القاعدہ رہنما کے ساتھ پینٹ بال اور گِرتے طیارے کا خاکہ: عمر البیومی سے متعلق نئی ویڈیوز میں انکشافات

ہلکے جامنی رنگ کی قمیص پہنے ایک شخص کاغذات سے ڈھکی میز پر بیٹھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSDNY

،تصویر کا کیپشنہلکے جامنی رنگ کی قمیص پہنے ایک شخص کاغذات سے ڈھکی میز پر بیٹھا ہے
    • مصنف, جین میک ملن
    • عہدہ, بی بی سی پینوراما اور ریڈیو 4
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 22 منٹ

بی بی سی کو حاصل ہونے والی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ نائن الیون حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کی جانب سے دائر 10 کھرب کے مقدمے کے مرکزی کردار عمر البیومی کے سعودی حکام سے گہرے روابط تھے۔ ان کے القاعدہ کے مستقبل کے رہنما انور العولقی کے ساتھ بھی تعلقات تھے۔

یہ ویڈیوز، جو 2001 کے حملوں کے فوراً بعد ایف بی آئی کو مل گئی تھیں، عمر البیومی کے گذشتہ 25 برس سے دہرائے جانے والے ان دعوؤں پر سوال اٹھاتی ہیں جن میں وہ خود کے انتہا پسند ہونے یا سعودی انٹیلی جنس سے وابستگی کی مسلسل تردید کرتے رہے ہیں۔

البیومی امریکہ میں اپنے قیام کے دوران خود کو ایک طالب علم قرار دیتے تھے۔ وہ ایک ویڈیو میں انور العولقی کو گلے لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ العولقی بعد میں القاعدہ جزیرہ العرب کے سربراہ بن گئے تھے۔

ایک دوسری ویڈیو میں البیومی اور العولقی کو سان ڈیاگو کے قریب سعودی وزارتِ اسلامی امور کے ایک اہلکار کے ساتھ پینٹ بال کھیلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ ویڈیوز 9/11 متاثرین کے خاندانوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف دائر مقدمے کا حصہ ہیں اور اس سے قبل کبھی عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی تھیں۔

مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سعودی عرب نے حملوں میں معاونت کی تھی اور عمر البیومی نے ان 19 ہائی جیکرز میں سے دو کی مدد کی تھی جنھوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کو نشانہ بنایا، جبکہ ایک چوتھا طیارہ پنسلوینیا میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

حملوں کے چند روز بعد برطانیہ میں میٹروپولیٹن پولیس نے البیومی کو گرفتار کر لیا تھا۔ ان کی ملکیت سے یہ ویڈیوز اور دیگر اہم شواہد برآمد ہوئے تھے۔

برآمد شدہ دستاویزات میں ایک صفحہ شامل تھا جس پر طیارے کی تصویر نما خاکہ کشی کی گئی تھی اور ساتھ ایک ریاضیاتی مساوات لکھی گئی تھی، جو طیارے کی بلندی اور زمین سے نظر آنے والے افق تک کے فاصلے کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتی تھی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اگرچہ ایف بی آئی کے متعدد اہلکاروں کو اس خاکے کی نقول فراہم کی گئی تھیں، لیکن یہ مواد برطانوی تفتیش کاروں کے ساتھ کبھی شیئر نہیں کیا گیا، حالانکہ اسے اس پولیس سٹیشن تک پہنچایا گیا تھا جہاں البیومی زیرِ حراست تھے۔

مزید یہ کہ اس خاکے کو ان بعض ایف بی آئی اہلکاروں سے بھی پوشیدہ رکھا گیا جو خود البیومی کی تحقیقات میں مصروف تھے، اور 9/11 کمیشن کو بھی اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ یہ کمیشن امریکی تاریخ کے سب سے ہولناک دہشت گرد حملے کی آزادانہ تحقیقات کر رہا تھا، جس میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

البیومی پر کبھی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

البتہ وہ اور سعودی حکومت مسلسل اس بات کی تردید کرتے رہے ہیں کہ ان کا 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے کوئی تعلق تھا یا انھیں ان حملوں کے بارے میں پیشگی علم تھا۔ بی بی سی کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر نہ البیومی نے جواب دیا اور نہ ہی سعودی حکومت نے۔ ایف بی آئی نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

سنہ 2018 میں ایک امریکی جج کی جانب سے مقدمے کو آگے بڑھانے کی اجازت ملنے کے بعد عدالت میں ہزاروں دستاویزات، ویڈیوز اور تصاویر جمع کرائی گئیں۔ ان میں سے بہت سا مواد بعد ازاں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے ایک صدارتی حکم کے تحت خفیہ درجہ بندی سے نکال کر عوام کے لیے دستیاب کیا گیا۔

بی بی سی پینوراما اور ریڈیو 4 نے ان دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا اور درجنوں سابق و موجودہ خصوصی ایجنٹس اور تفتیش کاروں سے گفتگو کی۔ اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ عمر البیومی اور 9/11 حملوں میں سعودی عرب کے مبینہ کردار کے حوالے سے ایف بی آئی نے کون سے شواہد جمع کیے تھے، اور یہ بھی کہ ان شواہد کا مکمل اور جامع جائزہ لینے میں تقریباً 25 سال کیوں لگ گئے۔

