لائیو, یمنی فوج کا حوثیوں کے خلاف آپریشن میں باب المندب کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے لیے قائم اتحاد کے مطابق حوثیوں کے خلاف آپریشن ’فجر الیمن‘ میں 100 جنگی طیاروں نے شرکت کی اور 324 اہداف تباہ کیے۔ یمنی فوج کے ترجمان نے باب المندب کا کنٹرول دوباہ حاصل کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

  • یمنی فوج کا حوثیوں کے خلاف آپریشن میں باب المندب کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ
  • جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عمران خان کو ذاتی حیثیت یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم
  • ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی: عدالت کا ڈی ایس پی کی گرفتاری کا عندیہ
  • مذاکراتی عمل میں عمران خان کی رہنمائی کے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی، تحریکِ انصاف کی رہنماؤں کی نیوز کانفرنس
  • پاکستان تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کے شرکا آج کوہاٹ کے لیے روانہ ہوں گے: ’پشتونوں کے مفادات پر سمجھوتہ کرنے والی ہر قوت کو ایبسلوٹلی ناٹ کہیں گے‘

لائیو کوریج

  1. نئی جنگ کی صورت میں امریکہ کی میزبانی کرنے والے تمام ممالک لپیٹ میں آئیں گے: ایرانی فوج

    علی عبداللہی

    ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف اور خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کوئی نئی جنگ شروع کی گئی تو ’اس کی آگ خطے میں امریکہ کی میزبانی کرنے والے تمام ممالک تک پہنچے گی۔‘

    علی عبداللہی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے برعکس، ایران امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا منتظر نہیں ہے اور اپنے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا ’سخت‘ جواب دے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ایران ’ہر قسم کے خطرے‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے ’بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا‘ قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری مراکز کے بارے میں ایجنسی کے تبصرے ’بے بنیاد‘ ہیں۔

  2. یمنی افواج کا باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ

    یمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی
    ،تصویر کا کیپشنیمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی

    یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے باب المندب کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔

    ان کا یہ بیان یمن کی وزارت اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔

    بیان کے مطابق یمن میں حوثیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن ’فجر الیمن‘ جاری ہے، اور ذو باب کا ہوائی اڈہ بھی حکومتی فورسز کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔

    یمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فورسز نے ذو باب اور المخا کے درمیان رابطہ سڑک کاٹ دی ہے اور اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘

    بیان میں ذو باب کے علاقے میں موجود حوثی جنگجوؤں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’حکومتی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔‘

  3. یمن میں آپریشن شروع کر دیا، 100 جنگی طیاروں کی شرکت، 324 اہداف تباہ: اتحادی افواج کا دعویٰ

    صنعا ائیرپورٹ پر جنگی طیارہ

    یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے صدر رشاد محمد العلیمی نے اعلان کیا ہے کہ ’فجر الیمن‘ کے نام سے ایک آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی، دار الحکومت صنعا کی آزادی اور حوثیوں کی بغاوت کا خاتمہ بتایا گیا ہے۔

    العلیمی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’یمنی عوام کے عزم، مسلح افواج کی بہادری اور برادر و دوست ممالک کی حمایت کے ساتھ، یمن آزادی، امن اور استحکام کی ایک نئی صبح کی جانب بڑھے گا۔‘

    اتحادی افواج کے ترجمان نے کہا کہ ’فجر الیمن‘ آپریشن میں پیر کی صبح 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔ ان کے مطابق اتحادی افواج نے 324 ایسے اہداف کو تباہ کیا جنھیں ’اعلیٰ اہمیت کے حامل‘ قرار دیا گیا۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ اتحادی افواج باب المندب کی آبی گزر گاہ کو فضائی تحفظ فراہم کر رہی ہیں، جبکہ متحرک اہداف کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

    یمن کی حکومتی فورسز نے کہا ہے کہ وہ صنعا پر جاری حملے میں جدید عسکری صلاحیتوں کا استعمال کر رہی ہیں۔

    جبکہ حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی طیاروں نے صوبہ صعدہ کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں شہر صعدہ کے جنوبی علاقے، سحار اور الصفرا کی تحصیلیں شامل ہیں۔ چینل کے مطابق کتاف اور البقع کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    المسیرہ نے مزید دعویٰ کیا کہ دار الحکومت صنعا پر بھی سعودی فضائی حملے کیے گئے، تاہم اس نے جانی یا مالی نقصان کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

