لائیو, جمعہ کو جنیوا میں معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا: شہباز شریف

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 19 جون کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔ دوسری جانب امریکہ، ایران معاہدے کے اعلان کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان ہے اور کاروبار کے آغاز میں ہنڈرڈ انڈیکس میں 2800 پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے: شہباز شریف
  • امریکہ، ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے کی باضابطہ تقریب 19 جون (جمعہ) کو سوئٹزر لینڈ میں ہو گی: شہباز شریف
  • صدر ٹرمپ نے امن معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری بھی دے دی ہے
  • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سرکاری میڈیا پر امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی ہے
  • ایران کے ساتھ معاہدہ آئندہ 50 برسوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کو 'بالکل بدل کر رکھ سکتا ہے': جے ڈی وینس
  • قطر اور برطانوی وزرائے اعظم سمیت سمیت متعدد عالمی رہنماؤں کا امن معاہدے کا خیرمقدم، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف
  • امن معاہدے کی خبر کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

لائیو کوریج

  1. معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایران کو بغیر کسی رکاوٹ کے تیل فروخت کرنے کے قابل ہونا چاہیے: اسماعیل بقائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایران کو بغیر کسی رکاوٹ کے تیل فروخت کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جوہری مسئلہ اس مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں کیا گیا اور اس پر بات چیت معاہدے پر دستخط کے اگلے روز شروع ہوگی۔‘

    اسماعیل بقائی کے مطابق تفصیلات پر ابھی بات نہیں ہوئی تاہم ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مؤقف واضح ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’تمام پابندیوں کا خاتمہ، بشمول بنیادی اور ثانوی پابندیاں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں، اور آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں، جوہری معاملے کے ساتھ جڑے اہم امور ہیں، جن پر معاہدے پر دستخط کے بعد بات چیت ہوگی اور 60 دن کے اندر اتفاق رائے حاصل کیا جائے گا۔‘

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران کے منجمد یا محدود اثاثوں کی بحالی اور جنگ سے ہونے والے معاشی نقصانات کی تلافی کو بھی اہم قرار دیا۔

    اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ’معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران کو تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور تیل سے متعلق دیگر اشیاء کی فروخت میں کسی بھی رکاوٹ یا مسئلے کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔‘

  2. اسرائیل امریکہ ایران معاہدے کا پابند نہیں: قومی سلامتی وزیر کا سخت مؤقف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتامر بن گویر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اسرائیل کو کسی طور پر پابند نہیں کرتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے اور وہ امریکہ کے تابع نہیں۔‘ ان کے مطابق ’اسرائیل کی ذمہ داری اپنے شہریوں، اسرائیلی فوج کے اہلکاروں اور یہودی عوام کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے اور یہ اس کے تاریخی فرض کا حصہ ہے۔‘

    اتامر بن گویر نے کہا کہ ’ہزاروں سال کی جلاوطنی میں مظلوم اور قتل ہونے والے یہودیوں کے حوالے سے بھی اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل میں یہودیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی اسرائیل نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کیا، اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی، جس میں اوسلو معاہدے، سنہ 2006 کے لبنان معاہدے اور غزہ میں مختلف ادوار کی پالیسیوں کا حوالہ دیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وہ امریکہ کا احترام کرتے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں، تاہم اسرائیل کسی ’کمزور ریاست‘ کی طرح نہیں چل سکتا۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتامر بن گویر کے مطابق ’انھوں نے یہ مؤقف وزیر اعظم کو متعدد بار بتایا ہے اور ہر اہم تاریخی موقع پر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے لمحات میں تاریخی فیصلے کرنا ضروری ہوتا ہے۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ ’وہ اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں کیونکہ یہ اسرائیل کی سلامتی کو یقینی نہیں بناتا۔‘

    ان کے مطابق ’اسرائیل کو حزب اللہ کے مکمل خاتمے سے کم کسی چیز پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ان علاقوں سے نکلنا چاہیے جنھیں اسرائیلی فوج نے اپنے کنٹرول میں لے کر وہاں سے ’شدت پسندوں کے اہم ٹھکانوں‘ کو ختم کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کو اس صورتحال کی اجازت نہیں دینی چاہیے جس میں ہزاروں جنگجو شمالی بستیوں کی سرحدوں پر موجود ہوں اور نہ ہی اس پر خاموش رہنا چاہیے کہ اسرائیل پر حملے کیے جائیں۔‘

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتامر بن گویر نے خبردار کیا کہ ’لبنان سے اسرائیل کی طرف ڈرون، بغیر پائلٹ طیاروں یا میزائلوں داغے جانے کا جواب بیروت کے جنوبی علاقے ’داحیہ‘ پر اسرائیلی حملے کی صورت میں دیا جائے گا اور مزاہمت کا یہی توازن کچھ عرصہ قبل تک موجود تھا جسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔‘

    آخر میں انھوں نے ایکس پر جاری اپنے اس طویل بیان میں کہا کہ ’اسرائیل ایک تین ہزار سال پرانی قوم ہے جو طویل جدوجہد سے نہیں ڈرتی۔‘ ان کے مطابق یہودی قوم اپنی سرزمین پر مضبوط اور باوقار انداز میں واپس آئی ہے اور اب دشمنوں کے سامنے جھکنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

  3. حزب اللہ کا جنگ بندی سے متعلق مؤقف، ایران امریکہ معاہدے کے بعد کوئی کارروائی نہیں کی: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے حزب اللہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد گروپ کی جانب سے کوئی پرتشدد کارروائی نہیں کی گئی۔‘

    اہلکار کے مطابق حزب اللہ کا جنگ بندی سے متعلق مؤقف اس بات سے مشروط ہے کہ اسرائیل بھی اس پر مکمل عمل کرے۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرنے والے اس اہلکار نے مزید کہا کہ ’حزب اللہ لبنان میں اسرائیل کی ’آزادانہ نقل و حرکت‘ کو مسترد کرتی ہے۔‘ ان کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط اس لیے مؤخر کیے تاکہ لبنان میں جنگ بندی پر اسرائیل کے طرزِ عمل کی نگرانی کی جا سکے۔

    تاہم حزب اللہ نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

  4. ایران کے یورینیئم ذخائر کو ختم یا انھیں کمزور کرنا ضروری ہے: فرانسیسی صدر میکخواں

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ ’ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو غیر مؤثر بنایا جانا چاہیے اور انھیں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں رکھا جانا چاہیے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے اعلان کے بعد میکرون نے کہا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ باقی ماندہ افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو مناسب طریقے سے غیر مؤثر بنایا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’حساس مواد کو یا تو ایران سے باہر منتقل کیا جائے یا اسے کمزور کیا جائے اور پھر اسے مکمل طور پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں رکھا جائے۔‘

    دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے تین روز قبل امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ’ایران نے اصفہان جوہری تنصیب میں موجود بعض سرنگوں کو تباہ کر دیا ہے اور اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیئم تک ممکنہ امریکی رسائی روکنے کے لیے سرنگوں کے داخلی راستوں کو بارودی مواد سے بند کر دیا ہے۔‘

    رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کے باعث ان مواد تک رسائی مزید مشکل اور خطرناک ہو گئی ہے۔

    تاہم ایران اور امریکہ کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کے بعد اس کے جوہری پروگرام اور یورینیئم ذخائر سے متعلق مذاکرات دوسرے مرحلے میں داخل ہوں گے۔

  5. آبنائے ہرمز کے مغرب میں خلیج میں تقریباً 500 بحری جہاز موجود ہیں: میرین ٹریفک

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے مغرب میں خلیج کے علاقے میں 230 سے زائد آئل ٹینکرز اور 250 کارگو جہاز موجود ہیں، جن کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں چھوٹی کشتیاں اور ٹگ بوٹس بھی دیکھی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ٹریک کیے گئے آئل ٹینکرز میں سے صرف ایک محدود تعداد مکمل طور پر سامان سے لدی ہوئی ہے، جبکہ زیادہ تر ٹینکرز خالی یا جزوی طور پر لوڈ ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 70 فیصد ٹینکرز حرکت میں نہیں بلکہ ایک ہی جگہ پر موجود ہیں۔ ان میں سے متعدد جہاز سعودی عرب، عراق اور متحدہ عرب امارات کی بڑی تیل برآمدی بندرگاہوں کے قریب جمع ہیں، جبکہ زیادہ تر جہاز گزشتہ ایک ماہ سے خلیج ہی میں موجود ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بحری جہازوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ متعدد جہاز اپنے لوکیشن سگنلز بند رکھتے ہیں اور ٹریکنگ ڈیٹا میں ظاہر نہیں ہوتے۔

  6. لبنان میں جنگ کا خاتمہ معاہدے کا لازمی حصہ ہے: اسماعیل بقائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں ایک بار پھر زور دیا ہے کہ ’لبنان امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا اہم حصہ ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس معاہدے کا لازمی حصہ ہے اور ہم عملی طور پر یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ہم اس پر سنجیدہ ہیں اور دوسری جانب کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے تمام ذرائع استعمال کریں گے۔‘

    انھوں نے اس سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا کہ آیا مفاہمتی یادداشت میں اسرائیل کے جنوبی لبنان سے انخلا کا ذکر موجود ہے یا نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاہدے میں ’لبنان‘ کا لفظ تین مرتبہ آیا ہے، جس میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، بشمول لبنان اور اس کی علاقائی سالمیت و خودمختاری کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔‘

  7. امریکہ ایران امن معاہدہ اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہے: اسرائیلی وزیر خزانہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو ’اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے ’نقصان دہ‘ قرار دیا ہے۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایکس پر اپنے بیان میں سموٹریچ نے کہا کہ ’اسرائیل کو ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے مہم خود جاری رکھنا ہوگی اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ مہم نے ایران کو کمزور کرنے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ کامیابیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔‘

    اس سے قبل اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے بھی اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں کیونکہ یہ ہماری سلامتی کو یقینی نہیں بناتا اور نہ ہی یہ کسی طور پر ہمارے لیے بہتر ہے۔‘

    سموٹریچ اور بن گویر دونوں پر برطانیہ اور بعض دیگر ممالک کی جانب سے پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ دونوں رہنماؤں نے فلسطینی برادریوں کے خلاف بارہا تشدد پر اکسانے والے بیانات دیے ہیں۔

  8. امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے، اسرائیل اور امریکہ ایک پیج پر نہیں, بی بی سی نیوز یروشلم جون ڈونیسن کا تجزیہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے روزنامے ’یدیعوت احرونوت‘ کی آج کی سرخی تھی: ’محاذ آرائی۔‘

    تاہم یہ محاذ آرائی امریکہ اور ایران کے درمیان نہیں، بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان پائی جانے والی پالیسی اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔

    امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں اس کے قریبی اتحادی اسرائیل کے درمیان اس معاہدے کے حوالے سے مکمل ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کو معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا گیا لیکن اس سے مشاورت نہیں کی گئی۔

    گزشتہ شب نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’بہت مشکل اور پیچیدہ شخصیت‘ قرار دیا۔

    امریکہ میں رائے عامہ کے دباؤ اور نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر ٹرمپ بظاہر اس مہنگی اور غیر مقبول جنگ کو ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔

    اس کے برعکس اسرائیل میں نیتن یاہو پر جنگ جاری رکھنے کے لیے سیاسی دباؤ موجود ہے۔ انھیں چند ماہ بعد متوقع انتخابات کا بھی سامنا کرنا ہے اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان انتخابات کے نتیجے میں ان کا اقتدار ختم ہو سکتا ہے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو اقتدار سے محروم ہوتے ہیں تو ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات میں قانونی مشکلات بڑھ سکتی ہیں، اگرچہ وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو خود کو جنگی دور کے ایک مضبوط رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو اسرائیل کی سلامتی کا دفاع کر رہا ہے، اور یہی حکمت عملی ان کے سیاسی مستقبل اور اقتدار میں بقا کے امکانات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔

  9. طویل المدتی توانائی کے بحران سے بچنے کے امکانات روشن، عالمی معیشت کے لیے مثبت اشارے, بی بی سی کے معاشی امور کے مدیر فیصل اسلام کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اگرچہ اس معاہدے کے حوالے سے بعض تحفظات اور خدشات اپنی جگہ موجود ہیں تاہم موجودہ صورتحال میں طویل المدتی توانائی بحران سے بچنے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ روشن دکھائی دیتے ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ خلیج میں رکے ہوئے سیکڑوں آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہونے میں وقت لگے گا۔ اسی طرح خطے میں جنگ کے دوران متاثر ہونے والی متعدد گیس تنصیبات کی بحالی میں بھی کئی ماہ درکار ہوں گے۔ مزید یہ کہ تمام پیش رفت کا انحصار ایک نازک اور غیر یقینی امن معاہدے پر ہے۔

    تاہم اہم بات یہ ہے کہ اب دنیا کو ایک طویل اور شدید توانائی بحران کا سامنا کرنے کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔

    عالمی معیشت اور برطانوی معیشت نے اب تک اس بحران کے دوران توقعات سے کہیں زیادہ مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ صورتحال ان انتہائی معاشی جھٹکوں تک نہیں پہنچی جو چار سال قبل روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دیکھنے میں آئے تھے۔

    پیٹرول کی قیمتوں اور فکسڈ شرح سود پر دستیاب ہاؤسنگ قرضوں (مارگیج) کی شرح میں پہلے ہی کمی آنا شروع ہو چکی ہے۔ اگرچہ جولائی میں گھریلو توانائی بلوں میں اضافہ متوقع ہے تاہم موسم سرما سے قبل اکتوبر میں متوقع بڑے اضافے کے امکانات اب کم ہو گئے ہیں۔

    اسی طرح جنوبی نصف کرے میں زرعی کاشت کے موسم کے دوران انتہائی مہنگی کھادوں کے استعمال سے متعلق خدشات بھی کم ہو سکتے ہیں جس سے خوراک کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے خطرات میں کمی آنے کی امید ہے۔

    برطانیہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اگر موجودہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو افراطِ زر یعنی مہنگائی کی شرح شاید چار فیصد تک بھی نہ پہنچے، جبکہ سنہ 2022 میں مہنگائی دو ہندسوں تک جا پہنچی تھی۔

    عالمی سطح پر حکومتی قرضوں کی لاگت میں کمی کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں بھی فکسڈ مارگیج ریٹس میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ مالیاتی منڈیاں اب شرح سود میں مزید اضافے کی ضرورت کم محسوس کر رہی ہیں۔

    اگرچہ یہ امن معاہدہ ابھی بھی نازک نوعیت کا ہے تاہم عمومی تاثر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس تنازع کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔

    ماہرین کے مطابق عالمی معیشت کو مکمل معمول پر آنے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ دنیا طویل عرصے سے غیر یقینی صورتحال اور معاشی اتار چڑھاؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ اس کے باوجود موجودہ پیش رفت بلاشبہ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں معیشت اور عوام کے معیارِِ زندگی کے لیے ایک مثبت خبر سمجھی جا رہی ہے۔

  10. معاہدے میں اسرائیل کے لبنان پر حملوں کے خاتمے سے متعلق ’فیصلہ کن‘ شق شامل کیا جانا اہم پیش رفت ہے: لبنانی صدر جوزف عون

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنتصویر میں بائیں جانب لبنانی صدر جوزف عون اور دائیں جانب لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور حزب اللہ کے قریبی اتحادی نبیہ بری

    امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے پر لبنان کی سیاسی قیادت نے مثبت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد کے مطابق اس معاہدے کے تحت ’لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں‘ بند کی جائیں گی۔

    لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ’لبنانی عوام امید رکھتے ہیں کہ یہ مفاہمتیں عملی اقدامات میں تبدیل ہوں گی اور خطے میں جاری تشدد کے سلسلے کا مستقل خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔‘

    انھوں نے معاہدے کے قیام میں کردار ادا کرنے والے تمام ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں امید ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں استحکام اور امن کے فروغ کے لیے ایک وسیع تر عمل کا آغاز ثابت ہوگی۔‘

    دوسری جانب لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری جو امل تحریک کے سربراہ اور حزب اللہ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    انھوں نے ایران اور امریکہ دونوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’معاہدے میں اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کے خاتمے سے متعلق ایک ’فیصلہ کن‘ شق شامل کی گئی ہے، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔‘

    تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے بیانات کے باعث معاہدے کے عملی نفاذ کے حوالے سے اب بھی کئی سوالات اور خدشات موجود ہیں۔

  11. معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کرتا ہوا دیکھا گیا: میرین ٹریفک, شروتی مینون، بی بی سی نیوز

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بی بی سی ویریفائی نے بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد کم از کم ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے۔

    جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’میرین ٹریفک‘ کے مطابق مالٹا کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’دیشا‘ نے 13 جون کو قطر کی راس لفان بندرگاہ سے سامان لے کر روانہ ہوا تھا۔

    اسی دوران پاناما کے پرچم بردار مال بردار جہاز ’ایم ڈی ایل کامران‘ نے 11 جون کو ایرانی امام خمینی بندرگاہ سے سفر شروع کیا اور گزشتہ روز آبنائے ہرمز عبور کی۔

    رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت جہاز کے مقام کی نشاندہی کرنے والے ٹریکرز بند تھے، تاہم آبنائے ہرمز سے نکلنے کے بعد انھوں نے دوبارہ سگنل بھیجنا شروع کر دیا۔

    یہ جہاز اس وقت عمان کی شناس بندرگاہ کی جانب رواں دواں ہے۔

    تاہم دوسری جانب ایرانی اخبار کے مطابق آبنائے ہرمز میں صورتحال غیر معمولی ہو گئی ہے، جہاں مسلسل 96 گھنٹوں سے پاسنگ پرمٹ جاری نہیں کیے گئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری فوج نے گزشتہ چار دنوں سے کسی بھی جہاز کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی۔

    ایرانی اخبار میں پاسدارانِ انقلاب سے متعلق سامنے آنے والے اس بیان مںی مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ نوٹس تک آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کے لیے داخلے اور اخراج کے راستوں میں بند کر دیا گیا ہے اور کسی بھی قسم کی آمد و رفت کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

  12. ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے بارے میں کیا معلوم ہے اور ابھی کیا واضح نہیں؟

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ، ایران اور خطے کی صورتحال سے متعلق مجوزہ معاہدے کے بارے میں کچھ اہم نکات سامنے آئے ہیں، تاہم کئی بنیادی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔

    لبنان

    • اس سارے عمل میں ثالث کا کردار ادا کنے والے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
    • تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ حزب اللہ بھی اس معاہدے کی مکمل پابندی کریں گے یا نہیں۔
    • دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ ایران لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ’مکمل خاتمے‘ کا مطالبہ کر رہا ہے۔

    آبنائے ہرمز

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی اور خطے کے دونوں اطراف تیل کی ترسیل بحال ہو جائے گی۔
    • ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں شامل ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکہ کی بحری ناکہ بندی 30 روز کے اندر ختم کر دی جائے گی۔
    • تاہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حتمی وقت اور مستقبل میں وہاں بحری آمدورفت کے انتظام کے طریقہ کار کے بارے میں ابھی کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔

    جوہری پروگرام

    • ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔
    • رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئندہ 60 دنوں کے دوران امریکہ اور ایران اس بات پر اتفاق کریں گے کہ جوہری مواد کو کس طرح تلف اور ختم کیا جائے۔
    • تاہم ابھی یہ معلوم نہیں کہ یورینیم افزودگی پر کیا پابندیاں عائد ہوں گی اور ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل کیا ہوگا۔