ایک ایف بی آئی ذریعے کے مطابق طیارے کے خاکے والا صفحہ تجزیے کے لیے ایف بی آئی کے نیویارک دفتر بھیجا گیا تھا۔ تاہم امریکی محکمہ انصاف کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں شواہد کی بنیاد پر البیومی کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوئی تجویز کبھی موصول نہیں ہوئی۔

ان کے بقول ’ہم اس سے کم شواہد پر بھی لوگوں کو سزا دلوا چکے ہیں۔ سان ڈیاگو میں ایف بی آئی کے تفتیش کار بارہا شواہد کی نقول طلب کرتے رہے، لیکن ضبط کیے گئے بیشتر مواد تک انھیں کبھی رسائی نہیں دی گئی۔‘

ایف بی آئی کے سان ڈیاگو اور لاس اینجلس دفاتر کو البیومی کے سعودی حکومتی روابط کے بارے میں براہ راست تحقیقات اور انٹرویو کرنے سے روک دیا گیا۔

نائن الیون کمیشن کے بعض عملے نے اس نتیجے پر اعتراض کیا کہ البیومی کے انتہا پسندوں سے روابط ہونا ’غیر متوقع‘ تھا۔

بعد ازاں رپورٹ میں اس مؤقف کو کمیشن کے بجائے ان تفتیش کاروں سے منسوب کر دیا گیا جو البیومی سے براہ راست ملے تھے۔

القاعدہ رہنما کے ساتھ پینٹ بال

عمر البیومی 1994 میں سعودی عرب سے سان ڈیاگو منتقل ہوئے تھے۔

اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ وہ وہاں انگریزی زبان سیکھنے کے لیے آئے ہیں، لیکن عدالتی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ چند برس بعد وہ عملی طور پر اپنی تعلیم چھوڑ چکے تھے۔

اس دوران وہ اپنا زیادہ تر وقت مذہبی تقریبات اور اجتماعات کے انعقاد میں صرف کرتے رہے۔ وہ اکثر ایک ویڈیو کیمرے کے ساتھ بھی دکھائی دیتے تھے اور مختلف سرگرمیوں کی فلم بندی کرتے رہتے تھے۔

1997 یا 1998 کے اوائل میں البیومی کی بنائی گئی ایک ویڈیو میں بعد میں القاعدہ کے رہنما بننے والے انور العولقی سمیت متعدد افراد پینٹ بال کھیلتے نظر آتے ہیں۔

سان ڈیاگو کے قریب ریکارڈ کی گئی اس ویڈیو میں گروپ کے ارکان فرضی جنگی مشقوں اور نشانہ بازی کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ان میں سے کئی افراد فوجی طرز کا لباس پہنے ہوئے ہیں۔

ویڈیو کے ایک حصے میں چند افراد ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔

گروپ کے ساتھ ایک سعودی شیخ بھی موجود ہیں، جبکہ ایک موقع پر البیومی کو انور العولقی کو ’شیخ انور‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

پینٹ بال کھیل کے دوران لی گئی چار تصویروں پر مشتمل ایک جامع تصویر۔ تصویر دھندلی اور کم معیار کی ہے۔ اوپر بائیں اور نیچے دائیں حصے میں مردوں کے گروہوں کو دکھایا گیا ہے۔ اوپر دائیں حصے میں ایک مرد کے چہرے کا قریبی منظر ہے، جبکہ نیچے بائیں حصے میں ایک مرد کا چہرہ نظر آتا ہے جس نے حفاظتی ماسک پہن رکھا ہے۔ تمام تصاویر میں پینٹ بال سیشن کے مناظر دکھائی دیتے ہیں

،تصویر کا ذریعہSDNY

،تصویر کا کیپشنچار دھندلی تصاویر جن میں پینٹ بال سیشن دکھایا گیا ہے

9/11 حملوں کے بعد ایف بی آئی کی انسدادِ دہشت گردی تحقیقات میں پینٹ بال ایک اہم موضوع بن کر سامنے آیا، اور امریکی محکمۂ انصاف نے متعدد دہشت گردی مقدمات میں اس سے متعلق شواہد بھی پیش کیے۔

دستاویزات کے مطابق عمر البیومی اور انور العولقی 1990 کی دہائی کے اواخر اور 2000 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں کم از کم تین سال تک سان ڈیاگو میں پینٹ بال کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔

9/11 کے بعد ہونے والی تفتیش کے دوران ایف بی آئی کے ایجنٹس کو بتایا گیا کہ بعض شرکا اس سرگرمی میں جہاد کی تیاری یا تربیت کے مقصد سے حصہ لیتے تھے۔

اگرچہ العولقی کی انتہا پسندانہ سرگرمیاں اور خطابات 9/11 کے بعد زیادہ نمایاں ہوئے، لیکن اس ویڈیو کی ریکارڈنگ کے وقت بھی ان کے القاعدہ سے وابستہ افراد کے ساتھ روابط موجود تھے، اور کچھ ہی عرصے بعد وہ ایف بی آئی کی تحقیقات کی زد میں آ گئے تھے۔

العولقی 2011 میں یمن میں سی آئی اے کے ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ پینٹ بال والی ویڈیو سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسے کس نے بنایا یا فلم بند کیا۔

