بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کو ملنے والی تصاویر میں مشرقِ وسطیٰ میں واقع متعدد امریکی فوجی تنصیبات پر ایرانی حملوں کے بعد ہونے والے وسیع نقصان کو دکھایا گیا ہے۔ تصاویر مبینہ طور پر فعال امریکی فوجی اہلکاروں نے فراہم کی ہیں اور ان میں تباہ شدہ ریڈار طیارہ، مسمار شدہ رہائشی ٹریلرز اور شدید متاثرہ عمارتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہ غیر تاریخ شدہ تصاویر سعودی عرب اور کویت میں موجود امریکی اڈوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی بی ایس کو بتایا کہ امریکی عوام کو اڈوں پر پہنچنے والے نقصان کے اصل حجم سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول، ’ہم آنکھیں بند کیے کھڑے ہیں اور مسلسل حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
تصاویر کی آزادانہ تصدیق بی بی سی نے نہیں کی، تاہم یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی محکمہ دفاع کے نگران ادارے کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کے حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر سینکڑوں عمارتیں اور تنصیبات تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں۔
تصاویر میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر موجود ایک بوئنگ ای-3 سینٹری طیارہ بھی دکھایا گیا ہے جو دو حصوں میں بٹا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ طیارے دور فاصلے پر ممکنہ اہداف اور خطرات کی نشاندہی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مارچ میں بھی اسی نوعیت کی ایک تصویر کی تصدیق بی بی سی ویریفائی کر چکا تھا۔ اس حملے کے بعد ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ 12 امریکی اہلکار زخمی ہوئے تھے جن میں دو کی حالت تشویش ناک تھی۔
کویت کے کیمپ بیوہرنگ سے منسوب تصاویر میں تباہ شدہ ٹریلرز اور ایک بڑا خیمہ نما ڈھانچہ دکھایا گیا ہے جو مکمل طور پر ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے، جبکہ مقام سے دھواں اٹھتا نظر آ رہا ہے۔ مارچ میں اس مقام پر سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ نئی تصاویر اسی حملے کی ہیں یا کسی اور واقعے کی۔
امریکی قومی سلامتی کے سابق اہلکار اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر فیلو برائن کاتولس کے مطابق تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’امریکہ اپنی تنصیبات کے دفاع کے لیے مناسب تیاری نہیں کر سکا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ چین اور روس جیسے امریکی حریف ممکنہ طور پر ایرانی ہدف بندی میں معاون ثابت ہوئے ہوں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
پینٹاگون کے نگران ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے حملوں میں کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں واقع امریکی اڈوں پر سینکڑوں عمارتیں اور ڈھانچے متاثر ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق صرف فوجی سازوسامان کا نقصان 3.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 29 جون تک جنگ پر امریکی اخراجات 33.4 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں امریکی فضائیہ کے درجنوں طیارے تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے، جن میں سعودی عرب میں زمین پر موجود پانچ ایندھن بردار طیارے بھی شامل ہیں جو ایرانی حملوں میں متاثر ہوئے۔
کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کی ایک علیحدہ رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والا E-3 AWACS طیارہ اب پیداوار میں نہیں اور اس کی جگہ جدید E-7 طیارہ لینا پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق صرف ایک E-3 طیارے کی مالیت تقریباً 500 ملین ڈالر ہے، جبکہ جنگ میں ضائع ہونے والے دیگر طیاروں، ڈرونز اور دفاعی نظاموں سمیت کل نقصانات کا تخمینہ 1.9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
سی بی او نے واضح کیا کہ اس کے تخمینوں میں غیر یقینی کی گنجائش موجود ہے کیونکہ امریکی محکمہ دفاع نے معلومات کی فراہمی کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا، جس کے باعث ادارے کو سرکاری ڈیٹا بیسز اور عوامی رپورٹس پر انحصار کرنا پڑا۔
برائن کاتولس کے مطابق مالی نقصان سے بھی زیادہ تشویش ناک اثر امریکی فوجی تیاریوں پر پڑا ہے۔ ان کے بقول امریکہ کو ایشیا سے فوجی وسائل مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا پڑے، جس سے خطے میں چین کے مقابلے میں امریکی اور اتحادی پوزیشن کمزور ہوئی۔ ساتھ ہی امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی نے روس کو بھی نیٹو اتحادیوں کے خلاف مزید جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے وائٹ ہاؤس پر عوامی اور سیاسی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران متعدد بار خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں، امریکی اتحادی ممالک اور اسرائیل کو نشانہ بنا چکا ہے۔
منگل کی شب امریکی ایوانِ نمائندگان نے تیسری مرتبہ ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے حق میں ووٹ دیا۔ منظور کیے گئے اقدام کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں ختم کرنا ہوں گی۔
یہ قرارداد بعض ریپبلکن ارکان کی حمایت سے منظور ہوئی اور نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل اس معاملے پر ایوانِ نمائندگان کی ممکنہ طور پر آخری ووٹنگ تصور کی جا رہی ہے۔
تاہم اس اقدام کی حتمی منظوری کا راستہ ابھی غیر یقینی ہے کیونکہ امریکی سینیٹ نے تاحال اس معاملے پر غور کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔
اسی روز سبکدوش ہونے والے ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے انکشافات کے درمیان وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے مواخذے کی کوشش کا اعلان بھی کیا۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے وزیرِ دفاع کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیٹ ہیگستھ ’بہترین انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔‘