سعودی عرب اور امریکہ کے حملوں کے بعد ایران کا عراق کی حمایت کا اعلان، تہران نواز مسلح گروہ کی ریاض کو ’سخت جواب‘ کی دھمکی

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 9 منٹ

رواں برس مئی میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے ہی سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک میں قائم واشنگٹن کے فوج اڈے تہران کے نشانے پر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک ایران کے خلاف مذمتی بیان تو جاری کرتے رہے ہیں لیکن ان کی جانب سے خطے میں کوئی جارحانہ کارروائی بدھ کی صبح سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

سعودی عرب نے بُدھ کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس کی مسلح افواج نے امریکی سینڑل کمانڈ (سینٹکام) کے ساتھ مل کر عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف حملے کیے ہیں۔

سعودی عرب کا الزام ہے کہ یہ گروہ اس کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ملوث تھے۔

ریاض کی ان کارروائیوں کے اعلان کے بعد ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہ پاپولر موبلائزیشن فورسز نے بھی گذشتہ شب عراق میں اس کے ٹھکانوں پر امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ حملوں میں کم از کم 20 ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اس گروہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 20 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔‘

بی بی سی فارسی کے مطابق پاپولر موبلائزیشن فورسز عراق کی شیعہ ملیشیاؤں اور نیم فوجی گروہوں کا ایک اتحاد ہے، جسے ایران کی حمایت حاصل ہے اور اس کے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔

ایران اسے خطے میں اپنے اتحادی نیٹ ورک، جسے عموماً ’محورِ مزاحمت‘ کہا جاتا ہے، کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔

سعودی عرب کے علاوہ امریکی سینٹکام نے بھی ایک علیحدہ بیان میں یہ دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے دوران عراق میں موجود ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سینٹکام نے کہا کہ یہ کارروائی گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران 30 سے زائد ڈرون حملوں کے بعد کی گئی۔ سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکی افواج اور سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے ان حملوں کی ہدایت دی تھی۔

بیان کے مطابق امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے یہ ڈرون حملے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور کسی مؤثر نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایران کی جانب سے عراق میں امریکی اور سعودی حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

سینٹکام نے دعویٰ کیا کہ فروری سے اپریل 2026 کے درمیان عراق میں ایران سے منسلک مسلح گروہوں کی جانب سے امریکی شہریوں اور تنصیبات پر 600 سے زائد حملوں یا حملوں کی کوششوں کا ریکارڈ سامنے آیا۔

دوسری جانب سعودی وزارتِ دفاع کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں عراق میں موجود ان گروہوں کو نشانہ بنایا گیا جن پر مشرقی سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کا الزام ہے۔

وزارت کے مطابق ریاض کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی ’جارحیت‘ کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

منگل کے روز سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ اس کے فضائی دفاع کے نظام نے عراق سے داغے گئے کئی ڈرون تباہ کر دیے ہیں۔ سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا تھا کہ ڈرون ایسے گروہوں نے داغے تھے جنھیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ سعودی عرب ’مناسب وقت اور مقام‘ پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

عراقی وزیرِ اعظم علی الزیدی نے ڈرون حملوں کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ عراق اپنی سر زمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

ایران کی سعودی اور امریکی حملوں کی مذمت

ایران نے عراق کے مختلف علاقوں پر امریکہ اور سعودی عرب کے حملوں کی مذمت کی ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی اور سعودی حملوں میں عراق کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

وزارت خارجہ نے ان حملوں کو ’عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کھلا حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی شق 4 اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے ’امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے مغربی ایشیا میں جنگ اور کشیدگی کا دائرہ وسیع کرنے کی خواہشات‘ کے مطابق انجام دیے گئے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے حملوں میں ہلاک ہونے والے عراقی شہریوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے عراقی حکومت اور عوام کے ساتھ ایران کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران ’جنگ پسند امریکی حکومت اور خطے میں اس کے ساتھیوں کو ان مجرمانہ، غیر انسانی اور اشتعال انگیز اقدامات کے خطرناک نتائج کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔‘

آئی آر آئی کی سعودی الزامات کی تردید

عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گرہوں کے اتحاد اسلام ریزسٹنس اِن عراق (آئی آر آئی) نے سعودی عرب پر ڈرون حملے کرنے کی تردید کی ہے۔

27 جولائی کو ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں آئی آر آئی نے کہا کہ ’یہ بے بنیاد الزامات محض اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش ہیں۔ سعودی عرب یمنی حملوں کا مؤثر جواب دینے سے قاصر ہے، جبکہ یہ حملے اس کے بنیادی ڈھانچے کے قلب تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ الزامات دراصل اس خوف کا اظہار ہیں کہ یمن کی جانب سے اگلا ردعمل کیا ہو سکتا ہے۔‘

آئی آر آئی نے ریاض کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب کی کوئی بھی احمقانہ کارروائی سخت جواب کا سامنا کرے گی، جس پر اسے بعد میں شدید پچھتاوا ہوگا۔‘

آئی آر آئی نے سعودی حکام پر زور دیا کہ وہ ’اپنی ناکامیوں کا جواز پیش کرنے اور اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے ہر سمت الزام تراشی کرنے کے بجائے یمنی عوام پر عائد ظالمانہ محاصرہ ختم کریں۔‘

سعودی عرب اس سے قبل بھی عراقی گروہوں پر مملکت پر حملے کرنے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔

18 مئی کو عراقی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ملک کے دفاعی نظام نے عراق سے سعودی عرب کی جانب کسی ڈرون حملے کا سراغ نہیں لگایا۔ یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا جب 17 مئی کو سعودی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ عراقی فضائی حدود سے آنے والے تین ڈرونز کو مار گرایا گیا۔

اس موقع پر ایرانی حکومت کے حامی سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

تہران یونیورسٹی کے ایرانی پروفیسر اور پاسدارانِ انقلاب کے حامی تجزیہ کار سید محمد مرانڈی کا ماننا ہے کہ ’گذشتہ روز سعودی عرب پر کوئی ڈرون یا میزائل حملہ نہیں ہوا تھا۔ سعودی حکام نے عراق پر مہلک حملے کا جواز پیدا کرنے کے لیے یہ خبر گھڑ لی۔‘

دوسری جانب 27 جولائی کو سرکاری عراقی خبر رساں ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق فوجی ترجمان نے کہا کہ ’علی الزیدی، جو مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف بھی ہیں، نے متعلقہ سکیورٹی اداروں کو سعودی وزارت دفاع کے بیان کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عراق کی سرزمین سے ڈرون حملوں کے ذریعے سعودی عرب کو نشانہ بنایا گیا۔‘

فوجی ترجمان صباح النعمان نے کہا کہ عراقی حکومت اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کی پابند ہے اور عراق کی سرزمین کو کسی بھی دوست یا برادر ملک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’حکومت دستیاب شواہد اور معلومات کا جائزہ لے رہی ہے اور اگر کسی کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

صباح النعمان نے ریاض کے ساتھ گہرے تعلقات کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ عراق عرب اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران کئی عراقی ملیشیاؤں نے متعدد خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے یا ایسی کارروائیوں کا اعلان کرنے کے بیانات جاری کیے تھے۔

’آئندہ مزید اس نوعیت کے اقدامات دیکھنے میں آئیں گے‘

مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے امور پر تحقیق کرنے والے ادارے مینا اینالیٹیکا کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر آندریاس کریگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ کویت اور سعودی عرب عراق میں ایران نواز پاپولر موبلائزیشن فورسز کو باز رکھنے کے مختلف طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔

’سعودی عرب عراق تک جنگ کا دائرہ لے جانے کے عزم کا مظاہرہ کر رہا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ اس نوعیت کے مزید اقدامات دیکھنے میں آئیں گے۔‘

شام، ایران، کردستان اور مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیائی و سیاسی امور کے تجزیہ کار مائیکل آریزانٹی ’فرام فلیمز ٹو فیم‘ کے مصنف ہیں اور کیپیٹل انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں۔

انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ریاض، تہران کے پراکسی نیٹ ورک کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اب عراقی سرزمین کے اندر بھی کارروائی کرنے کے عزم کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

مائیکل آریزانٹی کی رائے میں ’کردستان ریجنل گورنمنٹ‘ کو اس پیش رفت کا خیرمقدم کرنا چاہیے کیونکہ نینویٰ میں سعودی طیاروں کے ہاتھوں تباہ ہونے والا ہر ملیشیا کیمپ اربیل کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ایک ممکنہ لانچنگ مقام میں کمی کا باعث بنتا ہے۔‘

سعودی سیاست، تاریخ اور ثقافت پر گہری نظر رکھنے والے سعود بن سلمان الدوسری کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب کے تحمل کا مظاہرہ قابلِ ذکر رہا ہے۔ مملکت نے شہری بنیادی ڈھانچے، رہائشی علاقوں میں موجود سفارتی تنصیبات اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے سینکڑوں حملوں کو ناکام بنایا، جبکہ مسلسل اس بات پر زور دیا کہ اسے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور سعودی تحمل کو کبھی کمزوری یا بے عملی نہیں سمجھنا چاہیے۔‘

ان کی رائے میں عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے خلاف کیے گئے حملے سوچے سمجھے، محدود اور مخصوص اہداف پر مرکوز تھے۔

سعود بن سلمان کے مطابق ’یہ طرزِ عمل خلیجی ممالک کے خلاف ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے اندھا دھند حملوں کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے، جن میں اکثر وسیع پیمانے پر اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

عراق کے سابق وزیرِ اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر لکھا کہ ’غیر ریاستی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو مزید برداشت کرنا ممکن نہیں کیونکہ ان کے اقدامات درحقیقت عراق اور عراقی عوام کے مفادات کو دانستہ نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔‘

ان کی رائے میں وفاقی حکومت، وزیرِ اعظم علی فالح الزیدی کی قیادت میں، عراق کے بیرونی تعلقات، خصوصاً خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ روابط کی بحالی کی جانب پیش رفت کر رہی ہے، لیکن باغی دھڑے مسلسل قومی مفادات کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’وہ عراق کی سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات کو بیرونی ایجنڈوں کے تابع کر کے انھیں تنازعات، مذاکرات اور سودے بازی کے مواقع پر استعمال ہونے والے اوزار بنا رہے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو عراق پر حملوں کے تناظر میں سعودی عرب اور امریکہ پر تنقید کر رہے ہیں۔

ابراہیم ناجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’امریکہ بالآخر سعودی عرب کو براہ رست عرب اور اسلامی ممالک کے خلاف جنگ میں گھسیٹنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔‘