آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, تہران میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے حکام کا اجلاس ختم، پزشکیان کا اختلافات کے بجائے مشترکہ مفادات پر توجہ دینے پر زور

اجلاس کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’اگر اختلافات کو بہتر انداز میں حل کیا جائے اور تقسیم کرنے والے معاملات کے بجائے مشترکہ نکات اور مفادات پر توجہ دی جائے تو خطے کے مسائل پر زیادہ آسانی اور مؤثر طریقے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔‘

خلاصہ

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترک انٹیلیجنس سربراہ ابراہیم کالن کا ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے دورہِ تہران
  • ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ایرانی رہنماؤں کے اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے حالیہ دورہ تہران میں پیش کی گئی: ایرانی وزارت خارجہ
  • خالد بن سلمان تہران میں سعودی وفد کی سربراہی کریں گے، مسعود پزشکیان اور محسن رضائی سے بھی ملاقات ہو گی: سعودی حکام
  • سعودی قیادت میں یمنی حوثیوں کے خلاف سرگرم عسکری اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ریاض کی جانب داغا گیا بلیسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ہے
  • نیتن یاہو کو ووٹ دیں تاکہ ہم نے جو کام شروع کیا ہے اسے مکمل کیا جا سکے: ٹرمپ کی اسرائیلی ووٹرز سے اپیل
  • برازیل کے صدر لولا دا سلوا سخت مقابلے کے بعد چوتھی بار ملک کے صدر منتخب ہو گئے ہیں
  • ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کا 90 فیصد کام مکمل کر چکے ہیں: نیتن یاہو کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. چرچ حملے کے بعد اردن کا جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ

    اردن کی فوج رائل ایئر فورس نے پیر کو جنوبی شام میں مبینہ دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    اردنی فوج کے مطابق یہ کارروائی مملکت کے جنوبی صوبے کرک میں ایک چرچ پر ہونے والے حملے کے متاثرین کےانتقام کے طور پر کی گئی اور اس کارروائی میں دمشق کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ کرک کے گاؤں حمود میں تین مسلح افراد نے ایک چرچ پر حملہ کیا تھا جس میں نو افراد ہلاک جبکہ قریب 40 افراد زخمی ہوئے تھے۔

    اردن کی فوج کے مطابق ’اردنین ڈیٹرنس - حمود‘ نامی یہ آپریشن اُس گاؤں کے نام پر رکھا گیا ہے جہاں چرچ پر حملہ ہوا تھا۔

    فوج کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حملے میں ملوث افراد کا تعلق دہشت گرد تنظیموں سے تھا۔

    بیان کے مطابق رائل ایئر فورس کے لڑاکا طیاروں نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے جس کے نتیجے میں کئی عسکریت پسند ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ ان کی متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔

  2. بلوچستان اسمبلی: سرداری نظام کے خلاف حزب اختلاف کی قرارداد پیش نہیں ہوسکی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خلاف حزب اختلاف کے رکن مولانا ہدایت الرحمان کی قرارداد پیش نہیں ہوسکی۔

    قرارداد میں اس نظام کے خاتمے کے ساتھ ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ سردار بولنے اور لکھنے پر بھی پابندی عائد کی جائے۔

    سپیکر بلوچستان اسمبلی نے ایوان میں پیش ہونے سے قبل قرارداد کو نمٹاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں نہ صرف اس کے خلاف قانون منظور ہوا ہے بلکہ اعلیٰ عدالتوں نے بھی اس کے خلاف فیصلے دیے ہیں۔

    اگرچہ یہ قرارداد اسمبلی کے اجلاس میں پیش نہیں ہوسکی تاہم ایوان میں اس پر قائد حزب اختلاف یونس زہری اور مولانا ہدایت الرحمان کے درمیان ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔ قرارداد کے متن میں کیا تھا؟

    قرارداد کے متن کے مطابق بلوچستان کے بعض علاقوں میں سرداری اور قبائلی اثر و رسوخ کے نام پر بعض شہریوں کو بیگار، جبری مشقت، دھمکیوں، جبری فیصلوں، معاشی استحصال، ذاتی آزادیوں پر پابندی اور انصاف تک رسائی میں رکاوٹ جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔

    قرارداد کے مطابق ’اس عمل سے انسانی وقار، شہری آزادیوں، بنیادی مساوات اور قانون کی حکمرانی کے اصول شدید متاثر ہو رہے ہیں۔‘

    قرارداد کے مطابق یہ ایوان اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ بلوچستان کی قبائلی روایات، ثقافت، مہمان نوازی، باہمی احترام اور تاریخی تعاون ہماری تاریخی و سماجی شناخت کا حصہ ہیں۔ تاہم کسی بھی روایت، رسم، خاندانی حیثیت یا قبائلی اقتدار کو کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق سلب کرنے، خواتین اور بچوں پر ظلم کرنے، کمزور طبقات کو دبانے یا ریاستی قانون سے بالاتر ہونے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

    قرارداد میں بلوچستان حکومت سے سفارش کی گئی تھی کہ بلوچستان سے فوری طور پر سرداری نظام کا خاتمہ کیا جائے اور بلوچستان میں سردار اور نواب کا لفظ بولنے اور لکھنے پر پابندی عائد کی جائے۔

    حزب اختلاف کے اراکین کے درمیان جھگڑا

    سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی نے سرداری نظام کے خلاف قرارداد کو پیش نہیں ہونے دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں نہ صرف اس کے خلاف ایک ایکٹ منظور ہوا ہے بلکہ اعلیٰ عدالتوں سے اس کے خلاف فیصلے بھی آئے ہیں جس کے باعث اس قرارداد کو نمٹا دیا جاتا ہے۔

    اسمبلی کی آج کی کارروائی کو نمٹانے کے بعد مولانا ہدایت الرحمان نے پوائنٹ آف آرڈر پر قرارداد پر بات کرنا چاہی تو قائد حزب اختلاف یونس زہری نے کہا کہ قرارداد کو نمٹانے کے بعد اس پر بات کرنے کی کیوں اجازت دی جا رہی ہے۔

    اس پر قائد حزب اختلاف اور مولانا ہدایت الرحمان کے درمیان گرما گرمی ہوئی اور قائد حزب اختلاف حملے کے لیے مولانا ہدایت الرحمان کی نشست کی جانب بڑھے لیکن دوسرے اراکین نے ان کو روک دیا۔

    مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ وہ ترامیم کے ساتھ دوبارہ اس قرارداد کو ایوان میں لائیں گے۔

  3. مصری پارلیمان کی سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کی منظوری

    مصر کی پارلیمان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے ملک کی فوج کو مدد فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    گذشتہ ہفتے مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے پارلیمان سے درخواست کی تھی کہ وہ یمنی حوثیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مصر کے ’عرب اتحاد‘ کی جانب سے مدد کی درخواست منظور کرے۔

    یہ فیصلہ قاہرہ کو خطے کے اس تنازع میں براہِ راست شامل کر سکتا ہے جس میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے ساتھ شدت آ رہی ہے۔

    مصر ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی بارہا مذمت کر چکا ہے، تاہم اس نے اب تک براہِ راست لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔

    گذشتہ بدھ کو مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی اور انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ حسن رشاد نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو صدر السیسی کا خط پہنچانے کے لیے ریاض کا دورہ کیا تھا۔

    خط میں مصری صدر نے واضح کیا تھا کہ مصر کی حمایت صرف سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہوگی اور اس میں یمن پر حملے شامل نہیں ہوں گے۔

    ملاقات کے بعد مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ مصر یمن کے تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے ’تمام مواقع‘ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

  4. بریکنگ, ایرانی صدر مسعود پزشکیان گیس برآمد کنندگان کے اجلاس میں شرکت اور روسی صدر سے ملاقات کے لیے ماسکو روانہ

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان تہران کے سعدآباد محل میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے بعد ماسکو روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ گیس برآمد کرنے والے ممالک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    کریملن نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن منگل کو ماسکو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کریں گے۔

    ماسکو روانگی سے قبل ایرانی صدر نے کہا کہ روس کے ساتھ ایران کے تعلقات ’بہت اچھے ہیں اور روز بروز وسعت اختیار کر رہے ہیں۔‘