تاہم 2021 میں مقدمے کے دوران دیے گئے بیان میں البیومی نے اصرار کیا تھا کہ وہ کبھی العولقی سے نہیں ملے۔ ان کے اس دعوے سے متصادم ویڈیو ایک سال بعد خفیہ طور پر عدالت میں جمع کرائی گئی، جبکہ رواں سال 4 ستمبر کو اسے عوامی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا۔

ایک اور ویڈیو، جس کے بارے میں پہلے کبھی رپورٹ نہیں کیا گیا تھا، جنوری 1998 کی ہے اور اس میں البیومی کو العولقی سے گلے ملتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ مزید ویڈیوز میں البیومی کی سعودی وزارتِ اسلامی امور کے اہلکاروں اور مختلف مذہبی شخصیات سے متعدد ملاقاتیں بھی ریکارڈ ہیں۔

ویڈیو فوٹیج سے حاصل کیے گئے دو فریموں پر مشتمل مرکب تصویر۔ اس میں دو افراد دکھائی دیتے ہیں، جن میں ایک نے سوٹ پہن رکھا ہے جبکہ دوسرا عربی لباس میں ملبوس ہے۔ اوپر والی تصویر میں دونوں ایک دوسرے کو گلے لگانے کے لیے آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ نیچے والی تصویر میں انہیں گلے ملتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہSDNY

،تصویر کا کیپشندوسری ویڈیو سے حاصل شدہ مناظر میں البیومی اور العولقی ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے دکھائی دیتے ہیں

1993 میں قائم ہونے والی سعودی وزارتِ اسلامی امور کے بارے میں طویل عرصے تک یہ تاثر رہا کہ اس پر ایسے علما کا اثر و رسوخ ہے جو سنی اسلام کی سخت گیر تشریح کے حامی تھے اور اسے دنیا بھر میں فروغ دینے کی کوشش کرتے تھے۔

وزارت نے مختلف ممالک میں مساجد کی تعمیر اور مذہبی سرگرمیوں پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے۔ اس نے اپنے درجنوں اہلکار امریکہ بھی بھیجے، جن میں بعض ایسے مبلغین اور مذہبی مراکز کی نگرانی کرتے تھے جن پر سخت گیر نظریات کی ترویج کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

برمنگھم میں ملنے والا طیارے کا خاکہ

9/11 حملوں کے بعد عمر البیومی ان ابتدائی افراد میں شامل تھے جو ایف بی آئی کی تحقیقات کی زد میں آئے۔ ان کا نام نواف الحزمی اور خالد المحضار کے اپارٹمنٹ کے کرایہ نامے پر موجود تھا۔ یہ دونوں ان پہلے ہائی جیکرز میں شامل تھے جو امریکہ پہنچے تھے اور بعد میں اس گروہ کا حصہ بنے جس نے ایک مسافر طیارہ پینٹاگون سے ٹکرا دیا تھا۔

ایف بی آئی نے البیومی کا سراغ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں لگایا، جہاں وہ 9/11 حملوں سے قبل اپنے خاندان کے ساتھ منتقل ہو چکے تھے۔ 21 ستمبر 2001 کو میٹروپولیٹن پولیس کے انسدادِ دہشت گردی یونٹ نے انھیں گرفتار کر کے لندن کے پیڈنگٹن گرین پولیس اسٹیشن منتقل کیا، جہاں ان سے پوچھ گچھ شروع کی گئی۔

اس وقت برطانوی قانون کے تحت کسی شخص کو فردِ جرم عائد کیے بغیر زیادہ سے زیادہ سات روز تک حراست میں رکھا جا سکتا تھا۔

اگلے روز پولیس نے برمنگھم میں البیومی کی رہائش گاہوں کی تلاشی شروع کی۔ اس کارروائی کے دوران ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات، سیکڑوں تصاویر، سفری دستاویزات، فون کارڈز اور کم از کم 80 ویڈیو ٹیپس قبضے میں لی گئیں۔

برآمد ہونے والے مواد میں ایک زرد رنگ کے نوٹ پیڈ کا صفحہ بھی شامل تھا، جس پر ایک طیارے کا سادہ خاکہ بنا ہوا تھا اور اس کے ساتھ چند ریاضیاتی مساوات درج تھیں۔

ویڈیو سے لیا گیا ایک فریم جس میں برمنگھم میں واقع وسطِ بیسویں صدی کے طرز کا ایک چھوٹا نیم علیحدہ (سیمی ڈیٹیچڈ) گھر دکھائی دیتا ہے۔ گھر کی کھڑکیوں پر جالی دار پردے لگے ہوئے ہیں اور باہر ایک سیٹلائٹ ڈش نصب ہے۔ گھر کے سامنے ایک پولیس وین کھڑی ہے جو مرکزی دروازے کو ڈھانپ رہی ہے، جبکہ عمارت کے ایک جانب دو پولیس اہلکار بازو باندھے کھڑے نظر آتے ہیں
،تصویر کا کیپشنزرد لکیردار کاغذ جس پر ہاتھ سے لکھی گئی مساوات اور طیارے کا ایک سادہ خاکہ موجود ہے

اگلی صبح برمنگھم میں پولیس نے البیومی کی رہائش گاہوں سے ملنے والے شواہد کو جمع کرنے، ان کا اندراج کرنے اور محفوظ کرنے کا عمل شروع کیا۔ برآمد ہونے والے مواد میں ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات، سیکڑوں تصاویر، فضائی سفر کے ٹکٹوں کے حصے، فون کارڈز اور شاپنگ بیگز و ڈبے شامل تھے جن میں کم از کم 80 ویڈیو ٹیپس رکھی ہوئی تھیں۔

