نیتن یاہو کو شیخ محمد بن زاید کا ’انتباہ نظرانداز کرنے‘ کے الزام کی تردید کیوں کرنا پڑی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی ایک رپورٹ نے ملک میں ایک نئے سیاسی اور انٹیلی جنس بحران کو جنم دے دیا ہے، جس میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 سے قبل حماس کے حملے کے بارے میں متحدہ عرب امارات کی وارننگ کو نظر انداز کیا اور اسے سکیورٹی اداروں کے سربراہان تک پہنچانے میں ناکام رہے۔
اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے حملے سے تقریباً دس روز قبل نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ اس وقت غزہ کی پٹی میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار اسرائیل کے خلاف ایک ’بڑی کارروائی‘ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایسی کسی بھی وارننگ کے موصول ہونے کی سختی سے تردید کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ ہاریٹز اور تحقیقاتی رپورٹ کے مصنف کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرے گا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایسی وارننگ جاری کرنے سے متعلق اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے متعلق میڈیا رپورٹس یا قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرے گی۔
وزارت خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر دونوں ممالک کے متعلقہ حکام باہمی دلچسپی کی انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔
اخبار کی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟
ہاریٹز کی یہ تحقیقاتی رپورٹ صحافی شلومی ایلدار اور روت یووال کی نئی کتاب ’ہوسٹیجز: 843 ڈیز آف ایبنڈنمینٹ‘ کے لیے جمع کیے گئے مواد پر مبنی تھی۔
یہ مواد اسرائیل اور بیرون ملک میں موجود ڈرائع سے حاصل کیا گیا ہے، جن میں اعلیٰ سرکاری عہدیدار بھی شامل ہیں، جبکہ آڈیو ریکارڈنگز، دستاویزات اور خط و کتابت بھی اس مواد کا حصہ تھیں۔
اس رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ سے پہلے کے مہینوں میں محمد بن زاید کو خدشہ تھا کہ خطے کی صورتحال ممکنہ طور پر کوئی دھماکہ خیز شکل اختیارکر سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اخبار نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اماراتی صدر نے کئی بار ان سے رابطہ کر کے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور نیتن یاہو سے ملاقات کے لیے ایک خصوصی ایلچی بھی اسرائیل بھیجا تھا۔
اس تحقیق کے مطابق ستمبر 2023 میں یحییٰ سنوار نے فتح کے ایک عہدیدار کو ایک پیغام پہنچایا تھا اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہ وارننگ اس کے بعد ہی جاری کی گئی تھی۔ یہ پیغام حماس اور اسرائیل کے درمیان طویل مدتی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے سے متعلق خفیہ مذاکرات کے تعطل کے دوران پہنچایا گیا تھا۔
اخبار کے مطابق سنوار نے ایک ثالث کو بتایا تھا کہ وہ ’مدر آف آل سرپرائزز‘، ایک ’ہولناک کارروائی‘ اور ’غیر معمولی نوعیت کے اقدام‘ کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے ’زلزلے‘ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے الفاظ من و عن اسرائیلیوں تک پہنچائے جائیں۔
یہ پیغام محمد بن زاید کے ایک قریبی فلسطینی مشیر تک پہنچا، جنھوں نے اس پیغام کو اسرائیل تک پہنچانے سے پہلے اس کی سنجیدگی کی تصدیق کرنے کی ہدایت دی۔
ثالث اور سنوار کے درمیان دوسری ملاقات کے بعد مشیر اس نتیجے پر پہنچا کہ حماس کے رہنما جنگ کی بات کر رہے ہیں اور اس نے اماراتی صدر کو اس بارے میں آگاہ کر دیا۔
15 ستمبر کو یہ وارننگ اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی (شن بیت) تک پہنچائی گئی اور اس وقت کے ادارے کے سربراہ رونین بار نے نیتن یاہو کو سنوار کی دھمکی کے بارے میں بریفنگ دی۔