  5. روسی صدر پوتن کی منگل کو ایرانی صدر اور امیرِ قطر سے ماسکو میں ملاقاتیں ہوں گی

    روس کے صدارتی محل کریملن سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن منگل کو ماسکو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقاتیں کریں گے۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب پیر کو تہران میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کا مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کرنے پر بات چیت کی گئی۔

    واضح رہے کہ پیر کے روز تہران میں ہونے والے اجلاس میں تہران کے سعدآباد میں ہونے والے اس اجلاس میں ایرانی صدر کے علاوہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی شرکت کی۔

    تاہم اجلاس میں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترکی کے انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن اور پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔اجلاس کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز اور وانا کی جانب سے سامنے آنے والی چند تصاویر:

  6. تہران میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے حکام کا اجلاس ختم، پزشکیان کا اختلافات کے بجائے مشترکہ مفادات پر توجہ دینے پر زور

    ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تہران میں ہونے والا مشترکہ اجلاس اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

    سعودی عرب نے کہا تھا کہ اس اجلاس کا مقصد ’کشیدگی میں اضافے کو روکنا اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کرنا‘ ہے۔

    اجلاس کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’اگر اختلافات کو بہتر انداز میں حل کیا جائے اور تقسیم کرنے والے معاملات کے بجائے مشترکہ نکات اور مفادات پر توجہ دی جائے تو خطے کے مسائل پر زیادہ آسانی اور مؤثر طریقے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔‘

    تہران کے سعدآباد میں ہونے والے اس اجلاس میں ایرانی صدر کے علاوہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی شرکت کی۔

    تاہم اجلاس میں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترکی کے انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن اور پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔اجلاس کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز اور وانا کی جانب سے سامنے آنے والی چند تصاویر:

  7. پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور ایرانی حکام کی تہران میں ملاقات شروع

    ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کا مشترکہ اجلاس ایرانی دارالحکومت تہران میں شروع ہو گیا ہے۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ایکس پر اجلاس کی تصاویر شیئر کی ہیں۔ ان میں ایک تصویر میں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترکی کے انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن اور پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نظر آ رہے ہیں۔

    ایک دوسری تصویر میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    آئی آر آئی بی نے ایک الگ پوسٹ میں ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں محسن رضائی اور عباس عراقچی پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی جانب سے اجلاس میں شریک حکام سے ملاقات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    سعودی عرب نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ان مذاکرات کا مقصد کشیدگی میں اضافے کو روکنا اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے رواں سال سات اگست کو دفاعی اور سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے ’معاہدۂ مکہ‘ کا نام دیا گیا۔

  8. چین کا سرحد پر امن برقرار رکھنے کے لیے انڈیا کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی کا اظہار

    چین کی وزارتِ خارجہ نے پیر کو اروناچل پردیش میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’چین سرحد پر امن برقرار رکھنے کے لیے انڈیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔‘

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے کہا کہ ’چین انڈیا کے ساتھ طے پانے والے متعلقہ معاہدوں اور اہم اتفاقِ رائے پر ہمیشہ سختی سے عمل کرتا رہا ہے۔‘

    چین کے سرکاری میڈیا ’گلوبل ٹائمز‘ کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ’علاقائی خودمختاری کے تحفظ اور سرحدی استحکام برقرار رکھنے کے لیے چین سرحدی علاقوں میں باقاعدگی سے گشت اور نگرانی کی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔‘

    انھوں نے چین اور انڈیا کی سرحد پر تازہ کشیدگی کی اطلاعات کے جواب میں کہا کہ دونوں ملک سفارتی اور فوجی ذرائع کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔

    گو جیاکون نے امید ظاہر کی کہ انڈیا بھی دوطرفہ معاہدوں پر عمل درآمد اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور اس سلسلے میں عملی اقدامات کرے گا۔

    انڈیا کی انڈو تبتین بارڈر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل شتروگھن کپور نے گذشتہ جمعرات کو کہا تھا کہ چند روز کے دوران اروناچل پردیش میں کئی مقامات پر انڈیا اور چین کے فوجی آمنے سامنے آئے ہیں اور یہ صورتِ حال اب بھی برقرار ہے۔