تلاشی شروع ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی کچھ دستاویزی شواہد، جنھیں ایف بی آئی کی ہدایت پر انتہائی اہم قرار دیا گیا تھا، براہِ راست پیڈنگٹن گرین پولیس سٹیشن منتقل کر دیے گئے، جہاں ایف بی آئی کا ایک ایجنٹ موجود تھا۔

ان میں ایک ٹیلی فون ڈائری بھی شامل تھی جس میں امریکہ اور سعودی عرب میں تعینات دو درجن سے زیادہ سعودی سرکاری عہدیداروں کے نام اور رابطے درج تھے۔ اس کے علاوہ فلائٹ سمیولیٹر سافٹ ویئر، فضائی سفر سے متعلق ٹکٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد ہوئیں۔

ان شواہد میں ایک زرد رنگ کے نوٹ بک کا صفحہ بھی شامل تھا جس پر ایک طیارے کا خاکہ بنا ہوا تھا۔ ایک پولیس افسر نے اس صفحے کے بارے میں اپنے نوٹ میں لکھا کہ اس میں ’ہاتھ سے لکھی گئی تحریریں اور طیاروں کی بلندی سے متعلق ریاضیاتی حساب کتاب‘ موجود ہے۔

زرد رنگ کے لکیردار کاغذ کا ایک ٹکڑا جس پر بھدی اور غیر مرتب ہاتھ کی لکھائی میں نوٹس درج ہیں۔ کاغذ پر کئی مساوات (ایکویشنز) لکھی ہوئی ہیں اور ایک طیارے کا سادہ سا خاکہ بنا ہوا ہے۔ خاکے میں نقطہ دار محور نما لکیریں h اور d کے نام سے نشان زد ہیں۔ h سے مراد زمین سے طیارے کی بلندی (میل میں) ہے، جبکہ d طیارے سے افق تک کے فاصلے کو ظاہر کرتا ہے

،تصویر کا ذریعہSDNY

،تصویر کا کیپشنالبیومی کے گھر سے برآمد ہونے والے ایک نوٹ میں طیارہ گِرنے سے متعلق خاکہ موجود تھا

اس نوٹ بک کے صفحے کو ایف بی آئی نے 18 سال بعد، عدالتی حکم پر، 9/11 متاثرین کے خاندانوں کی جانب سے دائر مقدمے میں بطور ثبوت عدالت کے حوالے کیا۔ یہ دستاویز 2022 میں پہلی بار عوامی سطح پر سامنے آئی۔

9/11 متاثرین کے خاندانوں کی قانونی ٹیم سے وابستہ جوڈی ویسٹ بروک فلاورز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ حادثے سے متعلق ریاضیاتی حساب کتاب ہے۔ جب ہم نے سمجھا کہ یہ دراصل کیا ہے تو ہمیں احساس ہوا کہ یہی وہ فیصلہ کن ثبوت ہے جس کی ہم برسوں سے تلاش کر رہے تھے۔‘

ان کے مطابق عمر البیومی کے ہاتھ سے لکھی گئی اس مساوات میں اس اونچائی اور فاصلے کا حساب درج ہے جس کی مدد سے ایک پائلٹ طیارے کو زمین پر موجود کسی مخصوص ہدف کی طرف لے جا سکتا ہے۔ صفحے پر اس کے ساتھ طیارے کا ایک سادہ سا خاکہ اور چند اعداد بھی درج ہیں۔

گذشتہ سال مقدمے کی سماعت کرنے والے وفاقی جج نے قرار دیا تھا کہ بظاہر یہ نوٹ بک صفحہ ’البیومی کو 11 ستمبر کے حملوں سے متعلق معلومات یا پیشگی علم سے جوڑتا ہے۔‘

تاہم 2021 میں عدالت میں بیان دیتے ہوئے البیومی نے کہا تھا کہ ان کے پاس یہ خاکہ صرف اس لیے موجود تھا کیونکہ انھیں ریاضیاتی مساواتوں اور فارمولوں میں دلچسپی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ یاد نہیں کر سکتے کہ یہ نوٹ انھوں نے کب لکھا تھا۔

جوڈی ویسٹ بروک فلاورز، جن کے سنہری بال کندھوں تک ہیں، گہرے رنگ کی جیکٹ اور ٹاپ پہنے جنوبی کیرولائنا کے شہر چارلسٹن میں واقع اپنے قانونی دفتر میں گفتگو کر رہی ہیں۔ ان کے پیچھے دھندلے پس منظر میں شیلفوں پر فریم شدہ اسناد اور تصاویر دکھائی دیتی ہیں
،تصویر کا کیپشن9/11 متاثرین کے اہلِ خانہ کی قانونی ٹیم کی رکن جوڈی ویسٹ بروک فلاورز کا کہنا ہے کہ طیارے کا یہ خاکہ ’وہ فیصلہ کن ثبوت تھا جس کی ہم تلاش کر رہے تھے‘

22 ستمبر 2001 کی شام تک طیارے کے خاکے کی نقول لندن پہنچ چکی تھیں اور ایف بی آئی اور برطانیہ کی انسدادِ دہشت گردی پولیس دونوں کے پاس موجود تھیں۔ یہ نقول اس حراستی مرکز سے چند میٹر کے فاصلے پر تھیں جہاں عمر البیومی سے پوچھ گچھ جاری تھی۔ ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ اگلے دو روز میں یہ دستاویز کم از کم مزید تین ایف بی آئی اہلکاروں کے پاس بھی پہنچی۔

تاہم یہیں سے اس معاملے میں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے۔ اگرچہ ایف بی آئی نے میٹروپولیٹن پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ بعض دیگر انتہائی اہم شواہد کے بارے میں البیومی سے سوالات کرے، لیکن حراستی مرکز میں موجود تفتیش کاروں کو نہ تو یہ طیارے والا خاکہ فراہم کیا گیا اور نہ ہی اس کے وجود کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

ایف بی آئی کے متعدد سابق اور موجودہ اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ 11 ستمبر کے حملوں کے فوراً بعد ادارہ غیر معمولی دباؤ میں کام کر رہا تھا اور ملک بھر میں ہنگامی نوعیت کی تحقیقات شب و روز جاری تھیں۔

اس کے باوجود یہ سوال برقرار ہے کہ اتنی اہمیت رکھنے والا ایک ممکنہ ثبوت، ایسے وقت میں جب تحقیقات انتہائی تیزی سے آگے بڑھائی جا رہی تھیں، ان تفتیش کاروں تک کیوں نہیں پہنچ سکا جو البیومی سے براہِ راست پوچھ گچھ کر رہے تھے۔

ایف بی آئی نے اس معاملے پر بی بی سی کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کیا۔ میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ جاری قانونی کارروائی کے باعث وہ اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتی۔

شاپنگ بیگز میں محفوظ بڑی تعداد میں ویڈیو ٹیپس

طیارے کے خاکے کو پیڈنگٹن گرین منتقل کیے جانے کے فوراً بعد، البیومی کی تمام ویڈیو ٹیپس، جن میں پینٹ بال کی فوٹیج بھی شامل تھی، نقلیں تیار کرنے کے لیے برمنگھم سے نیو سکاٹ لینڈ یارڈ بھیج دی گئیں۔

24 ستمبر تک، پیڈنگٹن گرین کے حراستی مرکز، جو نیو سکاٹ لینڈ یارڈ سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر واقع تھا، کو ان ویڈیوز تک رسائی حاصل ہو چکی تھی۔ تفتیش کار تھیلوں میں بھر کر یہ ویڈیو ٹیپس اس کمرے میں لے گئے جہاں البیومی سے پوچھ گچھ جاری تھی، اور فوٹیج کا کچھ حصہ اسے دکھایا بھی گیا۔

اس سے دو ویڈیو ٹیپس کے بارے میں سوالات کیے گئے جن میں ایک اجتماع کی ریکارڈنگ موجود تھی۔ تاہم برطانوی تفتیش کاروں کو ایف بی آئی کی جانب سے نہ تو پینٹ بال کی ویڈیو کے بارے میں پوچھ گچھ کی ہدایت دی گئی اور نہ ہی انور العولقی کے ساتھ البیومی کے تعلقات کے بارے میں سوال کرنے کو کہا گیا۔

البیومی پر فردِ جرم عائد کرنے یا اسے رہا کرنے کی قانونی مدت ختم ہونے سے ایک روز قبل، میٹروپولیٹن پولیس کے تفتیش کاروں نے ایف بی آئی اور امریکی محکمۂ انصاف کے کئی سینیئر حکام کے ساتھ ایک کانفرنس کال میں شرکت کی۔

پینوراما اور بی بی سی ریڈیو 4 نے اس کانفرنس کال میں شریک دو افراد سے بات کی۔ ان میں سے ایک کے مطابق برطانوی تفتیش کاروں نے اس موقع پر ایسے شواہد پیش کیے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ البیومی کی امریکہ حوالگی اور وہاں مقدمہ چلانے کے لیے درکار قانونی معیار پر پورا اترتے ہیں۔

تاہم امریکی محکمۂ انصاف کے حکام کا موقف تھا کہ دستیاب شواہد اس مقصد کے لیے کافی نہیں، اس لیے البیومی کی حوالگی کی کوئی درخواست نہیں دی جائے گی۔

چنانچہ 28 ستمبر 2001 کو البیومی کو رہا کر دیا گیا۔

تاہم اس وقت تک ایف بی آئی برمنگھم سے ضبط کیے گئے تمام شواہد امریکہ منتقل نہیں کر سکی تھی، اور نہ ہی ان کا مکمل تجزیہ کیا گیا تھا۔

البیومی کی رہائی کے تقریباً دو ہفتے بعد لندن میں ایف بی آئی کے قانونی اتاشی کی جانب سے بھیجی گئی ایک یادداشت میں کہا گیا تھا کہ ’اب بھی متعدد ویڈیوز، فلاپی ڈسکس اور دستاویزات ایسی ہیں جن کا جائزہ لیا جانا باقی ہے۔‘

’ہم اس سے کم ثبوتوں پر بھی لوگوں کو مجرم ثابت کر چکے ہیں‘

عمر البیومی کی رہائی کے بعد بھی تفتیش کار ان کے خلاف جمع کیے گئے شواہد کا تجزیہ کرتے رہے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ طیارے کے خاکے والا صفحہ تجزیے کے لیے لندن سے بذریعہ کورئیر ایف بی آئی کے نیویارک فیلڈ آفس بھیجا گیا تھا، جو مجموعی طور پر 11 ستمبر کے حملوں کی تحقیقات کی نگرانی کر رہا تھا۔

