آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں روزانہ اضافہ: کیا حکومت ’لیوی‘ میں کمی سے عوام کو ریلیف دے سکتی ہے؟
- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, صحافی
- مقام, اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی اور یمن میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں حکومت نے ستمبر میں لگاتار سات مرتبہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔
پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 12 ستمبر سے پیٹرول کی قیمت پانچ روپے اضافے کے بعد اب 375 روپے 82 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اب یمن میں حوثیوں نے خلیج عدن کو بحیرۂ احمر سے ملانے والی ایک اہم آبی گزر گاہ باب المندب پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت عالمی منڈیوں میں خام تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔
جنگ کے دوران تیل کی رسد میں خلل اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ سے خام تیل درآمد کرنے والے پاکستان جیسے ممالک متاثر ہوئے ہیں۔
عالمی توانائی ایجنسی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے میں تاخیر اور موجودہ حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ 2027 میں بھی تیل کی رسد معمول پر نہیں آ سکے گی جس کی وجہ سے قیمتوں میں کمی کا امکان کم ہے۔
جہاں عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں عام افراد متاثر ہو رہے ہیں تو وہیں حکومت کی جانب سے پیٹرولیئم مصنوعات پر عائد لیوی، ٹیکس اور ڈیوٹیز پر بھی تنقید ہو رہی ہے۔ کئی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت پیٹرولیئم ڈیویلپمنٹ لیوی یعنی پی ڈی ایل میں کمی سے عوام کو کچھ ریلیف دے۔
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت میں اضافے پر کمزور اور متاثرہ طبقات کو وفاقی حکومت نے 130 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق پاکستان اس وقت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں ہے اسی لیے مالی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں پیٹرول پر عائد لیوی اور ٹیکس برقرار
رواں سال فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ سے قبل پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 258 روپے فی لیٹر تھی۔ تاہم جنگ میں طوالت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں پیٹرول مہنگا ہوتا رہا اور اپریل کے اوائل میں فی لیٹر قیمت 458.4 روپے تک چلی گئی۔ یہ اب تک پاکستان میں پیٹرول کی بلند ترین قیمت رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر ڈیزل جو کہ جنگ سے قبل 275.70 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا تھا وہ اپریل میں 520.35 روپے کی بلند ترین سطح کو پہنچ گیا تھا۔
بعد ازاں پاکستان کی کوششوں سے عارضی جنگ بندی اور اسلام آباد معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم ہو کر 75 ڈالر فی بیرل تک آ گئی اور پاکستان میں بھی فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی آئی۔
جولائی میں ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے لیکن رواں ہفتے یمن میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد سے تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر گئی۔
جنگ کے طول پکڑنے اور غیر مستحکم حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے جولائی کے وسط میں فیصلہ کیا کہ اب پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان ہفتہ وار کے بجائے یومیہ بنیادوں پر کیا جائے گا۔
پاکستان میں رواں ماہ سات بار پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمتوں میں 30 روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔
پیٹرولیئم مصنوعات کی آئے روز بڑھتی ہوئی قیمتوں سے تاجر، ٹرانسپورٹرز اور عام عوام پریشان ہیں اور وہ حکومت کی جانب سے ان غیر معمولی حالات میں بھی پیٹرول اور ڈیزل پر عائد ٹیکس کی شرح کم نہ کرنے پر تنقید کر رہے ہیں۔
اس وقت ایک لیٹر پیٹرول پر مختلف ٹیکسز، ڈیوٹیز کی مد میں حکومت قریب 106 روپے وصول کر رہی ہے جبکہ مختلف مارجنز کو شامل کیا جائے تو عوام کو مجموعی طور پر فی لیٹر پیٹرول پر اضافی 130 روپے سے زائد ادا کرنے پڑتے ہیں۔
حکومت فی لیٹر پر پیٹرولیئم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی مد میں فی لیٹر 80 روپے، کلائیمیٹ لیوی کی مد میں 5 روپے فی لیٹر اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 21.15 روپے وصول کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن کی مد میں 17.85 روپے فی لیٹر لیے جا رہے ہیں۔
لیوی کی مد میں لی جانے والی یہ رقم حکومت کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ وزارتِ خزانہ کی دستاویزات میں دیے گئے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران حکومت نے پی ڈی ایل کی مد میں 1566 ارب روپے وصول کیے ہیں جبکہ رواں مالی سال کے دوران پیٹرولیئم لیوی سے 1576 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت پیٹرول پر عائد لیوی کم کیوں نہیں کر رہی؟
پاکستان میں توانائی کا زیادہ تر انحصار خام تیل اور پیٹرولیئم مصنوعات کی درآمد پر ہوتا ہے اور عالمی منڈی میں معمولی رد و بدل سے عوام متاثر ہوتے ہیں۔
ماہر اقتصادیات ڈاکٹر خاقان نجیب ماضی میں وزارتِ خزانہ میں فرائض انجام دیتے رہے ہیں اور انھیں آئی ایم ایف کے ساتھ بھی معاملات طے کرنے کا تجربہ ہے۔
