یورپ میں شدید گرمی کا باعث بننے والا ’ہیٹ ڈوم‘ کیا ہے؟

    • مصنف, ریڈیکیون
    • عہدہ, بی بی سی نیوز منڈو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

برطانیہ، سپین اور فرانس سمیت مغربی اور وسطی یورپ کے ممالک نے گرمی کی شدت میں مزید اضافے اور درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کے امکانات کے پیش نظر ریڈ الرٹس جاری کر دیے ہیں۔

فرانس کے نصف سے زائد علاقوں میں اس وقت اعلیٰ درجے کا موسمی الرٹ نافذ ہے اور سینکڑوں سکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

فرانس میں اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت یعنی 44 اعشاریہ تین ڈگری سینٹی گریڈ پیسوس کے علاقے میں ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں کچھ مقامات، جہاں نگرانی نہیں ہوتی، پر تیراکی کے دوران کم از کم 40 افراد کے ڈوب کر ہلاک ہونے کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔

فرانسیسی وزیرِ کھیل و امورِ نوجوانان مارینا فیراری نے فرانسیسی ریڈیو سے گفتگو میں کہا: ’ہیٹ ویو کے دوران ایسے مقامات پر تیراکی کرنا جہاں نگرانی کا نظام موجود نہیں کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے۔‘

فیراری مزید کہا کہ بہت سے لوگ ممکنہ خطرات کا جائزہ لیے بغیر گرمی میں ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے دریاؤں اور نہروں میں اتر رہے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک 13 سالہ لڑکی بھی شامل تھی جو اتوار کی دوپہر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ فونتن-لو-پورٹ کے قریب دریائے سین میں نہانے گئی تھی ، حالانکہ اسے تیرنا نہیں آتا تھا۔

جرمنی میں بھی متعدد افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں اور پیش گوئی کی گئی ہے کہ ہفتے کے اختتام تک ملک کے مغربی اور جنوب مغربی حصوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

سپین میں ریاستی محکمۂ موسمیات نے اس ہفتے خبردار کیا کہ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب برطانیہ کے محکمۂ موسمیات نے انگلینڈ اور ویلز کے بعض حصوں کے لیے بدھ اور جمعرات کو شدید گرمی کا غیر معمولی ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ پیش گوئیوں کے مطابق بعض علاقوں میں درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور لکسمبرگ کے حکام نے بھی اسی نوعیت کے ریڈ الرٹس جاری کیے ہیں۔

درجۂ حرارت میں اس اضافے کی ایک فوری وجہ ’ہیٹ ڈوم‘ ہے: گرم ہوا جو صحراۓ صحارا سے شمال کی طرف بڑھتی ہے اور یورپ کے اوپر آ کر ’پھنس‘ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں یہاں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس ہوا کو ایک طاقتور بلند دباؤ کے نظام سے تقویت ملتی ہے جسے ’افریقی اینٹی سائیکلون‘ کہا جاتا ہے۔

گرمی کی شدت اور دورانیے میں اضافہ

تاہم سائنسدان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گرمی کی لہروں کی بار بار آمد انسانوں کی سرگرمیوں سے جنم لینے والی موسمیاتی تبدیلی کی طرف واضح اشارہ ہے، جس کی بڑی وجہ کوئلہ، تیل اور گیس کے جلنے سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسز ہیں۔

میٹیو فرانس کے مطابق سنہ 1947 کے بعد سے فرانس میں ریکارڈ کی گئی 51 ہیٹ ویوز میں سے 34 سنہ 2000 کے بعد اور 26 سنہ 2011 کے بعد آئی ہیں۔

برطانیہ کے محکمۂ موسمیات کا اندازہ ہے کہ حالیہ ہیٹ ویو کے دوران محسوس کی جانے والی گرمی ماضی کے مقابلے میں 10 گُنا زیادہ شدید ہے۔

گذشتہ 50 برسوں میں گرمی کا دورانیہ تقریباً دوگنا ہو چکا ہے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف ریڈنگ کے نیشنل سینٹر فار ایٹموسفیئرک سائنس کے محقق ڈاکٹر اکشے دیوراس وضاحت کرتے ہیں: ’انسانی سرگرمیوں کے سبب جنم لینے والی موسمیاتی تبدیلی نے ہی اس کی بنیاد رکھی ہے، جس کے سبب فضا میں اضافی گرمی آ گئی ہے اور ماضی کے مقابلے میں درجۂ حرارت زیادہ شدید ہو گیا ہے۔‘

