لائیو, حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ: یمنی فورسز نے ’باب المندب کا کنٹرول حاصل کر لیا‘
یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز نے باب المندب اور تعز کے مغرب میں واقع ذو باب ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ دوسری جانب المسیرہ ٹی وی کے مطابق حوثیوں نے تعز کی فضائی حدود میں ایک سعودی ونگ لونگ ٹو ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عمران خان کو ذاتی حیثیت یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم
ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی: عدالت کا ڈی ایس پی کی گرفتاری کا عندیہ
مذاکراتی عمل میں عمران خان کی رہنمائی کے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی، تحریکِ انصاف کی رہنماؤں کی نیوز کانفرنس
لائیو کوریج
سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے پابند ہیں: مارکو روبیو
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے
کہا ہے کہ ’امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدہ ہے اور ہم اس کی
پاسداری کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب اور
یمن کی سرکاری افواج یہ نہیں چاہتیں کہ آبنائے باب المندب کے قریب علاقے پر حوثیوں
کا کنٹرول برقرار رہے‘، اور یمن میں جاری کارروائی کو ’ان علاقوں کی واپسی کے لیے
جوابی حملہ‘ قرار دیا جن پر حوثیوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔
ان کے بقول ’ہمیں اس پیش رفت کی توقع
تھی۔‘
روبیو
نے کہا: ’سعودی عرب حوثیوں کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے اور وہ ان سے لاحق خطرے سے
بخوبی آگاہ ہے، اس لیے اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘
آپریشن ’فجر الیمن‘: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم
شدہ حکومت کے صدر رشاد محمد العلیمی نے ’فجر الیمن‘ کے نام سے ایک فوجی آپریشن
شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی،
حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا اور ’حوثی بغاوت‘ کا
خاتمہ ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری
اتحاد نے تصدیق کی کہ وہ یمنی حکومتی فورسز کی کارروائی میں فضائی حملوں کے ذریعے
حصہ لے رہا ہے۔
یمنی حکومتی فورسز نے دعویٰ کیا ہے
کہ انھوں نے باب المندب اور ذو باب ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور حوثیوں
کے زیرِ کنٹرول دار الحکومت صنعا کی جانب ’سٹریٹیجک حملہ‘ شروع کر دیا ہے۔
اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق ’فجر
الیمن‘ آپریشن میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور 324 ’اہم‘ اہداف کو نشانہ
بنایا۔
حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ
نے دعویٰ کیا ہے کہ صنعا میں دو سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک طالبہ ہلاک
اور دو دیگر زخمی ہو گئی ہیں۔
المسیرہ
ٹی وی کے مطابق حوثیوں نے تعز کی فضائی حدود میں ایک سعودی ونگ لونگ ٹو ڈرون مار
گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
روسی ڈرون حملے میں ترکی کے مال بردار جہاز کے کپتان ہلاک ہو گئے: زیلنسکی کا الزام
یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی نے
الزام لگایا ہے کہ روسی ڈرونز نے ایک سویلین مال بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا،
جس کے نتیجے میں جہاز کے کپتان ہلاک ہو گئے۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے
بیان میں کہا کہ یہ جہاز ترکی کی ملکیت تھا اور مکئی (کارن) لے کر جا رہا تھا۔ ان
کے مطابق جہاز میں آذربائیجان اور انڈیا کے شہری بھی سوار تھے۔
یوکرینی صدر نے کہا کہ ابتدائی
اطلاعات کے مطابق جہاز کے کپتان ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ ایک اور شخص کے بارے میں
معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عملے کے 11 ارکان کو بچا لیا گیا
ہے جن میں سے ایک زخمی ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین نے بحیرہ
اسود میں کشیدگی کم کرنے اور سمندری نقل و حمل کے تحفظ کے لیے متعدد عملی تجاویز
پیش کی تھیں، جبکہ بعض دیگر ممالک نے بھی اس حوالے سے تجاویز دی تھیں۔
انھوں نے روس پر الزام عائد کرتے
ہوئے کہا کہ ماسکو معمول کے سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے بجائے ’شدت پسندی اور
