ایک پنسل سے جڑا 100 سال پرانا سوال جس نے چینی شہریوں کو ریاضی کا سب سے بڑا اعزاز دلا دیا

Mathematicians Yu Deng and Hong Wang at the Fields Medal awarding ceremony in the US

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریاضی دان یو ڈینگ اور ہونگ وانگ فیلڈز میڈل حاصل کرنے والے پہلے چینی شہری ہیں
    • مصنف, جوئل گوئنتو
    • مصنف, فین وانگ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق دو چینی ریاضی دانوں نے ریاضی کا سب سے بڑا عالمی اعزاز جیت لیا ہے۔ ہونگ وانگ اور یو ڈینگ نے یہ انعام امریکہ کے جان پارڈن اور کینیڈا کے جیکن تسمرمن کے ساتھ جیتا۔

ہر ایک فاتح کو 15 ہزار کینیڈین ڈالر (29 لاکھ پاکستانی روپے سے زیادہ) ملے ہیں۔

چینی ریاضی دانوں نے ایک صدی سے زیادہ عرصے پرانی گتھی سلجھائی جو اس سے قبل کوئی ریاضی دان حل نہیں کر پایا تھا۔ 35 سالہ وانگ امریکہ اور فرانس میں پڑھاتی ہیں۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی تیسری خاتون ہیں۔

فیلڈز میڈل، جسے ریاضی میں نوبیل انعام کے مساوی سمجھا جاتا ہے، ایک ایسے وقت میں جمعرات کو امریکہ میں دیا گیا کہ جب انسانی صلاحیتوں کو مصنوعی ذہانت کی جانب سے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

وہ صدیوں پرانے ریاضی کے سوال جن کے جواب دیے گئے

اس کامیابی نے چینی سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ ’فیلڈز میڈل‘ اور ’فیلڈز میڈل جیتنے والے پہلے چینی ریاضی دان‘ کے ہیش ٹیگز نے ویبو سے لے کر ریڈنوٹ تک مختلف چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں ویوز حاصل کیے۔

ویبو کے ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ تمام چینی عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔‘ ایک اور صارف نے کہا کہ ’ہم تاریخ بنتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔‘

چینی میڈیا نے بھی ان دونوں ماہرینِ تعلیم کی وسیع کوریج کی جیسے ان کا تعلیمی پس منظر، ذاتی دلچسپیاں اور اس کامیابی کے ملک کے لیے اس کے معنی تک ہر پہلو پر مضامین شائع کیے گئے۔

چینی نسل سے تعلق رکھنے والے پہلے فیلڈز میڈل یافتہ شِنگ ٹُنگ یاؤ نے کہا کہ ’چین میں ریاضی دانوں کی برادری کے لیے یہ ایک ایسا خواب ہے جسے ہم کئی دہائیوں سے حقیقت بنتا دیکھنا چاہتے تھے۔‘

اپنے ساتھی جوش زاہل کے ساتھ وانگ نے اس سوال کا جواب دیا جو جاپانی ریاضی دان سوئچی کاکیا نے 1917 میں اٹھایا تھا: اگر آپ ایک پنسل کو پوری طور پر گھمائیں تو اس سے کم سے کم کتنے رقبے کا دائرہ بنے گا؟

وانگ اور زاہل نے اس مسئلے کا تجزیہ اس مفروضے کے تحت کیا کہ پنسل ایک ہموار سطح کے بجائے تھری ڈائمینشنل فضا میں معلق ہے۔

انھوں نے گذشتہ سال اپنی تحقیق شائع کی۔

وانگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اگر یہ مفروضہ لوگوں کو اتنا متوجہ کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کا مظہر مختلف میدانوں کے مسائل میں فطری طور پر ظاہر ہوتا ہے۔‘

یونیورسٹی آف شکاگو میں ریاضی کے 37 سالہ پروفیسر ڈینگ کو ایک اور صدی پرانے مسئلے کے حل پر اعزاز سے نوازا گیا۔

1900 میں جرمن ریاضی دان ڈیوڈ ہلبرٹ نے وہ سوال اٹھایا جو بعد میں ہلبرٹ کا چھٹا مسئلہ کہلایا: ’ذرات کی انفرادی حرکت کی بنیاد پر ہم پورے نظام کے طرزِ عمل کا تعین کیسے کر سکتے ہیں؟‘

ڈینگ نے گیسوں کے طرزِ عمل کا مطالعہ کر کے یہ مسئلہ حل کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ واقعی ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ میرا نام ان عظیم ریاضی دانوں کی فہرست میں شامل ہوا جن کی میں ہمیشہ سے تعریف کرتا آیا ہوں۔‘

وانگ نے ’ہارمونک تجزیے‘ کے میدان میں کام کیا ہے جس میں لہروں کی حرکت کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

فیلڈز میڈل ہر چار سال بعد 40 برس سے کم عمر نمایاں ریاضی دانوں کو دیا جاتا ہے۔

Mathematicians Yu Deng and Hong Wang are China's first Fields Medal recipients

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفیلڈز میڈل ایک ایسا اعزاز ہے جسے ریاضی میں نوبیل انعام کے مساوی سمجھا جاتا ہے

پیدائش چین میں مگر تربیت بیرونِ ملک

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ہونگ وانگ 1991 میں جنوبی چین کے سیاحتی شہر گویلن میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے پرائمری سکول میں دو جماعتیں چھوڑ کر تیز رفتاری سے تعلیم مکمل کی اور 16 سال کی عمر میں 2007 میں چین کی ممتاز پیکنگ یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کیا۔

ابتدا میں انھوں نے ارضیاتی علوم (ارتھ سائنسز) کو اپنا مضمون منتخب کیا، تاہم ایک سال بعد ہی وہ شعبۂ ریاضی میں منتقل ہو گئیں۔

گریجویشن کے بعد انھوں نے بیرونِ ملک مزید تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے فرانس کی پیرس سوڈ یونیورسٹی اور ایکول پولی ٹیکنیک میں تعلیم پائی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سے ڈاکٹریٹ یعنی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ہونگ وانگ اس وقت نیویارک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں جبکہ فرانس کے انسٹیٹیوٹ دے اوت ایتیود سائنٹیفیک (آئی ایچ ای ایس) میں مستقل پروفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

جمعرات کی شب انھیں فرانس کے صدر ایمانویل میخواں کا فون آیا جنھوں نے انھیں میڈل ملنے پر مبارکباد دی۔

میخواں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’وہ ہماری تحقیق اور تربیت کے اعلیٰ معیار کی نمائندگی کرتی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’سائنس کے لیے فرانس کا انتخاب کریں۔‘

ڈینگ، جنھوں نے پرائمری سکول ہی میں ریاضیاتی مقابلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا، 2007 میں پیکنگ یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ یعنی اسی سال جب وانگ داخل ہوئی تھیں۔ لیکن 2009 میں وہ ایم آئی ٹی منتقل ہو گئے۔

انھوں نے پرنسٹن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور 2024 سے یونیورسٹی آف شکاگو میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