    ان کے بیان کے بعد 23 اکتوبر کو انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ دونوں ملک لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ حل طلب معاملات پر بات چیت اور کسی غلط فہمی یا غلط اندازے سے بچنے کے لیے سفارتی اور فوجی ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔

  9. سری لنکا کے ساحل کے قریب پھنسے 40 ایرانی ملاحوں کو بچا لیا گیا

    سری لنکا کی وزارتِ خارجہ کے مطابق جزیرے کے جنوب مشرقی ساحل کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں طبی امداد کے لیے مدد مانگنے والے 40 ایرانی ملاحوں کے علاج اور وطن واپسی کے انتظامات سے متعلق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی سنہالا سروس کو بتایا کہ ایرانی بحری جہازوں کی جانب سے سنیچر کو فوری طبی امداد کی ضرورت کے بارے میں ہنگامی پیغام موصول ہوا تھا۔

    ترجمان کے مطابق ملاحوں کو بچانے کے آپریشن کی منصوبہ بندی کولمبو میں ایرانی سفارت خانے نے کی۔

    امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایرانی بحری جہاز سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سری لنکا کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازع میں غیر جانب دار ہے، تاہم اس نے مختلف مواقع پر ایرانی ملاحوں کی مدد کی ہے۔

    سری لنکن حکام کے مطابق یہ امداد بین الاقوامی قانون کے تحت ملک کی ذمہ داریوں کے عین مطابق ہے۔

  10. بریکنگ, حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی تیل پائپ لائن کو ایک بار بھر نشانہ بنانے کا دعویٰ

    یمنی حوثیوں نے سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی اہم تیل پائپ لائن کے پمپنگ سٹیشنوں اور ریاض ایئرپورٹ پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اس پائپ لائن اور اس کے پمپنگ سٹیشنوں کو اس سے پہلے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

    سعودی حکام نے تاحال ان حملوں پر کوئی ردِعمل نہیں دیا، تاہم گذشتہ ایک ماہ کے دوران سعودی عرب کے ایئرپورٹس، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں میں شدت آئی ہے۔

    اس سے قبل ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا تھا کہ اس نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں بیلسٹک میزائل داغنے کے دو مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اتحاد کے مطابق ان میں سے ایک مقام سے ریاض کی جانب میزائل داغا گیا تھا، جسے فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

    سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی یہ تیل پائپ لائن تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہے اور جزیرہ نمائے عرب کے وسیع علاقے سے گزرتی ہے۔

    سعودی تیل کمپنی آرامکو کے زیرِ انتظام یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل کی ترسیل کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔

    یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی حصے سے تیل بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔

  11. مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، پاکستان میں شرحِ سود 12 فیصد تک بڑھا دی گئی, تنویر ملک، صحافی

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس (0.5 فیصد) اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ملک میں شرح سود 12 فیصد ہو گئی ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق شرح سود میں اضافے کا فیصلہ آج ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس میں کیا گیا۔

    سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع اور مستقبل قریب میں اس کے حل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں، جس سے پاکستان میں مہنگائی کے منظرنامے کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔‘

    مرکزی بینک کے مطابق مہنگائی کو پانچ سے سات فیصد کے مقررہ ہدف کے اندر رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی سخت کرنے اور شرح سود میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  12. حوثیوں کے حملوں کے بعد ریاض ایئرپورٹ کی 86 فیصد پروازیں منسوخ ہوئیں: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یمنی حوثیوں کے حملوں کے باعث رواں ماہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی فضائی حدود میں پروازوں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور تقریباً ہر 10 میں سے 9 طے شدہ پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    فضائی آمدورفت کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والے ادارے سیریم کے مطابق آٹھ سے 25 اکتوبر کے دوران ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے طے شدہ 4736 پروازوں میں سے 4071 منسوخ ہوئیں، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 86 فیصد ہے۔

    حوثیوں نے رواں ماہ سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ کیا ہے اور بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق ریاض کے ہوائی اڈے پر بارہا حملے ہوئے، جن میں 10 اکتوبر کا حملہ بھی شامل ہے جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی عرب میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔

    سعودی ہوائی اڈوں پر حملے، فضائی کمپنیوں کو دھمکیاں

    سعودی حکام نے 10 اکتوبر سے معطل ریاض ایئرپورٹ کی سرگرمیاں اتوار کو جزوی طور پر بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمینل ون سے اندرونِ ملک پروازیں دوبارہ شروع ہوئیں، جبکہ سعودی فضائی کمپنیوں کو ٹرمینل ٹو سے بین الاقوامی پروازیں چلانے کی اجازت دی گئی۔

    تاہم حوثیوں نے پیر کو دعویٰ کیا کہ انھوں نے ریاض کے ہوائی اڈے کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے اور اسے ’فوجی ہدف‘ قرار دیا۔

    ان حملوں کے باعث متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سعودی دارالحکومت کے لیے پروازیں نومبر تک معطل کر دی ہیں، جبکہ امریکی فضائی کمپنی ڈیلٹا ایئر لائنز نے بھی ریاض کے لیے اپنی پروازوں کا آغاز اگلے سال تک مؤخر کر دیا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق پروازوں میں خلل کے باعث ریاض میں ہونے والی متعدد تقریبات بھی منسوخ یا ملتوی کرنا پڑی ہیں۔ ان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے متعلق اہم کانفرنس بھی شامل ہے، جسے 2027 تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈے بھی متاثر

    روئٹرز کے مطابق پروازوں کی منسوخی کا اثر صرف ریاض تک محدود نہیں رہا۔ سیریم کے اعداد و شمار کے مطابق آٹھ سے 25 اکتوبر کے دوران سعودی عرب کے ہوائی اڈوں سے روانہ ہونے والی 7,800 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئیں، جو تمام طے شدہ پروازوں کا تقریباً 45 فیصد ہیں۔

    ملک بھر میں پروازوں کی منسوخی کی شرح 12 اکتوبر کو سب سے زیادہ رہی، جب 60 فیصد سے زیادہ طے شدہ پروازیں منسوخ ہوئیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق ریاض کے ہوائی اڈے پر پروازوں کی منسوخی کی شرح 86 فیصد رہی، جبکہ دمام میں یہ شرح 42 فیصد اور ابہا میں 46.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ حوثیوں نے ان دونوں شہروں کے ہوائی اڈوں پر بھی حملوں کے دعوے کیے ہیں۔

    سعودی عرب کے بعض چھوٹے علاقائی ہوائی اڈوں پر صورتِ حال مزید سنگین رہی۔ یمن کی سرحد کے قریب واقع نجران کے ہوائی اڈے سے تمام پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

  13. پاکستان نے افغان طالبان کے شہریوں کی ہلاکت سے متعلق الزامات مسترد کر دیے: ’دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں‘

    پاکستان کے دفترِ خارجہ نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے انسدادِ شدت پسندی کی کارروائیوں کے دوران افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کو دہشت گردوں کے حملوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘

    یاد رہے کہ افغان طالبان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ سنہ 2022 کے بعد سے پاکستان کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں اب تک 1119 افغان شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق بلخی نے امریکی ٹی وی چینل ’سی این این‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا تھا کہ ’ان حملوں میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ ان میں کابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک مرکز پر حملے کے متاثرین بھی شامل ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کو ’بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے افغانستان کے ساتھ حقیقی سفارتکاری کے ذریعے اپنے سکیورٹی مسائل حل کرنے چاہییں۔‘

    تاہم پاکستانی دفترِ خارجہ نے پیر (26 اکتوبر) کو جاری بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’گمراہ کن معلومات اور بیانیے افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا نہیں سکتے اور نہ ہی افغان طالبان حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کے آغاز کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری سے بری کر سکتے ہیں۔‘

    پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق صرف رواں سال پاکستان میں ایسے حملوں کے نتیجے میں 3500 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

    دفترِ خارجہ نے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں، بشمول مانیٹرنگ ٹیم، کی رپورٹس میں بھی اس تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ افغان طالبان حکومت متعدد دہشت گرد تنظیموں (بشمول کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے) کو پناہ دے رہی ہے۔‘

    بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ہزاروں شہری شدت پسندوں کے اُن حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جن کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور کارروائیاں افغان سرزمین سے کی گئیں۔ دفترِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں افغان طالبان حکومت کی سرپرستی اور معاونت بھی شامل رہی ہے۔

    پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا کہ کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر خاموش نہیں رہ سکتی۔

    بیان کے مطابق شدت پسندوں کے حملوں کے جواب میں پاکستان کی کارروائیاں اپنے دفاع کے حق کے تحت، ناگزیر حالات میں اور آخری حل کے طور پر کی گئیں، جن کا ہدف صرف افغانستان میں موجود شدت پسند اور ان کے رسدی مراکز تھے۔

    پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دیگر وعدوں پر عمل درآمد میں ناکامی پر افغان طالبان حکومت کو جواب دہ ٹھہرائے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے طویل عرصے سے افغان طالبان پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان کو افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تاہم افغان طالبان حکام ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

  14. پاکستان کی مکہ اور مدینہ کے قریب حوثیوں کے میزائل حملے کی مذمت

    پاکستان نے مکہ اور مدینہ کے قریب حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

    پاکستانی دفترِ خارجہ نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ 24 اکتوبر کو کیے جانے والے ان حملوں میں مقدس مقامات کے قریبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

    بیان کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور اسلام کے مقدس ترین مقامات کے تقدس اور شہریوں کی سلامتی کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہیں۔

    دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مکہ اتحاد کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور دفاع کی حمایت جاری رکھے گا۔ اس میں حرمین شریفین، یعنی مکہ اور مدینہ کی مقدس مساجد، کو کسی بھی بیرونی جارحیت یا خطرے سے محفوظ رکھنے کی حمایت بھی شامل ہے۔‘

    پاکستان نے میزائل حملوں کو ناکام بنانے کے لیے سعودی فضائی دفاعی افواج کی مستعدی اور مؤثر کارروائیوں کو بھی سراہا۔

  15. ایران پر حملے کے معاملے پر اسرائیلی سیاسی و فوجی قیادت میں اختلافات کی تردید: انتخابات سے قبل حملے کا ارادہ نہیں تھا، اسرائیلی وزیر دفاع

    اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیر کو ایران کے ساتھ جنگ میں نئی فوجی کارروائی کے معاملے پر ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات کی اطلاعات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کا انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘

    اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے اتوار کو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر کے درمیان ایک نئے حکم پر اختلاف ہوا تھا۔ تاہم اس حکم کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔

    نیتن یاہو اس سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں اس رپورٹ کو غلط قرار دے چکے ہیں۔

    اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ’اس رپورٹ کی اشاعت کا مقصد انتخابات سے عین قبل بنیامن نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کی فیصلہ سازی اور فیصلوں پر شکوک پیدا کرنا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ انتخابات میں مقابلہ انتہائی سخت ہے۔

    چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق ایال ضمیر نے متعلقہ حکم پر عمل درآمد سے پہلے اس معاملے پر تفصیلی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا اور سیاسی حکام سے قانونی ضمانتیں اور دستخط بھی حاصل کیے تھے۔

    چینل نے اس حکم کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ فوج کے اندر یہ خدشات موجود تھے کہ جنگ کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

  16. ایران امریکہ مذاکرات میں ثالثی کی کوششیں: بقائی کی قطری وفد کی تہران میں موجودگی کی تصدیق

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایران میں قطری وفد کی آمد سے متعلق اطلاعات کے بارے میں ہونے والے سوال کے جواب میں اس بات کی تصدیق کی کہ قطری وفد تہران میں موجود ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ دورہ دوطرفہ نوعیت کا بھی ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں قطر کے بطور ثالث کے کردار سے بھی متعلق ہے۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے گذشتہ روز رپورٹ کیا تھا کہ قطر کی ثالثی کی کوششیں امریکہ کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت کی جا رہی ہیں۔

    قطری اخبار ’نیو عرب‘ نے بھی گذشتہ روز اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں لکھا تھا کہ قطری وفد کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے تہران میں موجود ہے۔