اس کے دو روز بعد ایک سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیرِ دفاع اور سکیورٹی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن شن بیت کے اندر ابتدائی جائزے میں یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ ممکن ہے سنوار کا مقصد غزہ کی پٹی سے بڑے پیمانے پر حملہ شروع کرنے کے بجائے کوئی محدود کارروائی کرنا یا عراق میں قید اسرائیلی محققہ الزبتھ تسورکوف کو تحویل میں لینا ہو۔
اخبار کی تحقیق کے مطابق رونین بار نے اس وارننگ کو سنجیدگی سے لینے اور پیشگی کارروائی کرنے یا غزہ اور مغربی کنارے میں دفاعی اقدامات مضبوط بنانے کی سفارش کی تھی، تاہم اجلاس میں اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ہاریٹز کے مطابق جب محمد بن زاید نے اسرائیل کی جانب سے کوئی مؤثر ردِعمل نہ دیکھا تو انہوں نے براہِ راست نیتن یاہو سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے ایک اماراتی نمائندہ وزیرِاعظم کے دفتر میں ایک خفیہ مواصلاتی آلہ لے کر گیا، جس کے ذریعے رابطہ کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ کال تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی، جس کے دوران محمد بن زاید نے خبردار کیا کہ سنوار ایک بڑی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں جو خونریزی کا سبب بن سکتی ہے، خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے اور ابراہیمی معاہدوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے پُرسکون انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے جائزوں کے مطابق حماس مغربی کنارے میں کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور انہوں نے اماراتی صدر کو یقین دہانی کرائی کہ اسرائیل تمام ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے۔
اخبار کے مطابق نیتن یاہو نے اس کال کے بارے میں نہ تو چیف آف سٹاف، نہ موساد کے سربراہ اور نہ ہی شن بیت کے سربراہ کو آگاہ کیا اور نہ ہی یکم اکتوبر کو غزہ کی سرحد پر کشیدگی پر غور کے لیے منعقد ہونے والے سکیورٹی اجلاس میں اس کا ذکر کیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو کو اسی عرصے کے دوران مصر کی جنرل انٹیلیجنس کے اُس وقت کے سربراہ عباس کامل کی جانب سے بھی اسی نوعیت کا انتباہ موصول ہوا تھا، تاہم انہوں نے جواب دیا کہ اسرائیل کو غزہ میں ہونے والی سرگرمیوں کا علم ہے اور صورتحال اس کے کنٹرول میں ہے، جبکہ اصل خطرے کا مرکز مغربی کنارہ ہے۔
اخبار نے شِن بیت کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے لکھا کہ اماراتی اور مصری انتباہات کے بارے میں سکیورٹی اداروں کی معلومات سنوار کے پیغام کو زیادہ اہمیت دلا سکتی تھیں اور حکام کو اپنی تشخیصات تبدیل کرنے پر آمادہ کر سکتی تھیں۔
نیتن یاہو کا اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ
نیتن یاہو کے دفتر نے ہاریٹز کی تحقیقاتی رپورٹ کو ’جھوٹ کا پلندہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس عرصے کے دوران وزیرِاعظم نے محمد بن زاید سے کوئی گفتگو نہیں کی تھی اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی انتباہ موصول ہوا تھا۔
بعد ازاں دفتر نے انگریزی زبان میں ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس درست نہیں ہیں اور وزیرِاعظم کو 7 اکتوبر سے قبل متحدہ عرب امارات کی جانب سے کوئی انتباہ موصول نہیں ہوا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر اس نوعیت کی کوئی متعلقہ معلومات موجود تھیں تو وہ دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس ذرائع کے ذریعے منتقل کی گئی ہوں گی۔
نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم نے اپنے وکلا کو ہاریٹز، صحافی شلومی ایلدار اور دیگر کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ دفتر نے اس رپورٹ کو اسرائیلی انتخابات سے قبل ’واضح سیاسی مقاصد کے ساتھ شائع کی گئی بدنیتی پر مبنی من گھڑت کہانی‘ قرار دیا ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر نے مزید کہا کہ اس نے قومی سلامتی کونسل اور فوجی سیکریٹریٹ کے تعاون سے ستمبر کے آغاز سے 7 اکتوبر تک نیتن یاہو کی کال ریکارڈز اور ان کے دفتر میں آنے جانے والے افراد کی تفصیلات کا جائزہ لیا، لیکن نہ تو مذکورہ فون کال کا کوئی ثبوت ملا اور نہ ہی کسی اماراتی نمائندے کے خفیہ مواصلاتی آلے کے ساتھ دفتر میں داخل ہونے کا کوئی ریکارڈ ملا۔
نیتن یاہو کے دفتر نے الزام عائد کیا کہ ایلدار نے مصر کی جانب سے وزیرِاعظم کو دی گئی مبینہ وارننگ سے متعلق ایک پرانے دعوے کو دوبارہ دہرایا ہے اور کہا کہ جنگ کے آغاز میں ہی اس دعوے کی تردید کر دی گئی تھی۔
دفتر نے شِن بیت کے سابق سربراہ رونین بار اور سابق چیف آف سٹاف ہرزی ہالیوی کے خلاف اپنے الزامات بھی دہرائے اور حملے سے قبل کے گھنٹوں میں سامنے آنے والے انتباہی اشاروں پر کارروائی نہ کرنے کا ذمہ دار انہیں قرار دیا۔
ہاریٹز کے مطابق شن بیت کے سابق سربراہ رونین بار اور سابق چیف آف سٹاف ہرزی ہالیوی نے اخبار کو بتایا کہ انہیں محمد بن زاید سے منسوب اس انتباہ کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا، جبکہ تحقیق میں اُس وقت کے موساد سربراہ ڈیدی بارنیا کی جانب سے ایسا کوئی ردِعمل شامل نہیں تھا۔
صحافی شلومی ایلدار نے نیتن یاہو کے دفتر کی تردید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کال واقعی ہوئی تھی اور 45 منٹ تک جاری رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس تحقیق پر تقریباً ڈیڑھ سال تک کام کیا ہے اور ان کے پاس ایسی دستاویزات اور ریکارڈ موجود ہیں جو ان کے بیان کی تائید کرتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کا مؤقف
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ہاریٹز کی رپورٹ کے جواب میں کہا ہے کہ اماراتی حکومت حکومتی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے متعلق میڈیا رپورٹس یا قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتی۔
وزارت نے مزید کہا کہ حملے کے بعد سے متحدہ عرب امارات کی کوششوں کا محور کشیدگی میں کمی، علاقائی استحکام کو فروغ دینا اور تشدد میں کمی لانا رہا ہے۔
وزارت کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے قیام کے پانچ برس سے زائد عرصے کے دوران امارات اور اسرائیل کے سرکاری اداروں کے درمیان کھلے اور براہِ راست رابطے برقرار رہے ہیں۔
بیان میں زور دے کر کہا گیا کہ ’ضرورت پڑنے پر تمام متعلقہ انٹیلی جنس معلومات متعلقہ فریقوں کے درمیان ماضی میں بھی شیئر کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی کی جا رہی ہیں۔‘
بیان میں نہ تو محمد بن زاید اور نیتن یاہو کے درمیان مبینہ ٹیلی فون کال کی تصدیق کی گئی اور نہ ہی اس کی تردید کی گئی اور نہ ہی اس میں رپورٹ میں مذکور وارننگ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو واضح طور پر جوڑا گیا۔
دوسری جانب اخبار ’وائی نیٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے متحدہ عرب امارات سے درخواست کی تھی کہ وہ ’ہاریٹز‘ کی تحقیق کی تردید کرتے ہوئے ایک سرکاری وضاحتی بیان جاری کرے، ابوظہبی نے اس تنازع میں فریق بننے سے گریز کیا اور اپنے محتاط بیان پر اکتفا کیا۔
اخبار نے اشارہ دیا کہ معلومات لیک کرنے والا شخص محمد دحلان ہو سکتا ہے، جو ماضی میں غزہ کی پٹی میں پریوینٹو سکیورٹی سروس میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکا ہے، کئی برسوں تک فتح تحریک کی ایک نمایاں شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے اور محمود عباس کا سخت حریف تصور کیا جاتا تھا۔
