ایک ہی ماہ میں دو بار مکمل چاند: آج نظر آنے والا ’بلیو مون‘ کا نایاب منظر ہے کیا؟

    • مصنف, ڈاکٹر ٹی وی وینکٹیشورن
    • عہدہ, پروفیسر، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، موہالی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

آج 31 مئی کی رات آگر آسمان صاف ہوا تو چاند کو دیکھیے گا، وہ اندھیرے میں چاندی کے تھال کی طرح چمک رہا ہو گا۔ مئی کے مہینے میں یہ دوسری بار ہے کہ مکمل چاند نظر آئے گا لیکن اس دوسرے چاند کا نام مختلف ہے۔ اسے بلیو مون کہتے ہیں۔

اگرچہ اس کا رنگ نیلا نہیں ہو گا۔

یورپی ثقافت میں نیلا رنگ نایاب ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے وہاں نایاب یا غیر معمولی چیزوں کے لیے ’نیلا‘ رنگ استعمال کیا جاتا ہے۔

بالکل اسی طرح جیسے ہم غصے کے لیے سرخ اور سکون کے لیے سفید رنگ کا استعمال کرتے ہیں۔

ایک ہی مہینے میں دو بار پورا مکمل چاند کا نظر آنا نہایت نایاب واقعہ ہے۔ اسی لیے اس مہینے کی دوسری مکمل چاند رات کو ’بلیو مون‘ کہا جاتا ہے۔

ایک ہی مہینے میں دو مکمل چاند کیسے آتے ہیں؟

چاند زمین کے گرد گردش کرتا ہے، لیکن اس دوران اس کی رفتار یکساں نہیں رہتی۔

جب سورج ایک طرف، زمین درمیان میں اور چاند دوسری طرف ہوتا ہے، یعنی سورج، زمین اور چاند ایک سیدھ میں ہوتے ہیں تو مکمل چاند نظر آتا ہے۔

اس لمحے ان تینوں کے مراکز ایک ہی خط پر آ جاتے ہیں اور اسی وقت مکمل چاند ہوتا ہے۔

مکمل چاند آنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

چاند کو زمین کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں 27.3 دن لگتے ہیں لیکن ہمیں ہر 27.3 دن بعد مکمل چاند نظر نہیں آتا۔

جب تک چاند اپنا 360 درجے کا چکر مکمل کرتا ہے، اس وقت تک زمین بھی اپنے مدار میں آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔

مکمل چاند نظر آنے کے لیے سورج، زمین اور چاند کی ایک خاص ترتیب ضروری ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ زمین آگے بڑھ جاتی ہے تو یہ ترتیب بھی بدل جاتی ہے۔ اس لیے ہر بار مکمل چاند نظر نہیں آتا۔

چاند کو سورج کے بالکل مخالف سمت تک پہنچنے کے لیے مزید فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے مکمل چاند کا اوسط دورانیہ 29.53 دن ہو جاتا ہے، یعنی 29 دن، 12 گھنٹے اور 44 منٹ۔

اس کے علاوہ چاند زمین کے گرد مکمل گول مدار میں نہیں بلکہ بیضوی مدار میں گردش کرتا ہے۔ جب چاند زمین کے قریب ہوتا ہے تو تیز رفتار سے حرکت کرتا ہے۔ اس مقام کو ’پیریجی‘ کہا جاتا ہے اور جب وہ زمین سے دور ہوتا ہے تو اس کی رفتار کم ہو جاتی ہے، اسے ’اپوجی‘ کہتے ہیں۔

پیریجی کے وقت چاند تیزی سے اپنی جگہ پر پہنچ جاتا ہے، جبکہ اپوجی کے وقت اسے زیادہ وقت لگتا ہے۔ اسی وجہ سے مسلسل دو مکمل چاندوں کے درمیان وقت بدلتا رہتا ہے، تقریباً 29.18 دن سے 29.93 دن تک۔

یہ فرق اہم کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب طے کرتا ہے کہ ہم اپنے کیلنڈر اور ثقافت میں چاند کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں۔

’بلیو مون‘ نام کیسے پڑا؟

فلکیاتی نقط نظر سے موسم کو دو مدتوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جب دن اور رات برابر ہوتے ہیں، اور جب سال میں دن یا رات سب سے زیادہ لمبی ہوتی ہے۔

ایک شمسی سال تقریباً 365.24 دن کا ہوتا ہے، اس لیے ہر موسم تقریباً 91.3 دن کا ہوتا ہے۔

چونکہ مکمل چاند کا اوسط وقفہ 29.53 دن ہے، اس لیے ایک موسم میں عام طور پر تین مکمل چاند ہوتے ہیں۔

تاہم چاند کی حرکت میں تبدیلی کے باعث بعض اوقات ایک موسم میں چار مکمل چاند بھی ہو سکتے ہیں۔

ماضی میں یورپ میں یہ ایک مسئلہ بن گیا تھا، کیونکہ مذہبی تہواروں کی تاریخیں طے کرنے کی ذمہ داری عیسائی مذہبی رہنماؤں پر ہوتی تھی۔

ایک سال میں 13 مکمل چاند ہونا غیر معمولی سمجھا جاتا تھا اور بعض لوگ اسے نحوست کی علامت بھی مانتے تھے۔

