’پیٹرولیم لیوی کی کوئی گنجائش نہیں‘: کیا پاکستان میں پیٹرول کی قیمت اُتنی ہی کم ہوئی ہے جتنی بڑھائی گئی تھی؟

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ خطے میں معاشی صورتحال میں بہتری اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 74 روپے اور 67 روپے کی کمی کی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم آفس کے جاری ہونے والے بیان کے مطابق حالیہ بڑی کمی کے بعد یٹرول کی فی لیٹر قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے پر آ جائے گی۔
قیمتوں میں کمی کا اطلاق کب سے ہو گا تاحال اس حوالے سے پیٹرولیئم ڈویژن کی جانب سے کوئی باضابطہ نوٹیفیکیشن سامنے نہیں آیا ہے۔
صحافی تنویر ملک کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈیویلمپنٹ اتھارٹی (اوگرا) کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گا۔
آج وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران بتایا تھا کہ وفاق نے مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے دوران عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے 128 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ ’قوم کو ایک، ایک پائی واپس لوٹائیں گے اور آج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کریں گے۔‘
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کتنی بڑھی اور پھر کتنی کم ہوئی؟

،تصویر کا ذریعہEPA
جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا گیا تو اس کے ساتھ ہی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ بھی ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جنگ نے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی پیداوار اور ترسیل کو نمایاں طور پر متاثر کیا تھا۔
28 فروری کو پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 266.17 روپے تھی۔
حالیہ ہفتوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہ قیمتیں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد جنگ کے آغاز کے دنوں (یعنی مارچ کے اوائل کے بعد سے) اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جنگ شروع ہونے سے پہلے برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی۔ لیکن جنگ کے آغاز کے بعد یہ بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئی تھی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد، جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر تقریباً 76 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔
اگرچہ جمعہ (آج) کو اس میں دوبارہ کچھ اضافہ ہوا اور اب یہ 80 ڈالر فی بیرل سے کچھ کم سطح پر ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کچھ یوں ہے:
7 مارچ: پیٹرول 55 روپے فی لیٹر مہنگا ہو کر 321.17 روپے فی لیٹر ہو گیا
3 اپریل: پیٹرول کی قیمت میں 137.24 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور قیمت 458.41 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی
5 اپریل: قیمت میں 80.41 روپے فی لیٹر کمی کی گئی اور نرخ 378 روپے فی لیٹر ہو گئے
11 اپریل: مزید 11.42 روپے فی لیٹر کمی کے بعد قیمت 366.58 روپے فی لیٹر ہو گئی
25 اپریل: پیٹرول 26.77 روپے فی لیٹر مہنگا ہو کر 393.35 روپے فی لیٹر ہو گیا
یکم مئی: قیمت میں 6.51 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور نرخ 399.86 روپے فی لیٹر مقرر ہوئے
9 مئی: پیٹرول مزید 14.92 روپے فی لیٹر مہنگا ہو کر 414.78 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا
مئی اور جون میں بعد ازاں چند روپوں کی مسلسل کمی کے بعد پیٹرول کی 19 جون کو قیمت تقریباً 378 روپے فی لیٹر ہے۔
19 جون: اور آج وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے کی کمی کا اعلان کیا اور نئی قیمت 299 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
یعنی اس نمایاں کمی کے بعد بھی پیٹرول جنگ کے آغاز سے قبل کی قیمت سے لگ بھگ 33 روپے زیادہ ہے۔
’جنگ کے اثرات کئی ماہ تک عالمی معیشت کو متاثر کریں گے‘
مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے تیل کی عالمی قیمتوں میں شدید اضافہ کیا تھا کیونکہ اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز عملاً بند ہو گئی تھی۔ یہ دنیا کی اہم آبی تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جس کے ذریعے تیل، مائع قدرتی گیس اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کی بندش نے عالمی رسد کو محدود کر دیا تھا۔
دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل معمول کے مطابق اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔
بی بی سی ویریفائی کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے صرف چند جہاز ہی آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔ جبکہ معمول کے حالات میں تقریباً 138 جہاز روزانہ اس راستے سے گزرتے تھے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی سرگرمیوں کی معمول کی سطح پر واپسی میں وقت لگے گا اور جنگ کے اثرات آئندہ کئی ماہ تک عالمی معیشت کو متاثر کرتے رہ سکتے ہیں۔
پاکستان میں پیٹرولیئم لیوی پر بحث کیوں؟
پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران جہاں پیٹرول کی قیمت میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے وہیں پیٹرولیئم ڈیویلپمنٹ لیوی میں بھی وقتاً فوقتاً اضافہ اور کمی کی جاتی رہی ہے۔
مارچ 2026 سے جون 2026 کے دوران وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل اس لیے کیا تاکہ محصولات کے اہداف حاصل کیے جا سکیں اور ملک کی مالیاتی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
پرافٹ میگزین کے اندازوں کے مطابق مالی سال 2026 کے بجٹ میں حکومت نے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں 14.67 کھرب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جو کہ ایک اندازے کے مطابق حکومت کی متوقع مجموعی غیر ٹیکس آمدن (51.4 کھرب روپے) کا 28.5 فیصد اور حکومت کی مجموعی متوقع آمدن کا 8.4 فیصد ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
موجودہ مالی سال کے دوران حکومت اپریل کے اختتام تک پی ڈی ایل کی مد میں 12.34 کھرب روپے پہلے ہی جمع کر چکی تھی۔ جبکہ باقی رقم جون 2026 کے اختتام تک وصول کی جانی تھی۔ اس کے مطابق حکومت ’پی ڈی ایل سے حاصل ہونے والی آمدن ٹیکس وصولیوں میں ہونے والی کسی بھی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔‘
صحافی تنویر ملک کے مطابق رواں ماہ چھ جون کو فی لیٹر پیٹرول پر پی ڈی ایل 116 روپے جبکہ پھر 13 جون کو 106 روپے مقرر کی گئی تھی۔
پیٹرول کی قیمت پر یہی اضافی بوجھ پاکستانی عوام کو پریشان کیے ہوئے ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں ’74 روپے فی لیٹر کمی عوامی دباؤ کی کامیابی ہے مگر ہمارا مطالبہ ہے کہ قیمت 225 روپے فی لیٹر پر لائی جائے۔‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ 'پیٹرولیم لیوی کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔ حکومت دیگر اشیا کی قیمتیں بھی 28 فروری کی سطح پر لانے کے لیے اقدامات کرے۔'
خرم مشتاق نامی صارف نے حساب لگایا ہے کہ اگر حکومت پی ڈی ایل 60 سے 70 روپے بھی رکھے تو ’عوام کو پیٹرول 265 سے 275 روپے فی لیٹر مل سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر مدثر علوی کی رائے ہے کہ 'اگر عالمی منڈی میں خام تیل 75 ڈالر فی بیرل، ڈالر کا ریٹ 280 روپے، پریمیم و فریٹ اخراجات شامل کیے جائیں اور 117 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی برقرار رکھی جائے تو پاکستان میں پیٹرول کی متوقع قیمت تقریباً 277 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔
'اس حساب سے موجودہ قیمت میں بڑی کمی کی گنجائش محدود نظر آتی ہے کیونکہ قیمت کا بڑا حصہ ٹیکسز اور لیوی پر مشتمل ہے۔'
معاشی امور کے صحافی اور تجزیہ کار شہباز رانا کہتے ہیں کہ 'بحران کسی بھی حکومت اور قیادت کے لیے ایک امتحان ہوتا ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے ایندھن کے بحران سے مجموعی طور پر اچھے انداز میں نمٹا اور رسد میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اس کا کریڈٹ وزیرِ اعظم کو جاتا ہے جنھوں نے بروقت فیصلے کیے، نائب وزیرِ اعظم کو جنھوں نے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے مذاکرات کیے اور وزیرِ پیٹرولیم کو۔‘
لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’ٹیکس عائد کرنے کا معاملہ سب سے کمزور پہلو ثابت ہوا جسے حکومت مؤثر انداز میں سنبھال نہیں سکی۔‘
’حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ لیوی، جو آج کم ہو کر 80 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، دوبارہ بڑھائی نہ جائے۔‘
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ’عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی کا ریلیف عوام کو منتقل نہیں کیا جا رہا۔ اصولاْ تیل کی قیمت دو سو سے زیادہ اور ڈیزل کی قیمت دو سو دس سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘
