  4. جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عمران خان کو ذاتی حیثیت یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم

    تصویر

    اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    پیر کو کیس کی سماعت کے دوران انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے حکم دیا کہ سابق وزیرِ اعظم کو ذاتی حیثیت یا ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے۔

    عدالت نے سابق وزرا فرخ حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز کو اشتہاری قرار دے کر ملزمان کی جائیدادوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔

    سماعت کے دوران عدالت نے سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم، پی ٹی آئی ایم پی اے حسن خان نیازی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

    جوڈیشل کمپلیکس میں تو پھوڑ کا مقدمہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔

    خیال رہے کہ مارچ 2023 میں توشہ خانہ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس میں پی ٹی آئی کارکناں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپی ہوئی تھیں۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر یہ الزام ہے کہ اُنھوں نے کارکنوں کو جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ اور پتھراؤ پر اُکسایا۔

  5. ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی: عدالت کا ڈی ایس پی کی گرفتاری کا عندیہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    ایمان مزاری اور ہادی علی

    ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف درج مقدمے میں ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈی ایس پی لیگل کی گرفتاری کا عندیہ دیا ہے، جبکہ کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    سماعت کے دوران جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ایس پی کو مخاطب کر کے کہا کہ عدالت ایک فورس کی مانند ہے، جسے اپنے احکامات پر عمل درآمد کروانا چاہیے۔

    انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔

    سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی عدم موجودگی اور مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور ڈی ایس پی لیگل نعیم یوسف کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

    جج نے انگریزی میں گفتگو کرنے پر اردو میں بات کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہونے والی دستاویز کی پرنٹ کاپی مسترد کرتے ہوئے اصل دستاویز پیش کرنے کا حکم دیا۔

    سماعت کے دوران جج نے کمرۂ عدالت میں ہتھکڑی منگوا کر سکیورٹی انچارج کو ہدایت دی کہ ڈی ایس پی کو جانے نہ دیا جائے، جبکہ گیٹ پر موجود عملے کو بھی کہا جائے کہ انھیں باہر نہ جانے دیا جائے۔ عدالت نے درست معلومات فراہم نہ کیے جانے پر گرفتاری کا عندیہ بھی دیا۔

    عدالت نے جوڈیشل فورس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’یہاں تو 1898 اور 1860 کا نظام چل رہا ہے۔‘

    ڈی ایس پی نعیم یوسف نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان میں ہیں اور ان کا فون بھی بند جا رہا ہے۔ اس پر وکیلِ صفائی ریاست علی نے کہا کہ ’بدنیتی دیکھیں، عدالتوں کے ساتھ مذاق بنایا ہوا ہے۔‘

    بعد ازاں جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ وہ اس معاملے پر تفصیلی حکم جاری کریں گے اور تفتیشی افسر کی عدم دستیابی سے متعلق بھی فیصلہ دیں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

  6. مذاکراتی عمل میں عمران خان کی رہنمائی کے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی، تحریکِ انصاف کی رہنماؤں کی نیوز کانفرنس

    تصویر

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک بار پھر مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار حکومت کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو شامل کیے بغیر کوئی بھی معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل تحریکِ انصاف سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مذاکرات میں واضح کر دیا تھا کہ عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں سب سے اہم معاملہ ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان کو مکالمے میں شامل کیے بغیر کچھ بھی نہیں ہو پائے گا، کیونکہ ریاست اور عوام کے درمیان جو خلیج پیدا ہو چکی ہے اسے صرف عمران خان ہی ختم کر سکتے ہیں۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اپنے اہلخانہ، پارٹی رہنماؤں اور وکلا سے ملاقات کا حق ملنا چاہیے۔ اُن پر 300 سے زائد مقدمات ہیں۔ وکیل عدالت میں وہ بات کرتا ہے، جو اُن کا موکل کہتا ہے۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ یہ تمام معاملات مذاکرات میں رکھ دیے گئے تھے اور بتا دیا گیا تھا کہ اس کے بغیر کوئی بھی معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہم خلوصِ دل سے اس عمل میں شامل ہوئے۔