سویلین جہازوں کو ڈبونے‘ کا راستہ اختیار
کر رہا ہے۔
زیلنسکی کے مطابق عالمی غذائی تحفظ
کی بحالی کے لیے روس پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ
فریقوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
یمنی فورسز کا باب المندب اور ذو باب ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرنے، جبکہ حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنیمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز (تین اکتوبر کی تصویر)
یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے دعویٰ
کیا ہے کہ حکومتی فورسز نے باب المندب اور تعز کے مغرب میں واقع ذو باب ہوائی اڈے کا
کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائی ’فجر الیمن‘ کے نام سے جاری
آپریشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد صنعا کی جانب پیش قدمی ہے۔
دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ٹی وی
چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فضائی حملوں میں صنعا کے نواحی علاقے بنی
حشیش میں ایک طالبہ ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئی ہیں۔
المسیرہ ٹی وی کے مطابق حوثیوں نے تعز
کی فضائی حدود میں ایک سعودی ونگ لونگ ٹو ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
اسی دوران حوثیوں سے وابستہ ایک
ادارے نے فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود میں پروازوں کے حوالے سے انتباہ جاری
کیا ہے۔ بی بی سی عربی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک سعودی کارروائیاں
جاری رہیں گی، سعودی فضائی حدود محفوظ نہیں ہوں گی۔
،تصویر کا ذریعہMinistry of Foreign Affairs
دوسری جانب ریاض میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کا ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہو رہا ہے، جس میں حوثیوں کے حملوں اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع اور افواج کے سربراہ شرکت کر رہے ہیں۔
گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری: نو کمپنیوں کو اہل قرار دے دیا گیا
،تصویر کا ذریعہMinistry of Privatisation
وزیرِ اعظم کے مشیر محمد علی کی زیرِ
صدارت نجکاری کمیشن بورڈ کے اجلاس میں گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی
نجکاری کے لیے نو کمپنیوں اور کاروباری گروپس کو پری کوالیفائی کر لیا گیا ہے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق گیپکو کے 51
سے 100 فیصد شیئرز اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی کے لیے 11 درخواستیں موصول ہوئی
تھیں۔ پری کوالیفائی ہونے والوں میں ترکی کے تین اور پاکستان کے چھ بڑے کاروباری
گروپس شامل ہیں۔
ترکی سے ایکٹور الیکٹرک، گینویرا
انرجی اور چنگیز انرجی پری کوالیفکیشن کے مرحلے میں کامیاب قرار پائیں، جبکہ
پاکستان سے اینگرو انرجی، حب پاور، سفائر، شیرازی انویسٹمنٹس، آرٹسٹک ملنرز اور اے
کے ڈی سکیورٹیز کو اہل قرار دیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کے الیکٹرک نے
گیپکو کی نجکاری کے عمل سے اپنی درخواست باضابطہ طور پر واپس لے لی ہے، جبکہ الشریف
کنٹریکٹنگ مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کر سکی۔
نجکاری کمیشن بورڈ کے اجلاس میں اسلام
آباد، کراچی اور لاہور ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مذاکراتی کمیٹی کی از سرِ
نو تشکیل کی منظوری دی گئی۔
دوسری جانب زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ
اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا بھی
فیصلہ کیا گیا۔
غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہو رہا ہے: سہیل آفریدی کا الزام
،تصویر کا ذریعہCM Media Cell
،تصویر کا کیپشنوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کرک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کر رہے ہیں
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل
آفریدی نے کرک سے روانگی کے موقع پر لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے الزام
عائد کیا ہے کہ دہشت گردی ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلط کی گئی اور غلط
پالیسیوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہو رہا ہے۔
اپنے خطاب میں وزیرِ اعلیٰ نے الزام
لگایا کہ ’خیبر پختونخوا کو غلط پالیسی کا حصہ بننے پر مجبور کیا جا رہا تھا‘ اور صوبے
کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا: ’ہم ہر اس پالیسی سے باغی ہیں، جو عوام کے مفاد میں نہ ہو۔‘
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’اگر
اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا نا سمجھی ہے تو میں یہ نا سمجھی بار بار کروں گا۔‘
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو تنقید
کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’پورے ملک میں اس سسٹم کے خلاف نفرت دیکھ رہا
ہوں، خیبر سے کراچی تک ہر شخص اسلام آباد جانا چاہتا ہے۔‘
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دعویٰ
کیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان ملک میں حقیقی سیاسی تبدیلی لا
سکتے ہیں۔
اپنی
تقریر کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کارکنوں سے صوابی پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا
کہ وہاں آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا پہلا پڑاؤ ضلع کرک میں تھا، جبکہ دوسرا پڑاؤ کوہاٹ شہر سے چند کلومیٹر پہلے لاچی کے مقام پر ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق چھ اکتوبر یعنی منگل کو دن 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع سے آنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہو گا۔ پشاور پہنچنے کے بعد قافلہ متنی کے قریب رات گزارے گا۔
متنی کا علاقہ پشاور شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
نئی جنگ کی صورت میں امریکہ کی میزبانی کرنے والے تمام ممالک لپیٹ میں آئیں گے: ایرانی فوج
،تصویر کا ذریعہPress TV
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف
اور خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی کا کہنا ہے کہ اگر
ایران کے خلاف کوئی نئی جنگ شروع کی گئی تو ’اس کی آگ خطے میں امریکہ کی میزبانی
کرنے والے تمام ممالک تک پہنچے گی۔‘
علی عبداللہی نے ایک بیان میں کہا کہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے برعکس، ایران امریکی وسط مدتی انتخابات کے
نتائج کا منتظر نہیں ہے اور اپنے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا ’سخت‘ جواب دے گا۔
انھوں نے کہا کہ ایران ’ہر قسم کے
خطرے‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے بین
الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے ’بھیڑ
کی کھال میں بھیڑیا‘ قرار دیا۔
ان
کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری مراکز کے بارے میں ایجنسی کے تبصرے ’بے بنیاد‘ ہیں۔
یمنی افواج کا باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہx.com/moigovye
،تصویر کا کیپشنیمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے
دعویٰ کیا ہے باب المندب کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔
ان کا یہ بیان یمن کی وزارت اطلاعات
نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔
بیان کے مطابق یمن میں حوثیوں کے خلاف وسیع پیمانے
پر آپریشن ’فجر الیمن‘ جاری ہے، اور ذو باب کا ہوائی اڈہ بھی حکومتی فورسز کے
کنٹرول میں آ گیا ہے۔
یمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ
النزیلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فورسز نے ذو باب اور المخا کے درمیان رابطہ
سڑک کاٹ دی ہے اور اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘
بیان
میں ذو باب کے علاقے میں موجود حوثی جنگجوؤں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’حکومتی
فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔‘
یمن میں آپریشن شروع کر دیا، 100 جنگی طیاروں کی شرکت، 324 اہداف تباہ: اتحادی افواج کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم
شدہ حکومت کے صدر رشاد محمد العلیمی نے اعلان کیا ہے کہ ’فجر الیمن‘ کے نام سے ایک
آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی، دار الحکومت صنعا کی
آزادی اور حوثیوں کی بغاوت کا خاتمہ بتایا گیا ہے۔
العلیمی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس
پر اپنے بیان میں کہا کہ ’یمنی عوام کے عزم، مسلح افواج کی بہادری اور برادر و
دوست ممالک کی حمایت کے ساتھ، یمن آزادی، امن اور استحکام کی ایک نئی صبح کی جانب
بڑھے گا۔‘