تاہم محقق کے مطابق اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ’ہیٹ ڈوم‘ ہے۔

’ہیٹ ڈوم‘ کیا ہے؟

’ہیٹ ڈوم‘ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر دیوراس کہتے ہیں: ’اسے ایک بہت بڑے فضائی گنبد کے طور پر تصور کریں، جو بادلوں کی تشکیل کو روک دیتا ہے اور سورج کی بے رحمانہ تپش کو دن بہ دن زمین کو گرم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘

’اسی دوران بلند دباؤ والے نظام سے نیچے اترنے والی ہوا دباؤ میں آ کر مزید گرم ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے سائیکل کے پمپ میں ہوا دباؤ کے سبب گرم ہو جاتی ہے۔‘

یہ درحقیقت گرم ہوا کا ایک ایسا ذخیرہ ہے جو ایک ہی جگہ پر مضبوطی سے جما رہتا ہے اور زمین کی سطح پر موجود لوگوں کو ایک طویل عرصے تک جاری رہنے والی گرمی کی لہر میں جکڑ لیتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ایسے واقعات سمندری درجۂ حرارت میں اچانک تبدیلی کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں پانی کا درجۂ حرارت بڑھتا ہے، جو فضا کو بھی گرم کر دیتا ہے اور ہوائیں اس گرمی کو زمین کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔

جب یہ گرم ہوا خشکی تک پہنچتی ہے، تو یہ ایک بلند دباؤ والے نظام کے نیچے پھنس جاتی ہے، جس کے دونوں جانب کم دباؤ کے نظام موجود ہوتے ہیں، یوں ایک گنبد جیسی ساخت بن جاتی ہے۔

یہ بلند دباؤ والا نظام اس ہوائی ستون کو مزید دبا کر اسے زیادہ گرم کرتا ہے، جو عملی طور پر ایک ’گنبد‘ کا کردار ادا کرتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی: آگے کیا ہو سکتا ہے؟

یہ ریکارڈ توڑ گرمی کی لہریں ایک ایسی دنیا میں جنم لے رہی ہیں جو انسانی سرگرمیوں، خصوصاً فوسل فیولز (کوئلہ، تیل اور گیس) کے استعمال، کے باعث اوسطاً انیسویں صدی کے آخر کے مقابلے میں تقریباً 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہو چکی ہے۔

تاہم عالمی حکومتوں کی موجودہ پالیسیوں کے سبب اس صدی کے اختتام تک گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں تقریباً تین ڈگری سینٹی گریڈ کا مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ لازماً درجۂ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہونے کا باعث بنے گا اور برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک کے لیے خاص چیلنجز پیدا کرے گا، جہاں بنیادی ڈھانچہ اور عمارتیں شدید گرمی کے لیے تیار نہیں ہیں۔

امپیریل کالج لندن میں موسمیاتی سائنس کی پروفیسر فریڈریکے اوٹو خبردار کرتی ہیں: ’ہم جس موسم میں آج جی رہے ہیں، وہ وہ نہیں ہے جس میں ہم بڑے ہوئے تھے، ہماری عمارتیں اور بنیادی ڈھانچہ آنے والے حالات کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

سنہ 1990 تک برطانیہ میں کسی بھی مہینے کا سب سے زیادہ درجۂ حرارت 36.7 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، جو 1911 میں ریکارڈ ہوا تھا۔

اس کے بعد سے یہ حد کئی بار عبور ہو چکی ہے اور فی الحال 40.3 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ریکارڈ جولائی 2022 میں قائم ہوا تھا۔

محکمۂ موسمیات کے ماہر اور یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے پروفیسر رچرڈ بیٹس کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے تسلسل کے ساتھ مستقبل میں اس سے بھی زیادہ درجۂ حرارت کا ریکارڈ بننا ایک حقیقت بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’جب تک ہم عالمی کاربن اخراج کو صفر تک نہیں لاتے، ہمارا سیارہ مزید گرم ہوتا رہے گا اور درجۂ حرارت کے ریکارڈ مسلسل ٹوٹتے رہیں گے۔‘