ایسے سال میں اگر کسی موسم میں چار مکمل چاند ہوں، تو اس موسم کے تیسرے مکمل چاند کو ’بلیو مون‘ کہا جاتا تھا۔ اس کا چاند کے رنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

صدیوں تک انگریزی زبان میں ’once in a blue moon‘ کا محاورہ کسی نایاب واقعے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔

بعد میں یورپی آبادکار امریکہ گئے اور وہاں اس تصور میں تبدیلی آئی۔

ایک بہت عام غلطی

امریکہ کی مقامی اقوام چاند کی مختلف حالتوں اور موسموں کی بنیاد پر وقت کا اندازہ لگاتی تھیں۔ مثلاً جنوری میں جب مکمل چاند ہوتا تو بھیڑیوں کی آوازیں سنائی دیتیں، اس لیے اسے ’وولف مون‘ کہا جاتا تھا۔

اسی طرح مئی میں پھول کھلتے تو اسے ’فلاور مون‘ کہا جاتا تھا۔

بعد میں کیلنڈروں میں ہر مہینے کے مکمل چاند کو ایک مخصوص نام دیا گیا:

  • جنوری: وولف مون (بھیڑیوں کا چاند)
  • فروری: سنو مون (برف کا چاند)
  • مارچ: وارم مون (گرم چند)
  • اپریل: پنک مون (گلابی چاند)
  • مئی: فلاور مون (پھولوں کا چاند)
  • جون: سٹرابیری مون (سٹرابیری پھل کا چاند)
  • جولائی: بک مون (نر ہرن یا بکری کا چاند)
  • اگست: سٹرجن مون (سٹرجن ایک قدم اور بڑی مچھلی ہے)
  • ستمبر: ہارویسٹ مون (کٹائی کے موسم کا چاند)
  • اکتوبر: ہنٹرز مون (شکاریوں کا چاند)
  • نومبر: بیور مون (بیور جانور کا چاند)
  • اور
  • دسمبر: کولڈ مون (سردی کا چاند)

وقت کے ساتھ یہ نام امریکی ثقافت کا حصہ بن گئے، جس کے باعث ہر مکمل چاند کو ایک مخصوص نام دینا ضروری سمجھا جانے لگا۔

1937 میں شائع ہونے والی کتاب ’مین فارمرز الماناک‘ میں کہا گیا کہ اگر ایک موسم میں چار مکمل چاند ہوں تو تیسرے کو 'بلیو مون' کہا جائے گا۔

تاہم بعد میں فلکیات کے ایک معروف مصنف نے اس وضاحت کو غلط سمجھ لیا اور کہا کہ ایک ہی مہینے میں آنے والا دوسرا مکمل چاند ’بلیو مون‘ ہوتا ہے۔

ان کی یہ غلط تشریح بعد میں اس قدر مقبول ہو گئی کہ آج عام طور پر ’بلیو مون‘ سے مراد ایک ہی گریگورین کیلنڈر کے مہینے کا دوسرا مکمل چاند لیا جاتا ہے۔

ایک ہی مہینے میں دو مکمل چاند

ایک ہی مہینے میں دو مکمل چاند ہونا اتنا نایاب کیوں ہوتا ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ گریگورین کیلنڈر کے تمام مہینوں میں دنوں کی تعداد یکساں نہیں ہوتی۔ کچھ مہینوں میں 28 دن ہوتے ہیں، کچھ میں 30 اور کچھ میں 31۔

جبکہ دو مکمل چاندوں کے درمیان وقفہ تقریباً 29.18 دن سے 29.93 دن تک ہوتا ہے۔

اس لیے اگر کسی مہینے میں 31 دن ہوں اور اس کے شروع کے دنوں میں پہلا مکمل چاند ہو، تو امکان ہوتا ہے کہ مہینے کے آخر میں دوسرا مکمل چاند بھی آ جائے۔

اس مہینے کی پہلی مکمل چاند رات یکم مئی کو تھی، جبکہ دوسری 31 مئی کو ہے۔ موجودہ تصور کے مطابق اسے ’بلیو مون‘ کہا جاتا ہے۔

یہ مکمل چاند ’مائیکرو مون‘ بھی ہو گا۔ یعنی اس وقت چاند زمین سے اپنے سب سے دور مقام اپوجی پر ہو گا۔ اسی وجہ سے یہ معمول سے کچھ چھوٹا دکھائی دے گا۔ تاہم شاید عام آنکھ یہ فرق محسوس بھی نہ کر سکے۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جدید معنوں میں ’بلیو مون‘ در اصل کوئی حقیقی فلکیاتی واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک ثقافتی تصور ہے جو انسانوں نے ایک مخصوص کیلنڈر نظام کے مطابق چاند کی حرکت کو سمجھتے ہوئے بنایا ہے۔

انڈیا کی کچھ روایات میں ایک مکمل چاند سے اگلے مکمل چاند تک کے عرصے کو ایک مہینہ شمار کیا جاتا ہے، جسے ’پُورنما‘ کہا جاتا ہے۔ جبکہ دیگر روایات میں ایک نئے چاند سے اگلے نئے چاند تک کا عرصہ ایک مہینہ مانا جاتا ہے، جسے ’امانت‘ کہا جاتا ہے۔