آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بحیرۂ عرب میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کارگو طیارے کا ملبہ مل گیا، عملے کی تلاش جاری
شارجہ سے کراچی کے سفر کے دوران پاکستانی ساحلی حدود میں لاپتہ ہونے والے کارگو طیارے کا ملبہ مل گیا ہے تاہم جہاز میں سوار افراد کی تلاش کا کام ابھی تک جاری ہے۔
بحیرہ عرب میں گذشتہ روز لاپتہ ہونے والے نجی کمپنی کے کارگو طیارے کا ملبہ اورماڑہ کے ساحل سے 53 نوٹیکل میل جنوب سے ملا۔
پاکستان بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی نے سمندر میں 12 گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن میں ملبہ تلاش کیا۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کا کہنا ہے کہ طیارے کے عملے کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ پی اے اے کے مطابق پاکستانی بحریہ اور پی ایم ایس اے کے بحری اور فضائی اثاثے سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق منگل کی شب نو بج کر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارہ تیزی سے نیچے آتا ہوا نظر آیا تھا اور اس کا رُخ اچانک تبدیل ہوتا دیکھا گیا جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
بدھ کو پاکستانی بحریہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ تلاش کے کام میں نیوی سمیت دیگر ادارے حصہ لے رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق بحریہ کا جہاز پی این ایس ذوالفقار، پی این ایس حنین اور اے ٹی آر طیارہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں شامل ہیں۔
جبکہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس ریسکیو آپریشن میں پاکستانی فضائیہ بھی حصہ لے رہی ہے۔
لاپتہ ہونے والا طیارہ بوئنگ 737 ہے اور پاکستان کے شہر کراچی میں قائم ایک نجی فضائی کمپنی کے ٹو ایئرویز کی ملکیت ہے، جس کا کہنا ہے کہ طیارے میں عملے کے پانچ ارکان سوار تھے، جن میں محمد رضوان ادریس (پائلٹ اِن کمانڈ)، فیصل محمود (فرسٹ آفیسر)، محمد توفیق خان (لوڈ ماسٹر)، عارف صدیقی (انجینیئر) اور محمد حامد (انجینیئر) شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طیارے میں سوار فرسٹ آفیسر فیصل محمود کے سسر غلام نبی بھرانی نے بی بی سی سے بات کی۔
انھوں نے بتایا کہ فیصل محمود تقریباً 10 روز قبل شارجہ گئے تھے۔ ’یہ دورہ ایک دن کا تھا لیکن وہاں طیارے میں خرابی پیدا ہو گئی۔‘
غلام نبی بھرانی کے مطابق ان کے داماد نے ’گھر پر بتایا تھا کہ خرابی دور کرنے کے لیے امریکہ سے ایک پرزہ منگوایا گیا، جو تبدیل کیے جانے کے بعد وہ واپس روانہ ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پرزہ آنے کے بعد اسے طیارے میں نصب کیا گیا، پھر طیارے کا معائنہ کیا گیا اور اس کے بعد واپسی کی پرواز روانہ ہوئی۔
غلام نبی بھرانی نے بتایا کہ شارجہ سے طیارے نے پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً شام سات بج کر 10 منٹ پر اڑان بھری تھی۔
غلام نبی بھرانی نے بتایا کہ فیصل محمود نے دو ماہ قبل اس کارگو ایئرلائن میں ملازمت اختیار کی تھی۔ اس سے قبل وہ سیرین ایئر میں ملازمت کرتے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ فیصل کے والد بھی پائلٹ ہیں۔
واقعہ پیش کیسے آیا؟
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اس پرواز نے مقامی وقت کے مطابق منگل کی رات نو بج کر 18 منٹ پر نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی جس کے بعد کراچی ایریا کنٹرول سینٹر (اے سی سی) نے فوری طور پر طیارے کی رہنمائی کی۔
بیان کے مطابق رات نو بج کر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارہ تیزی سے نیچے آتا ہوا نظر آیا اور اس کا رخ اچانک تبدیل ہوتا دیکھا گیا، جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق واقعے کے بعد ریسکیو کوآرڈی نیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا جبکہ لا پتہ طیارے کی تلاش کے لیے مختلف اداروں کے تعاون سے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والی سروس فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اس طیارے نے 28 جون کے بعد کوئی پرواز نہیں کی تھی۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے پاس ایک 737 فریٹر طیارہ ہے جو 2024 میں کراچی پہنچا تھا۔
فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق طیارے کے آخری لمحات غیر معمولی تھے۔ یہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تقریباً 5,000 فٹ نیچے آیا، پھر صرف 30 سیکنڈ میں تقریباً 6,000 فٹ اوپر گیا، جس کے بعد 36,550 فٹ کی بلندی سےغیر معمولی انداز میں نیچے آیا۔
فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق موصول ہونے والے آخری اعداد و شمار کے مطابق طیارہ سطحِ سمندر سے 1,100 فٹ کی بلندی پر تھا اور یہ ایک منٹ میں 22,400 فٹ کی رفتار سے نیچے آ رہا تھا، جو تقریباً 400 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ یہ نیچے آنے کی انتہائی غیر معمولی اور بہت تیز رفتار تھی۔
طیارے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
کے ٹو ایئر ویز پاکستان کے شہر کراچی میں قائم ایک نجی فضائی کمپنی ہے۔
یہ فضائی کمپنی مئی 2018 میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایئرلائن چارٹر لائسنس کے تحت قائم کی گئی تھی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لا پتہ طیارہ بوئنگ 737 کا ایک پرانا ماڈل 737-400 ہے۔ یہ 1999 میں روس کی ایروفلوٹ ایئرلائن کو مسافر طیارے کے طور پر فراہم کیا گیا تھا اور 2012 میں اسے کارگو طیارے میں تبدیل کیا گیا۔
یہ کے ٹو ایئر ویز کا واحد طیارہ ہے اور 2024 میں اس کی سروس میں شامل ہوا تھا۔ یہ 737 میکس طیارے سے دو جنریشن پرانا ہے اور اسے حالیہ برسوں میں حفاظتی مسائل کا سامنا رہا۔
روئٹرز کے مطابق اس طیارے میں سی ایف ایم انٹرنیشنل کے تیار کردہ انجن نصب ہیں، جو جی ای ایرو اسپیس اور فرانس کی سفراں کی مشترکہ ملکیت والی کمپنی ہے۔