’غلط فہمی کا شکار‘ مظاہرین کی پاکستانی ٹیم کے ہوٹل پہنچ کر ’دروازوں پر دستک‘

،تصویر کا ذریعہPCB
- مصنف, پیٹرک ہیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
ایک طرف جہاں پاکستان کی مردوں کی قومی کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ میں اپنی خراب کارکردگی کی وجہ سے خبروں میں ہے تو وہیں دوسری طرف انگلینڈ میں ہی موجود پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو بھی ایک تنازع کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس کا تعلق ان کی پرفارمنس سے نہیں۔
منگل کے روز جب پاکستان انڈر 19 ٹیم اپنے پہلے ون ڈے سے قبل پورٹسماؤتھ کے میریئٹ ہوٹل پہنچی تو ہوٹل کے باہر لوگ جمع ہو گئے۔
مگر یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے شائقین نہیں تھے جو اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں سے ملاقات کی خواہش لے کر وہاں پہنچے ہوں۔ بلکہ یہ تارکینِ وطن مخالف مظاہرین تھے جو احتجاج کے لیے وہاں پہنچے تھے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر سید نے بی بی سی کو بتایا کہ اجتماع میں سے کچھ افراد ہوٹل کی اس منزل تک پہنچ گئے تھے جہاں نوجوان پاکستانی کھلاڑی مقیم تھے۔ ان کے مطابق بعض دروازوں پر دستک بھی دی گئی تھی۔
بظاہر اس ساری غلط فہمی کی وجہ سوشل میڈیا پر چلنے والی وہ افواہیں تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تارکینِ وطن کا ایک گروہ بس کے ذریعے پورٹسماؤتھ شہر پہنچا ہے جنھیں اس ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے۔
سمیر سید کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد پی سی بی انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ساتھ رابطے میں ہے، جس نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ ٹیم کی سکیورٹی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
اس واقعے کے اگلے روز پاکستان ٹیم نے ارونڈل کیسل کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں انگلینڈ کو 177 رنز سے شکست دی۔

،تصویر کا ذریعہGoogle
منگل کے روز میریئٹ ہوٹل میں کیا ہوا جہاں پاکستانی ٹیم مقیم تھی؟
دائیں بازو کی جماعت ریفارم یو کے سے تعلق رکھنے والے ہیمپشائر کاؤنٹی کے کونسلر جارج میڈگوک کا کہنا ہے کہ منگل کی شام میریئٹ ہوٹل کے باہر تقریباً 30 سے 40 افراد جمع ہوگئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد ان غلط افواہوں کے بعد وہاں جمع ہوئے جن میں کہا گیا تھا کہ تارکینِ وطن کا ایک گروہ بس کے ذریعے وہاں پہنچا ہے۔
فیس بک پر شائع ایک پوسٹ میں انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ہوٹل کی جانب نہ جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل کے عملے نے انھیں ’ثبوت‘ دکھائے کہ وہاں انگلینڈ کے دورے پر آئی پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم ٹھہری ہوئی ہے۔
ہیمپشائر کانسٹیبلری نے تصدیق کی ہے کہ مقامی وقت کے مطابق منگل کی شام پولیس کو اطلاع ملی کہ ہوٹل کے باہر کچھ لوگ جمع ہیں جس پر پولیس اہلکار وہاں پہنچے۔
پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ اہلکاروں نے ان افراد سے بات کی جنھیں ’علاقے میں دیکھی جانے والی ایک بس کے بارے میں تشویش تھی۔‘
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’پولیس اہلکاروں نے مجمعے کو بتایا کہ ان کے خدشات درست نہیں۔‘ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ اس دوران کوئی جرم نہیں ہوا۔
ان کے مطابق تقریباً 30 افراد پر مشتمل ہجوم شام ساڑھے چھ بجے کے قریب وہاں پہنچا تھا جو رات نو بجے سے کچھ پہلے منتشر ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہfacebook/george.madgwick.31
