روسی ڈبل ایجنٹ اور آئی ایس آئی کے دفتر میں ہونے والی ملاقات جس نے ایران میں ممکنہ ’بغاوت‘ کو روکا

Ian McCredie

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Ian McCredie

،تصویر کا کیپشنبرطانوی خفیہ ادارے ایم آئی سکس کے افسر آئیان میک کرڈی روسی ایجنٹ ولادیمیر کوزیچکن کے ہمراہ
    • مصنف, رضا ثابتی
    • عہدہ, صحافی، بی بی سی فارسی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 24 منٹ

سنہ 1981 میں ایران کے دارالحکومت تہران کے ایک گھر کے چھوٹے سے باتھ روم میں دو انٹیلی جنس افسر آمنے سامنے بیٹھے تھے، ایک روسی اور دوسرا برطانوی۔

پانی کے نلکے کھلے ہوئے تھے اور ریڈیو چل رہا تھا تاکہ ان کی گفتگو کوئی سن نہ سکے۔ برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی سکس کے افسر نے شبہ ظاہر کیا کہ ایرانی سکیورٹی اداروں نے اس گھر میں ان کی گفتگو سننے کے لیے خفیہ آلات نصب کر رکھے ہیں۔

بین میک اِنٹائر اپنی نئی کتاب کا آغاز اسی منظر سے کرتے ہیں۔

روسی مہمان ولادیمیر کوزیچکن ہیں، جو سوویت خفیہ ایجنسی کے جی بی کے ایک افسر تھے۔ انھوں نے برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے لیے جاسوسی کرنے کی پیشکش کی تھی اور امید رکھتے تھے کہ کچھ عرصے بعد انھیں برطانیہ منتقل کر دیا جائے گا۔

ملاقات کے دوران وہ ایک نہایت ذاتی معاملہ بھی زیرِ بحث لائے۔ میک اِنٹائر کے مطابق کوزیچکن کا خیال تھا کہ مغربی ممالک کے ڈاکٹر ان کے جنسی مسائل کا علاج کر سکتے ہیں اور ان کی ازدواجی زندگی بچا سکتے ہیں۔

یہ منظر سرد جنگ کی سب سے پیچیدہ جاسوسی کی کارروائیوں میں سے ایک کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے، ایک ایسی کہانی جسے برطانوی مصنف بین میک اِنٹائر نے اپنی کتاب ’ریڈ وڈ: سرد جنگ کے سب سے حیرت انگیز جاسوس کی ان کہی داستان‘ میں بیان کیا ہے۔

’ریڈ وڈ‘ میں ولادیمیر کوزیچکن کی بھرتی، تہران میں ان کی خفیہ سرگرمیوں اور سرحدی قصبے بازرگان کے ذریعے ان کے فرار کی داستان کو ایک سنسنی خیز جاسوسی کہانی کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم اس کی تاریخی اہمیت صرف ایک کے جی بی افسر کی سرگزشت تک محدود نہیں۔

میک اِنٹائر اپنی نئی کتاب میں لکھتے ہیں کہ کوزیچکن کی جانب سے سوویت یونین اور حزبِ تودہ (تودہ پارٹی) کے تعلقات کے بارے میں فراہم کی گئی معلومات برطانیہ اور امریکہ کے ذریعے ایران کے حکام تک پہنچائی گئیں۔

ان کے مطابق یہی معلومات 1982 اور 1983 میں تودہ پارٹی کے خلاف ہونے والے وسیع پیمانے کے کریک ڈاؤن اور اس کی سرکوبی میں اہم کردار ادا کرنے کا سبب بنیں۔

یہ کتاب ایک پُرانا لیکن نہایت متنازع سوال دوبارہ سامنے لا رہی ہے: کیا تودہ پارٹی اور سوویت یونین واقعی ایران میں بغاوت کی تیاری کر رہے تھے؟

فارسی زبان کے طالب علم جو روسی انٹیلی جنس افسر بنے

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ولادیمیر کوزیچکن 1947 میں ماسکو میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے سوتیلے والد آندرے کوزیچکن کے جی بی کے افسر تھے اور ولادیمیر کوزیچکن 22 سال کی عمر تک یہی سمجھتے رہے کہ وہی ان کے حقیقی والد ہیں۔

بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ ان کے حیاتیاتی والد جیورگی الیگزاندرووِچ لارکن تھے، جو آئرش نژاد سول انجینئر تھے اور جن سے وہ کبھی نہیں ملے۔ آندرے کوزیچکن نے ولادیمیر کی والدہ الیزاویتا سے شادی کے بعد انھیں قانونی طور پر گود لے لیا تھا۔

ولادیمیر کوزیچکن نے ماسکو انسٹیٹیوٹ آف ایشین اینڈ افریقن کنٹریز سے فارسی زبان کی تعلیم حاصل کی۔ فارسی پر عبور کی وجہ سے انھیں سنہ 1973 کے تعلیمی سال کے دوران ایران کے بافق صنعتی پراجیکٹ میں مترجم کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔

تربیت مکمل کرنے کے بعد ولادیمیر کوزیچکن نے کے جی بی کے ’ایس ڈپارٹمنٹ‘ میں شمولیت اختیار کی، جو نام نہاد ’غیر قانونی‘ ایجنٹس کی ذمہ دار شاخ تھی۔ یہ وہ خفیہ ایجنٹس تھے جو سفارتی تحفظ یا استثنیٰ کے بغیر، عموماً جعلی شناختوں کے تحت، دوسرے ممالک میں رہتے اور کام کرتے تھے۔

11 جون 1977 کو ولادیمیر کوزیچکن کو ایک قونصلر عہدے کے پردے میں تہران بھیجا گیا۔ ابتدائی طور پر انھوں نے ’لائن این‘ نامی شعبے میں ایک ’سپورٹ افسر‘ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ شعبہ ایران اور خطے میں کے جی بی کے غیر قانونی ایجنٹوں کے نیٹ ورک کو چلاتا تھا۔

سنہ 1980 کے وسط میں، جب اس شعبے کے سربراہ ولادیمیر گولووانوف کو ماسکو واپس بلا لیا گیا، تو ولادیمیر کوزیچکن نے لائن این کی سربراہی سنبھال لی۔ اسی کے ساتھ ان کا سرکاری عہدہ بھی بڑھا کر وائس قونصل کر دیا گیا۔