اتحادی افواج کے ترجمان نے کہا کہ ’فجر الیمن‘ آپریشن میں پیر کی صبح 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔ ان کے مطابق اتحادی
افواج نے 324 ایسے اہداف کو تباہ کیا جنھیں ’اعلیٰ اہمیت کے حامل‘ قرار دیا گیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اتحادی افواج باب
المندب کی آبی گزر گاہ کو فضائی تحفظ فراہم کر رہی ہیں، جبکہ متحرک اہداف کے خلاف
کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
یمن کی حکومتی فورسز نے کہا ہے کہ وہ
صنعا پر جاری حملے میں جدید عسکری صلاحیتوں کا استعمال کر رہی ہیں۔
جبکہ حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ
نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی طیاروں نے صوبہ صعدہ کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے
ہیں، جن میں شہر صعدہ کے جنوبی علاقے، سحار اور الصفرا کی تحصیلیں شامل ہیں۔ چینل
کے مطابق کتاف اور البقع کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
المسیرہ
نے مزید دعویٰ کیا کہ دار الحکومت صنعا پر بھی سعودی فضائی حملے کیے گئے، تاہم اس
نے جانی یا مالی نقصان کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عمران خان کو ذاتی حیثیت یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
پیر کو کیس کی سماعت کے دوران انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے حکم دیا کہ سابق وزیرِ اعظم کو ذاتی حیثیت یا ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے۔
عدالت نے سابق وزرا فرخ حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز کو اشتہاری قرار دے کر ملزمان کی جائیدادوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم، پی ٹی آئی ایم پی اے حسن خان نیازی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔
جوڈیشل کمپلیکس میں تو پھوڑ کا مقدمہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔
خیال رہے کہ مارچ 2023 میں توشہ خانہ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس میں پی ٹی آئی کارکناں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپی ہوئی تھیں۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر یہ الزام ہے کہ اُنھوں نے کارکنوں کو جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ اور پتھراؤ پر اُکسایا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی: عدالت کا ڈی ایس پی کی گرفتاری کا عندیہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف
درج مقدمے میں ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈی
ایس پی لیگل کی گرفتاری کا عندیہ دیا ہے، جبکہ کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
سماعت کے دوران جج ابو الحسنات
ذوالقرنین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ایس پی کو مخاطب کر کے کہا کہ عدالت ایک
فورس کی مانند ہے، جسے اپنے احکامات پر عمل درآمد کروانا چاہیے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابو
الحسنات ذوالقرنین نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے دائر ضمانت کی
درخواستوں پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی عدم
موجودگی اور مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا
اور ڈی ایس پی لیگل نعیم یوسف کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
جج نے انگریزی میں گفتگو کرنے پر
اردو میں بات کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہونے والی
دستاویز کی پرنٹ کاپی مسترد کرتے ہوئے اصل دستاویز پیش کرنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران جج نے کمرۂ عدالت میں
ہتھکڑی منگوا کر سکیورٹی انچارج کو ہدایت دی کہ ڈی ایس پی کو جانے نہ دیا جائے،
جبکہ گیٹ پر موجود عملے کو بھی کہا جائے کہ انھیں باہر نہ جانے دیا جائے۔ عدالت نے
درست معلومات فراہم نہ کیے جانے پر گرفتاری کا عندیہ بھی دیا۔
عدالت نے جوڈیشل فورس کی ضرورت پر
زور دیتے ہوئے کہا کہ ’یہاں تو 1898 اور 1860 کا نظام چل رہا ہے۔‘
ڈی ایس پی نعیم یوسف نے عدالت کو
بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان میں ہیں اور ان کا فون بھی بند جا رہا ہے۔ اس
پر وکیلِ صفائی ریاست علی نے کہا کہ ’بدنیتی دیکھیں، عدالتوں کے ساتھ مذاق بنایا
ہوا ہے۔‘
بعد
ازاں جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ وہ اس معاملے پر تفصیلی حکم جاری کریں گے
