عائشہ عمر: چھٹیوں کے دوران ساحلِ سمندر پر لی گئی تصاویر کی چوری نے اداکارہ کو کیسے نقصان پہنچایا

پاکستانی اداکارہ عائشہ عمر

،تصویر کا ذریعہMaury Phillips/WireImage via Getty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستانی اداکارہ عائشہ عمر کا کہنا ہے کہ تیراکی کے لباس اور شارٹس میں اُن کی تصاویر آن لائن شیئر ہونے کے بعد اُنھیں کام سے ہاتھ دھونا پڑا
    • مصنف, میگھا موہن اور فے نرس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

صنفی انصاف کی تنظیم ’چَین‘ کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں اور حکام تصاویر کے ذریعے ہونے والے ہراسانی کے معاملات میں رضامندی کے بجائے عریانی پر توجہ دے کر خواتین کو تحفظ دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

اس تنقید کی تائید پاکستانی اداکارہ عائشہ عمر نے بھی کی ہے۔ اس رپورٹ میں عائشہ عمر سمیت دیگر خواتین کے تجربات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں شامل 32 سالہ پاکستانی خاتون ماہ نور (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ ان تصاویر نے ان کی زندگی بدل دی جو عریاں نہیں تھیں۔ بلکہ ان کے مطابق وہ جنسی نوعیت کی بھی نہیں تھیں۔

ان میں صرف ماہ نور کو بغیر آستین کا مغربی لباس پہنے دکھایا گیا تھا۔

ماہ نور نے بی بی سی گلوبل ویمن کو بتایا کہ جب ان کی شادی ختم ہوئی تو وہ اپنے میکے واپس آئیں جہاں ان کا بچپن گزرا تھا۔ انھیں امید تھی کہ ان کا خاندان ان کا ساتھ دے گا۔ تاہم انھیں اور ان کی کم عمر بیٹی کو وہاں سرد رویے کا سامنا رہا۔

ایک سال سے زیادہ ہو چکا ہے اور ان کے والد اور بھائی اب تک ان سے بات نہیں کرتے۔ دفتر میں ان کے ساتھی، جنھیں وہ برسوں سے جانتی ہیں، ان سے نظریں نہیں ملاتے۔

ماہ نور کو معلوم تھا کہ طلاق بھی ان کے لیے مشکل مرحلہ ہو گی۔ ان کی شادی کبھی آسان نہیں رہی۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر، جن سے ان کی شادی طے تھی، ہمیشہ زبانی اور جسمانی بدسلوکی کرتے رہے۔ تاہم ان کی نجی تصاویر کا پھیلایا جانا سب سے بڑی تکلیف بنا۔

بہت سی نوجوان خواتین کی طرح، ماہ نور نے اپنے فون میں اپنی کئی تصاویر محفوظ کر رکھی تھیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ عام زندگی کی تصاویر تھیں، جیسے اچھا کھانا یا اچھی روشنی میں لی گئی سیلفی۔ ان میں بہت سی تصاویر پرانی تھیں۔

ایک تصویر میں وہ بال کٹوانے کے بعد مسکرا رہی تھیں۔ ایک اور میں وہ دوستوں کے ساتھ بیرونِ ملک ایکسچینج پروگرام میں تھیں۔

کچھ عام سیلفیز تھیں، بستر پر لیٹے ہوئے، ہلکا لباس پہنے اور آنکھیں بند کر کے آئی لائنر لگاتے ہوئے۔

ان میں سے کوئی تصویر کبھی عوامی طور پر شیئر نہیں کی گئی تھی۔ وہ کم ہی سوشل میڈیا پر تصاویر ڈالتی تھیں کیونکہ وہ پاکستان میں اپنے معاشرے کی روایات سے واقف تھیں۔

ماہ نور ایک یونیورسٹی میں لیکچرار ہیں۔ ان کے مطابق ان کے سابق شوہر نے ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹ اور نجی تصاویر حاصل کر لیں اور پھر انھیں مرد رشتہ داروں، ساتھیوں اور دیگر جاننے والوں میں پھیلا دیا۔

ماہ نور کا کہنا ہے کہ ان کے سابق شوہر نے ان کی گروپ تصاویر کو کاٹ کر اس طرح پیش کیا جیسے وہ ایک مرد کے ساتھ اکیلی کھڑی ہوں تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ ان کے درمیان تعلق ہے۔

ان کے مطابق ان تصاویر کو انھیں ’خراب کردار کی عورت‘ ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایسا الزام بہت سی برادریوں میں سنگین اور بعض اوقات جان لیوا نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔

رپورٹ کی مصنفہ حرا حسین

،تصویر کا ذریعہEmco Conference 2026

،تصویر کا کیپشناس رپورٹ کی مصنفہ حرا حسین خبردار کرتی ہیں کہ کسی تصویر کے نقصان دہ ہونے کے لیے اس کا عریاں ہونا ضروری نہیں

ماہ نور کے مطابق دوستوں، خاندان اور ساتھیوں کی جانب سے تقریباً کوئی رابطہ نہ ہونے کے باعث ان کی سماجی حیثیت اور وہ مضبوط مقام جو انھیں اپنی برادری میں حاصل تھا اب ختم ہو گیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں اپنی آواز کھو بیٹھی۔ مجھے لگتا ہی نہیں تھا کہ اب میری کوئی پہچان باقی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خاندان میں کبھی میری بہت عزت تھی، میرے بھائی میری عزت کرتے تھے۔ والدین کی جانب سے آپ کی رائے کو اہمیت ملنا بہت بڑی بات ہوتی ہے۔

’پہلے وہ مجھ سے مشورہ لیتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔‘

ماہ نور کے سابق شوہر نے اب دوسری شادی کر لی ہے۔

تصاویر پر مبنی بدسلوکی کیا ہے؟

ماہ نور کی کہانی کو اجاگر کرنے والی یہ رپورٹ ’چین‘ نامی عالمی غیر منافع بخش تنظیم کی ہے جو صنفی بنیاد پر تشدد کا جائزہ لیتی ہے۔

تنظیم کا مؤقف ہے کہ تصاویر پر مبنی بدسلوکی اور ہراسانی کو اکثر حکام اور ٹیکنالوجی کمپنیاں غلط سمجھتی ہیں کیونکہ وہ نقصان کو اب بھی زیادہ تر عریانی کی بنیاد پر دیکھتی ہیں۔

اس رپورٹ کا عنوان ’غیر عریاں تصاویر سے ہونے والا عریاں نقصان‘ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بہت سی خواتین کے لیے مکمل لباس میں لی گئی تصویر بھی ان کے وسیع، اور اکثر قدامت پسند، معاشروں میں اتنے ہی تباہ کن نتائج لا سکتی ہیں جتنی کہ نجی نوعیت کی تصویر۔

رپورٹ کی مصنفہ اور چَین کی بانی حرا حسین کہتی ہیں کہ ’کسی تصویر کا نقصان دہ ہونے کے لیے عریاں ہونا ضروری نہیں۔ بعض اوقات بغیر کسی جسمانی حصہ ظاہر ہوئے بھی یہ اتنی ہی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم تصویر کے ذریعے ہونے والی ہراسانی کے بارے میں گفتگو کو عریانی سے ہٹا کر رضامندی کی طرف منتقل کرنا چاہتے ہیں۔‘

کئی برسوں سے اس موضوع پر عوامی بحث زیادہ تر نام نہاد انتقامی فحش مواد، ڈیپ فیک عریاں تصاویر اور جنسی طور پر واضح مواد پر مرکوز رہی ہے۔ لیکن چَین کی تحقیق کے مطابق یہ اندازہ اس بات کو نظر انداز کرتا ہے کہ بہت سی برادریوں میں شرمندگی، شہرت اور سماجی دباؤ کیسے کام کرتے ہیں۔

ایک ہی تصویر ایک شخص کے لیے عام ہو سکتی ہے لیکن دوسرے کے لیے اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر شادی میں رقص کرتی ایک خاتون کی ویڈیو، ساحل سمندر پر کسی خاتون کی تصویر، یا اجازت کے بغیر شیئر کی گئی ایک سیلفی۔

ثقافتی حساسیت

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقصان کا تعین اکثر اس بات سے نہیں ہوتا کہ تصویر میں کیا ہے بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ اسے کیوں شیئر کیا گیا، کس کو بھیجا گیا اور اس کے بعد کیا نتائج برآمد ہوئے۔

