آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, نئی تصاویر میں ایرانی حملوں کے بعد امریکی اڈوں پر تباہی کے مناظر

بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کو ملنے والی تصاویر میں مشرقِ وسطیٰ میں واقع متعدد امریکی فوجی تنصیبات پر ایرانی حملوں کے بعد ہونے والے وسیع نقصان کو دکھایا گیا ہے۔ یہ تصاویر مبینہ طور پر حاضر سروس امریکی فوجی اہلکاروں نے فراہم کی ہیں اور ان میں تباہ شدہ ریڈار طیارہ، مسمار شدہ رہائشی ٹریلرز اور شدید متاثرہ عمارتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

خلاصہ

  • وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی اسلام آباد آمد: راستوں کی بندش اور ٹریفک جام کے باعث شہری سڑکوں پر پھنس رہے
  • تحقیقاتی رپورٹ میں پمز نرسری آتشزدگی ادارہ جاتی ناکامی قرار، وزیر اعظم کا تین ماہ میں اصلاحات کا حکم
  • بین الاقوامی سمندری حدود میں پاکستانی اور انڈین بحریہ کے جہازوں کا مبینہ ٹکراؤ: انڈیا کا پاکستان سے احتجاج
  • حوثیوں کے خلاف سعودی قیادت والے اتحاد کا دعویٰ ہے کہ مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ڈرون کو تباہ کر دیا گیا ہے
  • حوثی گروہ کے ایک عہدیدار نے مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش کے سعودی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیا ہے
  • وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے دفاع میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے
  • پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ جارحانہ نہیں اور دفاعی وعدوں کی آپریشنل تفصیلات عوامی سطح پر نہیں بتائی جا سکتیں

لائیو کوریج

  1. امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران اور روس پر نئی پابندیوں کے بل کی منظوری دے دی

    امریکی ایوانِ نمائندگان نے بُدھ کو ایران اور روس کے خلاف وسیع پابندیوں پر مشتمل ایک بل 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور کر لیا۔ اس بل کو پہلے ہی سینیٹ کی منظوری حاصل ہو چکی ہے اور اب اسے دستخط کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجا جائے گا۔

    ’لنڈسے گراہم روس اینڈ ایران سینکشنز ایکٹ‘ کے نام سے پیش کیے گئے اس قانون کا مقصد روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ تعاون کرنے والے ایرانی اداروں کے خلاف بھی پابندیوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے۔

    بل کی اہم شقوں میں روسی حکام، مالیاتی اداروں، بینکوں اور روس کے توانائی و دفاعی شعبوں پر مزید پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ روسی تیل کی برآمدات میں پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

    قانون کے تحت امریکی صدر کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کر سکیں۔

    سینیٹ نے اگست میں اس بل کو 11 کے مقابلے میں 86 ووٹوں سے منظور کیا تھا، جبکہ ایوانِ نمائندگان نے 16 ستمبر کو اسے حتمی منظوری دی۔ بل اب صدر ٹرمپ کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس بھیج دیا گیا ہے۔

    اس قانون کے ذریعے 1996 کے ایران پابندیوں کے ایکٹ کی مدت 2026 کے بجائے 2031 تک پانچ سال کے لیے بڑھا دی جائے گی۔ یہ شق موجودہ پابندیوں کے قانونی فریم ورک کو برقرار رکھتی ہے اور اس کے تحت فوری طور پر نئی کمپنیوں یا افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا رہا۔

    تاہم بل کے مطابق روس کے ساتھ ہتھیاروں یا دفاعی تعاون میں ملوث ایرانی کمپنیوں اور اداروں کو روس سے متعلق پابندیوں کے تحت نشانہ بنایا جا سکے گا، جس سے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

  2. امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں سے بڑے پیمانے پر تباہی، نئی تصاویر منظرِ عام پر

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کو ملنے والی تصاویر میں مشرقِ وسطیٰ میں واقع متعدد امریکی فوجی تنصیبات پر ایرانی حملوں کے بعد ہونے والے وسیع نقصان کو دکھایا گیا ہے۔ تصاویر مبینہ طور پر فعال امریکی فوجی اہلکاروں نے فراہم کی ہیں اور ان میں تباہ شدہ ریڈار طیارہ، مسمار شدہ رہائشی ٹریلرز اور شدید متاثرہ عمارتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    یہ غیر تاریخ شدہ تصاویر سعودی عرب اور کویت میں موجود امریکی اڈوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی بی ایس کو بتایا کہ امریکی عوام کو اڈوں پر پہنچنے والے نقصان کے اصل حجم سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول، ’ہم آنکھیں بند کیے کھڑے ہیں اور مسلسل حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

    تصاویر کی آزادانہ تصدیق بی بی سی نے نہیں کی، تاہم یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی محکمہ دفاع کے نگران ادارے کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کے حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر سینکڑوں عمارتیں اور تنصیبات تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    تصاویر میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر موجود ایک بوئنگ ای-3 سینٹری طیارہ بھی دکھایا گیا ہے جو دو حصوں میں بٹا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ طیارے دور فاصلے پر ممکنہ اہداف اور خطرات کی نشاندہی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مارچ میں بھی اسی نوعیت کی ایک تصویر کی تصدیق بی بی سی ویریفائی کر چکا تھا۔ اس حملے کے بعد ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ 12 امریکی اہلکار زخمی ہوئے تھے جن میں دو کی حالت تشویش ناک تھی۔

