آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خاتون ٹیچر پر 16 سالہ طالبعلم کے جنسی استحصال کا جرم ثابت: ’مجھے لگتا تھا کہ وہ میری فکر کرتی ہیں‘
- مصنف, جو سکرکاؤسکی، کلوئی ہارکومب اور فیونا لیمڈن
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
برطانیہ میں ایک سابق خاتون ٹیچر کو 16 سالہ طالب علم کے جنسی استحصال کے جرم میں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔
30 سالہ سابق فزیکل ایجیوکیشن کی ٹیچر برونوِن جیمز پہلے ہی دو نوعمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی جرائم کے نو الزامات کا اعتراف کر چکی ہیں۔ ان میں سے ایک طالبہ ساؤتھمپٹن کے بٹرن پارک سکول اور دوسری چپنہم کے ہارڈنہوئش سکول کی طالبہ تھی۔
ونچسٹر کراؤن کورٹ نے ولٹ شائر کے علاقے چپنہم کی رہائشی جیمز کو بٹرن پارک سکول کے ایک 16 سالہ طالب علم کا جنسی استحصال کرنے کے تین الزامات میں بھی قصوروار قرار دیا ہے۔
مقدمے کے دوران استغاثہ کا کہنا تھا کہ جیمز توجہ حاصل کرنے کی خواہش رکھتی تھیں اور انھوں نے بطور استاد خود پر کیے گئے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔
جیوری نے 11 کے مقابلے میں ایک ووٹ کی اکثریت سے انھیں بچے کے جنسی استحصال کے تین الزامات میں قصوروار قرار دیا، جبکہ ایک الزام سے بری کر دیا۔
مقدمے پر عائد قانونی پابندیوں کے باعث میڈیا جیمز کی جانب سے جنوری میں دو طالبات سے متعلق جرائم کے اعتراف کی رپورٹنگ نہیں کر سکا تھا۔ جیوری کو بھی ان اعترافات کے بارے میں فیصلہ سنانے کے بعد بتایا گیا۔
فیصلہ سنائے جانے کے وقت جیمز نے کسی قسم کے جذبات کا اظہار نہیں کیا اور جیوری کے کمرہ عدالت سے جانے تک سر جھکائے کھڑی رہیں۔
جج نے انھیں اپنا پاسپورٹ حکام کے حوالے کرنے کی ہدایت کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جیمز کو سوموار کو سزا سنائے جانے سے پہلے جیل منتقل کیا جائے گا اور تب الیکٹرانک ٹیگ کے ذریعے ان کی نگرانی کی جائے گی۔
پانچ روزہ چلنے والی مقدمے کی سماعت دوران استغاثہ نے کہا کہ جیمز نے طالب علم کے ساتھ ’چھیڑ چھاڑ پر مبنی‘ تعلق قائم کیا تھا۔ دونوں کے درمیان سنیپ چیٹ پر رابطہ ہوتا تھا اور بعد میں دونوں کئی مرتبہ جیمز کے گھر پر ملے۔
جیوری کو بتایا گیا کہ جیمز نے نوعمر طالبعلم سے کہا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتی ہیں اور اس کے ساتھ کہیں اور منتقل ہونا چاہتی ہیں۔
گواہی کے دوران نوعمر طالب علم کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا تھا کہ وہ میری فکر کرتی ہیں۔‘
’اس وقت مجھے یہ بہت اچھا لگتا تھا، شاید کسی بھی نوعمر لڑکے کا خواب، لیکن اب میرا خیال ہے کہ یہ غلط تھا۔ لیکن اُس وقت میں اس طرح نہیں سوچ رہا تھا۔‘
جیمز نے ان تمام الزامات کی تردید کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ طالب علم نے محض توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ باتیں گھڑی ہیں۔
’میں ہمیشہ انھیں مس کہہ کر پکارتا تھا‘
جیوری کے سامنے گواہی دیتے ہوئے طالبعلم نے بتایا کہ ’میں ہمیشہ انھیں ’مس‘ کہہ کر پکارتا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کیوں، شاید یہ ان کی کوئی چھوٹی سی فینٹسی تھی یا کچھ اور۔‘
جیوری کو بتایا گیا کہ مدعی نے پولیس کو بتایا تھا کہ جیمز کلاس کے دوران طلبہ کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت دیتی تھیں اور سبق کے دوران انھیں خفیہ طور پر ویپ بھی دیتی تھیں۔
انھوں نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ خاتون ٹیچر نے جنسی تعلقات کے لیے ان کی ذہن سازی کی۔
طالبعلم کے مطابق ٹیچر کی جانب سے سنیپ چیٹ پر دوستی کی درخواست قبول کرنے کے بعد دونوں کے درمیان ’رومانوی نوعیت‘ پیغامات کا تبادلہ شروع ہوا۔
گذشتہ ہفتے سماعت کے دوران استغاثہ کے وکیل ایڈورڈ کلور کے مطابق، اس کے بعد جیمز اسے ساؤتھمپٹن کے علاقے ویسٹن شور لے گئیں، جہاں انھوں نے گاڑی پارک کی اور اپنی کار میں اسے بوسہ دیا۔
استغاثہ کا الزام ہے کہ اس کے بعد جیمز طالب علم کو اپنے گھر لے گئیں، جہاں ان کے درمیان جنسی تعلق قائم ہوا۔ استغاثہ کے مطابق ایسا تین یا چار مرتبہ ہوا۔
اپنے ابتدائی بیان میں کلور نے کہا کہ ’ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ جاری تھا۔ دونوں ٹی وی دیکھ رہے تھے، پھر ایک دوسرے کو بوسہ دیا اور ایک دوسرے کو چھونا شروع کیا۔‘
استغاثہ کے مطابق دو نوعمر طالبات سے متعلق نو جرائم میں چھ الزامات بچوں کے ساتھ جنسی سرگرمی، دو الزامات جنسی نوعیت کی رابطہ کاری اور ایک الزام بچوں کی نازیبا تصاویر بنانے سے متعلق تھا۔
سینیئر پراسیکیوٹر بیتھنی ایڈمز کا کہنا ہے کہ ’برونوِن جیمز کو بچوں کی تعلیم اور حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، لیکن اس کے بجائے انھوں نے اس اعتماد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تین طلبہ کا جنسی استحصال کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جیمز نے اپنے متاثرین کو منظم انداز میں نشانہ بنایا، اپنے اختیارات کا فائدہ اٹھایا اور اپنے رویے کو معمول کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔
بیتھنی ایڈمز کے مطابق’ اسے محض فیصلہ کرنے میں غلطی نہیں کہہ سکتے بلکہ ان کی نگرانی میں موجود بچوں کے خلاف طویل عرصے تک جاری رہنے والا ایک منظم اور شکاری طرزِ عمل تھا۔‘