تاہم بی بی سی اس تجزیے یا اس کے نتائج سے متعلق کوئی ریکارڈ تلاش نہیں کر سکا۔ سنہ 2021 میں ایک صدارتی حکم نامے کے تحت ایف بی آئی کو 9/11 کی تحقیقات، بشمول البیومی سے متعلق فائلوں، کو خفیہ درجے سے نکالنے کا پابند بنایا گیا تھا۔

اس کے باوجود جاری کی گئی دستاویزات میں ایف بی آئی نے اس خاکے کا حوالہ دینے والی صرف ایک دستاویز فراہم کی، حالانکہ اس کی ممکنہ شہادت اہم سمجھی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ دستاویز بھی 2001 میں خاکہ ملنے کے 11 سال بعد تیار کی گئی تھی۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ خاکہ گویا ریکارڈ کے کسی ’بلیک ہول‘ میں گم ہو گیا تھا۔

اسے سان ڈیاگو بھی نہیں بھیجا گیا، جہاں البیومی امریکہ میں مقیم رہے تھے اور جہاں ایف بی آئی کا مقامی دفتر بھی ان کے بارے میں تحقیقات کر رہا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ سان ڈیاگو میں، جہاں ایف بی آئی کے اہلکار البیومی کے ساتھیوں سے پوچھ گچھ کر رہے تھے، ان کی زیرِ استعمال مسجد کی تلاشی لے رہے تھے اور ان کے ٹیلی فون ریکارڈز اور بینک سٹیٹمنٹس کا جائزہ لے رہے تھے، برمنگھم میں میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے ضبط کیے گئے شواہد کے بڑے ذخیرے کا تقریباً کچھ بھی حصہ نہیں پہنچا تھا۔

سان ڈیاگو میں ایف بی آئی کی تحقیقات کی سربراہی کرنے والے رک لیمبرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے دفتر نے بارہا نیویارک سے تمام شواہد کی نقول فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’ان کا مؤقف یہ تھا کہ کیس ہمارے پاس ہے، اور جب ہم تجزیہ مکمل کر لیں گے تو مواد آپ کو بھیج دیں گے۔‘

لیمبرٹ کے مطابق نیویارک دفتر نے ان کی درخواستوں پر عمل نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ اگر ہمیں یہ شواہد مل جاتے اور ہم ان کا تجزیہ کرتے تو شاید ہم اس معمہ کے ٹکڑوں کو کہیں زیادہ تیزی سے جوڑ سکتے تھے۔‘

دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بالآخر 2002 کے موسمِ بہار میں سان ڈیاگو دفتر چند ویڈیوز کی نقول حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن وہ بھی نیویارک سے نہیں بلکہ لندن میں ایف بی آئی کے رابطہ دفتر کے ذریعے حاصل کی گئیں۔

پینٹ بال کی ویڈیو کا معاملہ بھی طیارے کے خاکے کی طرح کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ایف بی آئی کے ایک سابق اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ویڈیو ٹیپ کی ایک نقل نیویارک میں قائم ایف بی آئی کے دفتر بھیجی گئی تھی، جہاں اس کا جائزہ لیا گیا۔ تاہم بعد ازاں البیومی کے مبینہ انتہا پسندانہ روابط سے متعلق تیار کیے گئے خلاصوں اور تجزیاتی رپورٹس میں اس ویڈیو کا کوئی ذکر شامل نہیں کیا گیا۔

بی بی سی کی جانب سے دیکھی گئی 2002 کی ایف بی آئی اور امریکی محکمۂ انصاف کی داخلی یادداشتوں میں برمنگھم میں البیومی کے گھروں سے ضبط کیے گئے مواد کا حوالہ موجود ہے۔ ان دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ یہ مواد ممکنہ طور پر ’عمر البیومی کے امریکہ مخالف خیالات اور عقائد کی عکاسی کرتا ہے‘ اور اس میں البیومی کی ایسی تحریریں بھی شامل ہیں جنھیں ’جہادی نظریات کے اظہار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘

تاہم ان یادداشتوں میں نہ تو پینٹ بال کی ویڈیو کا کوئی ذکر ملتا ہے اور نہ ہی انور العولقی کے ساتھ البیومی کے تعلقات کا، حالانکہ بعد میں سامنے آنے والی ویڈیوز دونوں کے درمیان روابط کی نشاندہی کرتی ہیں۔

جیفری برین ہولٹ، جن کے سر کے اطراف کے بال سفید ہو رہے ہیں اور ان کی نوکیلی داڑھی بھی سفید مائل ہے، گہرے نیلے سوٹ اور ہلکے نیلے رنگ کی کھلی گردن والی قمیص میں ملبوس، کرسی پر قدرے پیچھے جھک کر انٹرویو دیتے ہوئے
،تصویر کا کیپشنجیفری برین ہولٹ نے، جو 9/11 کے مقدمات کے استغاثہ کی نگرانی کرتے تھے، کہا کہ البیومی اُن افراد میں شامل تھا جن کے خلاف فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان خاصا مضبوط سمجھا جاتا تھا

