دوسری شادی کا راز شوہر کی موت کے بعد کھلے تو جائیداد کیسے تقسیم ہو گی؟

    • مصنف, جنت التنوٰی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

بنگلہ دیش کے رہائشی اظفر حسین کی دو بیویاں تھیں، مگر ان کی پہلی بیوی اور بچوں کو دوسری شادی کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ ان کی وفات کے بعد جب جائیداد کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو یہ انکشاف ہوا کہ ان کی ایک دوسری اہلیہ بھی ہے، جس کے بعد وراثت اور املاک کی تقسیم پر تنازع کھڑا ہو گیا۔

ڈھاکا میں ملازمت کے دوران اظفر حسین نے دھان منڈی کے علاقے میں ایک پانچ منزلہ عمارت تعمیر کرائی تھی۔ محکمہ سڑک و شاہراہات کے اس ریٹائرڈ انجینیئر کی آبائی ضلع میں بھی قابلِ ذکر جائیداد موجود تھی۔ ان کی وفات کے بعد پہلی بیوی اور ان کے بچوں کو نہ صرف ان جائیدادوں بلکہ ڈھاکہ میں موجود دیگر اثاثوں کے بارے میں بھی معلوم ہوا۔

تحقیقات کے دوران خاندان پر یہ بھی واضح ہوا کہ دھان منڈی کی عمارت کے علاوہ اظفر حسین کے نام پر مزید فلیٹس اور پلاٹس بھی موجود تھے۔ دوسری بیوی سے ان کا ایک بیٹا ہے، جبکہ پہلی بیوی کی تین بیٹیاں ہیں اور کوئی بیٹا نہیں۔

سنہ 2022 میں کورونا کے باعث اظفر حسین کی وفات کے بعد ابتدائی طور پر پہلی بیوی اور دیگر ورثا دھان منڈی کی عمارت کی ملکیت کے معاملے پر اختلاف کا شکار ہوئے، کیونکہ سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ پانچ منزلہ عمارت دوسری بیوی کے نام منتقل اور رجسٹرڈ تھی۔

اظفر حسین کی پہلی بیوی سلینا حسین کا کہنا ہے کہ مسلم عائلی قوانین کے مطابق چونکہ ان کا کوئی بیٹا نہیں، اس لیے ان کے شوہر کی جائیداد میں ان کی تینوں بیٹیوں کا حصہ کم ہو جائے گا، کیونکہ دوسری بیوی اور اس کے بیٹے کو بھی وراثت میں حصہ ملے گا۔

یہ ایک مسلم خاندان کی کہانی ہے، تاہم اس سے ایک اہم سوال جنم لیتا ہے۔ اگر کسی شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو اسلام اور دیگر مذاہب کے وراثتی قوانین کے تحت جائیداد کیسے تقسیم کی جاتی ہے؟ شوہر کی جائیداد میں ہر بیوی کا کتنا حصہ بنتا ہے، اور مختلف مذاہب اس حوالے سے کیا اصول طے کرتے ہیں؟

متعدد مسلم بیواؤں کے حقوق

بنگلہ دیش میں مسلم قانون کے مطابق ایک مرد بیک وقت زیادہ سے زیادہ چار بیویاں رکھ سکتا ہے۔ اگر وہ اس حد سے تجاوز کرتے ہوئے پانچویں شادی کرے تو یہ شادی ناجائز نہیں سمجھی جائے گی، تاہم اسے فاسد نکاح یا قانونی بے ضابطگی پر مبنی شادی قرار دیا جاتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق کسی شخص کی زندگی میں اس کی جائیداد کے وارث یا حقدار متعین نہیں ہوتے۔ جب تک وہ زندہ ہے، اپنی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا مکمل مالک ہوتا ہے اور اسے فروخت، ہبہ یا اپنی مرضی کے مطابق منتقل کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

وراثت کا حق صرف اس شخص کی وفات کے بعد پیدا ہوتا ہے، جب اس کی چھوڑی ہوئی جائیداد قانونی ورثا میں تقسیم کی جاتی ہے۔

سپریم کورٹ کے وکیل اُجول بھومک کے مطابق مسلم مرد کی بیویوں کی تعداد شوہر کی جائیداد میں ان کے حصے کے تعین پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وراثت کی تقسیم کئی عوامل پر منحصر ہوتی ہے، جن میں بیویوں کی تعداد، اولاد کا ہونا یا نہ ہونا، بچوں کی تعداد، اور یہ کہ اولاد میں بیٹے ہیں یا صرف بیٹیاں، شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ خاتون عام طور پر اس کی وارث نہیں رہتی۔ تاہم اگر ان کے ہاں اولاد موجود ہو تو وہ بچے اپنے والد کی جائیداد میں قانونی وراثت کے حقدار ہوں گے۔

طلاق یافتہ بیوی کو جائیداد میں حصہ نہیں ملتا، البتہ اگر حق مہر یا نان و نفقہ واجب الادا ہو تو وہ ان قانونی حقوق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

