انڈیا میں گینگ ریپ کا نیا کیس جس نے 2012 کے دلی بس حملے کی دردناک یاد تازہ کی

    • مصنف, گیتا پانڈے اور سیتو تیواری
    • عہدہ, بی بی سی نیوز اور بی بی سی ہندی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

نوٹ: اس رپورٹ میں ریپ سے متعلق تفصیلات ہیں جو قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں۔

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک بس میں ایک خاتون کے اجتماعی ریپ کا واقعہ عالمی شہ سرخیوں کا حصہ بننے کے 13 سال بعد ملک کی شمالی ریاست بہار سے ایک ایسا ہی نیا کیس سامنے آیا ہے جو ایک اور خاتون پر ڈھائے جانے والے ظلم کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس خاتون کی کہانی پولیس اور طبی حکام کی بے حسی کی بھی عکاسی کرتی ہے، جس کا سامنا انڈیا میں جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین، خصوصاً چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں، معمول کے طور پر کرتی ہیں۔

انڈیا کے قانون کے تحت جنسی تشدد سے متاثرہ افراد کی شناخت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں۔ اس لیے ہم ان کے لیے فرضی نام سوما کا استعمال کریں گے۔

28 سالہ سوما چار بچوں کی والدہ ہیں۔ انھوں نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ حملہ ان کے اپنے گھر میں کیا گیا اور مردوں کے ایک گروپ نے نہ صرف ان کا گینگ ریپ کیا بلکہ مبینہ طور پر ان کی اندام نہانی میں گولی کا خول سمیت دیگر اشیا داخل کی گئیں۔

یہ واقعہ 11 جون کی رات بیگوسرائے کے ایک گاؤں میں پیش آیا، اس ضلع کا سرکاری طور پر انڈیا کے سب سے زیادہ سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ کیس اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنا جب ہسپتال کے حکام نے تصدیق کی کہ خاتون پر اشیا کے ذریعے تشدد کیا گیا، جنھیں ڈاکٹروں نے باہر نکالا۔

خاتون اپنے ساتھ گولی کا خول بھی لائی تھیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی استعمال ہونے والی اشیا میں شامل تھا۔

اس خوفناک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے سوما کا کہنا تھا کہ وہ رات میں اپنے ایک کمرے کے گھر کے باہر بنے بیت الخلا میں موجود تھیں جب وہاں پانچ مرد گھس آئے۔ بیت الخلا کا دروازہ نہیں تھا اور پردے کے لیے صرف ایک پردہ لٹکایا گیا تھا۔

سوما نے بتایا کہ ’انھوں نے میرے کپڑے اتار دیے، میرا منھ بند کر دیا اور میرے ہاتھ باندھ دیے۔ جب میں نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے بلیڈ سے میرے سینے پر زخم دیے اور میرا ریپ کیا۔‘

ان کے بقول شروع میں ان کے شوہر نے ان کی چیخوں کو کسی آوارہ بلی کی آواز سمجھ کر نظرانداز کیا۔ مگر پھر انھیں شک ہوا اور وہ دیکھنے کے لیے آئے۔

’لیکن گھر باہر سے بند تھا۔ انھوں نے ایک پڑوسی کو بلایا جس نے آ کر دروازہ کھولا، اور سب نے میری حالت دیکھی تو رونے لگے۔‘

بیگوسرائے کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منیش (جو صرف ایک ہی نام استعمال کرتے ہیں) نے بی بی سی کو بتایا کہ سوما کی ’طبی رپورٹ میں ریپ کی تصدیق ہو گئی ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’اس کیس میں تین نامزد اور دو نامعلوم ملزمان ہیں۔ ہم نے ان میں سے دو کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے جو دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے، اور تفتیش جاری ہے۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ ملزمان کا پہلے بھی جرائم کا ریکارڈ موجود ہے اور ان پر اجتماعی ریپ سے متعلق دفعات لگائی گئی ہیں۔

سوما کے مطابق اس ہولناک حملے کی رات انھیں پولیس یا طبی حکام سے بہت کم مدد ملی۔

ان کے شوہر، جو ایک ای رکشہ ڈرائیور ہیں، مبینہ طور پر اپنی بے ہوش بیوی کو گھر سے تقریباً تین کلومیٹر دور ایک پولیس سٹیشن لے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا اور انھیں واپس بھیج دیا، اور مشورہ دیا کہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔

پولیس کے مطابق متعلقہ تھانے کے سربراہ راجیو کمار کو ’لاپرواہی، بے حسی اور عدم حساسیت‘ کی بنا پر معطل کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ اس کیس میں 13 جون کو مقامی تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

حملے کے بعد سے سوما اور ان کے شوہر کا کہنا ہے کہ انھیں مناسب طبی امداد حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

حملے کی رات انھیں ایک قریبی نجی کلینک سے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ وہ ہنگامی کیس نہیں دیکھتے اور وہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں۔

اس کے بعد انھیں ایک سرکاری کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد دی گئی اور پھر ضلعی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