اور تفتیشی افسر کی عدم دستیابی سے متعلق بھی فیصلہ دیں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید
سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
مذاکرات کے دوران ہمیں بتایا گیا کہ عمران خان کے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے لندن سے ڈاکٹر کو بلانا پڑا: سلمان اکرم راجہ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہNational Assembly of Pakistan
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران بتایا کہ جیل میں عمران خان کا بلڈ پریشر تین، چار ہفتے تک اتنا بڑھ گیا تھا کہ اس کے لیے لندن سے ایک ماہر ڈاکٹر کو بلانا پڑا۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ ادویات کے باوجود عمران خان کا بلڈ پریشر نیچے نہیں آ رہا تھا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا گیا کہ تین سے چار ہفتے انتہائی تشویش کے تھے اور عمران خان کا بلڈ پریشر ٹھیک نہیں ہو رہا تھا اور پھر لندن سے ڈاکٹر کو بلانا پڑا۔ یہ چھپانے والی بات نہیں تھی۔
سلمان اکرم راجہ نے ایک بار پھر مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار حکومت کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو شامل کیے بغیر کوئی بھی معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مذاکرات میں واضح کر دیا تھا کہ عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں سب سے اہم معاملہ ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان کو مکالمے میں شامل کیے بغیر کچھ بھی نہیں ہو پائے گا، کیونکہ ریاست اور عوام کے درمیان جو خلیج پیدا ہو چکی ہے اسے صرف عمران خان ہی ختم کر سکتے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اپنے اہلخانہ، پارٹی رہنماؤں اور وکلا سے ملاقات کا حق ملنا چاہیے۔ اُن پر 300 سے زائد مقدمات ہیں۔ وکیل عدالت میں وہ بات کرتا ہے، جو اُن کا موکل کہتا ہے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ یہ تمام معاملات مذاکرات میں رکھ دیے گئے تھے اور بتا دیا گیا تھا کہ اس کے بغیر کوئی بھی معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہم خلوصِ دل سے اس عمل میں شامل ہوئے۔
دوسری جانب پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے پیر کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کھلے دل سے مذاکرات کیے، تمام معاملات فائنل ہونے والے تھے۔ لیکن اچانک سب کچھ ختم کر دیا گیا۔
بیرسٹر دانیال چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ طے ہی نہیں ہو سکا کہ ان میں سے بات کس سے کرنی ہے۔ کبھی بہنیں، کبھی خیبر پختونخوا حکومت اور کبھی کوئی اور سامنے آ جاتا ہے۔
صیہونیت کو ’نسل پرست تحریک‘ قرار دینے پر اسرائیل نے برطانوی سیاست دان کے داخلے پر پابندی لگا دی
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے برطانوی گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ہم اس سے قبل یہ خبر دے چکے ہیں کہ برطانوی گرین پارٹی نے ایک ایسی قرارداد منظور کی ہے جس میں صیہونیت کو ’نسل پرست تحریک‘ قرار دیا گیا ہے۔
پارٹی کے زیادہ تر ارکان نے سالانہ کانفرنس میں اس تجویز کی حمایت اور منظوری دی، اگرچہ کئی سینئر ارکان نے اس کی مخالفت بھی کی۔
برٹش جیوش ریپریزنٹیٹو کونسل اور جیوش لیڈرشپ کونسل نے ایک بیان میں کہا: ’گذشتہ ایک سال کے دوران برطانوی یہودیوں کے عبادت گاہوں میں قتل، گلیوں میں چاقو کے حملوں اور عوامی مقامات پر نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد، یہودیوں اور برطانوی یہودی اداروں کو نسل پرست قرار دینا ملک میں یہود دشمن نفرت کو ہوا دے رہا ہے۔‘
گرین پارٹی کے یہودی ارکان کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ پارٹی میں اپنی رکنیت پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ، شرکا آج کوہاٹ کے لیے روانہ ہوں گے, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو، پشاور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا پہلا پڑاؤ ضلع کرک میں ہے اور آج یہ مارچ کوہاٹ کے لیے روانہ ہوگا جہاں کوہاٹ شہر سے چند کلومیٹر پہلے لاچی کے مقام پر لانگ مارچ کے مظاہرین پڑاؤ ڈالیں گے۔
کوہاٹ میں پارٹی کے قائدین مظاہرین کی آمد سے پہلے وہاں تیاریاں جاری کیے ہیں جبکہ ادھر پشاور سے پہلے متنی کے مقام پر بھی لانگ مارچ کے مظاہرین کی آمد کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