9/11 حملوں کے بعد دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی نگرانی کرنے والے امریکی محکمۂ انصاف کے اُس وقت کے انسدادِ دہشت گردی کے نائب ڈائریکٹر جیفری برین ہولٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ عمر البیومی ان افراد میں شامل تھے جن کے خلاف فردِ جرم عائد کیے جانے کے مضبوط امکانات موجود تھے۔

تاہم ان کے بقول نیویارک میں موجود وفاقی پراسیکیوٹرز نے منظوری کے لیے کبھی البیومی کے خلاف کوئی مجوزہ فردِ جرم ان کے دفتر نہیں بھیجی۔

برین ہولٹ کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کیا جاتا تو برمنگھم سے برآمد ہونے والا طیارے کا خاکہ البیومی کے خلاف ایک اہم ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم اس سے کم شواہد پر بھی لوگوں کو سزا دلوا چکے ہیں۔‘

ان کے مطابق پینٹ بال سیشن کی ویڈیو بھی ’انتہائی اہم ثبوت‘ تھی، جبکہ اس میں شدت پسند مبلغ انور العولقی کی موجودگی ’غیر معمولی اہمیت‘ رکھتی تھی۔

برین ہولٹ نے کہا کہ ’ایک ایسے منتظم کے طور پر جس نے برسوں تک دہشت گردی کے متعدد مجوزہ مقدمات کا جائزہ لیا، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ مواد فوراً ہماری توجہ حاصل کرتا۔ میرے خیال میں یہ البیومی کے خلاف دہشت گردی میں مادی معاونت فراہم کرنے کے الزام کے تحت مقدمہ قائم کرنے کے لیے کافی تھا۔‘

تاہم ان آرا کے باوجود عمر البیومی کے خلاف کبھی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

رک لیمبرٹ، جن کے سر کے اطراف کے بال سفید ہیں اور جو بغیر فریم کے بیضوی چشمہ پہنے ہوئے ہیں، قریب سے لی گئی تصویر میں گہرے رنگ کے سوٹ اور ٹائی میں ملبوس، نیچے کی جانب دیکھتے ہوئے، جبکہ پس منظر میں سادہ دیوار نظر آتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنرک لیمبرٹ، جنہوں نے سان ڈیاگو میں 9/11 سے متعلق ایف بی آئی کی تحقیقات کی قیادت کی، کا کہنا ہے کہ انھیں سعودی حکام سے پوچھ گچھ کرنے سے روکا گیا

عمر البیومی کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کرنے والے ایف بی آئی ایجنٹس کو صرف شواہد تک رسائی کے مسائل ہی نہیں بلکہ دیگر رکاوٹوں کا بھی سامنا تھا۔

اکتوبر 2001 میں سان ڈیاگو میں تعینات ایف بی آئی کے اہلکار، جن کی قیادت رک لیمبرٹ کر رہے تھے، امریکہ میں موجود متعدد سعودی حکام سے پوچھ گچھ کرنا چاہتے تھے۔ ان میں سے کئی سعودی وزارتِ اسلامی امور سے وابستہ تھے۔ تفتیش کاروں کو شبہ تھا کہ ان افراد نے نواف الحزمی اور خالد المحضار، دو ہائی جیکرز، کو البیومی کی جانب سے فراہم کی جانے والی مدد میں کسی نہ کسی سطح پر کردار ادا کیا تھا۔

تاہم چونکہ یہ افراد سفارتی حیثیت رکھتے تھے، اس لیے ان سے پوچھ گچھ کے لیے ایف بی آئی ہیڈکوارٹرز اور امریکی محکمۂ خارجہ کی منظوری درکار تھی۔

لیمبرٹ، جو اب 9/11 متاثرین کے خاندانوں کے مقدمے میں مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں صاف کہہ دیا گیا کہ نہیں، آپ ایسا نہیں کریں گے۔‘

اگلے سال لاس اینجلس میں بھی ایف بی آئی کے تفتیش کاروں کو اسی نوعیت کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ ایک سعودی مذہبی سفارت کار سے پوچھ گچھ کرنا چاہتے تھے جس سے البیومی نے لاس اینجلس میں الحزمی اور المحضار سے اپنی پہلی ملاقات کے فوراً بعد ملاقات کی تھی۔

لاس اینجلس میں 9/11 تحقیقات کی نگرانی کرنے والے سابق ایف بی آئی اہلکار سٹیو مور نے کہا ’ایسا لگا جیسے ہم اچانک ایک دیوار سے جا ٹکرائے ہوں۔‘

سٹیو مور کے مطابق ان کی ٹیم نے اس سعودی اہلکار کا انٹرویو کرنے کی اجازت بارہا طلب کی، لیکن یہ منظوری کبھی نہیں دی گئی۔

ایف بی آئی کی طرح امریکی محکمۂ خارجہ نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

سعودی خفیہ پولیس کے ساتھ ضیافت

اکتوبر 2003 میں 9/11 کمیشن، جسے امریکی کانگریس نے حملوں کی ’مکمل اور جامع‘ تحقیقات کے لیے قائم کیا تھا، نے ریاض میں عمر البیومی کا انٹرویو کیا۔ برطانیہ میں رہائی کے بعد البیومی سعودی عرب واپس منتقل ہو چکے تھے۔

یہ انٹرویو کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فلپ زیلی، ایک سینیئر تحقیقاتی اہلکار اور ایف بی آئی ہیڈکوارٹرز کے ایک ایجنٹ نے سعودی خفیہ پولیس کی موجودگی میں کیا۔