    کویت کے کیمپ بیوہرنگ سے منسوب تصاویر میں تباہ شدہ ٹریلرز اور ایک بڑا خیمہ نما ڈھانچہ دکھایا گیا ہے جو مکمل طور پر ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے، جبکہ مقام سے دھواں اٹھتا نظر آ رہا ہے۔ مارچ میں اس مقام پر سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ نئی تصاویر اسی حملے کی ہیں یا کسی اور واقعے کی۔

    امریکی قومی سلامتی کے سابق اہلکار اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر فیلو برائن کاتولس کے مطابق تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’امریکہ اپنی تنصیبات کے دفاع کے لیے مناسب تیاری نہیں کر سکا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ چین اور روس جیسے امریکی حریف ممکنہ طور پر ایرانی ہدف بندی میں معاون ثابت ہوئے ہوں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔

    پینٹاگون کے نگران ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے حملوں میں کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں واقع امریکی اڈوں پر سینکڑوں عمارتیں اور ڈھانچے متاثر ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق صرف فوجی سازوسامان کا نقصان 3.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 29 جون تک جنگ پر امریکی اخراجات 33.4 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں امریکی فضائیہ کے درجنوں طیارے تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے، جن میں سعودی عرب میں زمین پر موجود پانچ ایندھن بردار طیارے بھی شامل ہیں جو ایرانی حملوں میں متاثر ہوئے۔

    کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کی ایک علیحدہ رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والا E-3 AWACS طیارہ اب پیداوار میں نہیں اور اس کی جگہ جدید E-7 طیارہ لینا پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق صرف ایک E-3 طیارے کی مالیت تقریباً 500 ملین ڈالر ہے، جبکہ جنگ میں ضائع ہونے والے دیگر طیاروں، ڈرونز اور دفاعی نظاموں سمیت کل نقصانات کا تخمینہ 1.9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

    سی بی او نے واضح کیا کہ اس کے تخمینوں میں غیر یقینی کی گنجائش موجود ہے کیونکہ امریکی محکمہ دفاع نے معلومات کی فراہمی کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا، جس کے باعث ادارے کو سرکاری ڈیٹا بیسز اور عوامی رپورٹس پر انحصار کرنا پڑا۔

    برائن کاتولس کے مطابق مالی نقصان سے بھی زیادہ تشویش ناک اثر امریکی فوجی تیاریوں پر پڑا ہے۔ ان کے بقول امریکہ کو ایشیا سے فوجی وسائل مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا پڑے، جس سے خطے میں چین کے مقابلے میں امریکی اور اتحادی پوزیشن کمزور ہوئی۔ ساتھ ہی امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی نے روس کو بھی نیٹو اتحادیوں کے خلاف مزید جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے وائٹ ہاؤس پر عوامی اور سیاسی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران متعدد بار خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں، امریکی اتحادی ممالک اور اسرائیل کو نشانہ بنا چکا ہے۔

    منگل کی شب امریکی ایوانِ نمائندگان نے تیسری مرتبہ ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے حق میں ووٹ دیا۔ منظور کیے گئے اقدام کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں ختم کرنا ہوں گی۔

    یہ قرارداد بعض ریپبلکن ارکان کی حمایت سے منظور ہوئی اور نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل اس معاملے پر ایوانِ نمائندگان کی ممکنہ طور پر آخری ووٹنگ تصور کی جا رہی ہے۔

    تاہم اس اقدام کی حتمی منظوری کا راستہ ابھی غیر یقینی ہے کیونکہ امریکی سینیٹ نے تاحال اس معاملے پر غور کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

    اسی روز سبکدوش ہونے والے ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے انکشافات کے درمیان وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے مواخذے کی کوشش کا اعلان بھی کیا۔

    دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے وزیرِ دفاع کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیٹ ہیگستھ ’بہترین انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔‘

  3. چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، فیصلے خطے کے تزویراتی توازن کا تعین کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چین میں چینی حکام اور شراکت داروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو کامياب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے فیصلے خطے میں مستقبل کے ’سٹریٹجک بیلنس‘ یعنی تزویراتی توازن کا تعین کریں گے۔

    سماجی رابطے کی سائٹ پر جاری کردہ ایک پیغام میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران چین کے ساتھ وقت کے ساتھ قائم ہونے والی تزویراتی شراکت داری کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ اس وقت لیے جانے والے فیصلوں کے خطے پر انتہائی گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق خطے میں امن قائم کرنے کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ ’چار بنیادی اصول‘ کلیدی اہمیت کے حامل ہیں اور ان پر عمل درآمد امن کے لیے لازمی ہے۔

  4. وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی اسلام آباد آمد: راستوں کی بندش اور ٹریفک جام کے باعث شہری سڑکوں پر پھنس گئے

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اعلان کردہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے سلسلے میں کارکنوں کو متحرک کرنے کی غرض سے گذشتہ تین روز سے صوبہ پنجاب میں موجود وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بدھ کی شام وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    اُن کی اسلام آباد آمد کے موقع پر جڑواں شہروں کی پولیس کی جانب سے کیے گئے سکیورٹی اقدامات کے باعث سڑکوں پر رات گئے تک شدید ٹریفک جام رہا جبکہ سینکڑوں شہری ٹریفک میں پھنسے رہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد ہائی وے پر پہنچنے والا سہیل آفریدی کا قافلہ ابتدائی طور پر نجی رہائشی سکیم گلبرگ کے قریب واقع پُل پر رُکا۔

    یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ راولپنڈی میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکن کے فاتحہ کے لیے جانا چاہتے تھے مگر پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور انھیں پنڈی کی طرف نہیں جانے دیا گیا۔

    اسلام آباد ایکسپریس وے پر اُن کی موجودگی کے باعث پنڈی، اسلام آباد کی اس مرکزی شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آئیں جبکہ ذیلی سڑکوں پر بھی ٹریفک جام کی صورتحال رہی۔

    ایکپسریس وے پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور پولیس کو ناصرف پنجاب بلکہ اسلام آباد میں بھی دھکے دیے جا رہے ہیں۔ ’یہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں، جو رویہ ہمارے ساتھ روا رکھا گیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔‘

    سہیل آفریدی کا قافلہ اس رپورٹ کے فائل ہونے پر ایکسپریس وے پر ہی موجود تھا۔

  5. ایرانی میڈیا میں حوثیوں کے حملے اور سعودی عرب کی ’تنہائی‘ کی خبریں نمایاں

    ایرانی سرکاری ٹی وی اور اس سے منسلک ذرائع ابلاغ نے 15 اور 16 ستمبر کو یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں اور ان کی جانب سے پیش قدمی کی اطلاعات کو نمایاں طور پر کوریج دی گئی۔

    16 ستمبر کو ایرانی سرکاری ٹی وی نے حوثیوں کی جانب سے سعودی جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کے دعوے اور حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے بیان کو نشر کیا۔ یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر یمن میں حملے تیز کرنے، جن میں شہری اہداف بھی شامل ہیں، کا الزام عائد کرتے ہوئے حوثیوں کی جانب سے جواب دینے کا انتباہ کیا۔

    ایرانی میڈیا نے حوثیوں کے مذاکرات کار کے اس بیان کو بھی نمایاں کیا کہ سعودی فوجی کارروائی کامیاب نہیں ہوگی اور ماضی میں بھی ایسی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

    ایران کی سخت گیر خبر رساں ایجنسیوں تسنیم اور فارس نے حوثیوں کے حملوں میں سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچنے اور ان کے خلاف مزید پیش قدمی کے دعوے رپورٹ کیے۔

    ایرانی اخبارات نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے 15 ستمبر کو قاہرہ کے دورے کو بھی سعودی عرب پر بڑھتے دباؤ کے تناظر میں پیش کیا۔ سخت گیر اخبار وطنِ امروز نے اسے ’سعودی تنہائی‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل، برطانیہ، پاکستان اور ترکی نے سعودی عرب کی فوجی مدد کی درخواستیں مسترد کر دیں، جبکہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے صرف سیاسی حل کی حمایت کی۔

    ایرانی میڈیا نے سعودی عرب کی ترکی اور پاکستان کے ساتھ حالیہ دفاعی شراکت داری اور مصر کو اس میں شامل کرنے کی ممکنہ کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ فارس نے کہا کہ حوثیوں کے حملے اس دفاعی انتظام کے لیے پہلا امتحان ہیں اور اس سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ یہ اتحاد ’صرف کاغذ‘ پر موجود ہے۔

    فارس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ’یمن سے ہونے والے حملوں کے باعث سعودی عرب نے یورپ کی بعض ریفائنریوں کو رواں ماہ لوڈ ہونے والی خام تیل کی کھیپیں منسوخ کرنے کی اطلاع دی ہے۔‘ ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کے مشرق اور مغرب دونوں جانب تیل کی برآمدی گزرگاہوں کو دباؤ کا سامنا ہے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی کے تجزیہ کاروں نے ان پیش رفت کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے لیے ایک چیلنج کے طور پر پیش کیا۔ ایک تجزیہ کار نے دعویٰ کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں اپنی ’عملی صلاحیت‘ کھو چکا ہے، جبکہ ایک اور تجزیہ کار نے کہا کہ یمن اور عراق کی مزاحمتی کارروائیوں نے خطے میں ’مزاحمت‘ کے کمزور ہونے کا تاثر ختم کر دیا ہے۔

  6. عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

    عالمی منڈی میں بدھ کو تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کی کھیپ کی پیشکش کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی رسد میں خلل سے متعلق خدشات میں کمی آئی ہے، تاہم یورپ میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ بلند سطح کے قریب رہیں۔

    روئٹرز کے مطابق بدھ کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے کاروبار کے حوالے سے اس خبر کے سامنے آنے کے بعد اس کی قیمت ایک ڈالر 30 سینٹ، یعنی 1.2 فیصد کم ہو کر 107.45 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت ایک ڈالر 96 سینٹ، یعنی 1.85 فیصد کمی کے ساتھ 103.87 ڈالر فی بیرل رہی۔

    اس سے ایک روز قبل تیل کی قیمتوں میں تین ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا تھا۔ شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ذرائع نے بتایا تھا کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی اہم برآمدی بندرگاہ ینبع سے خام تیل کی لوڈنگ معطل کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ریاض نے یورپی صارفین کے لیے خام تیل کی کچھ کھیپوں کی ترسیل بھی منسوخ کر دی تھی۔ اس کے بعد اُن خدشات میں اضافہ ہوا تھا کہ تیل کی ایک اہم برآمدی گزرگاہ میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔

  7. روسی میجر جنرل انتون گرونس یوکرین میں محاذِ جنگ پر ہلاک، روسی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ

    جلا وطن روسی خبر رساں ادارے وازھنیئے استورئی نے خبر دی ہے کہ روسی فوج کے میجر جنرل انتون گرونیس یوکرین میں محاذِ جنگ پر ہلاک ہو گئے ہیں۔

    جنرل انتون گرونیس ’گروزنی‘ کے نام سے بھی معروف تھے اور چوتھی موٹرائزڈ رائفل بریگیڈ کی کمان کر رہے تھے۔

    ادارے کے مطابق جنرل گرونس کی ہلاکت کی تصدیق اخمت یونٹ کے چیچن کمانڈر اپتی علاالدینوف نے بھی کی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں جنرل گرونس کی بریگیڈ یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس کے اہم شہر کوسٹیانٹینیوکا کے لیے جاری لڑائی میں شریک رہی تھی۔

    رواں سال جولائی میں جنرل گرونس نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو اطلاع دی تھی کہ روسی افواج نے کوسٹیانٹینیوکا پر قبضہ کر لیا ہے۔ جس کے بعد اگست میں انھیں ترقی دی گئی اور اس کارروائی کے لیے ’ہیرو آف رشیا‘ کا اعزاز اور ایک تمغہ بھی دیا گیا۔

    تاہم جنرل گرونس کی ہلاکت کے حالات ابھی واضح نہیں ہیں۔

    وازھنیئے استورئی کے مطابق لیک ہونے والی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ وہ الچیفسک میں تعینات تھے، جو کوسٹیانٹینیوکا کے مشرق میں واقع ایک شہر ہے۔

    اطلاعات کے مطابق 13 ستمبر کو یوکرینی حملوں میں اس علاقے میں فوجی لاجسٹک مراکز اور اسلحہ ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    یوکرین کے ڈرون آپریشنز کی فورسز کے کمانڈر رابرٹ مادیار بروودی نے 16 ستمبر کو ایک ویڈیو جاری کی ہے جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس میں وہ حملہ دکھایا گیا ہے جس میں جنرل گرونس مارے گئے۔ بروودی کے مطابق جنرل گرونس 12 ستمبر کو ہلاک ہوئے تھے۔

    رپورٹس کے مطابق جنرل گرونس اس سے قبل چیچنیا، جنوبی اوسیتیا اور شام میں بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ وہ 2021 میں ریٹائر ہو گئے تھے، تاہم یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے آغاز کے بعد دوبارہ فعال فوجی خدمت میں واپس آ گئے تھے۔

    دوسری جانب روس سے وابستہ بعض فوجی بلاگرز نے جنرل گرونس کو کوسٹیانٹینیوکا کے لیے جاری لڑائی میں اہم کردار کا حامل قرار دیا ہے۔

    تاہم آزاد مبصرین اور جنگی صورتحال کا جائزہ لینے والے اداروں کے مطابق یہ شہر مکمل طور پر روسی کنٹرول میں نہیں ہے اور وہاں اب بھی لڑائی جاری ہے۔

    یوکرین کے جنرل سٹاف اور صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جولائی میں روس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ کوسٹیانٹینیوکا پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔

  8. اسلام آباد ہائی کورٹ نے لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار کرنے سے روک دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو متوقع لانگ مارچ سے قبل پارٹی رہنماؤں کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے اور گرفتاریوں کے خدشات سے متعلق درخواستوں پر حکام کو درخواست گزاروں کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے۔

    درخواست گزاروں میں پی ٹی آئی اسلام آباد کے رہنما ملک عامر علی، شعیب شاہین اور دیگر شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے مطالبے کے حق میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

    بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے درخواستوں کی سماعت کی۔

    سماعت کے دوران شعیب شاہین نے مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ سے قبل ایک بار پھر گرفتاریوں اور چھاپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔

    شعیب شاہین نے عدالت کے روبرو دعویٰ کیا کہ وہ بیمار ہیں اور ان کے مطابق چھاپوں کے دوران گھروں سے سامان اور نقد رقم بھی لے جائی جاتی ہے جبکہ خواتین اور بچوں کو بھی حراست میں لیا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دعووں کے حق میں بیانِ حلفی اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش کر سکتے ہیں۔

    اس موقع پر جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد کو طلب کر کے ان سے وضاحت طلب کی جائے گی اور مناسب حکم جاری کیا جائے گا۔

    عدالت نے درخواست گزاروں اور دیگر متعلقہ افراد کو ہراساں کرنے اور گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

  9. کوئٹہ اور خضدار میں تشدد کے واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور خضدار میں تشدد کے دو علیحدہ واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے۔

    ان میں سے پانچ افراد کے مارے جانے کا واقعہ بدھ کی صبح پانچ بجے ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں آڑنجی کے علاقے ہواک میں پیش آیا۔

    آڑنجی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او عبدالفتاح رند نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس سٹیشن سے اندازا 100کلومیٹر دور مشرق کی جانب نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا جس میں چار افراد موقع پر مارے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے یہاں سے ایک پولیس اہلکار کو اغوا کیا تاہم کچھ دور لے جاکر ان کو بھی قتل کیا کیا۔

    جب اس واقعے کے سلسلے میں ایک سینیئر سرکاری آفیسر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جس علاقے میں یہ حملہ کیا گیا وہاں گزشتہ سال پیپلز پارٹی کے رہنما اور جھالاوان عوامی پینل کے سربراہ میر شفیق الرحمان مینگل کے بھائی عطاالرحمان مینگل پر حملہ ہوا تھا ۔ اس حملے میں عطا الرحمان مینگل مارے گئے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ہونے والے حملے کے باعث اس علاقے میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی تھی۔

    سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ آج ہونے والے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی شناخت ہوگئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ مارے جانے والوں میں سے ایک شخص محکمہ صحت کا ملازم تھا۔

    اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع کی جانب روانہ کردی گئی ۔ آج اس علاقے میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

    رواں سال جولائی کے مہینے میں بھی خضدار شہر میں میر شفیق الرحمان مینگل کے گھر پر ایک بڑا اجتماعی خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں میر شفیق مینگل محفوظ رہے تھے تاہم ان کے متعدد محافظ مارے گئے تھے۔

    اس سے قبل دسمبر 2011میں کوئٹہ میں بھی ان کے گھر خود کش حملہ کیا گیا تھا جو کہ بلوچستان میں جاری موجودہ شورش کے دوران پہلا خود کش حملہ تھا۔

    میر شفیق مینگل کے گھر پر سابقہ دو خود کش حملوں کی ذمہ دارئ بھی کالعدم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔

    دوسرے پولیس اہلکار کی ہلاکت کا واقعہ کوئٹہ شہر میں پیش آیا۔

    بلوچستان پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس اہلکار محمد عباس پرنامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے شہید عبدالخالق پولیس سٹیشن کی حدود میں حملہ کیا جس میں وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔

    پولیس اہلکار کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کی گئی جس میں آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اس واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔

  10. پیٹرولیم ڈیلرز کا وزیر اعظم کی فیول ریلیف سکیم کے اطلاق کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار، اطلاق نہ کرنے کا فیصلہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے وزیراعظم کی جانب سے عوام کو پیٹرول میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے اعلان کردہ خصوصی سکیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    پی پی ڈی اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سکیم پر عملدرآمد سے قبل پیٹرولیم ڈیلرز کو اعتماد میں لیا جائے، بصورت دیگر یہ سکیم عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ملک بھر کے ہزاروں پیٹرول پمپس اور ڈیلرز کو شدید مالی بحران سے دوچار کرسکتی ہے۔

    پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش نے دیگر عہدے داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے مقصد کی مکمل حمایت کرتے ہیں لیکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے، اس پر ہمیں شدید تحفظات ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’افسوس کی بات ہے کہ حکومت نے اس سکیم کی تیاری اور اعلان سے قبل پیٹرولیم ڈیلرز کی نمائندہ تنظیم سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی۔‘

    انھوں نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ مہنگائی، کاروباری اخراجات میں مسلسل اضافے اور محدود مارجن کے باعث ڈیلرز کا سرمایہ بری طرح متاثر ہوچکا ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر ریلیف سکیم کی رقم اربوں روپے کی صورت میں ڈیلرز کے سرمائے میں پھنس گئی تو اس مالی نقصان اور کاروباری بحران کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟

    پی پی ڈی اے کے رہنما امیر خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس سکیم کا اطلاق گزشتہ روز اسلام آباد میں ہوا تھا جب کہ پورے ملک میں اس کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہونا ہے تاہم ایسوی ایشن نے تحفظات کے دور ہونے تک اس کا اطلاق نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بی بی سی اردو نے وفاقی وزیر پٹرولیم عل پرویز ملک اور ترجمان وزارت سے اس سلسلے میں موقف لینے کے لیے رابطہ کیا تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔

    پریس کانفرنس کے دوران ملک خدا بخش نے کہا کہ حکومت پہلے ہی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں واجبات کی ادائیگی کے معاملات میں تاخیر کا مظاہرہ کر رہی ہے، جبکہ ڈیلرز بھی اپنے کاروبار میں بھاری سرمایہ گردش میں رکھتے ہیں۔ ہم کسی ایسی سکیم کا حصہ نہیں بن سکتے جس میں پہلے ڈیلر اپنی جیب سے رقم خرچ کرے اور بعد میں ادائیگی کے لیے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔

    انھوں نے واضح کیا کہ پی پی ڈی اے عوام کو ریلیف دینے کے خلاف نہیں بلکہ ایسے طریقہ کار کے خلاف ہے جو ریلیف کا مالی بوجھ پیٹرولیم ڈیلرز پر منتقل کرے۔ حکومت مؤثر ریلیف کے لیے ایسا نظام وضع کرے جس میں ڈیلرز کا سرمایہ نہ پھنسے اور انھیں مالی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    پی پی ڈی اے کے رہنماؤں کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 14 ہزار پیٹرولیم ڈیلرز اس شعبے سے وابستہ ہیں اور اعلان کردہ طریقہ کار پر عملدرآمد کی صورت میں ہزاروں کاروباری ادارے شدید مالی مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سکیم کے طریقہ کار پر نظرثانی کرے اور پیٹرولیم ڈیلرز کے ساتھ فوری مشاورت کے بعد قابلِ عمل لائحہ عمل مرتب کرے۔

  11. حوثیوں کا سعودی عرب میں آرامکو تنصیبات اور خمیس مشیط ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    یمن میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجو گروہ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب میں آرامکو کی تنصیبات اور خمیس مشیط ایئر بیس کے خلاف دو الگ فوجی کارروائیاں کی ہیں۔

    بدھ کو یمن کے دارالحکومت صنعا سے جاری حوثی گروہ کی مسلح افواج کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں یمن کے خلاف سعودی قیادت میں جاری فوجی مہم اور محاصرے کے جواب میں کی گئیں۔