کرک سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ جیل چوک پر ایک بڑا پنڈال بنایا گیا ہے جہاں لانگ مارچ میں شامل لوگوں موجود ہیں۔
بیشتر لوگ رات مختلف مقامات پر چلے گئے تھے اور اب کوہاٹ روانگی کے لیے پنڈال میں پہنچ رہے ہیں۔
مظاہرین کے لیے پنڈال میں رات کے کھانے اور صبح کے ناشتے کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ کرک کے پولیس حکام نے بتایا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ آنے والے لانگ مارچ کی یہاں کرک سے روانگی کا وقت تو 12 بجے دوپہر کا بتایا گیا تھا لیکن اب یہ معلوم نہیں ہے کہ کس وقت روانگی ہوتی ہے۔ کرک اور قریبی علاقوں میں موبائل فون سروس اور موبائل انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے اپنے سوشل میڈیا ایکس پر لکھا ہے کہ ’آج پانچ اکتوبر کو قافلہ رات کے وقت کوہاٹ کے قریب لاچی گراؤنڈ میں پڑاؤ کرے گا۔‘
پی ٹی آئی کے مطابق چھ اکتوبر یعنی منگل کو دن 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع سے آنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہو گا۔ پشاور پہنچنے کے بعد قافلہ متنی کے قریب رات گزارے گا۔
متنی کا علاقہ پشاور شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتوار کو ضلع لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک سے لانگ مارچ کا اغاز شام سے تھوڑی دیر پہلے ہوا تھا اور یہ مارچ 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے رات دیر سے کرک پہنچ گیا تھا۔
اس لانگ مارچ میں بنوں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، لکی مروت ٹانک اور دیگر قریبی علاقوں کے لوگ بھی شام ہوئے تھے۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے انفرادی طور پر لوگ پہنچ گئے تھے لیکن جس قافلے کی قیادت سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کر رہے تھے وہ نہیں پہنچ سکے تھے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں بلوچستان سے ایک قافلہ ژوب کے راستے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا تھا اور وہ بھی یارک کے مقام پر رکاوٹ عبور کرکے مارچ میں شامل ہو گیا تھا۔
اس لانگ مارچ کے آغاز لیے جنوبی اضلاع کا انتخاب کیا گیا تھا اور اس فیصلے کو تجزیہ کار ایک بہتر فیصلہ قرار دے رہے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی اضلاع میں پی ٹی آئی کے کارکن بڑی تعداد میں ہیں اور اس مرتبہ انھیں ساتھ لانے کے لیے وزیرِ اعلیٰ خود جنوبی اضلاع کے مرکزی پوائٹ گنڈی چوک پہنچے۔
راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا اپنے شوہر پر تشدد کا الزام، مقدمہ درج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) کی درخواست پر اُن کے شوہر کے خلاف گھریلو تشدد کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
تھانہ ویمن پولیس نے اے ڈی سی ہیڈ کوارٹر ملیحہ سحر کی مدعیت میں ان کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ پولیس کے مطابق ملیحہ سحر نے درخواست میں نفسیاتی اور جسمانی تشدد کی شکایت کی تھی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملیحہ سحر کا کہنا ہے کہ اُن کے دو بچے ہیں اور کئی ماہ سے شوہر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق دو اکتوبر کی شام شوہر نے تشدد کا نشانہ بناکر کمرے میں بند کردیا اور موبائل فون بھی چھین لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق شوہر نے حبس بیجا میں رکھ کر فیملی اور بچوں سے ملنے سے روک دیا۔ شوہر خوف زدہ کرکے اذیت دیتا رہا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’میرے جسم پر زخموں کے نشانات اور جائے وقوعہ پر شواہد حاصل کرکے دستاویزی شکل دی جائے۔‘
یمنی حکومت کا حوثیوں کے ٹھکانوں پر 1,122 حملے کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمنی حکومت کے حامی فورسز کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف 1,122 حملے کیے گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حملوں میں ناشنہ بننے والے اہداف میں توپ خانے کی پوزیشنیں، راکٹ لانچنگ پلیٹ فارم اور کمانڈ مراکز شامل ہیں۔
ماجد عبداللہ نزیلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ حملے جنگی طیاروں، ڈرونز، میزائلوں، راکٹوں، توپ خانے اور نشانہ بازوں کی مدد سے صعدہ، الجوف، تعز اور یمن کے ساحلی علاقوں میں کیے گئے۔‘