    دوسری جانب پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے پیر کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کھلے دل سے مذاکرات کیے، تمام معاملات فائنل ہونے والے تھے۔ لیکن اچانک سب کچھ ختم کر دیا گیا۔

    بیرسٹر دانیال چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ طے ہی نہیں ہو سکا کہ ان میں سے بات کس سے کرنی ہے۔ کبھی بہنیں، کبھی خیبر پختونخوا حکومت اور کبھی کوئی اور سامنے آ جاتا ہے۔

  7. صیہونیت کو ’نسل پرست تحریک‘ قرار دینے پر اسرائیل نے برطانوی سیاست دان کے داخلے پر پابندی لگا دی

    تصویر

    اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے برطانوی گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    ہم اس سے قبل یہ خبر دے چکے ہیں کہ برطانوی گرین پارٹی نے ایک ایسی قرارداد منظور کی ہے جس میں صیہونیت کو ’نسل پرست تحریک‘ قرار دیا گیا ہے۔

    پارٹی کے زیادہ تر ارکان نے سالانہ کانفرنس میں اس تجویز کی حمایت اور منظوری دی، اگرچہ کئی سینئر ارکان نے اس کی مخالفت بھی کی۔

    برٹش جیوش ریپریزنٹیٹو کونسل اور جیوش لیڈرشپ کونسل نے ایک بیان میں کہا: ’گذشتہ ایک سال کے دوران برطانوی یہودیوں کے عبادت گاہوں میں قتل، گلیوں میں چاقو کے حملوں اور عوامی مقامات پر نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد، یہودیوں اور برطانوی یہودی اداروں کو نسل پرست قرار دینا ملک میں یہود دشمن نفرت کو ہوا دے رہا ہے۔‘

    گرین پارٹی کے یہودی ارکان کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ پارٹی میں اپنی رکنیت پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔

  8. پاکستان تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ، شرکا آج کوہاٹ کے لیے روانہ ہوں گے, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو، پشاور

    تصویر

    پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا پہلا پڑاؤ ضلع کرک میں ہے اور آج یہ مارچ کوہاٹ کے لیے روانہ ہوگا جہاں کوہاٹ شہر سے چند کلومیٹر پہلے لاچی کے مقام پر لانگ مارچ کے مظاہرین پڑاؤ ڈالیں گے۔

    کوہاٹ میں پارٹی کے قائدین مظاہرین کی آمد سے پہلے وہاں تیاریاں جاری کیے ہیں جبکہ ادھر پشاور سے پہلے متنی کے مقام پر بھی لانگ مارچ کے مظاہرین کی آمد کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    کرک سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ جیل چوک پر ایک بڑا پنڈال بنایا گیا ہے جہاں لانگ مارچ میں شامل لوگوں موجود ہیں۔

    بیشتر لوگ رات مختلف مقامات پر چلے گئے تھے اور اب کوہاٹ روانگی کے لیے پنڈال میں پہنچ رہے ہیں۔

    مظاہرین کے لیے پنڈال میں رات کے کھانے اور صبح کے ناشتے کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ کرک کے پولیس حکام نے بتایا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ آنے والے لانگ مارچ کی یہاں کرک سے روانگی کا وقت تو 12 بجے دوپہر کا بتایا گیا تھا لیکن اب یہ معلوم نہیں ہے کہ کس وقت روانگی ہوتی ہے۔ کرک اور قریبی علاقوں میں موبائل فون سروس اور موبائل انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے اپنے سوشل میڈیا ایکس پر لکھا ہے کہ ’آج پانچ اکتوبر کو قافلہ رات کے وقت کوہاٹ کے قریب لاچی گراؤنڈ میں پڑاؤ کرے گا۔‘

    پی ٹی آئی کے مطابق ‏چھ اکتوبر یعنی منگل کو دن 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع سے آنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہو گا۔ پشاور پہنچنے کے بعد قافلہ متنی کے قریب رات گزارے گا۔

    متنی کا علاقہ پشاور شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    تصویر

    اتوار کو ضلع لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک سے لانگ مارچ کا اغاز شام سے تھوڑی دیر پہلے ہوا تھا اور یہ مارچ 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے رات دیر سے کرک پہنچ گیا تھا۔