ان کے اہم کیسز میں ایک میاں بیوی بھی شامل تھے، جو تہران میں میشل اور اُرسولا گیشوِنٹ کی جعلی شناختوں کے تحت رہتے تھے۔ وہ سفارتی تقریبات اور سماجی محفلوں میں شرکت کر کے غیر ملکی شخصیات اور ایرانی عہدیداروں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتے تھے۔

ولادیمیر کوزیچکن

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Elena Alexandrovna

،تصویر کا کیپشنسوویت خفیہ ادارے کے جی بی کے افسر ولادیمیر کوزیچکن کی فوجی خدمات کے دوران لی گئی تصویر

انقلاب سے قبل کے برسوں میں تہران مشرق اور مغرب کے درمیان انٹیلی جنس مقابلے کا ایک اہم مرکز تھا۔

ساواک، جو شاہِ ایران کا خفیہ ادارہ تھا، سی آئی اے اور ایم آئی سکس کے تعاون سے سوویت ایجنٹس اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا تھا۔

سنہ 1979 کے انقلاب اور امریکی سفارت خانے پر قبضے کے بعد ایران میں مغربی خفیہ اداروں کا نیٹ ورک شدید حد تک محدود ہو گیا تھا۔ اسی دوران افغانستان میں سوویت فوج کی مداخلت نے واشنگٹن اور لندن میں اس خدشے کو بڑھا دیا کہ ماسکو اپنا اثر و رسوخ ایران اور خلیج فارس تک مزید پھیلا سکتا ہے۔

بعد ازاں ولادیمیر کوزیچکن نے کے جی بی کے بارے میں عوامی تصور سے مختلف تصویر پیش کی۔ اپنی یادداشتوں میں انھوں نے لکھا کہ کے جی بی ایک انتہائی منظم اور سخت نظم و ضبط والی مشین کے بجائے بدعنوانی، اندرونی رقابتوں، شراب نوشی اور انتظامی نااہلی جیسے مسائل کا بھی شکار تھی۔

ولادیمیر کوزیچکن کے مطابق ادارے کے مختلف دھڑوں کے درمیان رسہ کشی عام تھی، جبکہ بعض افسران پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے زیادہ ذاتی مفادات اور باہمی دشمنیوں میں مصروف رہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مسائل سوویت خفیہ ادارے کی کارکردگی کو متاثر کرتے تھے، حالانکہ بیرونی دنیا میں کے جی بی کو ایک انتہائی طاقتور اور منظم انٹیلی جنس ادارے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

دو خفیہ ایجنٹس کی گرفتاری، جو سوئٹزرلینڈ میں ان کے زیرِ نگرانی کام کر رہے تھے، نے بھی ولادیمیر کوزیچکن کی بے چینی میں اضافہ کر دیا تھا۔ انھیں خدشہ تھا کہ ان ایجنٹس کے خلاف جاری تحقیقات بالآخر ان تک پہنچ جائیں گی اور اس نیٹ ورک کے نگران افسر کے طور پر ان کی شناخت بے نقاب ہو جائے گی۔

اسی دوران ان کی اپنی اہلیہ گلینا کے ساتھ ازدواجی زندگی شدید بحران کا شکار ہو گئی، جبکہ بڑھتے ہوئے دباؤ اور ذہنی تناؤ سے نمٹنے کے لیے وہ خود بھی شراب نوشی کی طرف زیادہ مائل ہونے لگے۔

’ریڈ وڈ‘ کے مصنف بین میک اِنٹائر کے مطابق سوویت نظام اور کے جی بی سے مایوسی، پیشہ ورانہ مستقبل کے بارے میں خدشات اور ذاتی زندگی کے بحران نے مل کر ولادیمیر کوزیچکن کو برطانیہ کے ساتھ تعاون کرنے کے فیصلے تک پہنچایا۔

کتاب میں ان کے جنسی مسائل اور ان کے ازدواجی تعلقات پر پڑنے والے اثرات کو بھی اہم عنصر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ولادیمیر کوزیچکن کا خیال تھا کہ مغربی ممالک کے ڈاکٹر ان کے مسئلے کا علاج تلاش کر سکتے ہیں اور وہ امید رکھتے تھے کہ اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو شاید ان کی شادی بھی بچ سکتی ہے۔

تودہ پارٹی کے ’راز‘

ولادیمیر کوزیچکن کے تہران میں کام کا سب سے حساس پہلو تودہ پارٹی کی قیادت کے ساتھ اس کے روابط تھے۔

کتاب کے مطابق پارٹی کے ایک دیرینہ رکن گاگیک آوانسیان پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پہلے سیکریٹری نورالدین کیانوری کے پیغامات سوویت سفارت خانے تک پہنچاتے تھے۔

ان پیغامات میں بعض اوقات ایران کی سیاسی صورتحال، اندرونی اختلافات اور مسلح افواج سے متعلق رپورٹس بھی شامل ہوتی تھیں۔

میک اِنٹائر لکھتے ہیں کہ دوسری جانب سوویت یونین سے تودہ پارٹی کی طرف مالی وسائل اور دیگر معاونت کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ان کے مطابق تودہ پارٹی نے سوویت تجارتی مشن کے تعاون سے ایک درآمدی کمپنی قائم کر رکھی تھی، جس کے ذریعے پارٹی کو رقوم اور مختلف سامان فراہم کیا جاتا تھا۔

مصنف کے مطابق سوویت حکام پارٹی کو نیوز پرنٹ (اخباری کاغذ) بھی فراہم کرتے تھے، جبکہ بعض اخراجات، جن میں ہوائی ٹکٹوں اور ہوٹلوں کے بل شامل تھے، اسی انتظام کے تحت ادا کیے جاتے تھے۔

تودہ پارٹی کی مسلح افواج میں موجود خفیہ گروہ سے متعلق معلومات بھی ولادیمیر کوزیچکن کو موصول ہونے والی اہم معلومات میں شامل تھیں۔