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
فیس بک پر اپنی پوسٹ میں میڈگوک نے لکھا کہ وہ ہوٹل کے مینیجر سے ملے اور ہوٹل انتظامیہ نے انھیں بتایا کہ وہاں پاکستانی کرکٹ ٹیم مقیم ہے۔ ’کرکٹ ٹیم کے کوچ ذاتی طور پر مجھ سے بات کرنے آئے اور میں نے ہوٹل کی جانب سے فراہم کیے گئے ثبوت بھی دیکھے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میڈگوک کا کہنا تھا کہ ’آن لائن کسی شخص نے ایک کوچ سے اترنے والے ایسے افراد کا گروہ دیکھا جو بظاہر غیر ملکی شہری لگ رہے تھے، اور اس کی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی۔ یہ معاملہ وہیں سے شروع ہوا۔
’یہ محض قیاس آرائی تھی، اس کی بنیاد کسی حقیقت یا ثبوت پر نہیں تھی۔
’اس معاملے میں لوگوں نے سنگین غلطی کی ہے، بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں۔‘
فیس بک پوسٹ پر ہونے والی تنقید اور تبصروں کے جواب میں میڈگوک نے اس تاثر کی تردید کی کہ کرکٹرز کی آمد پر ردعمل نسل پرستانہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ ایک شخص نے کوئی مفروضہ قائم کیا اور پھر باقی سب نے بھی اسی مفروضے کو درست مان لیا۔
یہ ہمارے شہر کی اچھی عکاسی نہیں کرتا۔
’میں نہیں چاہتا کہ ہمارے شہر کی پہچان ایسی کسی بات سے ہو۔‘
بعد ازاں فیس بک پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے انھوں نے وضاحت دی کہ ’میرے خیال میں لوگوں کے اس بات پر یقین کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اتفاقاً کرکٹرز نے اسی کمپنی کی بس استعمال کی تھی جسے ہوم آفس نے پورٹسماؤتھ میں تارکینِ وطن کی منتقلی کے لیے بھی استعمال کیا تھا۔‘
’یہ ایک افسوس ناک اتفاق تھا جس نے لوگوں کے خدشات کو جنم دیا۔‘
دو روز قبل سینکڑوں مظاہرین نے ایک ایسی کشتی ساحل پر لائے جانے کے بعد شہر کی سڑکیں بند کر دی تھیں جس پر تقریباً 120 تارکینِ وطن سوار تھے۔
ریفارم یو کے برطانیہ کی ایک دائیں بازو کی سیاسی جماعت ہے، جو امیگریشن میں کمی اور برطانوی قومی شناخت اور روایات کے تحفظ پر زور دیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پی سی بی کا کیا کہنا ہے؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر سید نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منگل کے روز پورٹسماؤتھ میں ایک گروہ کے کچھ افراد نے پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کے کھلاڑیوں کے ہوٹل کمروں کے دروازوں پر رات کے وقت دستک دی۔
سمیر سید کے مطابق انھیں اس صورتِ حال کے متعلق ٹیم مینیجر نے آگاہ کیا تھا۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’چند افراد ہوٹل کی اس منزل تک پہنچ گئے تھے جہاں ٹیم ٹھہری ہوئی تھی۔ انھوں نے ٹیم کے ارکان کے بارے میں پوچھا اور کمروں کے دروازوں پر دستک دی۔ تاہم ٹیم کے کھلاڑیوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور صورتِ حال کو مزید نہیں بڑھنے دیا۔‘
سمیر سید کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے باوجود ٹیم نے اگلے روز اپنا میچ کھیلا۔
تاہم انھوں نے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ہوٹل کے کمروں پر دستک دینے والے افراد نے پاکستان ٹیم کے ارکان سے کیا کہا تھا۔
