پاکستان کے دفترِ خارجہ نے افغان طالبان حکومت کی
جانب سے انسدادِ شدت پسندی کی کارروائیوں کے دوران افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے
متعلق الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کو دہشت گردوں کے
حملوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘
یاد رہے کہ افغان طالبان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان
عبدالقہار بلخی نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ سنہ 2022 کے
بعد سے پاکستان کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں اب تک 1119
افغان شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق بلخی نے امریکی ٹی وی
چینل ’سی این این‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا تھا کہ ’ان حملوں
میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ ان میں کابل
میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک مرکز پر حملے کے متاثرین بھی شامل ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان کو ’بے بنیاد الزامات
لگانے کے بجائے افغانستان کے ساتھ حقیقی سفارتکاری کے ذریعے اپنے سکیورٹی مسائل حل
کرنے چاہییں۔‘
تاہم پاکستانی دفترِ خارجہ نے پیر (26 اکتوبر) کو
جاری بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’گمراہ کن معلومات اور بیانیے
افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا نہیں سکتے اور
نہ ہی افغان طالبان حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی
اور ان کے آغاز کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری سے بری کر سکتے ہیں۔‘
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق صرف رواں سال
پاکستان میں ایسے حملوں کے نتیجے میں 3500 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ کے متعلقہ
اداروں، بشمول مانیٹرنگ ٹیم، کی رپورٹس میں بھی اس تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے
کہ افغان طالبان حکومت متعدد دہشت گرد تنظیموں (بشمول کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل
اے) کو پناہ دے رہی ہے۔‘
بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان کے
ہزاروں شہری شدت پسندوں کے اُن حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جن کی منصوبہ بندی، مالی
معاونت اور کارروائیاں افغان سرزمین سے کی گئیں۔ دفترِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ان
حملوں میں افغان طالبان حکومت کی سرپرستی اور معاونت بھی شامل رہی ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا کہ کوئی بھی ذمہ دار
ریاست اپنے شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر خاموش نہیں رہ
سکتی۔
بیان کے مطابق شدت پسندوں کے حملوں کے جواب میں
پاکستان کی کارروائیاں اپنے دفاع کے حق کے تحت، ناگزیر حالات میں اور آخری حل کے
طور پر کی گئیں، جن کا ہدف صرف افغانستان میں موجود شدت پسند اور ان کے رسدی مراکز
تھے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوامِ
متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دیگر وعدوں پر عمل درآمد میں
ناکامی پر افغان طالبان حکومت کو جواب دہ ٹھہرائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری،
علاقائی سالمیت اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ
رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے طویل عرصے سے افغان
طالبان پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان کو افغان
سرزمین سے پاکستان میں حملے کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تاہم افغان طالبان حکام ان
الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