یروشلم پوسٹ سمیت اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اماراتی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ابوظہبی خود کو اسرائیل میں شائع ہونے والی ہر رپورٹ کی تردید کرنے کا پابند نہیں سمجھتا اور نہ ہی وہ اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کرتا ہے یا اسرائیلی حکومت کے لیے تعلقاتِ عامہ کے دفتر کا کردار ادا کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 7 اکتوبر سے قبل ہونے والی سکیورٹی مشاورتوں میں شریک اسرائیلی سینئر حکام نے چینل 12 کو بتایا کہ اگر نیتن یاہو انہیں اماراتی انتباہ کے بارے میں بریفنگ دیتے تو ممکن ہے وہ مختلف نتائج پر پہنچتے اور دوسرے اقدامات کرتے۔
ایک عہدیدار نے اس انتباہ کو ’اہم معلومات‘ قرار دیا، جبکہ دوسرے نے کہا کہ کم از کم سکیورٹی ادارے اس کا زیادہ گہرائی سے جائزہ ضرور لیتے۔
اس کے برعکس اس معاملے سے واقف دو ذرائع نے دی یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے حکام کو حماس کی جانب سے ایک بڑے حملے کی تیاری سے متعلق کسی مخصوص اماراتی وارننگ کا علم نہیں تھا، نہ 7 اکتوبر سے پہلے اور نہ ہی اس کے بعد۔
ان دونوں ذرائع نے زور دے کر کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کی اس انتباہ سے لاعلمی کا یہ مطلب نہیں کہ متحدہ عرب امارات نے یہ انتباہ اسرائیلی قیادت تک نہیں پہنچایا تھا۔
اپوزیشن جماعتوں کا تحقیقات کا مطالبہ
چار اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں گادی آئزنکوٹ، نفتالی بینیٹ، اویگڈور لیبرمین اور یائیر گولان نے 7 اکتوبر کے حملے سے قبل نیتن یاہو تک پہنچنے والی معلومات اور ان سے نمٹنے کے طریقۂ کار کی فوری اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
چاروں رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ نیتن یاہو کو کیا معلومات حاصل ہوئی تھیں، انہیں یہ معلومات کب ملیں، انہوں نے سکیورٹی اداروں کو ان انتباہات سے آگاہ کیوں نہیں کیا اور اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کے لیے انہوں نے اقدامات کیوں نہیں کیے۔
انہوں نے نیتن یاہو اور ان کے ساتھیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اس ناکامی کا ذمہ دار سکیورٹی اداروں کو ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ان کے بقول سامنے آنے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرناک نوعیت کے انتباہات براہِ راست نیتن یاہو تک پہنچے تھے لیکن انہوں نے انہیں نظر انداز کر دیا۔
انہوں نے یہ عہد بھی کیا کہ اگلی حکومت کے قیام کے فوراً بعد ایک سرکاری تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے گا، کیونکہ ان کے نزدیک نیتن یاہو اور ان کے حکومتی اتحادی اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کے اہل نہیں رہے۔
سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ محمد بن زاید کی جانب سے نیتن یاہو کو دی گئی وارننگ سے متعلق معلومات درست ہیں اور یہ کہ اماراتی صدر نے انہیں بتایا تھا کہ سنوار ایک کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصر کی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ عباس کامل نے بھی حملے سے چند روز قبل نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا۔
بینیٹ نے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے نہ تو سکیورٹی سربراہان کو اس بارے میں آگاہ کیا اور نہ ہی سکیورٹی کابینہ کا اجلاس طلب کیا۔
دوسری جانب سابق چیف آف سٹاف گادی آئزنکوٹ نے کہا کہ نیتن یاہو کو متحدہ عرب امارات کے صدر کی جانب سے سنوار کے ارادوں کے بارے میں ایک واضح انتباہ موصول ہوا تھا، لیکن انہوں نے سکیورٹی اداروں کی قیادت کو اس سے آگاہ نہیں کیا۔