بیان میں یہ بپی دعویٰ کیا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران تقریباً 1,747 حوثی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہروں راولاکوٹ اور باغ میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی کال پر پونچھ ڈویژن کے علاقے راولاکوٹ اور باغ میں تاجروں نے اپنی دوکانیں بند رکھی ہوئی ہیں جبکہ ان علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق جیل کی جانب سے ہڑتال کی کال پر ان دونوں شہروں کے علاوہ نیلم ویلی میں جزوی ہڑتال ہے انہوں نے کہا کہ جیک کی قیادت کی جانب سے اتوار کو ہڑتال کی کال دیتے ہوئے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اگلے دو ماہ کے لیے راشن کا بندوبست کرلیں۔
انھوں نے کہا کہ اس اعلان کے بعد ان علاقوں میں واقع دو کانوں پر لوگوں کا رش نظر آیا ہے۔
جیک کے کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کی جانب سے ہڑتال کی کال پر کشمیر کے زیادہ تر حصوں میں ہڑتال جاری ہے راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق جیک کی جانب سے ہڑتال کی کال صرف ان علاقوں تک ہی محدود ہے جہاں پر جیک کے کارکنان دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے دیگر علاقوں میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر محمد عاصم کے مطابق شہر میں حالات نارمل ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر رواں دواں ہے۔
انھوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر اور سکولوں میں طلبا طالبات کی تعداد بھی معمول کے مطابق ہے دوسری جانب کالعدم تنظیم جیک کی کور کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کی جبری گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ہائی کورٹ کے جج جسٹس خالد چوہدری کے میر پور ڈویژن بینچ میں ہونے کی وجہ سے نہیں ہوسکی۔
شوکت نواز میر کی بہن نے اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دے رکھی ہے
اس درخواست کی سماعت کرنے والے جج جسٹس خالد رشید نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو ذاتی حثیت میں طلب کر رکھا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل شاہد اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ جسٹس خالد رشید اگلے دو ہفتے میر پور ڈویژن میں ہی مقدمات کی سماعت کریں گے۔
جی سیون کے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کے فیصلے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نسبتاً کمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافہ اور گروپ سیون (جی 7) ممالک کی جانب سے ہنگامی تیل و ڈیزل ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکا کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران خلیج فارس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق خدشات کے باوجود، اضافی سپلائی کے امکانات نے منڈیوں کے خدشات میں کمی پیدا کی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 66 سینٹ کم ہو کر 101.59 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ امریکی خام تیل 95 سینٹ کمی کے بعد 90.12 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب جمعے کے روز جی 7 ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 100 ملین بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے کی منظوری دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے بعد ان ممالک نے توانائی کی برآمدات پر پابندیاں عائد نہ کرنے کا عہد بھی کیا۔
پیر کو جاری ہونے والے شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ ہنگامی ذخائر کے اجراء سے مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں کے باوجود ستمبر کے آخری چار دنوں میں تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کر گئی تھیں۔
توانائی منڈی کے سینئر تجزیہ کار ٹیم واٹرر نے کہا کہ جی 7 کا تزویراتی ذخائر استعمال کرنے کا فیصلہ سپلائی سے متعلق فوری خدشات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس تاثر کو بھی تقویت ملی ہے کہ سعودی عرب کی تیل برآمدات بتدریج جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ رہی ہیں، اگرچہ تیل کی ترسیل اب بھی زیادہ لاگت اور نسبتاً کم مؤثر راستوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا جس کے لیے پاکستان خکام آج سعودی عرب جائیں گے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی (SPDC) کے اجلاس میں شرکت کے لیے آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچیں گے۔
