مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55، 55 روپے کا اضافہ

پاکستان، پیٹرول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

پاکستان کے وزیرِ پیٹرولیئم علی پرویز ملک نے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55، 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا جا رہا ہے جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گا۔

اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہم غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں۔ جو آگ ہمارے پڑوس میں شروع ہوئی تھی، اس نے پورے خطے کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔‘

ملک میں اب پیٹرول کی نئی قیمت 321.17 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 335.86 روپے فی لیٹر ہے۔

تاہم وزیر پیٹرولیئم کا کہنا تھا کہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ عالمی سطح پر قیمتیں جیسی ہی کم ہوتی ہیں تو یہ اضافہ واپس لے لیا جائے گا۔ ان کے مطابق پیٹرولیئم مصنوعات پر عائد کردہ لیوی میں رد و بدل کے ساتھ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اگرچہ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ ملک میں 28 روز کا ذخیرہ موجود ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں معلوم نہیں کہ یہ بحران کب تک جاری رہے گا۔۔۔ ہم سب کو ریاست، حکومت اور قوم کے طور پر ذمہ داری سے چلنا ہو گا۔ اپنے ذخائر کو جتنا زیادہ چلا سکیں، اس کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔‘

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران تہران نے خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنایا ہے جس کے بعد تیل کی سپلائی کے لیے اہم سمجھی جانے والی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز پر کئی آئل ٹینکر رُکے ہوئے ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں توانائی کی اکثر مصنوعات آبنائے ہرمز کے ذریعے پہنچتی ہیں مگر سعودی عرب کی جانب سے متبادل راستوں کے ذریعے تین آئل ٹینکر بھجوائے جا رہے ہیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن، مزید کیا اقدامات زیرِ غور؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستانی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں۔

شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ جو بھی پیٹرول پمپ مصنوعی قلت میں ملوث ہو، اس کو فوراً بند کیا جائے اور اس کا لائسنس منسوخ کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔

جبکہ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ توانائی کی کھپت میں کمی کے لیے دیگر اقدامات بھی زیرِ غور ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے پلان ترتیب دیا گیا ہے جس میں حکومت اپنے اجلاس محدود کرے گی، سرکاری سفری ضروریات کم کرے گی اور ورک فرام ہوم کی سہولت کا سہارا لیا جائے گا۔

اس حوالے سے ان کے بقول یہ آپشنز بھی زیرِ غور ہے کہ تعلیمی اداروں اور دفاتر میں ہفتے کے تین یا چار روز ورک فرام ہوم کی ہدایت دی جائے اور سرکاری میٹنگز کو آن لائن منتقل کیا جائے۔

انھوں نے تیل کی کھپت میں کمی کے لیے عالمی وبا کووڈ کی مثال دی مگر کہا کہ معیشت کو بند نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ صوبوں کے ساتھ اجلاس میں بھی یہی زیرِ غور آئے گا کہ ذخیرہ اندوزوں اور سمگلروں کے خلاف کارروائی کی جائے، طلب میں کمی اور سپلائی میں بہتری لائی جائے۔

جمعے کی شب نیوز کانفرنس کے دوران پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ توانائی کی مصنوعات کا پاکستانی معیشت سے براہ راست تعلق ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اس کے مہنگائی، غیر ملکی زرمبادلہ سمیت دیگر چیزوں پر کیا اثرات ہوں گے۔ ’امید کوئی حکمت عملی نہیں۔ حکومت کو مل کر تیاری کرنی ہو گی اور لوڈ مینجمنٹ ضروری ہے۔‘

اس موقع پر پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے وزرائے خارجہ اور سربراہان سے رابطے میں ہیں اور اپنی پوزیشن پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کوشش ہے کہ تناؤ میں کمی لائی جائے اور جنگ کی صورتحال پر قابو پایا جائے۔‘

پیٹرول سٹیشنز پر بڑھتی قطاریں

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رُکن یاسر گلزار کہتے ہیں کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیز معمول کے مطابق پیٹرول پمپس کو تیل کا کوٹہ فراہم کر رہی ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اگر ایک پیٹرول پمپ کی یومیہ کھپت پانچ ہزار لیٹر ہے تو آئل کمپنیز اسی لحاظ سے کوٹہ دے رہی ہیں تاہم جب مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے تو پھر لوگ افراتفری میں اپنی ضرورت سے زیادہ پیٹرول یا ڈیزل ڈلواتے ہیں۔