اس سوال پر کہ کیا پاکستانی حکومت پیٹرولیئم لیوی میں کمی کی گنجائش رکھتی ہے، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ حالات میں حکومت کے پاس آئی ایم ایف سے ریلیف کے بارے میں بات چیت کی گنجائش موجود ہے۔ لیکن ان کے بقول ریلیف کے لیے کوئی بھی تجویز مالیاتی لحاظ سے قابلِ عمل اور آئی ایم ایف پروگرام سے ہم آہنگ ہونی ضروری ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ حکومت توانائی کی زیادہ قیمتوں کے عوام اور کاروباری شعبے پر پڑنے والے اثرات سے آگاہ ہے اور وزیراعظم کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کے ذریعے تمام ممکنہ آپشنز کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ ’لیوی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا فیصلہ مالیاتی اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مجموعی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ جہاں مالی گنجائش موجود تھی، وہاں ریلیف فراہم کیا گیا۔ تاہم، مزید کسی بھی فیصلے کا انحصار بدلتی ہوئی صورتحال پر ہو گا۔ اس لیے اس مرحلے پر کسی حتمی فیصلے کے بارے میں قیاس آرائی نہیں کی جا سکتی۔
ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیئم مصنوعات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ پی ڈی ایل بھی لگایا لیکن وہ کہتے ہیں کہ غیر ضروری ٹیکسز اور ڈیوٹیز نہیں ہونی چاہییں۔
ان کے مطابق ’حکومت پی ڈی ایل کی 18 فیصد تک حد مقرر کرے، توانائی پر دیگر ٹیکسز کم کرے اور اپنی آمدن ٹیکس کا دائرہ کار بڑھا کر پوری کرے۔‘
ان کا مشورہ ہے کہ اس کے لیے حکومت خصوصاً پراپرٹی، ریٹیل اور سروسز کے شعبوں میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور وصولیوں کے نظام کو مضبوط بنانے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ اخراجات میں اصلاحات لا کر مالی استحکام بھی برقرار رکھتے ہوئے صارفین کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت آمدن کے ذرائع بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز پر کام کر رہی ہے لیکن پی ڈی ایل حکومتی خاص کر وفاقی حکومت کی آمدن کا اہم ذریعہ ہے اس لیے اس میں فوری کمی کے بجائے مرحلہ وار کمی کی جا سکتی ہے۔
خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ مزید کوئی بھی ریلیف عارضی اور ایک خاص طبقے کے لیے ہو سکتا ہے کیونکہ حکومتی ترجیح کمزور اور مستحق گھرانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ معاشی استحکام کو متاثر کیے بغیر انھیں کچھ ریلیف مل سکے۔
پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ کیوں؟
پاکستان کی مذہبی سیاسی پارٹی جماعتِ اسلامی لاہور اور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں پیٹرولیئم مصنوعات پر عائد ڈیویلپمنٹ لیوی کے خاتمے کے لیے احتجاجی دھرنا دیے ہوئے ہے۔
28 روز سے جاری ان دھرنوں کے شرکا کا مطالبہ ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول پر عائد ٹیکسوں کو ختم کرے۔
اس سلسلے میں جماعت کے رہنماؤں اور حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے ہیں جس کے بعد جماعت اسلامی نے احتجاج کا دائرہ مزید شہروں تک بڑھانے اور احتجاج کے اگلے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے 20 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔
جماعتِ اسلامی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمٰن نے جمعے کے روز گوجرانوالا میں جاری دھرنے کے شرکا سے خطاب کے دوران پیٹرولیئم لیوی کو ’غنڈہ ٹیکس‘ قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ اسے واپس لے۔
توانائی کے عالمی ادارے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کا کہنا ہے کہ رواں سال عالمی سطح پر خام تیل کی رسد اور طلب دونوں میں کمی آئی ہے۔ آئی ای اے کے مطابق سپلائی لائنز کے متاثر ہونے اور قیمتوں میں اضافے کے سبب خام تیل کی یومیہ رسد میں 57 لاکھ بیرل کی کمی ہو رہی ہے۔
اس نے خبردار کیا کہ 2027 میں بھی تیل کی رسد معمول پر نہیں آ سکے گی جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔
ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ قیمتوں میں اضافے سے طلب میں بھی کمی ہوئی ہے لیکن سپلائی میں تیزی سے کمی کے سبب عالمی سطح پر خام تیل کے ذخائر میں ریکارڈ کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست میں عالمی ذخائر 31 لاکھ بیرل یومیہ کی کمی کے ساتھ 7.8 ارب بیرل کی سطح پر آئے گئے ہیں جو 2023 کے بعد اب تک کی کم ترین سطح ہے۔
چین اور امریکہ سمیت دنیا کی بڑی معیشتیں خام تیل کے سٹریٹیجک ریزور رکھتی ہیں لیکن حالیہ جنگ کے دوران عالمی سطح پر قیمتوں میں توازن کے لیے ان ذخائر کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
آئی ای اے کا کہنا ہے کہ اب تک ان ذخائر نے مارکیٹ میں توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات پر حالیہ حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش نے تیل پیدا کرنے والے ممالک اوپیک کی پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل سعودی عرب کی تیل کی یومیہ پیداوار حالیہ حملوں کے سبب بہت متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار 60 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے جو تین دہائیوں کی کم ترین یومیہ پیداوار ہے۔
حملوں کے سبب تیل کی پیداوار میں کمی اور کم ہوتے سٹریٹیجک ذخائر کے سبب اس بات کا امکان کم ہے کہ 2027 میں بھی خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئے۔ توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتیں سال کے اختتام تک 90 ڈالر فی بیرل تک رہیں گی۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کریں اور توانائی کے دیگر ذرائع کو بروئے کار لائیں۔
تجزیہ کار خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد سستا پیٹرول فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسی معیشت تشکیل دینا ہونا چاہیے جو تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے جھٹکوں سے کم سے کم متاثر ہو۔