اگر بچے ہوں تو شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ کیا ہو گا؟

بنگلہ دیش میں ہندو وراثتی قانون کے تحت عموماً دایا بھاگ نظام رائج ہے۔ وکیل اُجل بھومک کے مطابق تاریخی طور پر ہندو قانون میں خواتین، خصوصاً بیویوں، کے وراثتی حقوق محدود رہے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہندو مرد کے لیے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر واضح قانونی پابندی نہیں، تاہم پہلی بیوی کی موجودگی میں کی جانے والی بعد کی شادیوں اور ان سے وابستہ وراثتی حقوق کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

اُجل بھومک کے مطابق اگر کوئی ہندو مرد اپنی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرے تو قانونی طور پر صرف پہلی بیوی کو ہی زوجہ کی حیثیت حاصل ہوگی۔ دوسری بیوی کو قانونی بیوی تسلیم نہیں کیا جائے گا، اس لیے وہ نان نفقہ یا وراثت سمیت ازدواجی حقوق کا دعویٰ نہیں کر سکے گی۔

ان کے بقول، پہلی شادی برقرار ہونے کی صورت میں دوسری شادی قانونی طور پر جائز نہیں سمجھی جاتی۔ ایسی شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کو بھی باپ کی جائیداد میں وراثت کا حق نہیں ملتا، البتہ وہ نان نفقہ کے حق دار ہو سکتے ہیں۔

اُجل بھومک کا مزید کہنا ہے کہ دوسری شادی کرنے والا ہندو مرد فوجداری کارروائی کا سامنا بھی کر سکتا ہے اور بنگلہ دیش کے تعزیراتی قانون کی دفعہ 494 کے تحت دو شادیوں (بائی گیمی) کے جرم میں اس کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

ہندو قانون کے مطابق شوہر کی زندگی میں بیوی کو اس کی جائیداد پر ملکیتی حق حاصل نہیں ہوتا، البتہ وہ اس کے استعمال اور منافع سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کو ایک بیٹے کے برابر حصے پر زندگی بھر تصرف اور استعمال کا حق حاصل ہوتا ہے، تاہم اسے اس جائیداد کی مکمل ملکیت حاصل نہیں ہوتی یعنی وہ زندگی بھر اس جائیداد سے فائدہ اٹھا سکتی ہے، لیکن اسے فروخت، منتقل یا کسی کے نام نہیں کر سکتی، حتیٰ کہ اپنے بچوں کے نام بھی نہیں۔

البتہ بعض قانونی اور ناگزیر ضرورتوں، جیسے شوہر کی آخری رسومات، قرضوں کی ادائیگی، اپنی کفالت یا بچوں کی تعلیم، علاج اور پرورش کے اخراجات کے لیے بیوہ کو جائیداد فروخت کرنے کا اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق بیوہ کی وفات کے بعد یہ جائیداد دوبارہ مرحوم شوہر کے ورثا کو منتقل ہو جاتی ہے۔ ہندو قانون میں اس تصور کو ’وڈوز سٹیٹ‘ کہا جاتا ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت کمار کرمکار اس معاملے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو ہر بیوی کو ایک بیٹے کے برابر حصہ تاحیات حقِ استعمال کے طور پر ملنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کے دس بیٹے ہوں تو ہر بیٹے کو جتنا حصہ ملے گا، اتنا ہی حصہ بیوہ کو بھی حاصل ہوگا، تاہم یہ مکمل ملکیتی حق نہیں بلکہ صرف زندگی بھر جائیداد سے استفادہ کرنے کا حق ہوگا۔

مسیحیت اور بدھ مت میں اس بارے میں کیا کہا گیا ہے؟

مسیحی مذہب میں ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کے قومی انسائیکلوپیڈیا بنگلاپیڈیا کے مطابق اگر کسی مقامی مسیحی کا شوہر یا بیوی حیات ہو تو وہ کسی دوسرے مقامی مسیحی سے شادی نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت کمار کرمکار کے مطابق مسیحی قانون دوسری شادی کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ چرچ ایسی شادی کی منظوری نہیں دیتا۔

البتہ کسی مسیحی خاتون کے شوہر کی وفات کی صورت میں اسے متوفی شوہر کی جائیداد میں وراثتی حصہ ملتا ہے۔ پرشانت کمار کرمکار کے مطابق بیوہ کو ایک بیٹے کے برابر حصہ دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب وکلا اُجل بھومک اور پرشانت کمار کرمکار کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں بدھ مت کے پیروکاروں کے خاندانی اور وراثتی معاملات عموماً ہندو قانون کے تحت نمٹائے جاتے ہیں۔

اسی وجہ سے ایک بدھ مرد ایک سے زیادہ شادیاں کر سکتا ہے، تاہم وراثت کے معاملے میں صرف پہلی بیوی کو قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے، جبکہ بعد کی بیویوں کو جائیداد میں حصہ نہیں ملتا۔