پشاور: دو خواتین کے مبینہ گینگ ریپ کے الزام میں گرفتار چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، پشاور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان میں صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ طور پر گھر میں گھس کر دو خواتین کا گینگ ریپ کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے چار ملزمان جمعرات کی شب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

پشاور پولیس کا دعویٰ ہے کہ بدھ کو گرفتار کیے گئے چار ملزمان کو جمعرات کی شب کرائم سین کی نشاندہی کے لیے جایا جا رہا تھا جب نامعلوم ملزمان نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر فائرنگ کی جس سے چاروں ملزمان ہلاک ہو گئے۔

پولیس کے مطابق اس موقع پر موجود پولیس اہلکار محفوظ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پشاور کے تھانہ رحمان بابا کی حدود میں مبینہ گینگ ریپ کا یہ واقعہ چھ ستمبر کی شب پیش آیا تھا۔ اس کیس کی ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اِن ملزمان نے مبینہ طور پر اُن کے گھر زبردستی داخل ہو کر اُن کی دو بیویوں کو باری باری مبینہ ریپ کا نشانہ بنایا جبکہ اُن کی ایک کمسن بیٹی کے ساتھ نازیبا حرکات کی اور فرار ہو گئے۔

مقدمے کے اندراج کے اگلے روز پشاور پولیس نے چاروں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس نے ہلاک ہونے والے چار ملزمان کی شناخت عامر، جلال عرف راجہ، چچے اور امداس کے ناموں سے کی ہے۔

ملزمان کی ہلاکت کیسے ہوئی؟

ملزمان کی ہلاکت کا واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پشاور کے مضافات میں پیش آیا ہے۔

پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر محمد سمیع ملک نے بی بی سی اُردو کو بتایا ہے کہ جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا وہ تھانہ رحمان بابا کی حدود میں ہی واقع ہے۔

ڈاکٹر محمد سمیع کے مطابق چاروں ملزمان کو گینگ ریپ کے واقعے کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا اور جمعرات کے روز انھیں عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے اُن کا ایک روز کا جسمانی ریمانڈ دیا تھا۔

اُنھوں نے مزید بتایا کہ عدالت میں پیش کرنے کے بعد ملزمان کا میڈیکل معائنہ کیا گیا اور یہ کارروائی رات کے وقت مکمل ہوئی جس کے بعد ملزمان کو اُس مقام پر لے جایا جا رہا تھا جہاں خواتین کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اسی موقع پر نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر دی جس سے چاروں ملزمان ہلاک ہو گئے۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر محمد سمیع ملک نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے کون تھے، یہ اب تک معلوم نہیں ہو سکا ہے اور اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ فائرنگ کرنے والے ملزمان کے ساتھی تھے یا مخالف اور دشمن، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ایس ایس پی آپریشن پشاور فرحان خان نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران پشاور پولیس کو بتایا تھا کہ انھوں نے یہ واردات منصوبہ بندی کے تحت کی تھی۔

ان کے مطابق ان چار افراد کو گذشتہ رات اسی مقام پر لے جایا جا رہا تھا جہاں یہ منصوبہ بندی کی گئی اور اسی موقع پر اُن پر فائرنگ کر دی گئی۔

فرحان خان کے مطابق پولیس سیف سٹی کیمروں اور دیگر ٹیکنیکل دستیاب وسائل کی مدد فائرنگ کرنے والے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس معاملے پر کیپٹل سٹی پولیس آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس موقع پر ہونے والی ’اندھا دھند فائرنگ‘ سے زیر حراست مبینہ گینگ ریپ کے چاروں ملزمان ہلاک ہوئے تاہم تمام پولیس اہلکار محفوظ رہے۔

پولیس نے اس سے قبل گرفتار ملزمان سے مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے الزام میں گرفتار ملزمان کی پولیس تحویل میں ہوتے ہوئے مشکوک حالات میں ہلاکت کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں تاہم خیبرپختونخوا میں ایسے واقعات زیادہ نہیں ہیں۔

اس سے قبل دسمبر 2025 میں سمیع اللہ نامی شخص، جن کو اپنی ہی بھتیجی کے ریپ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، بھی پولیس تحویل میں ہوتے ہوئے مشکوک انداز میں ہلاک ہوئے تھے۔

مبینہ گینگ ریپ کا واقعہ

کیپٹل سٹی پولیس آفس کے مطابق ملزمان اتوار (چھ ستمبر) کی شب پشاور کے علاقے گڑھی موسم خان میں گھر کی دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے تھے جہاں انھوں نے اسلحے کی نوک پر خواتین کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کی واردات کی تھی۔

اس واقعے کا مقدمہ مختلف دفعات کے تحت درج کیا تھا۔

ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ اور متاثرہ خواتین کے نام ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے بتایا تھا کہ وہ اپنی دو بیویوں اور دو بچوں کے ہمراہ گھر میں سو رہے تھے جب رات ڈھائی بجے کے لگ بھگ پانچ افراد دیوار پھلانگ کر گھر کے اندر داخل ہوئے اور اسلحے کی نوک پر اُن کو اور اُن کی فیملی کو زدو کوب کرنا شروع کر دیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان اپنے آپ کو خفیہ ادارے کے اہلکار ظاہر کر رہے تھے۔ انھوں نے پولیس کو مزید بتایا کہ ملزمان نے انھیں اور اُن کے بچوں کو کمرے میں بند کر کے باندھ دیا پہلے اُن کی بڑی اور چھوٹی بیوی کو کچن اور کمرے میں لے جا کر باری باری ریپ کا نشانہ بنایا۔

مدعی مقدمہ نے ایف آئی آر میں مزید دعویٰ کیا کہ ملزمان نے اُن کی بیٹی، جس کی عمر 10 سال ہے، کے ساتھ بھی نازیبا حرکات کیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان فرار ہوتے وقت موبائل فون اور گھر کو کچھ قیمتی سامان بھی ساتھ لے گئے۔

ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ نے ایک ملزم کا نام ظاہر کیا تھا جبکہ باقیوں کے بارے میں کہا کہ وہ انھیں دیکھ کر شناخت کر سکتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس فرحان خان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ گرفتار ملزمان باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت گھر میں داخل ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اس موقع پر خواتین اور بچے رو رو کر ان سے رحم کی اپیل کرتے رہے تاہم ملزمان نے اُن کی ایک نہ سنی۔

فرحان خان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگین واقعہ ہے کیونکہ پشتون معاشرے میں اس طرح گھر میں گھس کر، اسلحے کے زور پر اجتماعی ریپ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

فرحان خان نے بتایا تھا کہ پولیس نے چار خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر تکنیکی ذرائع اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے چاروں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