’جو موٹر سائیکل والا 100 روپے کا پیٹرول ڈلواتا ہے، وہ 500 روپے کا ڈلوا رہا ہے جبکہ گاڑی والے بھی ٹینک فل کروا رہے ہیں لیکن بُرائی پیٹرول پمپس والوں پر آ رہی ہے کہ وہ پیٹرول نہیں دے رہے۔‘

یاسر گلزار کہتے ہیں کہ کوئی بھی پیٹرول پمپ مالک جان بوجھ کر تیل ذخیرہ نہیں کرتا کیونکہ اگر وہ اپنے صارف کو تیل دینے سے انکار کرتا ہے تو اس سے اس کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔

یاسر گلزار کے بقول عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور امکان ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں 70 سے 80 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 40 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ مہنگائی میں کتنا اضافہ ہو گا۔

اُن کے بقول اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو پھر اُسے چاہیے کہ جب تک مشرق وسطی میں بحران جاری ہے، اُس وقت تک پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی عوام سے وصول نہ کرے جو 60 سے 70 روپے فی لیٹر وصول کی جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان میں تیل اور گیس کی فراہمی متاثر

آبنائے ہرمز وہ آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا میں ترسیل ہونے والے خام تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی صورتحال کے باعث دنیا کے کئی ممالک کو تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے اور پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی بھی اسی خطے میں ہے۔ سعودی عرب کی ملکیت میں چلنے والی آرامکو آئل کمپنی کو پیر کے روز عارضی طور پر اپنی سب سے بڑی ریفائنری بند کرنا پڑی۔ ریفائنری پر ہونے والے ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں آرامکو کی چند تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

سعودی عرب کے پڑوس میں واقع قطر دنیا کو گیس سپلائی کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ اس کے گیس سپلائی کرنے کے ٹینکرز بھی اس وقت رُکے ہوئے ہیں جبکہ قطر اپنے ملک میں موجود امریکی اڈے کی طرف آنے والے ایرانی میزائلوں کو روکنے میں مصروف ہے۔

پاکستان سعودی عرب کی آرامکو سے تیل اور قطر سے گیس خریدتا ہے اور اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ تر ان ہی دو ممالک پر انحصار کرتا ہے۔

پاکستان، ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فرحان محمود ایک نجی بروکریج فرم شرمین سکیورٹیز میں توانائی کے شعبے کے تجزیہ کار ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایندھن کے حالیہ ذخائر واقعتاً وافر مقدار میں موجود ہیں۔

تاہم ان کے خیال میں اگر جنگ طول پکڑتی ہے اور آبنائے ہرمز سے تجارت بند رہتی ہے تو اپریل کے مہینے سے پاکستان کے لیے توانائی کی سپلائی کے مسائل آ سکتے ہیں۔

اس کی وجہ، فرحان محمود کہتے ہیں، یہ ہے کہ پاکستان کا زیادہ تر تیل اور گیس سعودی عرب اور قطر سے آتا ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ آبنائے ہرمز کے راستے ہی گزر کر آتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا 70 فیصد سے زیادہ خام تیل اور باقی پیٹرولیم مصنوعات سعودی عرب سے آتی ہیں، جبکہ کچھ حصہ کویت اور ابو ظہبی سے بھی آتا ہے۔

فرحان محمود کا کہنا مشرق وسطی میں حالیہ صورتحال کے پیش نظر وہاں کی کمپنیاں فی الحال نئے آرڈرز نہیں لے رہی ہیں۔

فرحان سمجھتے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے کے لیے تجارت کے لیے بند رہتی ہے تو لگ بھگ ایک ماہ بعد پاکستان کی خاص طور پر تیل کی رسد متاثر ہونے کے خطرات موجود ہیں۔

پاکستان میں ایندھن کے ذخائر کی حالیہ صورتحال

پاکستان کی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو آنے والے دنوں میں کسی قسم کی تیل اور گیس کی قلت کا سامنا نہیں۔

ایک بیان میں انھوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں ایندھن کے ذخائر مضبوط ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی 28 دن کی سپلائی سٹاک میں موجود ہے۔ یہ سپلائی ریزرو یا اضافی سپلائی کی لازمی سطح سے زیادہ ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ عام طور پر اضافی سپلائی کی سطح 21 دن کی ہوتی ہے مگر پاکستان میں 28 روز کا سٹاک موجود ہے۔ ’اس لیے عوام کو گھبرانے کی ضرورت بالکل نہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے پاس گیس یعنی لیکیویفائیڈ پٹرولیم گیس کے بھی وافر ذخائر موجود ہیں۔ ’گیس ہمارے پاس مقامی طور پر بھی موجود ہے اور اس کے بھی ہمارے پاس 12 روز کے اضافی ذخائر موجود ہیں۔‘