    پابندیاں

    • یہ بات تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے کہ ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور اس کے منجمد اثاثوں کی جزوی یا مکمل بحالی معاہدے کا حصہ ہوگی۔
    • تاہم پابندیوں میں نرمی کے وقت اور طریقہ کار کے بارے میں اب تک کوئی وضاحت نہیں کی گئی اور یہ بھی واضح نہیں کہ یہ اقدامات حتمی معاہدے سے پہلے ہوں گے یا بعد میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں نافذ کیے جائیں گے۔
    • مجموعی طور پر معاہدے نے کئی اہم پیش رفت کا عندیہ دیا ہے لیکن اس کی حتمی کامیابی اور عملی شکل کا انحصار آنے والے مذاکرات اور معاہدے کی مکمل تفصیلات پر ہوگا۔
  13. ایران امریکہ معاہدہ حتمی، باضابطہ دستخط جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے: ایرانی نائب وزیر خارجہ, غنچہ حبیبزاد، نامہ نگار بی بی سی فارسی

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے گزشتہ روز ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس پر باضابطہ دستخط جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں کیے جائیں گے۔

    انھوں نے ایک بار پھر امریکہ پر ایران کے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’تہران امریکی وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل درآمد کی کڑی نگرانی کرے گا۔‘

    غریب آبادی کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ رات اسرائیل کے بیروت پر حملے کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل اور امریکہ کو دی جانے والی دھمکیوں نے معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے اور بعض متنازع امور کو حل کرنے کے عمل میں مدد فراہم کی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران کو امید ہے کہ مذاکرات 60 روزہ مدت کے اندر مکمل ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق اس عرصے کے دوران ایران پر عائد تمام پابندیوں کے خاتمے اور ملک کے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی قراردادوں کے معاملے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔‘

    ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’جنگ کے بعد معاشی بحالی اور تعمیرِ نو کا معاملہ بھی ان 60 دنوں کے دوران ہونے والے مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا۔‘

  14. امریکہ اسرائیل معاہدہ: بی بی سی کے نامہ نگاروں کا تجزیہ، معاہدہ کیا بتاتا ہے اور کیا نہیں؟

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد بی بی سی کے مختلف نمائندگان نے اس پر اپنی آراء اور تجزیے پیش کیے ہیں۔

    شمالی امریکہ کے نامہ نگار انتھونی زرکر کے مطابق ’اگرچہ معاہدے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے اہداف فی الحال حاصل نہیں ہوئے تاہم یہ معاہدہ اس تنازع کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے مگر اسے مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا۔‘

    بی بی سی کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے ٹام بیٹمین کا کہنا ہے کہ ’معاشی وجوہات کی بنا پر یہ معاہدہ امریکہ اور ایران دونوں کی ضرورت تھا تاہم کئی اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں، جن میں جوہری پروگرام اور پابندیوں میں نرمی جیسے بنیادی نکات پر بامعنی اتفاق رائے شامل ہے۔‘

    بی بی سی فارسی کی نامہ نگار غنچہ حبیبزاد کے مطابق ’ایران میں اس معاہدے کو ملک کی کامیابی اور امریکہ و اسرائیل کی ناکامی یا شکست کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی امور کے نامہ نگار سباسٹین اُشر لکھتے ہیں کہ ’ایران کے عرب خلیجی ہمسایہ ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب اس پیش رفت پر کسی حد تک اطمینان محسوس کریں گے کیونکہ جنگ کے دوران ایرانی میزائلوں نے ان ممالک کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ تاہم لبنان کے مستقبل کے حوالے سے اب بھی کئی سوالات موجود ہیں۔‘

    مشرق وسطیٰ کے نمائندے ہوگو بچیگا کے مطابق ’لبنان میں بعض خاندان اپنے علاقوں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں لیکن عوام معاہدے کے فریم ورک اور اس کے حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں اب بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔‘

    سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی ’امن معاہدے‘ کی اصل کامیابی کا اندازہ طویل مدت میں ہوگا۔ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خطرے میں واقعی کمی آئی ہے، جیسا کہ صدر ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں یا پھر ایران کے سخت گیر عناصر جوہری بم کے حصول کی کوششیں مزید تیز کر سکتے ہیں۔‘