    بیان کے مطابق پہلی کارروائی میں ینبع میں واقع سعودی آرامکو کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری کارروائی میں خمیس مشیط ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل داغے گئے۔

    حوثیوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ دونوں حملوں میں اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ تاہم اس دعوے کی بی بی سی آزادنہ تصدیق نہیں کر سکا۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یمن کی مسلح افواج سعودی عرب کے اندر اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں اور محاصرہ ختم نہیں ہو جاتا۔

  12. مکہ مکرمہ پر حملہ عالمِ اسلام پر حملہ تصور ہو گا: مولانا فضل الرحمان

    پاکستان کی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے اپنے بیان میں متنبہ کیا ہے کہ مکہ مکرمہ پر کسی بھی حملے کو پورے عالمِ اسلام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’مکہ مکرمہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی عقیدتوں اور مذہبی وابستگی کا مرکز ہے۔‘

    یاد رہے کہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فوج نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثیوں کے ایک عہدیدار محمد الفرح نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے اس الزام کو ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کے بیان کے مطابق اگر ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے تو حملہ آور عالمِ اسلام کے شدید ردِعمل کا سامنا کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’امتِ مسلمہ مکہ مکرمہ اور سعودی عرب کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متحد ہو کر جواب دے گی۔

    بیان میں مسلم ممالک، بالخصوص پاکستان، سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس نازک صورتحال میں سعودی عرب اور حرمِ مکی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ وہ حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے اپنی پالیسی کا واضح اور فوری اعلان کرے۔

    بیان میں کہا گیا کہ مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں ایک مضبوط اور مؤثر اسلامی بلاک کے قیام کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے مکہ پر مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے دفاع میں شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

    یاد رہے کہ جولائی میں یمن کی خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد حوثی گروپ سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری افواج کے ساتھ نئی جھڑپوں میں مصروف ہے۔

    حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے اور بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

  13. غزہ میں جنگ سے متاثرہ عمارت گرنے سے پانچ بچوں سمیت کم از کم 20 افراد ہلاک, یولیند نیل، بی بی سی

    غزہ کی پٹی میں جنگ سے متاثرہ ایک رہائشی عمارت کے گرنے سے پانچ بچوں سمیت کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    مقامی امدادی ٹیموں کے مطابق درجنوں افراد ابھی لاپتہ ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ عمارت کو غیر محفوظ قرار دیے جانے کے باوجود 10 خاندان وہاں موجود اپارٹمنٹس میں رہ رہے تھے۔

    اس واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو فوٹیج میں غزہ شہر میں واقع کثیرالمنزلہ عمارت کی منزلیں ایک دوسرے پر آ گری تھیں جبکہ اس کے ملبے تلے لاشوں اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا عمل جاری دکھائی دے رہا ہے۔

    غزہ کی سول ڈیفنس ریسکیو سروس کے اہلکاروں کے مطابق ابتدائی طور پر انھیں غزہ میں آلات کی درآمد پر عائد اسرائیلی پابندیوں کے باعث ’خالی ہاتھ‘ امدادی کارروائیاں کرنا پڑیں۔ تاہم بعد میں وہ کچھ بھاری مشینری مستعار لینے میں کامیاب ہو گئے۔

    صحت کے حکام اور حماس سے وابستہ ذرائع کے مطابق منگل کو غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں دو بچے اور حماس کا ایک کمانڈر شامل تھے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی غزہ میں حماس کے ایک کمانڈر اور شمالی غزہ میں ایک اور جنگجو کو ہلاک کیا۔ دونوں واقعات میں ایک ایک بچے کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

  14. ایران کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہیں: چینی وزیر خارجہ کی عباس عراقچی کو یقین دہانی

    چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے حقوق کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

    یاد رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت چین کے دورے پر ہیں اور چینی وزیر خارجہ نے ان سے ملاقات کے دوران ایران کی حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق عباس عراقچی سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ چین ’ایران کے ساتھ رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ایران کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایران اور امریکہ دونوں کو تجویز کرتے ہیں کہ دانشمندی اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘

    وانگ یی نے کہا کہ ہم علاقائی کشیدگی کو یمن اور بحیرہ احمر تک پھیلتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔

    یاد رہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اگلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔

    یاد رہے کہ اس ہفتے چین نے امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چینی اداروں نے ایران کو ایک ایسے فوجی اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کیں جہاں اردن میں امریکی افواج تعینات ہیں۔