اس تنظیم کی قیادت محمد مہدی پرتوی کر رہے تھے، جو تنظیمی نام ’خسرو‘ استعمال کرتے تھے۔ اس نیٹ ورک کے ارکان ایرانی فوج، فضائیہ، بحریہ اور پولیس میں موجود تھے۔

بین میک اِنٹائر نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ 1981 کے اختتام تک اس نیٹ ورک کے ارکان کی تعداد 300 سے زائد ہو چکی تھی۔

اس نیٹ ورک کی سب سے نمایاں فوجی شخصیت ایڈمرل بہرام افضلی تھے، جو اس وقت ایرانی بحریہ کے کمانڈر تھے۔

میک اِنٹائر کے مطابق افضلی نے کم از کم دو اہم نوعیت کی خفیہ معلومات تودہ پارٹی کو فراہم کیں، جو بعد میں سوویت یونین تک پہنچیں: خلیج فارس میں ایرانی فریگیٹ پیکان کے ساتھ ڈوب جانے والے امریکی ساختہ ہارپون میزائل کا مقام۔ سوویت حمایت یافتہ افغان افواج سے متعلق ایرانی فوج کی جانب سے مواصلاتی رابطوں کی نگرانی اور ان کے انٹرسیپٹ کرنے سے متعلق معلومات۔

عدالت میں بہرام افضلی نے جاسوسی کے الزامات کی تردید کی تھی، تاہم انھوں نے یہ اعتراف کیا تھا کہ ان دونوں معاملات میں انھوں نے خفیہ معلومات تودہ پارٹی کو فراہم کی تھیں۔

میک اِنٹائر کی کتاب

،تصویر کا ذریعہPenguin Books Ltd

،تصویر کا کیپشنمیک اِنٹائر کی کتاب

سوویت یونین اور تودہ پارٹی کے تعلقات کے شواہد صرف گرفتار رہنماؤں کے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اعترافات تک محدود نہیں ہیں۔

شائع شدہ سوویت آرکائیوز کی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے رہنماؤں اور ماسکو کے حکام کے درمیان براہِ راست رابطے موجود تھے، جن میں خفیہ سرگرمیوں کے لیے معاونت اور تربیت کی درخواستیں اور تعاون کی دیگر شکلیں شامل تھیں۔

اسی طرح مسلح افواج میں تودہ پارٹی کی دیگر خفیہ تنظیموں کے دائرۂ کار اور نوعیت کے بارے میں مختلف یادداشتیں، تحقیقی مطالعات اور تاریخی جائزے بھی شائع ہو چکے ہیں۔

تودہ پارٹی کی ایک خفیہ تنظیم اور اس کے فوجی نیٹ ورک کے وجود کی تصدیق خود پارٹی کے سابق عہدیداروں نے بھی کی ہے، تاہم اس تنظیم کے مقاصد کے بارے میں ان کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف رہے ہیں۔

سنہ 2016 میں جریدے ’اندیشہ پویا‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس وقت تودہ پارٹی میں موجود خفیہ تنظیم کے نگران محمد مہدی پرتوی نے کہا تھا کہ نورالدین کیانوری انقلاب کے بعد بھی خفیہ تنظیم کو برقرار رکھنا چاہتے تھے، کیونکہ وہ فوجی بغاوت یا پہلوی حکومت کی واپسی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتے تھے۔

ان کے بقول کیانوری چاہتے تھے کہ اگر پارٹی پر دباؤ بڑھ جائے تو اس کے پاس ایک ایسا نیٹ ورک موجود ہو جو اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔

پرتوی نے اسی انٹرویو میں ان فوجی افسران سے رابطے کے لیے قائم ایک علیحدہ نیٹ ورک کا بھی ذکر کیا، جو پارٹی کے حامی سمجھے جاتے تھے۔

ان کے مطابق جب ایک افسر نے افغانستان میں ہونے والی کمیونسٹ بغاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’ہم اپنے افغان رفقا سے کسی لحاظ سے کم نہیں ہیں‘، تو کیانوری نے جواب دیا: ’میں جانتا ہوں، لیکن اس قسم کی باتوں کا یہ وقت نہیں ہے، اور اس وقت پارٹی اسلامی جمہوریہ کی حمایت کر رہی ہے۔‘

تاہم کتاب میں بیان کی گئی بعض تفصیلات صرف ولادیمیر کوزیچکن کے بیانات یا ایران کے سکیورٹی اداروں کی رپورٹس پر مبنی ہیں۔

مثال کے طور پر ولادیمیر کوزیچکن کا یہ دعویٰ کہ تودہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے تمام اراکین ماسکو سے مالی رقوم وصول کرتے تھے، اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ولادیمیر کوزیچکن اپنی اہلیہ گلینا کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہGalina Kokosova Archives

،تصویر کا کیپشنولادیمیر کوزیچکن اپنی اہلیہ گلینا کے ساتھ

میک اِنٹائر کے مطابق سوویت یونین کی جانب سے تودہ پارٹی کو دی جانے والی مالی معاونت کا حجم سالانہ تقریباً پانچ لاکھ ڈالر تک پہنچتا تھا۔

وہ ایک ایرانی انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہیں، جس کے مطابق تودہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ایک رکن نے ایک موقع پر 800,000 تومان وصول کیے تھے، جو اس وقت 40,000 ڈالر سے زیادہ کے برابر تھے۔

میک اِنٹائر یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ اگر اسی مقدار کی ادائیگی ہر ماہ کی جاتی رہی ہو تو مجموعی رقم سالانہ تقریباً پانچ لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ تاہم یہ تخمینہ دراصل ایک ہی رپورٹ شدہ ادائیگی کی بنیاد پر لگایا گیا اندازہ ہے۔

دوسری جانب سوویت کمیونسٹ پارٹی کے پولٹ بیورو کی ایک الگ دستاویز، جو ولادیمیر بوکوفسکی آرکائیو میں شائع ہوئی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ 29 دسمبر 1980 کو تودہ پارٹی کے لیے 1981 کے دوران 300,000 ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دی گئی تھی اور اس رقم کی منتقلی کی ذمہ داری کے جی بی کو سونپی گئی تھی۔

تاہم، اگرچہ یہ سرکاری دستاویز امدادی رقم کے حجم کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن یہ بذاتِ خود اس بات کا ثبوت فراہم نہیں کرتی کہ منظور شدہ رقم مکمل طور پر یا جزوی طور پر واقعی تودہ پارٹی تک پہنچائی گئی تھی۔