    شمالی امریکہ سے نامہ نگار گیری او ڈونوگھو کے مطابق ’یہ ابتدائی معاہدہ محض ایک آغاز ہے۔ آبنائے ہرمز سمیت کئی اہم معاملات پر اب بھی سوالات برقرار ہیں جن کے جواب معاہدے کا مکمل متن منظر عام پر آنے کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  15. فوج غیر معینہ مدت تک لبنان میں موجود رہے گی: اسرائیلی وزیرِ دفاع

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان میں اپنی موجودگی بغیر کسی وقت کی پابندی کے برقرار رکھے گی۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ایک ابتدائی نوعیت کے معاہدہ کا اعلان کیا گیا ہے، جسے پاکستان کی ثالثی سے طے کیا گیا۔ ثالثوں کے مطابق اس معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی شق شامل ہے۔

    عبرانی زبان میں جاری اپنے بیان میں اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ’اسرائیل، موجودہ اور متوقع بین الاقوامی دباؤ کے باوجود لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی مخالفت کرتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ اتفاقِ رائے کے تحت اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ میں قائم ’سکیورٹی زونز‘ میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی۔‘

    وزیر دفاع کے مطابق اسرائیل کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ’شدت پسندوں کی تمام تنصیبات‘ کو تباہ کیا جائے گا اور اسرائیل نے اپنے اس مؤقف سے امریکی حکام کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

    اسرائیل کاٹز نے مزید کہا کہ ’اگر لبنان کے واقعات کے باعث ایران اسرائیل پر حملہ کرتا ہے تو اسرائیل پوری قوت کے ساتھ جواب دے گا۔‘

    BBC
  16. لبنان پر اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ ضروری ہے: ایران کا مطالبہ

    EPA/ Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/ Shutterstock

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے آج صبح ترکیہ، عراق اور مصر کے اپنے ہم منصبوں سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔ عراقچی نے اپنے ٹیلیگرام پیغام میں بتایا کہ دیگر رہنماؤں سے ہونے والی بات چیت کے دوران لبنان کی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انھوں نے زور دیا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کو مکمل طور پر روکا جانا چاہیے۔ عراقچی نے اس حوالے سے امریکہ کی ذمہ داری کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں واشنگٹن کا کردار اہم ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اقدامات اور جنگ بندی کے وعدوں پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔

  17. تجزیہ: لبنان میں لوگ اب بھی امریکہ، ایران معاہدے کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں, ہوگو بچیگا، بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کو ایک بار پھر امید ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ حزب اللہ کے درمیان جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔

    لبنان کے جنوبی حصے میں جہاں اسرائیل تواتر سے فضائی حملے کرتا آیا ہے آج صبح صورتحال بظاہر پُرسکون نظر آئی۔ تاہم لوگ جنگ بندی کے اعلان کو لے کر اب بھی کافی محتاط دکھائی دیتے ہیں۔

    حکام کی جانب سے انتباہات کے باوجود کے علاقے میں واپس آنا ابھی محفوظ نہیں کچھ خاندان نے لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بے گھر ہونے والے افراد کا ایک قافلہ جب اپنے گاؤں پہنچا ہے تو ایک سڑک اسرائیلی ٹینک کی وجہ سے بند تھی۔

    ایران اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے۔ یہ بات حزب اللہ کے حامیوں میں ایران کا امیج مضبوط بنانے کے لیے اہم ہے جو اس تنازع سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لبنان میں تہران کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

    یہ سب اُس وقت ہو رہا ہے جب لبنانی حکومت دونوں محاذوں کو علیحدہ رکھنے، ایرانی اس اثر و رسوخ کم کرنے اور اس کے نتیجے حزب اللہ کو مزید تنہا کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ تاہم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مقصد تاحال حاصل نہیں کیا جا سکا۔