چَین نے جولائی 2025 سے فروری 2026 کے درمیان 64 انٹرویوز کیے اور اس میں شامل افراد پاکستان کے ساتھ ساتھ برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات اور کویت میں موجود تارکینِ وطن کمیونٹیز سے تعلق رکھتے تھے۔

اس تحقیق میں ان تصاویر کی اقسام درج کی گئی ہیں جن کے شیئر ہونے سے خواتین کو خدشہ ہوتا ہے جس میں بغیر دوپٹے کے نظر آنے والے بال، مغربی یا چست لباس، کسی نامحرم مرد کے ساتھ کھڑی خاتون کی تصویر، جعلی یا من گھڑت گفتگو کا سکرین شاٹ، یا کسی ایک تصویر سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی شبیہ۔

ان میں سے کسی میں بھی عریانی شامل نہیں مگر سب کو نقصان دہ کہانی بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی اداکارہ اور ماڈل عائشہ عمر کے لیے یہ معاملہ محض نظریاتی نہیں۔

پاکستان کی فلم اور ٹی وی انڈسٹری میں 20 سال سے زائد عرصے سے کام کرنے والی اداکارہ عائشہ عمر کہتی ہیں کہ ان کی اپنی تصاویر سوشل میڈیا کے عام ہونے سے بہت پہلے ہی چوری کر کے پھیلائی گئی تھیں۔

عائشہ کے مطابق ایک دہائی سے زیادہ پہلے تھائی لینڈ میں ایک خاتون دوست کے ساتھ چھٹیوں کے دوران لی گئی تصاویر، جن میں وہ ساحل پر ون پیس سوئمنگ سوٹ اور شارٹس پہنے ہوئے تھیں، ان کی لاعلمی میں لیپ ٹاپ سے لے کر آن لائن پوسٹ کر دی گئی تھیں۔

عائشہ کہتی ہیں کہ ’اس سے میرے کیریئر کو بہت نقصان پہنچا۔ میں نے اشتہارات کی آفر کھو دیں۔ کچھ کام بھی چھن گیا۔‘

ایک لمحے کے لیے رک کر انھوں نے مزید کہا کہ ’کیونکہ ہمارے معاشرے میں آپ کو ایک خاص انداز کے مطابق رہنا ہوتا ہے، چاہے آپ کسی برانڈ کی نمائندگی کر رہے ہوں یا ٹی وی پر کوئی کردار ادا کر رہے ہوں۔ اس لیے اس نے مجھے ذہنی اور جذباتی طور پر بہت متاثر کیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس تجربے کے بعد وہ ’حد سے زیادہ محتاط‘ ہو گئی ہیں اور ہر وقت اردگرد اس بات پر نظر رکھتی ہیں کہ کہیں کوئی ان کی ویڈیو تو نہیں بنا رہا۔

،ویڈیو کیپشنعائشہ عمر کہتی ہیں کہ کئی ٹیک کمپنیاں مختلف معاشروں کی حساسیت کو نہیں سمجھتیں

حرا حسین کے مطابق تصویر کے ذریعے ہونے والی ہراسانی کے حوالے سے معاشرہ غلط سوالات پوچھ رہا ہے۔

چَین کا فریم ورک تین نکات پر مبنی ہے کہ متاثرہ فرد کو پہنچنے والا نقصان، تصویر شیئر کرنے کے پیچھے نیت اور رضامندی کا نہ ہونا۔

وہ کہتی ہیں کہ ماہ نور کے معاملے میں یہ تینوں عناصر موجود ہیں۔

یہی بات اداکارہ عائشہ عمر پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ اس نقصان کے نتائج ہوتے ہیں مثلاً رشتوں کا ختم ہونا اور آمدنی میں کمی۔

حرا حسین کہتی ہیں کہ ’اصل اصول احترام، وقار اور رضامندی ہے۔ یہی چیزیں اہم ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق یہی اصول ہیں جن پر ٹیکنالوجی کمپنیاں اور قوانین پر عمل درآمد کرنے والے نظام عمل نہیں کرتے۔

جب ماہ نور نے اپنا معاملہ پاکستان کی فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (جو اب نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے طور پر کام کر رہی ہے) کے سامنے رکھا تو انھیں بتایا گیا کہ یہ تصاویر ان کے دائرہ کار میں نہیں آتیں کیونکہ وہ عریاں یا جنسی نوعیت کی نہیں تھیں۔