اپنی کتاب ’بٹر پیشنس‘ میں تودہ پارٹی کے سینیئر رہنما محمد علی عمویی نے لکھا ہے کہ پارٹی کے مالی وسائل میں رکنیت فیس، حامیوں کے عطیات، کتابوں اور مطبوعات کی فروخت اور ان کمپنیوں کی آمدنی شامل تھی جو پارٹی نے قائم کی تھیں۔

عمویی کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ’برادر جماعتوں‘ (کمیونسٹ یا ہم خیال جماعتوں) کی مالی امداد بھی پارٹی کے مالی ذرائع میں شامل تھی، تو انھوں نے اس کی نفی کی۔ تاہم انہوں نے یہ وضاحت ضرور کی کہ بعض کمیونسٹ ممالک کی جانب سے تعاون موجود تھا۔ مثال کے طور پر پارٹی کو چیکوسلواکیہ سے نیوز پرنٹ انتہائی کم قیمت پر فراہم کیا جاتا تھا۔

عمویی مزید لکھتے ہیں کہ تودہ پارٹی سے وابستہ کاروباری اداروں کا مالی حساب براہِ راست نورالدین کیانوری کی نگرانی میں ہوتا تھا اور انہیں پارٹی کے شعبۂ مالیات کے کھاتوں سے الگ رکھا جاتا تھا۔

چاٹانوگا میں ملاقات اور بازرگان سرحد کے راستے فرار

کتاب کے مطابق ولادیمیر کوزیچکن کی ایم آئی سکس کے ساتھ پہلی سنجیدہ ملاقات 22 اکتوبر 1981 کو تہران کے شمال میں واقع مشہور چاٹانوگا ریستوران میں ہوئی۔

بتایا جاتا ہے کہ برطانوی خفیہ ادارے کے ایک نوجوان افسر آئن میک کرڈی نے، اس بات کا کافی حد تک یقین کر لینے کے بعد کہ کوزیچکن کسی نگرانی میں نہیں ہیں، ان سے رابطہ کیا اور اپنی شناخت ظاہر کی۔

ایک ہفتے بعد میک کرڈی نے پہلے سے طے شدہ مقام سے ولادیمیر کوزیچکن کو ایک لینڈ روور میں سوار کیا۔ روسی افسر گاڑی کی پچھلی نشست پر لیٹ گئے اور خود کو ایک کمبل سے ڈھانپ لیا تاکہ راستے میں کوئی انھیں دیکھ نہ سکے۔

اس کے بعد انھیں برطانوی سفارت خانے کے احاطے میں واقع میک کرڈی کی رہائش گاہ لے جایا گیا۔

کتاب کے مطابق دونوں کے درمیان خفیہ گفتگو باتھ روم میں ہوئی کیونکہ میک کرڈی کے خیال میں گھر کا یہی حصہ خفیہ نگرانی اور سن گن لینے والے آلات سے نسبتاً زیادہ محفوظ تھا۔

میک اِنٹائر لکھتے ہیں کہ ولادیمیر کوزیچکن پہلی ملاقات میں اپنے ساتھ سوویت سفارت خانے کی ٹیلی فون ڈائریکٹری لے کر آئے تھے، جس میں ایران میں تعینات سوویت سفارت کاروں اور اہلکاروں کی ایک سو سے زائد افراد پر مشتمل فہرست موجود تھی۔

انھوں نے اس موقع پر ’لائن این‘ کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کیں، جو ایران اور خطے میں سرگرم سوویت خفیہ ایجنٹوں کے نیٹ ورک کا نام تھا۔

ولادیمیر کوزیچکن نے ان ایجنٹس کی شناخت، ان کے ٹھکانوں اور کے جی بی کی دیگر انٹیلی جنس سرگرمیوں سے متعلق معلومات بھی شیئر کیں۔

اس کے بعد انھوں نے سوویت یونین اور تودہ پارٹی کے تعلقات، پارٹی کے خفیہ نیٹ ورک، اسے فراہم کی جانے والی مالی و انٹیلی جنس معاونت اور پارٹی کے کے جی بی کے ساتھ روابط پر تبادلۂ خیال کیا۔

ایم آئی 6 نے کوزیچکن کو خفیہ نام ’ریڈ وڈ‘ دیا۔

تہران میں ان کی جاسوسی سرگرمیوں کا دورانیہ ابتدا میں تقریباً ایک سال کے لیے مقرر کیا گیا تھا، لیکن بعد میں منصوبہ تبدیل کر دیا گیا کیونکہ یہ خدشات بڑھنے لگے تھے کہ انہیں ماسکو واپس بلا لیا جائے گا، جہاں ان کی خفیہ سرگرمیوں کے بے نقاب ہونے کا خطرہ موجود تھا۔

بالآخر برطانیہ نے انہیں ’مائیکل رڈ‘ کے نام سے ایک پاسپورٹ جاری کیا، جس کے ذریعے ان کے انخلا اور نئی شناخت کے انتظامات کیے گئے۔

نورالدین کیانوری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتودہ پارٹی کے قید رہنما نورالدین کیانوری تہران کی اوین جیل میں ’غیر ملکی صحافیوں‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے

ولادیمیر کوزیچکن یکم جون 1982 کی شام ایک سفارتی گاڑی میں تہران سے ترکی کی سرحد کی جانب روانہ ہوئے۔

کتاب میں وزیرِاعظم کے دفتر کے انٹیلی جنس شعبے کے نائب افسر کے طور پر متعارف کرائے گئے سعید حجاریان کے مطابق ایرانی اہلکاروں نے ان کا تعاقب کیا، لیکن تبریز اور ماکو کے درمیان کسی مقام پر ان کا سراغ کھو بیٹھے۔

بعد میں تعاقب کرنے والی ٹیم بازرگان پہنچی۔ اس وقت ولادیمیر کوزیچکن سرحدی عمارت کے اندر موجود تھے، جبکہ ان کی سفارتی بی ایم ڈبلیو ایک ٹرک پارکنگ میں مل گئی۔