    لبنان کے لیے یہ جنگ تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔

    3,700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ملک کے تقریباً 5 فیصد علاقے پر اسرائیل کا قبضہ ہے اور اس انخلا کے لیے کوئی واضح وقت مقرر نہیں۔ جنوبی علاقوں کے درجنوں دیہات تباہ ہو چکے ہیں اور یہ واضح نہیں کہ تعمیرِ نو کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔ دس لاکھ افراد اب بھی بے گھر ہیں، جن میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے جو کہ حزب اللہ کی حمایتی ہیں۔

    لبنانی عوام کے پاس شکوک و شبہات کی وجوہات موجود ہیں۔ 2024 میں ختم ہونے والی جنگ بندی بھی امن نہیں لا سکی تھی۔ اسرائیل تقریباً روزانہ حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بناتا رہا، اور بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ جب عالمی توجہ اس خطے سے ہٹ جائے گی تو حالات دوبارہ ویسے ہی ہو سکتے ہیں۔

  18. آبنائے ہرمز سے باردوی سرنگیں صاف کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟

    ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا ہے کہ جمعے کے روز ’معاہدے‘ پر دستخط ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو ’بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے‘ کھول دیا جائے گا۔

    تہران نے 28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد آبنائے کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔

    امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ کو بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے میں ’کئی ہفتوں سے لے کر مہینوں تک‘ کا وقت لگ سکتا ہے۔

    ایڈمرل مارک مونٹگمری جو فاؤنڈیشن فار دی ڈیفنس آف ڈیموکریسیز میں سینئر فیلو بھی ہیں کہتے ہیں کہ اس عمل میں تمام بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور انھیں ہٹانا شامل ہے تاکہ امریکی یا اتحادی فوجی جہازوں کی نگرانی کے بغیر آبنائے ہرمز سے مکمل آزادی کے ساتھ آمدورفت ممکن ہو سکے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ بحری ٹریفک بحال ہونے کے بعد تیل کی برآمدات پر پابندیوں کے اثرات سے دنیا کو ’مکمل ریلیف‘ ملنے میں دو ماہ تک لگ سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر کچھ ’واضح ریلیف‘ ضرور محسوس کیا جا سکے گا۔

  19. امن معاہدے کے نتیجے میں آنے والے عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی کو پہنچائیں گے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    شہباز

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پیر کے روز پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے نتیجے میں آنے والے عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی کو پہنچائے گی۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے تباہ کن اثرات سے پوری دنیا اور اس کی معیشت لرز گئی اور پاکستان کی معیشت پر بھی بے پناہ اثر آیا جو اب تک جاری ہے۔

    ’میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت اس امن معاہدے کے نتیجے میں عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی کو پہنچائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ آج کا دن نہ صرف پاکستان میں بسنے والوں بلکہ دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے باعثِ افتخار ہے۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل کے دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے شعلے بھجانے اور امن کے قیام کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے شب و روز وقف کر دیے۔

    انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران اس دوران کئی مواقع ایسے آئے جب لگا کہ ابھی معاملہ ختم ہو جائے گا مگر فیلڈ مارشل نے ہمت نہیں ہاری جس کے نتیجے میں کل رات جنگ بندی کا اعلان ہوا۔

  20. جمعہ کو جنیوا میں معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دستخط کی تقریب 19 جون کو جنیوا میں ہو گی جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

    پیر کے روز پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دنیا نے امن کا تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے اور ایران اور امریکہ نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ’اس تاریخی معاہدے کی باضابطہ تقریب جمعہ 19 جون کو جنیوا میں ہوگی اور اس تقریب کی میزبانی پاکستان کی ہو گی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ امن اور مکالمے کی فتح، یہ سفارتکاری کی کامیابی اور جنگ کی تباہی ہے۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ اور ایرانی صدر سمیت اس امن عمل میں شریک میں تمام افراد کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ہیں جنھوں نے تدبر، دانش اور صبر کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔

    مذاکرات کے ’کٹھن اور صبر آزما عمل‘ میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، سعودی علی عہد محمد بن سلمان، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے کردار پر ان کا شکریہ ادا کیا۔