لاہور پولیس کی تحویل میں نند اور بھابھی کی موت کا معمہ اور عدالتی تحقیقات کا آغاز: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہSaqlain
- مصنف, احتشام شامی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں پولیس حراست میں دو خواتین کی موت کا معمہ تاحال حل نہیں ہو سکا ہے جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے اِس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ساڑھے 17 سالہ آمنہ اور 22 سالہ انمول کو چار اگست کو چوری اور دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت درج ایک مقدمے میں گرفتار کر کے لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ لایا گیا تھا، جہاں پولیس کے مطابق ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی دونوں خواتین کی طبعیت خراب ہوئی، جس پر انھیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں اُن کی موت ہو گئی۔
اہلخانہ اور پولیس کے مطابق آمنہ اور انمول کا آپس میں نند اور بھابھی کا رشتہ تھا۔
لاہور پولیس کے ایک افسر نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج لاہور کے احکامات کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے اس معاملے کی انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ پولیس تحویل میں کسی بھی ملزم یا جیل میں قیدی کی ہلاکت پر جوڈیشل مجسٹریٹ عدالتی تحقیقات کرتا ہے جس کی رپورٹ 30 روز کے اندر جاری کی جاتی ہے۔
پولیس افسر کے بقول اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ، جوڈیشل انکوائری یا پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی رپورٹس میں پولیس تشدد کا معاملہ ثابت ہوا تو ذمہ داران کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اُدھر پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما حسن مرتضیٰ نے بھی اس واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کو لاہورمیں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اِس سے قبل لاہور کے ایک تھانے میں ذہنی طور پر معذور لڑکی کے ساتھ مبینہ ریپ کے الزامات سامنے آئے تھے اور اب پولیس کی تحویل میں دو لڑکیوں کی ہلاکت نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اہلخانہ کا الزام ہے کہ خواتین کی موت پولیس تشدد کی وجہ سے ہوئی جبکہ لاہور پولیس اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کرتی ہے کہ دونوں خواتین منشیات کی عادی تھیں اور اُن کی موت نشے کی زیادہ مقدار میں استعمال کے باعث ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اہلخانہ نے پولیس کے منشیات کے استعمال سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی بچیاں محنت مزدوری کر کے روزی کماتی تھیں۔
چار اگست کو ٹاؤن شپ میں کیا ہوا تھا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
چار اگست کو لاہور کے تھانہ ٹائون شپ میں دونوں خواتین کے خلاف ایک شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔
اِس ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 379 اور 420 لگائی گئی تھیں۔ دفعہ 379 چوری پر جبکہ دفعہ 420 دھوکہ دہی و فراڈ کے الزامات پر لگائی جاتی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی مقدمہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ’دو خواتین جو کہ گلی میں بھیک مانگ رہی تھیں، ہمارے گھر میں داخل ہو گئیں اور پانی مانگا۔ میری بہن نے اُن کو پانی دیا تو انھوں نے کہا کہ ہم دم بھی کرتی ہیں۔‘
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’دونوں خواتین نے دھوکہ دہی سے میری بہن کی سونے کی بالیاں اور پانچ ہزار روپے ہتھیا لیے، اور اسی دوران جب میں گھر پہنچا تو ان دونوں خواتین نے سونے کی بالیاں تو واپس کر دیں، لیکن پیسے واپس نہیں کر رہی تھیں۔ انھوں نے محلے میں واویلا شروع کر دیا اور اپنے کپڑے پھاڑ لیے۔‘
مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ریسکیو 15 پر کال کی تو پولیس پہنچ گئی۔ ہم نے دونوں خواتین کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ بعد میں پکڑے جانے پر اُنھوں نے اپنے نام آمنہ اور انمول بتائے۔‘
دونوں خواتین آپس میں نند اور بھابھی بھی تھیں۔
اہلخانہ اور پولیس کے دعوے اور الزامات
ہلاک ہونے والی خاتون انمول کے شوہر ثقلین (جو ہلاک ہونے والی دوسری خاتون آمنہ کے بھائی بھی ہیں) کا الزام ہے کہ اُن کی اہلیہ اور بہن پر دورانِ حراست مبینہ طور پر تشدد کیا گیا۔
ثقلین کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اپنی اہلیہ کی میت دیکھی، جس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور چہرے اور کمر پر تشدد کے نشانات تھے۔