کتاب کے مطابق ولادیمیر کوزیچکن نے گاڑی وہیں کھڑی کی، اپنے سوویت دستاویزات اور ایرانی سفری اجازت نامہ گاڑی کے ڈیش بورڈ میں رکھ دیے اور پھر اپنے برطانوی پاسپورٹ کے ساتھ سرحدی چوکی کی طرف روانہ ہو گئے۔

کتاب میں بازرگان سرحد سے ولادیمیر کوزیچکن کے فرار کا منظر تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

بین میک اِنٹائر کے مطابق ولادیمیر کوزیچکن نے خود کو ایک سفارت کار کے طور پر متعارف کرایا، جو ایک اہم مشن پر ایران آیا تھا اور اب ایک جعلی برطانوی پاسپورٹ کے ذریعے ترکی کے راستے برطانیہ واپس جا رہا تھا۔

جب ان کا سامنا پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کے ایک گروپ سے ہوا تو انھوں نے فارسی نہ جاننے کا تاثر دینے کی کوشش کی، لیکن شدید گھبراہٹ کے باعث غیر ارادی طور پر فارسی میں جواب دے بیٹھے۔ تاہم یہ لغزش ان کی شناخت یا گرفتاری کا سبب نہ بن سکی۔

کتاب کے مطابق بعد ازاں کسٹمز کی عمارت میں ایک مترجم کی موجودگی میں ان سے پوچھ گچھ بھی کی گئی اور اس مرتبہ انھوں نے فارسی سے لاعلمی کے اپنے مؤقف پر اصرار کیا۔

بالآخر انھیں سرحد پار کرنے کی اجازت مل گئی اور وہ ترک علاقے میں داخل ہو گئے، جہاں ایم آئی سکس کے اہلکار ان کے منتظر تھے۔

میک اِنٹائر لکھتے ہیں کہ انھوں نے اس آپریشن میں شامل ایم آئی سکس کے افسر آئن میک کرڈی اور تقریباً تمام زندہ بچ جانے والے متعلقہ برطانوی انٹیلی جنس اہلکاروں کے انٹرویوز کیے ہیں۔ تاہم وہ خود اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انھیں ایم آئی سکس کی سرکاری فائلوں تک رسائی حاصل نہیں تھی اور کتاب میں شامل متعدد افسران کے نام فرضی ہیں۔

مصنف کے مطابق اگرچہ آپریشن کا بنیادی خاکہ دستیاب تاریخی شواہد سے مطابقت رکھتا ہے، لیکن کتاب میں بیان کیے گئے تمام انٹرویوز، مکالموں اور تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہے۔

ایرانی نمائندوں کی کے جی بی کے جاسوس سے ملاقات

کتاب کے مطابق برطانیہ منتقل کیے جانے کے بعد ولادیمیر کوزیچکن سے متعلق سب سے اہم انکشافات میں سے ایک ان کی فراہم کردہ معلومات کے استعمال سے متعلق ہے۔

بین میک اِنٹائر لکھتے ہیں کہ ولادیمیر کوزیچکن کی معلومات ایران تک پہنچانے کا منصوبہ سی آئی اے اور ایم آئی سکس کی مشترکہ کوشش تھا، جس میں اُس وقت کے سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم کیسی نے مرکزی کردار ادا کیا۔

مصنف کے مطابق اس آپریشن کو امریکہ میں انتہائی خفیہ رکھا گیا۔ سی آئی اے نے ولادیمیر کوزیچکن سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر ایک رپورٹ تیار کی، جس میں ایران میں موجود کم از کم 100 اور ممکنہ طور پر 200 تک سوویت ایجنٹوں، رابطہ کاروں اور معاونین کے نام شامل تھے۔

کتاب میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایم آئی سکس نے پاکستان میں ایران کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں ولادیمیر کوزیچکن اور ان سے وابستہ برطانوی اہلکاروں کی موجودگی کو بھی مربوط کیا۔

میک اِنٹائر کے مطابق اس اقدام کا مقصد صرف کے جی بی کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ ان کے بقول ولیم کیسی کو امید تھی کہ یہ خفیہ تعاون تہران کے ساتھ رابطے کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے اور سوویت یونین کے مقابلے میں ایران کی پوزیشن کو مضبوط کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اسلام آباد میں یہ ملاقات پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر میں طے کی گئی تھی۔ میک اِنٹائر کے مطابق 22 ستمبر 1982 سے شروع ہونے والے دو روزہ مذاکرات میں ولادیمیر کوزیچکن اور ان کے برطانوی ساتھیوں نے ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں حبیب اللہ بیطار اور محمد جواد مدرس شاہی سے ملاقات کی۔

کتاب کے مطابق ایرانی وفد کو ایسی دستاویزات اور فہرستیں فراہم کی گئیں، جن میں سوویت ایجنٹس، رابطہ کاروں اور خفیہ نیٹ ورکس کے ارکان کے نام شامل تھے۔ کوزیچکن نے فارسی زبان میں ایران میں کے جی بی کے ڈھانچے، مواصلاتی راستوں، محفوظ ٹھکانوں، تودہ پارٹی کو دی جانے والی مالی امداد اور اس کی فوجی تنظیم کی تفصیلات بھی بیان کیں۔

کتاب کے مطابق مصنف سے گفتگو کرنے والے برطانوی حکام کا کہنا تھا کہ جب بحث کا رخ ممکنہ بغاوت، اسلحہ کے خفیہ ذخائر اور تودہ پارٹی کی قیادت کے فرار کے منصوبوں کی جانب مڑا تو ایرانی نمائندوں کی دلچسپی نمایاں طور پر بڑھ گئی۔

وہ جاننا چاہتے تھے کہ تودہ پارٹی کے پاس کتنی مسلح قوت موجود ہے، اس کی ممکنہ کارروائی کب شروع ہو سکتی ہے اور سوویت یونین اس کی کس نوعیت کی حمایت کرے گا؟

اس ملاقات کی تفصیلات صرف ایم آئی سکس کے اہلکاروں کے بیانات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس کا ذکر اس وقت کے سپیکر قومی اسمبلی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی یادداشتوں میں بھی ملتا ہے۔