پاکستان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور سربراہانِ جنرل اسٹاف بھی شریک ہوں گے۔
اجلاس کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اجلاس میں پاکستان کی شرکت خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اس کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے اور ملک کی علاقائی سلامتی سے متعلق کوششوں کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔
امریکہ نے برطانوی فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے ہٹا لیے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے واپس امریکہ میں ان کے مستقل اڈوں پر منتقل کر دیے ہیں۔ امریکی محکمے کے ایک اہلکار نے اتوار کے روز اس کی تصدیق کی۔
امریکہ نے اس انخلا کی کوئی وجہ نہیں بتائی، تاہم یہ اقدام 27 ستمبر کو پیش آنے والے ایک بڑے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے، جب گلوسٹرشائر میں واقع اس فضائی اڈے کے قریب تین ’مشکوک گاڑیوں‘ کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس کو طلب کیا گیا تھا۔
اس واقعے کے سلسلے میں ابتدائی طور پر پانچ افراد کو دہشت گردی سے متعلق الزامات کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انھیں پولیس ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ بعد ازاں ایک چھٹے شخص، جو برطانوی۔ایرانی شہری بتایا جاتا ہے، کو بھی گرفتار کرکے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
وائٹ ہال ذرائع نے اس تاثر کی تردید نہیں کی کہ واشنگٹن کا یہ فیصلہ آر اے ایف فیئر فورڈ کے واقعے کے ردعمل میں کیا گیا۔
بی بی سی کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ فوجی نوعیت کا تھا، جسے عملیاتی سطح پر امریکی فوج نے کیا اور اپنے برطانوی ہم منصبوں کو اس سے آگاہ کیا۔
برطانیہ کی وزارت دفاع نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
واقعے کے چند روز بعد برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کہا تھا کہ اس واقعے میں ایران کے کردار کے ’واضح اشارے‘ موجود ہیں، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تہران نے کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔
ابتدائی طور پر 23 سے 25 سال عمر کے پانچ افراد کو علی الصبح اس وقت گرفتار کیا گیا جب اطلاع ملی کہ گاڑیاں امریکی فضائیہ کے زیر استعمال اڈے کی طرف جا رہی ہیں۔ یہ تمام افراد لندن سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری تھے۔
انھیں پہلے دھماکا خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں اور بعد ازاں دہشت گردانہ کارروائی کی تیاری کے شبہے میں گرفتار کیا گیا، لیکن بعد میں پولیس کے مطابق ایک ’تحقیقی فیصلے‘ کے تحت ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جو ’تجربے اور حکمت عملی‘ کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔
چھٹے شخص، جس کی عمر 25 سال ہے، کو جمعرات کے روز لندن میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی تیاری کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی پولیس نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ اسے بھی ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
آر اے ایف فیئر فورڈ کئی دہائیوں سے امریکی فضائیہ کے لیے ایک پیشگی آپریشنل اڈے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔
حالیہ مہینوں میں امریکی بمبار طیارے اسی اڈے سے مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں کر چکے ہیں، جب برطانیہ نے ایران کے خلاف دفاعی حملوں کے لیے اس اڈے کے استعمال کی امریکی درخواست منظور کی تھی۔
جولائی میں ایران نے کہا تھا کہ ’ایرانی سرزمین کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی اڈہ ہماری افواج کے لیے ایک جائز ہدف ہوگا۔‘
واقعے کے چند روز بعد، اور چھٹے شخص کی گرفتاری سے پہلے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ اس معاملے میں ’واضح طور پر کسی غیر ملکی فریق کا ہاتھ شامل ہے۔‘
روبیو نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں اور کہا تھا کہ وہ اس وقت ٹی وی پر اس بارے میں زیادہ بات کرنے میں محدود ہیں۔