بی بی سی کی جانب سے دیکھی گئی ان کی تحریری شکایت بھی انھی وجوہات کی بنیاد پر مسترد کر دی گئی۔

ماہ نور کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے اپنے موبائل نیٹ ورک کی کمپنی سے رابطہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ جب تک وہ اس سم کو پیش نہ کریں جو اس اکاؤنٹ سے منسلک تھی، کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

اور وہ سم ان کے سابق شوہر لے گئے تھے۔

بی بی سی گلوبل ویمن نے پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ماہ نور کا کہنا ہے کہ انھوں نے تصاویر کے بارے میں واٹس ایپ کے کسٹمر کمپلینٹس ای میل کے پتے پر بھی اطلاع دی۔

ماہ نور کے مطابق انھیں بتایا گیا کہ یہ مواد پلیٹ فارم کے قواعد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ چونکہ ان کے پاس اب وہ ای میل موجود نہیں، اس لیے اس بات کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی کہ جواب میں کیا کہا گیا تھا۔

واٹس ایپ نے ماہ نور کے کیس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ تاہم ایک ترجمان نے بی بی سی کو پلیٹ فارم کی ہدایات کی طرف رہنمائی کی جن میں بتایا گیا ہے کہ ’کیا چیز قابلِ اجازت ہے اور کیا نہیں۔‘

ان ہدایات میں تصویر کے ذریعے ہونے والی ہراسانی سے متعلق کوئی مخصوص پالیسی نہیں دی گئی ہے تاہم کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ ’بدسلوکی کرنے والے افراد‘ کے خلاف کارروائی کرتا ہے تاکہ ’دوسروں کے خلاف نقصان دہ رویے‘ کو روکا جا سکے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ’اپنے صارفین یا دیگر فریقین کے اعمال یا معلومات (بشمول مواد) کو کنٹرول کرنے کے پابند نہیں‘ ہیں۔

واٹس ایپ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن استعمال کرتا ہے اس لیے وہ لوگوں کی بھیجی گئی تصاویر کو پہلے سے دیکھ نہیں سکتا۔

جنسی نوعیت اور عریاں تصاویر کے معاملے میں میٹا کا کہنا ہے کہ ’ہم فیس بک، انسٹاگرام، میسنجر اور تھریڈز کو محفوظ پلیٹ فارم بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہم ایسا مواد ہٹا دیتے ہیں جو افراد کی جسمانی سلامتی کے لیے نقصان کا خطرہ پیدا کر سکتا ہو۔‘

’نظام کی ناکامی‘

A group picture of 12 women smiling at the camera. The woman on the far left has a pushchair with a baby in it.

،تصویر کا ذریعہHera Hussain

،تصویر کا کیپشنچین کی ٹیم چاہتی ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں رپورٹ کی جانے والی تصاویر کے جائزے کا طریقہ کار تبدیل کریں

لیکن حرا حسین کو خدشہ ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس حساسیت کو سمجھ نہیں رہیں جہاں رپورٹ کی گئی تصاویر کا جائزہ اکثر سب سے پہلے ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام سے لیا جاتا ہے جو زیادہ تر عریانی کی شناخت کے لیے تربیت کیا گیا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق یہ طے کرنا کہیں زیادہ پیچیدہ ہے کہ کون سی تصویر مسئلہ بن سکتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ کسی صارف کو اپنی شکایت کسی ادارے تک پہنچانے کے لیے مسلسل کوشش کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق یہ بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ انسانی نگرانی ناکافی ہے کیونکہ کمپنیاں کم لاگت والے خودکار نظاموں پر زیادہ انحصار کر رہی ہیں۔

مثال کے طور پر امریکی سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کو دی گئی معلومات میں سنیپ چیٹ کے چیف ایگزیکٹو نے بتایا کہ ان کی اعتماد اور تحفظ کی ٹیم میں کمی کی گئی جو 2021 میں تین ہزار سے کچھ زیادہ تھی اور 2023 میں کم ہو کر تقریباً 2226 رہ گئی، یعنی 27 فیصد کمی۔

حرا حسین کے مطابق مہم چلانے والے افراد چاہتے ہیں کہ اس طریقہ کار کو بدل دیا جائے۔