    اس حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

  15. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ’مکہ دفاعی اتحاد‘ جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا ہے۔
    • پاکستان فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان تمام فریقوں سے رابطے میں ہے تاکہ اس پیچیدہ صورتحال کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔
    • سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے یہاں آنے والے امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
    • یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فوج نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا۔
    • اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مکہ اور مدینہ ریجن پر حوثیوں کے مبینہ حملوں اور سعودی عرب کے خلاف جارحیت کی مذمت کی ہے۔
    • اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے بیان میں یمن میں کشیدگی فوری طور پر کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔
    • پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہےجس کے بعد پیٹرول کی قیمت چار روپے 10 پیسے اضافے کے ساتھ 384 روپے 34 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت چھ روپے 41 پیسے اضافے کے بعد 415 روپے 83 پیسے ہو گئی ہے۔
    • اقوامِ متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دی جائے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے مزید سینکڑوں لاشیں نکالی گئی ہیں۔
    • عمان نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر حملے کے بعد دو ملاح لاپتہ ہیں پر 23 دیگر کو بچا لیا گیا ہے۔
    • انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ برکس سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں پہلگام حملے کی مذمت انڈین خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
    • وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں فائر سیفٹی نظام کی بہتری، ہسپتال کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے اور تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد تین ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
    • انڈیا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور (چارج ڈی افیئرز) کو طلب کر کے پاکستانی بحریہ کے یونٹس کے مبینہ ’غیر پیشہ ورانہ اور ناقابلِ قبول طرزِ عمل‘ پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
  16. تحقیقاتی رپورٹ میں پمز نرسری آتشزدگی ادارہ جاتی ناکامی قرار، وزیر اعظم کا تین ماہ میں اصلاحات کا حکم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں فائر سیفٹی نظام کی بہتری، ہسپتال کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے اور تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد تین ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیر اعظم آفس کی پریس ریلیز کے مطابق وزیرِ اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پمز ہسپتال کی تحقیقاتی رپورٹ اور وزارتِ قومی صحت کی جانب سے کیے گئے پرفارمنس آڈٹ کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تحقیقاتی رپورٹ میں تجویز کیے گئے قلیل مدتی اقدامات پر آئندہ تین ماہ کے اندر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ ہسپتال کی بہتری اور اسے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے۔

    انھوں نے فائر سیفٹی نظام کی بہتری کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) سے معاونت اور تجاویز لینے اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی سفارشات پر بھی غور کرنے کی ہدایت کی۔

    دوسری جانب پمز کی نرسری میں 26 اگست کو لگی آگ کی تحقیقات کرنے والی حکومتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

    43 صفحوں کی رپورٹ کے مطابق ’کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ نظام میں اور ادارے کی سطح پر ناکامی ثابت ہو چکی ہے۔ تاہم انفرادی ذمہ داری کا تعین شواہد کی نوعیت اور مضبوطی کے مطابق مختلف ہو گا۔‘

    حکومت کی رپورٹ میں درج ہے کہ مرکزی ذمہ داری پمز اور اس کی اعلیٰ انتظامیہ پر آتی ہے کیوں کہ وہ معلوم خطرات، سابقہ انتباہات اور تفویض کردہ ذمہ داریوں کو ایک مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔

    کمیٹی کا کہنا ہے کہ آگ غالباً ایئرکنڈیشنر نمبر دو کی برقی سپلائی کیبل میں پیدا ہونے والی خرابی کے باعث لگی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نرسری میں دھویں کی نشاندہی کرنے والے نظام، فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم موجود ہونے کے شواہد نہیں ملے، جبکہ نومولودوں کے انخلا کے لیے کوئی مؤثر ہنگامی منصوبہ بھی موجود نہیں تھا۔

    رپورٹ کے مطابق موجوہ ریکارڈ سے کسی مخصوص فرد کے خلاف فوجداری جرم ثابت نہیں ہوتا، تاہم چار ممکنہ پہلو ایسے ہیں جن پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ (1) ائیرکنڈیشنر نمبر دو کی تنصیب یا دیکھ بھال میں غفلت ہوئی، (2) ہنگامی اخراج کے راستے میں رکاوٹ ڈالی گئی، (3) کسی مخصوص پیشگی تنبیہ کے باوجود کارروائی نہیں کی گئی، (4) اور بیرونی امدادی اداروں کو طلب کرنے میں تاخیر ہوئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجداری ذمہ داری کے تعین کے لیے یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ متعلقہ فرد پر کون سی ذمہ داری عائد تھی، کیا اسے خطرے کا علم تھا یا ہونا چاہیے تھا، اسے کارروائی کا اختیار حاصل تھا یا نہیں اور غفلت کی نوعیت کیا تھی۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرنٹ لائن طبی اور سکیورٹی عملے نے فوری ردعمل دیا اور بعض اہلکاروں نے بچوں کو بچانے کی کوششیں کیں، اس لیے یہ الزام درست نہیں کہ عملے نے نومولود بچوں کو چھوڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی۔

    حکومتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ وہ فرنٹ لائن اہلکار، جن کے بارے میں ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے امدادی کارروائی کی، انھیں صرف اس بنیاد پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ نتیجہ انتہائی المناک نکلا۔

    26 اگست کو جب آگ لگی تو 15 نومولود پمز کی نرسری میں موجود تھے، ان میں سے صرف ایک بچے کی جان بچائی جا سکی تھی۔

  17. بین الاقوامی سمندری حدود میں پاکستانی اور انڈین بحریہ کے جہازوں کا مبینہ ٹکراؤ: انڈیا کا پاکستان سے احتجاج, شکیل اختر، بی بی سی، دلی

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور (چارج ڈی افیئرز) کو طلب کر کے پاکستانی بحریہ کے یونٹس کے مبینہ ’غیر پیشہ ورانہ اور ناقابلِ قبول طرزِ عمل‘ پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں بین الاقوامی سمندری حدود میں پاکستانی نیوی کا جہاز انڈین نیوی کے ایک جہاز کے ساتھ ٹکرایا۔

    پاکستانی دفتر خارجہ نے تاحال اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا اور اس کے نتیجے میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، تاہم انڈیا کا مؤقف ہے کہ پاکستانی بحری جہاز کا طرزِ عمل اپریل 1991 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور فوجی دستوں کی پیشگی اطلاع سے متعلق معاہدے کے آرٹیکل 10 کی براہِ راست خلاف ورزی تھا۔

    وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین حکام نے پاکستانی ناظم الامور کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ پاکستانی حکام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں کا احترام کرتے ہوئے تمام فوجی یونٹس احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

    انڈیا نے مزید کہا ہے کہ انھوں نے اسلام آباد میں تعینات اپنے ناظم الامور کو بھی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے سامنے اسی نوعیت کا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔

  18. برکس اعلامیے میں پہلگام حملے کی مذمت کو عمر عبداللہ نے انڈین خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دے دیا, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ برکس سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں پہلگام حملے کی مذمت انڈین خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

    برکس میں شامل ممالک کا نمائندہ اجلاس 12 تا 13 ستمبر انڈیا کی میزبانی میں نئی دہلی میں ہوا تھا۔

    سرینگر میں ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ برکس اعلامیہ میں گذشتہ سال پہلگام میں ہونے والے حملے کی مذمت ’نہایت اہم پیش رفت‘ ہے۔

    انھوں نے چین کا نام لیے بغیر کہا کہ اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اجلاس میں پاکستان کے اتحادی ممالک بھی موجود تھے۔

    عمر عبداللہ نے چین اور انڈیا کے درمیان متنازع سرحدی علاقوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک میں اتفاق کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی سفارتی کوششیں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ اسی طرح کا اتفاق ’انڈیا اور پاکستان کے درمیان بھی ہو گا۔‘

    چین کی جانب سے انڈین سفارت کاری کے بارے میں مثبت بیانات کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ انڈیا کو اپنی خارجہ پالیسی کی توثیق کے لیے دوسرے ممالک کی رائے کا محتاج نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنی پالیسیوں کا تعین اپنی شرائط کے مطابق کرنا چاہیے۔

    عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے انڈیا کی تعریف یا تنقید کو غیر ضروری اہمیت نہیں دینی چاہیے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں 22 اپریل 2025 کو کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے کی مذمت کی گئی تھی۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ چند ہفتوں بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان محدود فضائی جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

    اعلامیے میں ’ریاست کی پشت پناہی میں ہونے والی سرحد پار دہشت گردی‘ کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی کا اعادہ کیا گیا تھا۔

  19. حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

    یمن کے حوثی گروہ نے سعودی عرب کا ایک ایف 15 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یمنی مسلح افواج نے صوبہ مأرب کی فضائی حدود میں ایک سعودی ایف 15 طیارے کو مار گرایا۔

    ان کے مطابق طیارے کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے ایسے میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جو مقامی طور پر تیار کیا گیا تھا۔

    یحییٰ سریع نے سعودی عرب کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا ہدف تیل کی تنصیبات اور فوجی اڈے ہوتے ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند گھنٹے قبل سعودی قیادت والے اتحاد نے دعویٰ کیا تھا کہ یمن سے داغے گئے ایک حوثی ڈرون کو مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیا گیا۔

    جولائی میں یمن کی خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد حوثی گروپ سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری افواج کے ساتھ نئی جھڑپوں میں مصروف ہے۔

    حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے اور بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

    ایف۔15 لڑاکا طیارے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    یہ طیارہ فضا سے زمین اور فضا سے فضا میں آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    فضا سے زمین پر حملے کے کردار میں یہ طیارہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو لیزر اور جی پی ایس سے چلنے والے درست نشانہ باز ہتھیاروں سمیت دیگر بم بھی گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اس طیارے میں دو افراد کا عملہ ہوتا ہے۔ سامنے پائلٹ بیٹھتا ہے جو طیارہ اڑاتا ہے اور پیچھے ویپن سسٹمز آفیسر بیٹھتا ہے۔

    ویپن سسٹمز آفیسر کے سامنے چار سکرینیں ہوتی ہیں اور وہ اہداف کا انتخاب کرتا ہے۔ وہ یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ ہتھیار ہدف کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہو۔

    یہ دو افراد پر مشتمل نظام کام کا بوجھ تقسیم کرنے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر ایک بھاری اور خطرناک فضائی ماحول میں جہاں پائلٹ کو خطرات سے بچتے ہوئے پرواز کرنا ہوتی ہے۔

  20. امریکہ اور ایران میں ثالثی کے لیے پاکستان تمام فریقوں سے رابطے میں ہے: ترجمان پاکستان فوج

    پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان تمام فریقوں سے رابطے میں ہے تاکہ اس پیچیدہ صورتحال کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔

    میڈیا ادارے العربیہ انگلش کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستان کی حیثیت ایک غیر جانبدار اور دیانت دار سہولت کار کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن کا حامی ہے اور اسی لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف سے پوچھا گیا کہ ثالثی کی کوششوں میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟

    انھوں نے جواب دیا کہ کئی دہائیوں پر محیط اور پیچیدہ تنازعات میں ثالث کا کردار غیر جانبدار اور معروضی رہنا ہوتا ہے، اس لیے پاکستان بطور ثالث جاری رابطوں یا ممکنہ پیش رفت پر تبصرہ نہیں کرے گا۔

    اس سوال پر کہ پاکستان کیا ایسا کر سکتا ہے جو دوسرے ثالث نہیں کر سکے، ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ثالثوں کا مقصد ایک ہی ہے، یعنی پائیدار اور پُر امن حل۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، جبکہ پاکستان کی قیادت کا اس تنازع میں کوئی ذاتی مفاد بھی نہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ امریکہ، ایران، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میرٹ اور باہمی مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں۔