آئزنکوٹ نے وزیرِاعظم کے قریبی حلقوں پر الزام عائد کیا کہ وہ انہیں بری الذمہ ثابت کرنے اور ذمہ داری سکیورٹی اداروں پر ڈالنے کے لیے سازشی نظریات کو فروغ دے رہے ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما یائر گولان نے کہا کہ ’انہوں نے مجھے (نیتن یاہو) نہیں جگایا‘ والی کہانی اب ختم ہو چکی ہے، نیتن یاہو انتباہات سے آگاہ تھے، لیکن انہوں نے انہیں نظر انداز کیا اور اماراتی انتباہ فوج اور شن بیت کے کمانڈروں سے چھپائے رکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی ادارے، اپوزیشن اور احتجاج کرنے والے بارہا نیتن یاہو کو خبردار کرتے رہے تھے کہ وہ اسرائیل کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں، لیکن انہوں نے اپنی سیاسی بقا اور انتہا پسند عناصر کے ساتھ اپنے اتحاد کو ترجیح دی۔
گولان نے مؤقف اختیار کیا کہ نیتن یاہو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے نہ موزوں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس اخلاقی جواز ہے اور مطالبہ کیا کہ انہیں عہدے سے ہٹا کر جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اخبار کی رپورٹ کی اشاعت کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی نے تل ابیب میں ایک بل بورڈ نصب کیا، جس پر نعرہ درج تھا: ’1,200 ہلاکتیں: مجرمانہ غفلت سے اموات‘۔ پارٹی نے کہا کہ معلومات نیتن یاہو سے نہیں چھپائی گئی تھیں، بلکہ نیتن یاہو ہی وہ شخص تھے، جنہوں نے یہ معلومات سکیورٹی اداروں سے مخفی رکھیں۔
دوسری جانب بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے رہنما بینی گینٹز نے کہا کہ ہاریٹز کی رپورٹ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ ایک باضابطہ تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی فوری ضرورت ہے، جو حقائق تک پہنچے، ذمہ داروں کا تعین کرے اور اس سانحے کو دوبارہ وقوع پذیر ہونے سے روکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقاتی کمیشن ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے 7 اکتوبر کے واقعات کو سیاسی بحث و مباحثے کے دائرے سے نکالا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر کا نیتن یاہو کا دفاع
وزیرِ تعلیم یوآف کِش نے نیتن یاہو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اماراتی رہنما اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان مبینہ ٹیلی فون کال میں شامل نہیں تھے، اس لیے وہ اس کے مندرجات پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب انہیں ہاریٹز اور وزیرِاعظم میں سے کسی ایک پر یقین کرنا ہو تو وہ نیتن یاہو پر یقین کرتے ہیں۔ انھوں نے اخبار کی شائع کردہ معلومات کو ’جعلی خبریں‘ قرار دیا۔
اسرائیلی تنظیموں کا تحقیقات کا مطالبہ
موومنٹ فار کوالٹی گورننس نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ باضابطہ تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے بغیر گزرنے والا ہر دن ناکامی کو مزید گہرا کر رہا ہے اور حقیقت تک پہنچنے کے امکانات کو نقصان پہنچاتا ہے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ اس نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صرف ایک سرکاری اور آزاد تحقیقاتی کمیشن ہی تمام سطحوں پر ہونے والی ناکامیوں کا جائزہ لے سکتا ہے، ذمہ داروں کا تعین کر سکتا ہے اور ضروری اسباق اخذ کر سکتا ہے۔
تنظیم کے مطابق جو لوگ تحقیقاتی کمیشن کے قیام میں رکاوٹ ڈالنا جاری رکھے ہوئے ہیں، وہ ریاست کا تحفظ نہیں کر رہے بلکہ عوام سے حقیقت چھپا رہے ہیں اور آئندہ کسی ایسے سانحے کو روکنے کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
غزہ کی پٹی سے متصل علاقوں کے رہائشیوں کی نمائندہ تنظیم ’اسرائیل انویلپ فورم‘ کا بھی کہنا ہے کہ اخبار کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے سے قبل کے مہینوں میں نیتن یاہو کو سکیورٹی اداروں کے سربراہان کی جانب سے متعدد انتباہات موصول ہوئے تھے، جن میں حماس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور اس صورتحال کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا جو نقطۂ عروج کے قریب پہنچ رہی تھی اور جس کے نتیجے میں فوجی کارروائی کی ضرورت پیش آ سکتی تھی۔



