رفسنجانی نے 22 اکتوبر 1982 کی ڈائری میں لکھا ’دوپہر کے وقت انجینئر جواد [مدرس شاہی] اور حبیب، جو ایک باخبر شخص سے معلومات حاصل کرنے کے لیے پاکستان گئے تھے، واپس آئے اور انھوں نے کے جی بی، تودہ پارٹی اور ایران میں سوویت یونین کے مستقبل کے بارے میں حاصل کی گئی دلچسپ اور مفید معلومات کی رپورٹ پیش کی۔‘

تودہ پارٹی کا ایک پوسٹر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتودہ پارٹی کا ایک پوسٹر

دوسری جانب محمد جواد مدرس شاہی نے بھی برسوں بعد تصدیق کی کہ جب پاکستان میں ولادیمیر کوزیچکن سے ملاقات کے امکان کے بارے میں اس وقت کے صدر علی خامنہ ای کو آگاہ کیا گیا تو اس معاملے پر اکبر ہاشمی رفسنجانی سے بھی مشاورت کی گئی۔

مدرس شاہی کے مطابق بعد ازاں انھیں اور حبیب اللہ بیطار کو پاکستان بھیجا گیا تاکہ وہ سابق کے جی بی افسر ولادیمیر کوزیچکن سے معلومات حاصل کر سکیں۔

امریکی صحافی باب وڈورڈ، جو واٹرگیٹ اسکینڈل کو بے نقاب کرنے کے باعث عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں، نے نومبر 1986 میں واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ سی آئی اے نے ولادیمیر کوزیچکن سے تفتیش کے بعد ایران میں موجود سوویت ایجنٹس اور ان کے معاونین کی ایک فہرست اور ان سے متعلق اضافی معلومات، ایرانی حکومت کے حوالے کی تھیں۔

وڈورڈ نے یہ رپورٹ باخبر ذرائع کے حوالے سے شائع کی تھی۔ ان کا بیان بعض سابقہ رپورٹس اور بین میک اِنٹائر کی کتاب ’ریڈ وڈ‘ میں پیش کیے گئے مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے اور اس خیال کو تقویت دیتا ہے کہ ولادیمیر کوزیچکن کی فراہم کردہ معلومات ایران تک منتقل کی گئی تھیں۔

تاہم ان ملاقاتوں کے باضابطہ ریکارڈ (منٹس) یا ایران کو فراہم کی جانے والی معلومات کی مکمل فہرست آج تک عوامی سطح پر منظرِ عام پر نہیں آئی، جس کی وجہ سے اس تعاون کی مکمل نوعیت اور وسعت کے بارے میں بعض سوالات اب بھی موجود ہیں۔

اسلام آباد سے حاصل کی گئی انٹیلی جنس اور تودہ پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن

اسلام آباد سے حاصل ہونے والی معلومات ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کے حلقوں میں زیرِ بحث آئیں۔

بین میک اِنٹائر کے ذرائع کے مطابق پاسدارانِ انقلاب اور اس وقت کے صدر علی خامنہ ای تودہ پارٹی کے خلاف فوری کارروائی کے حامی تھے، جبکہ وزیرِ اعظم میر حسین موسوی کے ماتحت وزیرِاعظم ہاؤس کا انٹیلی جنس نظام فوری کریک ڈاؤن کے حق میں نہیں تھا۔

اس مؤقف کے مطابق تودہ پارٹی کے نیٹ ورک کو مزید عرصے تک نگرانی میں رکھنا زیادہ مفید سمجھا گیا تاکہ مزید معلومات حاصل کی جا سکیں اور موجودہ انٹیلی جنس ذرائع بے نقاب نہ ہوں۔

کتاب میں نقل کیے گئے بیانات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے تمام عہدیدار اس بات پر متفق نہیں تھے کہ فوری طور پر کسی بغاوت کا خطرہ موجود ہے۔

اس وقت پاسداران انقلاب کے کمانڈر محسن رضائی نے برسوں بعد بتایا کہ 1982 میں انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کو ایک رپورٹ پیش کی تھی، جس میں تودہ پارٹی کی جانب سے پارلیمان اور ایران براڈکاسٹنگ کارپوریشن پر قبضے اور بعد ازاں سوویت مداخلت کی درخواست کے امکان کا ذکر تھا۔

رضائی کے مطابق آیت اللہ خمینی نے اس رپورٹ کو ’حقیقت سے زیادہ ایک کہانی‘ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر اس کے وقوع پذیر ہونے کا امکان ’ہزار میں ایک‘ بھی ہو تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

رفسنجانی کی یادداشتوں سے بھی تودہ پارٹی کے خلاف کارروائی کے وقت اور طریقۂ کار پر اختلافات کا اشارہ ملتا ہے۔ 7 فروری 1982 کو، جب پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریاں شروع ہو چکی تھیں، اکبر ہاشمی رفسنجانی نے لکھا کہ اس وقت تک کوئی حتمی اقدام نہیں کیا جانا تھا جب تک ’آپریشن کی صورتحال واضح‘ نہ ہو جائے۔

تاہم ان کی تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خدشے نے، کہ بعض افراد فرار ہو سکتے ہیں، گرفتاریوں کے عمل کو تیز کر دیا۔

بعد میں وزیرِاعظم کے انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ خسرو تہرانی نے کہا کہ ان کا ادارہ نیٹ ورک کی نگرانی جاری رکھنا چاہتا تھا تاکہ مزید روابط اور افراد کی شناخت کی جا سکے، اس سے پہلے کہ وسیع پیمانے پر کارروائی کی جاتی۔

دوسری جانب راہِ تودہ ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون، جسے نورالدین کیانوری کی آخری تحریروں میں سے ایک قرار دیا گیا، میں کیانوری لکھتے ہیں کہ گرفتاریوں سے قبل کے ہفتوں میں پارٹی کی قیادت نے سکیورٹی نگرانی میں اضافے کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ حکومتی کارروائی قریب ہے۔

ان کے مطابق پارٹی کے سیاسی بورڈ نے فیصلہ کیا تھا کہ کچھ رہنماؤں کی ایران سے روانگی کو آسان بنایا جائے اور پارٹی کی سرگرمیاں خفیہ طور پر جاری رکھی جائیں۔ تاہم کیانوری کا کہنا ہے کہ وہ خود ایران چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔

کیانوری مزید لکھتے ہیں کہ ولادیمیر کوزیچکن کے فرار کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سوویت حکام نے ریڈیو رابطوں کے ذریعے متعدد بار انہیں ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔

بین میک اِنٹائر کے مطابق 7 فروری 1983 کو پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کی پہلی لہر میں تقریباً 200 ’پارٹی آرگنائزرز‘ کو گرفتار کیا گیا، جن میں مرکزی کمیٹی کے 30 ارکان بھی شامل تھے۔

تاہم یہ تعداد بعض دیگر ذرائع سے مختلف ہے۔ مثال کے طور پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس روز تودہ پارٹی کے 50 سے زائد سینیئر رہنماؤں کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔

گرفتار ہونے والوں میں نورالدین کیانوری اور ان کی اہلیہ مریم فیروز بھی شامل تھے۔

متعدد سابق قیدیوں کے بیانات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق زیرِ حراست افراد سے اعترافات حاصل کرنے کے لیے تشدد کا استعمال کیا گیا۔ بعد میں علی خامنہ ای کو لکھے گئے اپنے خط میں کیانوری نے کوڑوں کی سزا، مریم فیروز کے ہاتھوں کو پہنچنے والے زخموں اور اپنے سامنے ہونے والے تشدد کا بھی ذکر کیا۔

اپریل 1983 میں تفتیش کاروں نے دعویٰ کیا کہ انھیں ایک ممکنہ اور قریب الوقوع بغاوت سے متعلق معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا اور تودہ پارٹی کی خفیہ تنظیم کے بیشتر ارکان اور اس سے وابستہ فوجی افسران حراست میں لے لیے گئے۔

یکم مئی 1983 کو نورالدین کیانوری سرکاری ٹیلی ویژن پر نمودار ہوئے اور سوویت یونین کو معلومات فراہم کرنے اور ایران کے مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

تاریخ دان یرواند ابراہامیان نے ان اعترافات کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں جبری اعترافات کے تناظر میں دیکھا ہے۔ ابراہامیان کے مطابق ٹیلی ویژن پر پیشی کی تیاری کے دوران کیانوری کا ایک ہاتھ ٹوٹ چکا تھا۔

سنہ 2016 میں جریدے ’اندیشہ پویا‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد مہدی پرتوی نے تودہ پارٹی کے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ پارٹی کسی فوری فوجی بغاوت کی تیاری کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ آج یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اس وقت پارٹی کا کوئی ارادہ بغاوت کرنے کا نہیں تھا۔‘

پرتوی کے مطابق پارٹی کے ایک زیرِ حراست رکن نے دورانِ تفتیش بغاوت کی کہانی بیان کی تھی، جس کے بعد تفتیش کاروں نے اسی بنیاد پر دیگر رہنماؤں سے بھی پوچھ گچھ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دباؤ کے نتیجے میں دس سے زائد پارٹی رہنماؤں نے مبینہ طور پر آئندہ بغاوت کے منصوبے کا اعتراف کیا۔

دوسری جانب نورالدین کیانوری سے منسوب آخری تحریروں میں بھی تودہ پارٹی پر فوری بغاوت کی منصوبہ بندی کے الزام کی تردید کی گئی ہے۔

کیانوری لکھتے ہیں کہ اگرچہ انہوں نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں بغاوت کے منصوبے کا اعتراف کیا تھا، لیکن ان کے بقول یہ اعتراف تشدد اور ان پر اور ان کے خاندان پر ڈالے گئے دباؤ کا نتیجہ تھا۔

اس طرح حزبِ تودہ کے خلاف 1982-83 کی کارروائیوں اور مبینہ فوجی نیٹ ورک کے مقاصد کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آتے ہیں۔ بعض سابق حکام اور سکیورٹی اداروں کی روایات اسے ایک حقیقی خطرہ قرار دیتی ہیں، جبکہ تودہ پارٹی کے بعض سابق رہنما اور کیانوری جیسے شخصیات ان الزامات کو جبری اعترافات اور سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

کیانوری کے مطابق تفتیش کاروں نے ابتدا میں مبینہ بغاوت کے لیے فارسی مہینے فروردین 1983 کی ایک تاریخ مقرر کی اور بعد ازاں اسے یکم اردی بہشت تک منتقل کر دیا۔

ان کے بقول انھوں نے ایک فرضی ’کونسل برائے بغاوت‘، ایک ’عملیاتی کونسل‘ اور مستقبل کی حکومت کے ارکان کی فہرست بھی تیار کی تھی۔

کیانوری کا دعویٰ تھا کہ اس فہرست میں انھیں صدرِ مملکت، احسان طبری کو وزیرِ ثقافت اور محمد علی عمویی اور محمد علی حجری کو فوجی شعبے کے سربراہان کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ تفتیش کاروں کا خیال تھا کہ سوویت یونین سرحد عبور کر کے اس مبینہ بغاوت کی حمایت کرے گا اور ان کے بقول یہی وجہ تھی کہ بغاوت کے الزام کے سامنے آنے کے بعد تشدد اور دباؤ کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔

تودہ پارٹی کے قید رہنما نورالدین کیانوری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتودہ پارٹی کے قید رہنما نورالدین کیانوری

کیانوری نے اپنی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی اعترافی گفتگو کے بارے میں بتایا کہ یہ شدید دباؤ کے ماحول میں حاصل کی گئی تھی۔ ان کے مطابق ان کی اہلیہ مریم فیروز کو کوڑے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، جبکہ ان کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

کیانوری کا مؤقف تھا کہ ان پر اور ان کے اہلِ خانہ پر ڈالے گئے اسی دباؤ اور تشدد کے نتیجے میں انہیں وہ اعترافات کرنے پر مجبور کیا گیا، جو بعد میں سرکاری ذرائع ابلاغ پر نشر کیے گئے۔

تودہ پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد ایران نے مئی 1983 میں اٹھارہ سوویت سفارت کاروں اور حکام کو ملک بدر کر دیا۔

بین میک اِنٹائر کے مطابق ان میں سے بیشتر افراد دراصل سوویت انٹیلی جنس افسر تھے، جن کی شناخت ولادیمیر کوزیچکن کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔

تودہ پارٹی سے وابستہ فوجی نیٹ ورک کے اراکین کے خلاف بھی خفیہ عدالتی کارروائیاں کی گئیں، جن کی صدارت اس وقت کے شرعی جج محمد محمدی ری‌شہری کر رہے تھے۔

ان مقدمات کے نتیجے میں متعدد اعلیٰ فوجی افسران کو سزائیں سنائی گئیں، جن میں ایرانی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل بہرام افضلی بھی شامل تھے، جنہیں مارچ 1983 میں پھانسی دے دی گئی۔

اس کے علاوہ حزبِ تودہ کے بہت سے اراکین اور حامیوں کو قید کی سزائیں دی گئیں، جبکہ 1988 میں ایران میں ہونے والی وسیع پیمانے کی اجتماعی پھانسیوں کے دوران بھی تودہ پارٹی کے متعدد قیدی ہلاک ہوئے۔

آپریشن اپنے اہداف نہیں حاصل کر سکا

میک اِنٹائر کے نزدیک آپریشن ’ریڈ وڈ‘ برطانیہ اور امریکہ کے لیے ایک بڑی انٹیلی جنس کامیابی تھا۔

ولادیمیر کوزیچکن کی فراہم کردہ معلومات نے سوویت خفیہ ادارے کے جی بی کے خفیہ نیٹ ورک کے ایک حصے کو بے نقاب کرنے، متعدد سوویت ایجنٹس کی شناخت میں مدد دینے اور تودہ پارٹی کو شدید نقصان پہنچانے میں کردار ادا کیا۔

تاہم اس آپریشن کا دوسرا اہم مقصد، یعنی ایران کے ساتھ خفیہ تعاون کے ذریعے تعلقات میں بہتری لانا، حاصل نہ ہو سکا۔

کتاب اس فیصلے کے انسانی نتائج پر بھی زور دیتی ہے۔ اینڈریو برائٹ، جو ایم آئی سکس کے ان افسران میں شامل تھے جو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں موجود تھے، نے بعد میں لکھا کہ کاش یہ اقدام نہ کیا جاتا۔

ان کے مطابق جن افراد کی معلومات ایران تک پہنچائی گئیں، ان کا انجام ان کے پیشہ ورانہ کیریئر کا وہ پہلو تھا جو زندگی بھر انہیں پریشان کرتا رہا۔

اسی لیے میک اِنٹائر کے مطابق ’ریڈ وڈ‘ کی کہانی کو ایک ہی وقت میں ’کامیابی‘ اور ’سانحہ‘ دونوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک طرف اس نے کے جی بی کو بڑا دھچکا پہنچایا اور سوویت انٹیلی جنس نیٹ ورک کو نقصان پہنچایا، جبکہ دوسری طرف اس نے اسلامی جمہوریہ کو تودہ پارٹی، جو منظم اپوزیشن کی آخری اہم قوتوں میں سے ایک تھی، کو ختم کرنے میں مدد فراہم کی۔

فرار کے بعد ولادیمیر کوزیچکن نے برطانیہ میں ’الیگزینڈر جارج لارکن‘ کے نام سے نئی زندگی شروع کی، جو ان کے حقیقی والد کا خاندانی نام تھا، حالانکہ وہ ان سے کبھی نہیں ملے تھے۔

بعد میں انہوں نے ایکیوپنکچر (سوئیوں کے ذریعے علاج) کے شعبے میں کام شروع کیا اور بالآخر ویسٹن سپر میئر میں جا کر آباد ہو گئے۔

تاہم بین میک اِنٹائر کے مطابق وہ کئی برس تک ڈپریشن، پچھتاوے اور شراب نوشی کے مسائل سے دوچار رہے اور ایم آئی سکس نے متعدد مرتبہ ان کے علاج کے اخراجات برداشت کیے۔

میک اِنٹائر لکھتے ہیں کہ ولادیمیر کوزیچکن اپنی کارروائی کے نتائج سے کبھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہو سکے۔ بعد ازاں انہوں نے آئیان میک کرڈی سے کہا کہ ایران میں قید، تشدد یا ہلاکتوں کا شکار ہونے والے افراد کا انجام انہیں مسلسل پریشان کرتا رہا۔ سنہ 2009 میں 62 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا۔

’ریڈ وڈ‘ کوزیچکن کی بھرتی، ایم آئی سکس کی خفیہ کارروائی، ایران سے ان کے فرار اور ان کی فراہم کردہ معلومات کی منتقلی کی ایک دلچسپ اور تفصیلی داستان پیش کرتی ہے۔

مصنف بین میک اِنٹائر خود تسلیم کرتے ہیں کہ کسی ممکنہ بغاوت کا وقوع یقینی نہیں تھا، لیکن ان کے مطابق اس دور کے کئی اہم کردار یہ سمجھتے تھے کہ مسلح اقتدار پر قبضے کا خطرہ حقیقی اور قریب تھا۔

تاہم کتاب پر ایک تنقید یہ بھی کی جا سکتی ہے کہ بعض اوقات یہ اس زمانے کے خدشات اور اندازوں اور آج دستیاب دستاویزات کی بنیاد پر ثابت کیے جا سکنے والے حقائق کے درمیان کافی فاصلہ برقرار نہیں رکھتی۔

یہ تضاد کتاب کے بنیادی مقدمے میں بھی دکھائی دیتا ہے۔

ایک طرف مصنف ایک ایسے بحران کا ذکر کرتے ہیں جو ان کے بقول ایران پر ممکنہ قبضے اور حتیٰ کہ ’جوہری تصادم‘ تک کا سبب بن سکتا تھا، جبکہ دوسری طرف وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مبینہ بغاوت اگلے دن ہو سکتی تھی، اگلے مہینے ہو سکتی تھی، یا شاید کبھی نہ ہوتی۔

اسی وجہ سے ’ریڈ وڈ‘ صرف ایک جاسوس کی داستان نہیں بلکہ سرد جنگ، ایران، تودہ پارٹی اور خفیہ اداروں کے کردار پر ایک پیچیدہ تاریخی بحث بھی پیش کرتی ہے، جس کے بعض پہلو آج بھی مؤرخین اور محققین کے درمیان متنازع ہیں۔