    اس خبر کی باضابطہ تصدیق سے قبل بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ قطر کا ایک طیارہ تہران میں اترا ہے۔

  17. پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وفود کا ایرانی رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ اجلاس: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج تہران کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ مکہ دفاعی معاہدے کے رُکن ممالک بشمول ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے وفود آج (26 اکتوبر) کو تہران کا دورہ کریں گے۔

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران میں اس مشترکہ اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے حالیہ دورۂ ایران کے دوران پیش کی تھی۔

    اسماعیل بقائی نے پیر کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہو گا، جس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی بھی شریک ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ اجلاس میں مختلف علاقائی اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی بھی شامل ہے۔ بقائی کے مطابق خطے کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون کے مختلف پہلو اس اجلاس کے اہم موضوعات ہوں گے۔

    دوسری جانب سعودی عرب کے نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راید کریملی نے کہا ہے کہ وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آج تہران میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب) اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اجلاسوں کے دوران سعودی وفد کی قیادت کریں گے۔

    ڈاکٹر راید کے مطابق اِن ملاقاتوں میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکی کی قومی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن بھی شریک ہوں گے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں ڈاکٹر راید کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے بھی ملاقات کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ تہران کا یہ دورہ جاری بحران اور گشیدگی میں شامل فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور سفارتی حل کی حمایت کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رُکن ممالک کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، اور یہ اقدامات قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کی تائید میں کیے جا رہے ہیں۔

  18. ایران نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم نہیں کیا

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دیے جانے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’یورپ خود مسئلے کا ایک حصہ بن چکا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یورپی ممالک نے گذشتہ دو برس کے دوران کوئی تعمیری کردار ادا نہیں کیا۔‘

    بقائی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے دوران بھی یورپی ممالک نے ان حملوں کی مذمت نہیں کی، بلکہ ان کے بقول ایسے بیانات جاری کیے جو ’امریکی فوجی جارحیت کی توثیق‘ کے مترادف تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’سنیپ بیک میکانزم‘ کو فعال کرنے کی کوشش بھی تین یورپی ممالک کے اسی طرزِ عمل کی ایک اور مثال ہے۔ یہ وہی ممالک ہیں جو کئی سال تک ایران کے جوہری مذاکرات میں مرکزی فریق رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ جرمنی کے وزیرِ خارجہ یوہان واڈیفول نے 23 اکتوبر کو استنبول میں یورپی اور علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

  19. ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سے آئی: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے حالیہ دورۂ تہران کے دوران پیش کی تھی۔

    اس سے قبل ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے اعلان کیا تھا کہ سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان، پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن آج تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    اسماعیل بقائی نے پیر کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہوگا، جس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی بھی شریک ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ اجلاس میں مختلف علاقائی اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی بھی شامل ہے۔

    بقائی کے مطابق خطے کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون کے مختلف پہلو اس اجلاس کے اہم موضوعات ہوں گے۔

  20. ’خالد بن سلمان تہران میں سعودی وفد کی سربراہی کریں گے، مسعود پزشکیان اور محسن رضائی سے بھی ملاقات ہو گی‘

    سعودی عرب کے نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راید کریملی نے کہا ہے کہ وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آج تہران میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب) اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اجلاسوں کے دوران سعودی وفد کی قیادت کریں گے۔

    ڈاکٹر راید کے مطابق اِن ملاقاتوں میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکی کی قومی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن بھی شریک ہوں گے۔ یاد رہے کہ ایرانی حکام بھی تہران میں ہونے والے اِن ملاقاتوں کی تصدیق کر چکے ہیں۔

    ایکس پر اپنے بیان میں ڈاکٹر راید کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے بھی ملاقات کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ تہران کا یہ دورہ جاری بحران اور گشیدگی میں شامل فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور سفارتی حل کی حمایت کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رُکن ممالک کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، اور یہ اقدامات قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کی تائید میں کیے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے اس دورے کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے ممالک کے اہم کردار کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفود خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور پائیدار استحکام کے حصول کے لیے تعاون پر بھی زور دیں گے۔