ان کے مطابق موجودہ نظام میں پلیٹ فارمز پہلے تحقیق کرتے ہیں اور پھر مواد ہٹاتے ہیں جبکہ پہلے مواد کو 24 گھنٹوں کے لیے ہٹا دینا چاہیے اور بعد میں اس کی جانچ کی جائے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس سے آپ کا کیا چلا جائے گا۔‘

اپنے انٹرویو میں حسین 2017 کے ایک واقعے کا حوالہ دیتی ہیں جہاں پاکستان میں تین بہنوں کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب شادی میں ان کے گانے اور تالیاں بجانے کی ویڈیو شیئر کی گئی۔

اس کے بعد عدالت نے ان کے تین مرد رشتہ داروں کو عمر قید کی سزا سنائی۔

رپورٹ کرنے کا بوجھ زیادہ تر متاثرہ فرد پر ہی ہوتا ہے، جسے ان تصاویر کو تلاش کرنا، بار بار دیکھنا اور ہر ایک کو الگ الگ جمع کرانا پڑتا ہے، جبکہ بڑی تعداد میں نقول ہٹانے کا کوئی آسان طریقہ موجود نہیں۔

حرا حسین کہتی ہیں کہ ’آپ بار بار اس تکلیف سے گزرتے ہیں، اور پھر بھی ممکن ہے آپ کو کوئی جواب نہ ملے۔‘

رپورٹ کے مطابق یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ نقصان صرف تصویر میں موجود خاتون تک محدود نہیں رہتا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جب کوئی تصویر لیک ہوتی ہے تو اس کے اثرات پورے خاندان پر پڑتے ہیں۔

باپ کام پر جانے سے کترانے لگتے ہیں، بہنوں کی شادیاں متاثر ہوتی ہیں اور گھرانوں کو ’تحقیر کے ساتھ‘ دیکھا جاتا ہے۔ عزت اجتماعی ہوتی ہے، اور اجتماعی شرمندگی کا خوف خود ایک کنٹرول کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

ماہ نور کے لیے اس کی قیمت ان لوگوں کی صورت میں سامنے آئی ہے جو اب ان سے بات نہیں کرتے۔ ان کی ساڑھے تین سالہ بیٹی نے بھی محسوس کرنا شروع کر دیا ہے کہ ساتھ رہنے والے رشتہ دار اس کی ماں کو سلام نہیں کرتے۔

وہ تصاویر جنھوں نے ان کی آواز چھین لی، کسی بھی پلیٹ فارم کی تعریف کے مطابق نقصان دہ نہیں تھیں۔

کچھ ممالک میں تصاویر کو شیئر کرنا رازداری کے مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ فرانس میں طویل عرصے سے ’اپنی تصویر کا حق‘ تسلیم کیا جاتا ہے۔

اس کے سول کوڈ کے آرٹیکل 9 کے تحت ہر شخص، چاہے عوامی شخصیت ہو یا عام شہری، کو اپنی تصویر کے استعمال پر خصوصی حق حاصل ہے، البتہ خبروں اور حقیقی عوامی مفاد کے معاملات اس سے مستثنیٰ ہو سکتے ہیں۔ تاہم چھٹیوں پر موجود کسی وزیر کو بھی رازداری کا حق حاصل رہتا ہے۔

متحدہ عرب امارات اس سے بھی آگے ہے، جہاں عوامی مقامات پر بھی کسی کی اجازت کے بغیر اس کی تصویر لینا جرم ہے اور اس میں عوامی مفاد کی کوئی وسیع رعایت شامل نہیں۔

حرا حسین کے مطابق ’تصویر کے ذریعے ہونے والی ہراسانی صرف عریاں تصاویر سے کہیں زیادہ وسیع ہے اور اس معاملے میں ’نظامی ناکامی‘ پائی جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ پولیس، عدالتیں اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز ’متاثرہ افراد کی مدد میں بہت بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں‘، اور یہ بھی کہ ’اگر آپ اس قسم کی ہراسانی کا سامنا کر رہے ہیں تو جان لیں کہ یہ آپ کی غلطی نہیں، آپ اکیلے نہیں ہیں، اور چَین جیسی تنظیمیں آپ کی مدد کے لیے موجود ہیں۔‘