آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سابق افغان اینکر پر فرانس میں ماڈلنگ کرنے پر تنقید: ’مجھ پر حملہ ہوا، کہا گیا تم پشتون ہو تمھیں ایسا لباس نہیں پہننا چاہیے‘
- مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
افغانستان سے تعلق رکھنے والی ایک سابق صحافی اور ٹی وی اینکر گلالی کریمی کا لباس اور نئی طرزِ زندگی ملک میں زیرِ بحث ہے۔
کریمی اب فرانس میں بطور ماڈل کام کر رہی ہیں اور انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر متحرک ہیں، جہاں ان کے بالترتیب دو لاکھ 80 ہزار اور دو لاکھ 30 ہزار فالوورز ہیں۔
وہ اس سے قبل افغانستان میں سابقہ حکومت کے دور میں نجی شمشاد ٹی وی اور لیمَر ٹی وی کے لیے کام کر چکی ہیں۔ انھوں نے پیرس میں بیگم ٹی وی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔
حال ہی میں ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) دری نے 2 جون کو کریمی کے بارے میں ایک ویڈیو رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا: ’قندھار سے پیرس تک: گلالی کریمی کی متنازع کہانی۔‘
رپورٹ میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر بہت سے افغان ان کی انٹرنیٹ پر موجودگی اور لباس کو افغانستان کی مذہبی اور ثقافتی روایات کے منافی قرار دیتے ہیں۔
کریمی نے پیرس میں اپنی ماڈلنگ، ظاہری انداز اور نئی طرزِ زندگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا: ’میں خود کو پُرکشش بنانا چاہتی ہوں، یعنی یہ ایسی چیز ہے جو مجھے سوٹ کرتی ہے اور مجھے خوشی دیتی ہے، اس لیے میں اسی طرح کا لباس پہننا چاہتی ہوں۔‘
انھوں نے کہا: ’میں اب سنیما میں اور بطور ماڈل کام کر رہی ہوں اور میرے کپڑے یقیناً ویسے نہیں ہیں، جیسے وہ افغانستان میں سوچتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میرا لباس اور میرا انداز مجھے فحش فلموں میں کام کرنے کی جانب لے جائے گا۔۔۔ جب میں یہ دیکھتی ہوں تو پریشان ہوتی ہوں۔‘
کریمی نے یہ بھی کہا کہ پیرس میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے ان پر حملہ کیا اور سکیورٹی خدشات کے باعث وہ اب تک چار مرتبہ اپنا رہائشی پتہ تبدیل کر چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا: ’مجھ پر حملہ کیا گیا اور کہا گیا کہ تم پشتون لڑکی ہو اس لیے تمھیں اس طرح لباس نہیں پہننا چاہیے۔‘
انٹرویو کے دوران انھوں نے ڈوئچے ویلے دری کو بتایا کہ وہ اس سے قبل طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ایک انٹرویو کر چکی ہیں، جنھوں نے انھیں ان کے لباس کے بارے میں محتاط رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
بی بی سی اردو نے اس معاملے پر رائے جاننے کے لیے افغان طالبان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے بات کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
7 جون کو نجی افغان براڈکاسٹنگ نیٹ ورک (اے بی این) کی ایک رپورٹ میں کریمی کے حوالے سے کہا گیا کہ انھوں نے طالبان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ’ایسے ماحول میں جہاں لوگوں کو اپنی ذاتی ظاہری شکل اور داڑھی تک پر اختیار نہیں اور وہ جبر اور غلبے کے ماحول کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں، بنیادی مطالبات کے سامنے خاموشی سب سے بڑا مسئلہ سمجھی جاتی ہے۔‘
تنقید اور حمایت
اکثر افغان سوشل میڈیا صارفین نے کریمی کو ثقافتی اقدار کی خلاف ورزی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ کچھ نے ان کے انتخاب کا دفاع بھی کیا ہے۔
ایک صارف گوربوز نے 7 جون کو کریمی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ’آزادی کے نام پر‘ افغانستان کی ’قومی اور تاریخی ثقافت سے انحراف‘ کیا ہے۔
تاہم بیشتر افراد کریمی کی حمایت بھی کرتے نظر آتے ہیں۔
وفادار ہزارہ نامی ایک صارف نے لکھا ’جس طرح چاہو ویسے جیو۔۔ تم ایک انسان ہو، اور تم خود فیصلہ کرتی ہو کہ کیا پہننا ہے اور کیسے زندگی گزارنی ہے۔ تمہیں انتخاب کا حق حاصل ہے، اور یہ حق کوئی تم سے چھین نہیں سکتا۔‘
اسی طرح خراسان نامی صارف نے لکھا ’آپ بہت اچھا کام کر رہی ہیں، پشتون بہن۔ آپ ایک انسان ہیں اور آپ کو آزاد زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔‘
کریمی کی تائید کیے بغیر تجزیہ کار حبیب خان نے 4 اپریل کو کہا: ’طالبان ان جیسی پشتون خواتین کو خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر خود بھی پشتون ہیں۔‘