انھوں نے اسے ایک ’افسوس ناک واقعہ‘ دیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ پی سی بی انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ساتھ رابطے میں ہے، جس نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ ٹیم کی سکیورٹی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس دعوے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہ لوگوں کے ایک گروپ نے ہوٹل کی اُس منزل تک رسائی حاصل کر لی تھی جہاں پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی مقیم تھے، ریفارم کاؤنٹی کونسلر نے کہا کہ ’مجھے اس بارے میں علم نہیں تھا۔ ہوٹل انتظامیہ نے مجھے بتایا تھا کہ مظاہرین باہر ہی رہے تھے اور عمارت کے اندر داخل نہیں ہوئے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہPCB
سمیر سید کا کہنا تھا کہ ’دورے پر آنے والی ٹیم کی حفاظت، سکیورٹی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا پورے کھیل کی ذمہ داری ہے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اس معاملے کو دیکھ رہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ اس نوعیت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آئے گا۔‘
بی بی سی نے پاکستانی انڈر 19 ٹیم کے کوچ شاہد انور سے رابطہ کیا جن کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں تمام کھلاڑی محفوظ رہے اور آئندہ میچز کی تیاریاں جاری ہیں۔ مگر انھوں نے واقعے کے حوالے سے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
بی بی سی کو پتا چلا ہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کی خیریت معلوم کی ہے اور ان کے بقیہ دورے کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہا ہے۔
پورٹسماؤتھ کے میریئٹ ہوٹل نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
’یہ نسل پرستی کا عملی مظاہرہ ہے اور اسے بند ہونا چاہیے‘
پورٹسماؤتھ نارتھ سے تعلق رکھنے والی لیبر پارٹی کی رکنِ پارلیمان امانڈا مارٹن نے میریئٹ ہوٹل کے اس واقعے کو 'شدید تشویش کا باعث' قرار دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ 'یہ قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے کہ غلط معلومات کے باعث ہمارے شہر کا دورہ کرنے آنے والے نوجوان کرکٹرز کو نشانہ بنایا گیا اور انھیں تارکینِ وطن سمجھ لیا گیا۔
’یہ بھی صحیح نہیں کہ ہوٹلوں میں کام کرنے والے عملے کو اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ پورٹسماؤتھ پہنچنے والے تارکینِ وطن کو کارروائی کے لیے ہیمپشائر سے باہر منتقل کر دیا گیا تھا۔
’امیگریشن کے بارے میں جائز بحث ہو سکتی ہے، لیکن اس کی بنیاد حقائق پر ہونی چاہیے، غلط معلومات یا افواہوں پر نہیں۔‘
پورٹسماؤتھ میں نسل پرستی کے خلاف مہم چلانے والی ایک تنظیم 'سٹینڈ اپ ٹو ریس ازم پورٹسماؤتھ' نے اپنے فیسبک پیج پر جاری ایک پوسٹ میں اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جب منگل (آٹھ ستمبر) کو میریئٹ ہوٹل میں چند غیر سفید فام افراد کی موجودگی کی اطلاع ملی تو مقامی نسل پرست عناصر خود کو روک نہ سکے اور یہ افواہ پھیلا دی کہ ہوٹل کے یہ مہمان نئے آنے والے تارکینِ وطن ہیں۔
انھوں نے ریفارم پارٹی کے جارج میڈگوک پر الزام لگایا کہ انھوں نے ہجوم کے نسل پرستانہ ردعمل کی مذمت کرنے کے بجائے اس کے لیے جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ بالآخر ہوٹل کے عملے اور پاکستان انڈر 19 ٹیم کے کوچ کی جانب سے وضاحت کے بعد یہ چھوٹا سا مجمع منتشر ہو گیا۔
انھوں نے میڈگوک پر تنقید کی کہ وہ اپنی ثالثی کی صلاحیتوں پر نوبیل امن انعام کا دعویٰ کرنے سے کچھ ہی پیچھے رہے ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے اگر پورٹسماؤتھ میں غیر سفید فام افراد کے کسی بھی گروہ کو دیکھ کر نسل پرست عناصر ہر بار اس طرح منظم ہونے لگیں تو یہ انتہائی خطرناک بات ہے۔
’یہ نسل پرستی کا عملی مظاہرہ ہے اور اسے بند ہونا چاہیے۔‘



