کمیشن کے اس وقت کے نوٹس ظاہر کرتے ہیں کہ دورانِ انٹرویو البیومی کو غیر معمولی حد تک یقین دہانی کرائی گئی۔ انھیں بتایا گیا کہ ’کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ آپ نے جان بوجھ کر ہائی جیکرز کو ان کے دہشت گرد مشن میں مدد فراہم کی تھی۔‘

اس پر البیومی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پُرامن شخص ہیں جو خود بھی اس سانحے کے متاثرین میں شامل ہو گئے ہیں۔

انٹرویو کے دوران امریکی وفد کچھ دیر کے لیے البیومی سے الگ ہو گیا اور پولیس کی جانب سے دی گئی کئی کورسوں پر مشتمل ضیافت میں شریک ہوا۔

انٹرویو مکمل ہونے کے بعد سعودی خفیہ پولیس نے امریکی وفد سے کہا کہ وہ البیومی کو بے قصور قرار دیا ہوا دیکھنا چاہے گی۔ وفد نے جواب دیا کہ کمیشن کی رپورٹ شائع ہونے سے پہلے ایسی کوئی بریت ممکن نہیں۔

تاہم جولائی 2004 میں جب 9/11 کمیشن کی حتمی رپورٹ شائع ہوئی تو اس میں عملاً البیومی کو کلین چٹ دے دی گئی۔ رپورٹ میں انھیں ’مددگار اور خوش مزاج‘ شخص قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ان کے انتہا پسندانہ نظریات کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

اس کے باوجود کمیشن کے بعض عملے کے ارکان البیومی کی بے گناہی کے بارے میں مطمئن نہیں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ غالب امکان یہی ہے کہ وہ جانتے تھے کہ نواف الحزمی اور خالد المحضار القاعدہ سے وابستہ تھے۔

بی بی سی یہ انکشاف کر سکتا ہے کہ کمیشن کے بعض اہلکاروں نے رپورٹ کے اس نتیجے پر اعتراض کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ البیومی ’اسلام پسند انتہا پسندوں سے خفیہ روابط رکھنے کے لیے ایک غیر متوقع امیدوار‘ تھے۔

ایک مرکب تصویر میں نواف الحزمی اور خالد المحضار کے ڈرائیونگ لائسنسوں سے لی گئی تصاویر دکھائی گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہSDNY

،تصویر کا کیپشننواف الحزمی اور خالد المحضار

یہ تاثر 9/11 کمیشن کے اس نتیجے کی بنیاد بنا کہ عمر البیومی اور سعودی حکومت کے درمیان تعلقات کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔ تاہم یہ نتیجہ ایک ایسے انٹرویو پر مبنی تھا جس میں کمیشن کے ارکان نے البیومی کے ساتھ تقریباً ساڑھے چار گھنٹے گزارے تھے، جن میں ضیافت کے لیے ایک وقفہ بھی شامل تھا۔

کمیشن کو نہ تو طیارے کے خاکے تک رسائی دی گئی، نہ پینٹ بال ویڈیو دکھائی گئی، نہ البیومی کے مبینہ انتہا پسندانہ نظریات سے متعلق تحریری مواد فراہم کیا گیا، اور نہ ہی میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے برمنگھم میں ضبط کیے گئے بیشتر دیگر شواہد اس کے سامنے رکھے گئے۔

9/11 کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فلپ زیلی کو نے بی بی سی کے مخصوص سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ کمیشن کے نتائج کا 2015 اور 2021 میں ہونے والے دو سرکاری جائزوں میں دوبارہ جائزہ لیا گیا تھا۔

ان کے بقول، ’کمیشن نے ہمیشہ اپنے شکوک و شبہات اور غیر یقینی پہلوؤں کے بارے میں کھل کر بات کی۔ ہم بڑے پیمانے پر قتل جیسے سنگین جرم میں کسی فرد کو ملوث قرار دینے کے معاملے میں محتاط رہے۔‘

امریکی محکمۂ انصاف نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ 25 برس پرانے ایسے فیصلوں اور معاملات پر تبصرہ نہیں کر سکتا جن میں شامل بیشتر اہلکار اب ادارے میں خدمات انجام نہیں دے رہے۔

دوسری جانب ایف بی آئی کی 9/11 تحقیقات کی سابق سربراہ میری گیلیگن اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کر چکی ہیں کہ 9/11 کمیشن کو ’تمام متعلقہ مواد تک رسائی حاصل تھی۔‘

بی بی سی نے سعودی حکومت کے ذریعے عمر البیومی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

البیومی ماضی میں بارہا اس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ انھیں معلوم تھا نواف الحزمی اور خالد المحضار 9/11 حملوں کے ہائی جیکرز تھے۔ وہ یہ بھی انکار کرتے رہے ہیں کہ وہ سعودی انٹیلی جنس کے لیے کام کرتے تھے یا 11 ستمبر کے حملوں میں ان کا کسی بھی نوعیت کا کردار تھا۔

سعودی حکومت نے بھی بی بی سی کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ تاہم مملکتِ سعودی عرب پہلے واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ 9/11 حملوں میں سعودی ریاست یا اس کے کسی اہلکار کے ملوث ہونے کے الزامات ’بے بنیاد اور مکمل طور پر غلط‘ ہیں۔