مناسب علاج دیا جا سکے۔
پروفیسر چارلس چیو کے مطابق میٹا جینومک ٹیسٹ کے نتائج میں اکثر ایسی معلومات بھی شامل ہوتی ہیں جو بیماری کی تشخیص میں مدد نہیں دیتیں۔
مثال کے طور پر بعض وائرس زیادہ تر لوگوں کے جسم میں موجود ہوتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ بیماری کا سبب بھی بنیں۔ اسی طرح نمونے جمع کرنے یا لیبارٹری میں تحقیق اور تشخیص کے دوران بعض جراثیم اس میں شامل ہو سکتے ہیں، حالانکہ ان کا مریض کی بیماری سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
مصنوعی ذہانت اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ غیرضروری معلومات کو الگ کرکے اہم معلومات کو نمایاں کرتی ہے، جس سے ڈاکٹروں کے لیے بیماری کی اصل وجہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
بعض اوقات ایک مریض بیک وقت کئی انفیکشنز کا شکار ہوتا ہے، لیکن اس کی بیماری کی اصل وجہ ان میں سے صرف ایک انفیکشن ہوتا ہے۔
اس کے برعکس کبھی جسم کو پہنچنے والا نقصان مدافعتی نظام کے غیرمعمولی ردِعمل کی وجہ سے ہوتا ہے، جس کا کسی وائرس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
ایسے حالات میں بیماری کی اصل وجہ معلوم کرنا خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اسی سے یہ فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے کہ مریض کو جراثیم کے خلاف علاج کی ضرورت ہے یا مدافعتی نظام کو قابو میں رکھنے والی ادویات کی۔
’ہر مریض کے لیے بہترین علاج کا انتخاب‘
مصنوعی ذہانت یہ معلوم کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ نقصان پہنچانے والے جراثیم کون سے ہیں۔ یہ کام مصنوعی ذہانت اس بات کا تجزیہ کر کے کرتی ہے کہ مریض کے جین کس طرح کام کر رہے ہیں، مثلاً جسم کون سے پروٹین بنا رہا ہے۔
اس معلومات کی مدد سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مریض کا مدافعتی نظام کسی وائرس سے لڑ رہا ہے یا اس کے ساتھ بغیر کسی مسئلے کے موجود ہے۔
چارلس چیو کہتے ہیں کہ ’اس سے ہمیں زیادہ درست اور مریض کے مطابق علاج کرنے کی صلاحیت ملتی ہے، جس کی مدد سے ہم ہر مریض کے لیے بہترین علاج کا انتخاب کر سکتے ہیں۔‘
صحتِ عامہ میں تبدیلی
جیسے جیسے اس بارے میں مزید شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ میٹا جینومکس بیماریوں کی تشخیص میں کتنی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، ویسے ویسے ہسپتالوں میں اس کا استعمال بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر گذشتہ سال لندن کے دو ہسپتالوں میں ہونے والی ایک ابتدائی تحقیق میں یہ جانچا گیا کہ آیا میٹا جینومکس سانس کی بیماریوں کے باعث ہسپتال میں داخل مریضوں کے بارے میں اضافی معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ ٹیسٹ تقریباً 30 فیصد ایسے جراثیموں کی نشاندہی کر سکتا ہے، جو معمول کے ٹیسٹوں میں سامنے نہیں آتے۔
ایک مریض کے معاملے میں تو اس ٹیسٹ نے ایک بڑا فرق ڈال دیا۔
ابتدائی طور پر ڈاکٹر سمجھ رہے تھے کہ اسے پھیپھڑوں کا کینسر ہے اور ممکنہ طور پر اسے ایک پیچیدہ آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
تاہم میٹا جینومک ٹیسٹ سے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دراصل تپِ دق (ٹی بی) کا شکار تھا، جس سے اسے غیرضروری آپریشن سے بچا لیا گیا۔
اس ٹیسٹ نے پاروو وائرس بی 19 سے ہونے والی سانس کی بیماری کے دو کیسز کی بھی نشاندہی کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وائرس کا سراغ برطانیہ اور یورپ کے صحتِ عامہ کے اداروں کی جانب سے اس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ سے متعلق انتباہ جاری کرنے سے کئی ماہ پہلے ہی لگ گیا تھا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میٹا جینومکس نئی وباؤں کے بارے میں حکام کو پہلے سے خبردار کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
نرنجن ناگاراجن کے مطابق سنگاپور کی کئی لیبارٹریاں اب گندے پانی اور فضائی نمونوں پر میٹا جینومک ٹیسٹ کر رہی ہیں۔
ان سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تجزیہ پھر مصنوعی ذہانت کے ایسے ماڈلز کے ذریعے کیا جاتا ہے جو نئے وائرسوں کے آثار تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کوششیں آئندہ کسی ممکنہ وبا کا جلد پتا لگانے اور اسے پھیلنے سے پہلے روکنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق اسی طرح کی پیشگی نگرانی کووڈ-19 کے بارے میں بھی پہلے خبردار کر سکتی تھی۔
اٹلی میں گندے پانی کے نمونوں کے تجزیے سے پتا چلا کہ کووڈ-19 کے آثار ملک میں پہلے تصدیق شدہ کیس سامنے آنے سے کئی ماہ قبل ہی فضلے کے پانی میں موجود تھے۔