بھگوان کا کردار ادا کرنے والے بچے

وقت اشاعت

بھارت کے شمالی شہر وارانسی کے رام نگر قصبے میں ہر سال دو ماہ کے لیے پانچ بچے رام لیلا میلے کے لیے چہروں پر نقش و نگار کے ساتھ ریشمی ملبوسات زیب تن کرتے ہیں۔

یہ تہوار ہندوؤں کی مذہبی کتاب رامائن سے متعلق ہے۔

ڈرامائی انداز میں یہ پیش کش ہندو بھگوان رام کی دس سروں والے شیطان راون پر فتح سے ماخوذ ہے، جس سے مراد اچھائی کا برائی کو زیر کرنا بھی ہے۔

وارانسی کے سابق شاہی خاندان کے سربراہ رام، ان کی بیوی سیتا اور ان کے تین بھائیوں کے کرداروں کے لیے بچوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان اداکاروں کو پرفارمنس کی تربیت کے لیے ایک استاد کی زیرنگرانی کیا جاتا ہے۔

فوٹوگرافر سائبل داس نے بھگوان کا کردار ادا کرنے والے بچوں سے پس پردہ ملاقات کی۔

رام نگر رام لیلا کی تاریخ 500 سے زائد سال پرانی ہے اور یہ تہوار آج بھی روایتی انداز میں منایا جاتا ہے۔ اس میں بجلی کے قمقموں یا حاضرین کی سہولت کے لیے مائیکروفون کا استعمال نہیں کیا جاتا۔

تربیت اور شو کے دوران اداکاری کرنے والے بچے شاہی گیسٹ ہاؤس کے ایک حصے میں قیام کرتے ہیں۔ لیکن یہ عمارت اب بہت پرانی اور شکستہ حال ہو چکی ہیں۔ ان کے استاد گیسٹ ہاؤس کے دوسرے حصے میں اپنے خاندان کے ہمراہ رہتے ہیں۔

وارانسی کے شاہی خاندان کے سربراہ اس میلے کی میزبانی کرتے ہیں اور رام لیلا کی پرفارمنس دیکھنے کے لیے اس تقریب کے لیے کرائے پر حاصل کیے گئے ہاتھی پر سواری کرتے ہوئے شریک ہوتے ہیں۔

پہلے وقتوں میں ان پانچ کرداروں کے لیے 40 کے قریب بچے درخواست دیتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ رام لیلا کے لیے اداکاروں کی تلاش کرنے والے الوک شکلا کہتے ہیں آج اگر 10 سے 15 درخواستیں موصول ہوجائیں تو وہ خود کو خوش قسمت سمجھیں گے۔

بیشتر اداکار بچوں کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے۔ اگرچہ انھیں شاہی خاندان کی جانب سے اشیائے خورونوش کی اچھی فراہمی ہوتی ہے تاہم انھیں اپنا کھانا خود پکانا پڑتا ہے۔

صبح چھ سے آٹھ بجے کی ریہرسل کے بعد بچے اپنے کمروں میں کھانا پکانے جاتے ہیں۔ ان کے مدد کے لیے بعض اوقات ان کے والدین بھی آجاتے ہیں۔

میک اپ کرنے اور تاج سجانے کے بعد اداکاروں کو ان کے اصل ناموں سے نہیں پکارا جاتا۔ انھیں زندہ بھگوان اور دیوی تصور کیا جاتا ہے۔

عقیدت مند اور ناظرین انھیں پھولوں کے ہار، پیسے اور تحائف دیتے ہیں۔ جمع ہونے والی رقوم استاد کو ملتی ہیں۔

اور اختتام پر ہر بچے کو 3500 بھارتی روپے کے ساتھ چاندی کا ایک سکہ، ایک تولیہ، کپڑوں کا جوڑا، پیالہ، گلاس اور شاہی خاندان کے سربراہ کی جانب سے دستخط اور مہر شدہ رامائن کی ایک جلد تحفے میں دی جاتی ہے۔