ثقلین کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے اُن کی اہلیہ اور بہن پر نشہ استعمال کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے، جو کہ سراسر غلط ہے۔ ’وہ گھروں اور مارکیٹوں میں جا کر پینسلیں وغیرہ بیچتی تھیں، انھوں نے کبھی سپاری بھی نہیں کھائی۔ اُن کے خلاف پہلے کبھی کوئی مقدمہ نہیں بنا۔‘
اس سے قبل ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے دعویٰ کیا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں خواتین منشیات کی عادی تھیں اور خدشہ ہے کہ اُن موت نشے کے زیادہ مقدار میں استعمال کی وجہ سے ہوئی۔
گذشتہ ہفتے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز نے پولیس حراست میں اِن خواتین پر مبینہ تشدد یا بدسلوکی کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔
انمول کے والد اور آمنہ کے خالو تجمل حسین نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ’جب گرفتاری کے بعد میری بیوی اور گھر کی دیگر خواتین لڑکیوں سے ملنے کے لیے تھانے گئیں تو پولیس اہلکاروں نے ہمیں غلط ایف آئی آر پکڑا دی اور کہا کہ ہم نے لڑکیوں کو جیل بھجوا دیا ہے، آپ کل کچہری جا کر ضمانت کروا لیں۔‘
اُن کے بقول یہ ایف آئی آر کسی موٹرسائیکل سوار لڑکے کے خلاف سونے کی چین چھیننے کے الزام میں درج تھی جس میں کسی خاتون ملزمہ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
تجمل کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں پانچ اگست کو رات آٹھ بجے پولیس کی طرف سے دوبارہ کال آئی کہ آپ کی خواتین کی طبیعت خراب ہو گئی تھی، جس پر ہم انھیں ہسپتال لے کر گئے جہاں اُن کی موت ہو گئی۔‘
تجمل حسین کہتے ہیں کہ ’ہم غریب لوگ ہیں، پولیس کے خلاف زیادہ دیر لڑ نہیں سکتے۔ لیکن ہم اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں انصاف دلوایا جائے۔‘
آمنہ کی والدہ اور انمول کی ساس زینب بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خانہ بدوش لوگ ہیں اور جھگیوں میں رہتے ہیں۔ ’گھر کے تمام افراد محنت مزدوری کرتے ہیں جس سے مشکل سے گزر بسر ہوتی ہے۔‘
زینب بی بی کے مطابق ’پولیس نے جب ہمیں جناح ہسپتال لاہور بلایا تو میں نے اور میری بہن نے ہسپتال پہنچ کر دونوں لڑکیوں کی شناخت کی تھی۔‘
زینب بی بی کا دعویٰ ہے کہ ان کی بچیاں زخمی تھیں اور جسم پر موجود کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ اُن کے مطابق کپڑوں کے پھٹے ہونے سے متعلق جب پولیس اہلکاروں سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ انھیں اُن محلے والوں نے مارا ہے جہاں یہ واردات کر رہی تھیں۔
زینب بی بی کا کہنا ہے کہ انھوں نے وہ ویڈیو فوٹیج دیکھی ہے کہ جب ان کی بچیوں کو تھانے میں لے جایا گیا۔ ’ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ جب وہ تھانے میں تھیں تو صحیح سلامت تھیں اور اُن کے کپڑے بھی پھٹے ہوئے نہیں تھے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کی بچیوں نے نشہ نہیں کر رکھا تھا کیونکہ اگر وہ نشے میں ہوتیں تو پولیس اہلکار (محرر) سے اُس طرح بات نہ کرتیں جیسا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آ رہا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ خواتین کے دوران واردات پکڑے جانے سے لے کر تھانے میں موجودگی تک کی ویڈیوز اکٹھی کر لی گئی ہیں۔ اُن کے مطابق خواتین کی پولیس کے ڈیوٹی آفیسر سے دورانِ حراست کیا گفتگو ہوئی، اس کی ریکارڈنگ بھی حاصل کر لی ہے۔
اس کیس کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ خواتین کو چوری اور فراڈ کے الزام میں شہریوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا، جن کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں تفتیش کے لیے انویسٹیگیشن ونگ کے سپرد کیا گیا تھا۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ خواتین مقدمات میں ریکارڈ یافتہ تھیں اور اُن کے خلاف گجرات اور لاہور میں پہلے بھی دھوکہ دہی کے مقدمات درج ہیں۔
انھوں نے کہا کہ انمول اور آمنہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں انویسٹیگیشن ونگ کے سپرد کر دیا گیا تھا اورمزید قانونی کارروائی کے لیے دونوں خواتین کو ویمن پولیس سٹیشن منتقل کیا جانا تھا جب اُن کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، انھیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ بچ نہیں سکیں۔
پولیس کے مطابق مرنے والی دونوں خواتین ملزمان کی موت کی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کروایا گیا ہے جس کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔
اہلخانہ کے مطابق ہلاک ہونے والی دونوں خواتین کی پنجاب کے ضلع پاکپتن کے نواحی علاقے میں تدفین کر دی گئی ہے اور اُن کے مطابق اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود رہی تھی۔



