پاکستان میں توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایل این جی جو پاکستان قطر سے حاصل کرتا ہے وہ آبی راستوں کی بندش کی وجہ سے متاثر ہو سکتی تھی تاہم پاکستان میں اس وقت ایل این جی کی مانگ میں بہت کمی آ چکی ہے۔

’ہم پہلے ہی قطر کو یہ درخواست کر رہے ہیں کہ ایل این جی کے ٹینکرز اب موڑ دیے جائیں یا واپس کر دیے جائیں کیونکہ ہمیں اس وقت اس کی ضرورت نہیں پڑ رہی۔ اب وہ ویسے ہی نہیں آ رہی تو اس کے نہ آنے سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔‘

یوں اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ طول پکڑتی ہے تو پاکستان کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ پٹرول اور ڈیزل وغیرہ کی رسد کو یقینی بنانا ہو گا۔

پاکستان میں تیل و گیس کی صنعت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

متبادل راستوں کی پیچیدگیاں

فرحان محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان اپنی پٹرولیم مصنوعات کا کچھ حصہ حال ہی میں سنگاپور، نائیجیریا اور امریکہ سے بھی منگواتا رہا ہے۔

تاہم اس میں مسئلہ یہ ہے کہ ان متبادل ذرائع سے خام تیل منگوانے سے پاکستان اپنی ضرورت کا محض 20 سے 25 فیصد پورا کر پائے گا ’کیونکہ اس سے زیادہ پاکستان میں موجود ریفائنریز کے پاس صلاحیت نہیں۔‘

فرحان محمود کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ پاکستان امریکہ سے پیٹرولیم پراڈکٹس درآمد کر سکتا ہے تاہم وہ اسے مہنگی پڑیں گی۔ ’اس پر سات سے آٹھ ڈالر تک پریمیئم ادا کرنے پڑے گا اس لیے وہ پاکستان کو مہنگا پڑے گا اور اس کا اثر پاکستان میں صارفین پر پڑے گا۔‘

آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی تجارت بند ہونے کی صورت میں سعودی عرب نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے راستے ایک 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھا رکھی ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے 50 لاکھ یومیہ تیل کی ترسیل کر سکتا ہے۔

فرحان محمود کہتے ہیں کہ ’یہ راستہ بھی زیادہ محفوظ نہیں کیونکہ باب المندب کے گرد بھی کشیدگی موجود ہے اور حوثی جنگجوؤں کے حملوں کا خطرہ رہتا ہے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس متبادل راستے سے تیل کی ترسیل ممکن ہو سکتی ہے تاہم اس سے سپلائی میں یومیہ آٹھ سے دس ملین بیرل کی کمی آئے گی۔

ماضی میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے ساتھ منسلک رہنے والی انرجی ایکسپرٹ عافیہ ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب اس پائپ لائن کے ذریعے ان ممالک کو تیل سپلائی کرتا ہے جن کے ساتھ اس کے خریداری کے باقاعدہ معاہدے ہیں۔

’پاکستان اس راستے سے سعودی عرب سے تیل حاصل کرنے کا انتظام کر سکتا ہے اور اس سے اس کی کچھ حد تک ضروریات پوری ہوں گی۔ ورنہ پھر پاکستان کو اپنے درآمدات کے ذرائع کا دائرہ کار وسیع کرنا پڑے گا۔‘

تیل و گیس کی صنعت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے؟

عافیہ ملک نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال کی وجہ پہلے ہی سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اگر جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو یہ قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی تیل کی ضروریات زیادہ تر درآمدات پر منحصر ہیں۔

’پاکستان کی توانائی کی مصنوعات کی زیادہ تر درآمدت مشرق وسطی ہی سے ہوتی ہیں۔ جب آئل کی قیمتیں بڑھیں گی تو اس کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑے گا اور مقامی طور پر قیمتیں بڑھ جائیں گی۔‘

عافیہ ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس تیل کی زیادہ کھپت یعنی 80 فیصد سے زیادہ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ہوتی ہے۔

اس طرح قیمتیں بڑھنے کا براہ راست اثر پاکستان میں فوڈ سپلائی چین، پروڈکشن چین یعنی صنعتی سرگرمی اور نقل و حمل کے سیکٹرز پر پڑے گا۔

عافیہ ملک کے مطابق ’اس کے نتیجے میں پاکستان میں مہنگائی بڑھے گی۔ پہلے ہی رواں برس فروری سے مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے اشیا کی قیمیتیں مزید اوپر جانا شروع ہو جائیں گی۔