سوما نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں انھیں ملنے والا ابتدائی علاج تسلی بخش نہیں تھا۔

12 جون کو ہوش میں آنے کے بعد انھوں نے اپنے شوہر اور ڈاکٹر کو اجتماعی ریپ کے بارے میں بتایا۔

انھوں نے کہا ’ڈاکٹر نے مجھے انجیکشن دیتے ہوئے پوچھا، ’کیا آپ کے ساتھ ریپ بھی ہوا تھا؟‘ میں بار بار کہتی رہی، ’جی میڈم، میرے ساتھ ہوا ہے‘۔‘

تاہم بیگوسرائے کے سول سرجن اشوک کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ خاتون کو پیٹ میں درد کی شکایت کے ساتھ لایا گیا تھا، اور انھیں اجتماعی ریپ کے بارے میں 13 جون کو آگاہ کیا گیا ’جس کے بعد ڈاکٹروں نے فوری طور پر طبی معائنہ کیا‘۔

ہسپتال نے اس کے بعد سوما کو گھر بھیج دیا، مگر ان کے شوہر کے مطابق اگلے دن بے ہوش ہونے کے بعد وہ دوبارہ ہسپتال لائی گئیں۔ ایک دن بعد انھیں پھر فارغ کر دیا گیا۔

ان کے شوہر نے بتایا: ’گاؤں کی ایک دائی نے، جس نے بار بار بے ہوش ہونے اور شدید پیٹ درد کی شکایت پر ان کا معائنہ کیا، خبردار کیا کہ ان کے جسم کے اندر کچھ ہے۔ 18 جون کی صبح سوما نے ہمیں ایک گولی کا خول دکھایا جو ان کی اندام نہانی سے باہر آ گیا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد وہ انھیں دوبارہ ہسپتال لے گئے۔

سول سرجن کمار نے کہا: ’یہ ایک خالی کارتوس یا گولی کا خول تھا۔ ہم نے دوبارہ معائنہ کیا اور ڈاکٹروں نے ان کے جسم سے دیگر اشیا نکالیں۔ فی الحال ان کی حالت مستحکم ہے اور وہ صحت یاب ہو رہی ہیں۔‘

سوما کے کیس نے انڈیا میں غم و غصے کو جنم دیا ہے اور اس کا موازنہ 2012 میں دہلی میں ہونے والے اجتماعی ریپ اور اس کے بعد ایک 23 سالہ فزیوتھراپی کی طالبہ کی موت سے کیا جا رہا ہے، جس میں اس کے ساتھ بھی اشیا کے ذریعے زیادتی کی گئی تھی۔

اس جرم نے عالمی سطح پر غم و غصہ پیدا کیا، انڈیا بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے، اور ریپ کے خلاف قوانین متعارف کروائے گئے، جن میں سنگین کیسز میں سزائے موت بھی شامل ہے۔

چار مجرموں کو 2020 میں پھانسی دی گئی، ایک جیل میں مر گیا، جبکہ ایک کم عمر مجرم کو اصلاحی مرکز میں سزا کاٹنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

لیکن اس کے بعد جنسی جرائم پر بڑھتی ہوئی توجہ کے باوجود، انڈیا میں ہر سال ریپ کے 30 ہزار سے زائد کیسز درج کیے جاتے ہیں۔

ریپ کے خلاف مہم چلانے والی یوگیتا بھیانا کہتی ہیں: ’ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا‘، اور مزید کہتی ہیں کہ زیادہ تر کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے یا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں کیونکہ معاشرہ شدید تشدد کے حوالے سے بے حس ہو چکا ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ایسے واقعات اس لیے بھی ہوتے رہتے ہیں کیونکہ یہ پیغام انڈیا کے ہر کونے تک نہیں پہنچا کہ ریپ پر سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ معاشرے میں خوف پیدا نہیں ہوا۔‘

’سوما کے کیس کو میڈیا میں جو توجہ ملی ہے، وہ صرف اس لیے ہے کہ رپورٹس میں بتایا گیا کہ ان کے جسم کے نجی حصوں میں گولی ڈالی گئی تھی۔ کم از کم وہ زندہ بچ گئیں اور میں اسے مثبت سمجھتی ہوں۔‘

بیگوسرائے میں سوما اب بھی ہسپتال کے بستر پر ہیں، جہاں صحافیوں، سیاست دانوں اور سماجی کارکنوں کی آمد سے وہ بار بار متاثر ہو رہی ہیں۔

وہ اب بھی شدید درد میں ہیں لیکن امید رکھتی ہیں کہ جلد صحت یاب ہو کر اپنے بچوں کے پاس واپس جائیں گی۔

’مجھے اپنے بچوں کی بہت فکر ہے، وہ بہت چھوٹے ہیں۔ وہ یہاں سے تقریباً 35 کلومیٹر دور گاؤں میں رشتہ داروں کے پاس ہیں۔ میں جلد ان کے پاس واپس جانا چاہتی ہوں۔‘