    اس لانگ مارچ میں بنوں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، لکی مروت ٹانک اور دیگر قریبی علاقوں کے لوگ بھی شام ہوئے تھے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان سے انفرادی طور پر لوگ پہنچ گئے تھے لیکن جس قافلے کی قیادت سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کر رہے تھے وہ نہیں پہنچ سکے تھے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں بلوچستان سے ایک قافلہ ژوب کے راستے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا تھا اور وہ بھی یارک کے مقام پر رکاوٹ عبور کرکے مارچ میں شامل ہو گیا تھا۔

    اس لانگ مارچ کے آغاز لیے جنوبی اضلاع کا انتخاب کیا گیا تھا اور اس فیصلے کو تجزیہ کار ایک بہتر فیصلہ قرار دے رہے تھے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی اضلاع میں پی ٹی آئی کے کارکن بڑی تعداد میں ہیں اور اس مرتبہ انھیں ساتھ لانے کے لیے وزیرِ اعلیٰ خود جنوبی اضلاع کے مرکزی پوائٹ گنڈی چوک پہنچے۔

  9. راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا اپنے شوہر پر تشدد کا الزام، مقدمہ درج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    تصویر

    راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) کی درخواست پر اُن کے شوہر کے خلاف گھریلو تشدد کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    تھانہ ویمن پولیس نے اے ڈی سی ہیڈ کوارٹر ملیحہ سحر کی مدعیت میں ان کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ پولیس کے مطابق ملیحہ سحر نے درخواست میں نفسیاتی اور جسمانی تشدد کی شکایت کی تھی۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملیحہ سحر کا کہنا ہے کہ اُن کے دو بچے ہیں اور کئی ماہ سے شوہر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق دو اکتوبر کی شام شوہر نے تشدد کا نشانہ بناکر کمرے میں بند کردیا اور موبائل فون بھی چھین لیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق شوہر نے حبس بیجا میں رکھ کر فیملی اور بچوں سے ملنے سے روک دیا۔ شوہر خوف زدہ کرکے اذیت دیتا رہا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’میرے جسم پر زخموں کے نشانات اور جائے وقوعہ پر شواہد حاصل کرکے دستاویزی شکل دی جائے۔‘

  10. یمنی حکومت کا حوثیوں کے ٹھکانوں پر 1,122 حملے کرنے کا دعویٰ

    حوثیوں کے ٹھکانوں

    یمنی حکومت کے حامی فورسز کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف 1,122 حملے کیے گئے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ حملوں میں ناشنہ بننے والے اہداف میں توپ خانے کی پوزیشنیں، راکٹ لانچنگ پلیٹ فارم اور کمانڈ مراکز شامل ہیں۔

    ماجد عبداللہ نزیلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ حملے جنگی طیاروں، ڈرونز، میزائلوں، راکٹوں، توپ خانے اور نشانہ بازوں کی مدد سے صعدہ، الجوف، تعز اور یمن کے ساحلی علاقوں میں کیے گئے۔‘

    بیان میں یہ بپی دعویٰ کیا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران تقریباً 1,747 حوثی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

  11. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہروں راولاکوٹ اور باغ میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی کال پر پونچھ ڈویژن کے علاقے راولاکوٹ اور باغ میں تاجروں نے اپنی دوکانیں بند رکھی ہوئی ہیں جبکہ ان علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔

    مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق جیل کی جانب سے ہڑتال کی کال پر ان دونوں شہروں کے علاوہ نیلم ویلی میں جزوی ہڑتال ہے انہوں نے کہا کہ جیک کی قیادت کی جانب سے اتوار کو ہڑتال کی کال دیتے ہوئے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اگلے دو ماہ کے لیے راشن کا بندوبست کرلیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس اعلان کے بعد ان علاقوں میں واقع دو کانوں پر لوگوں کا رش نظر آیا ہے۔

    جیک کے کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کی جانب سے ہڑتال کی کال پر کشمیر کے زیادہ تر حصوں میں ہڑتال جاری ہے راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق جیک کی جانب سے ہڑتال کی کال صرف ان علاقوں تک ہی محدود ہے جہاں پر جیک کے کارکنان دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے دیگر علاقوں میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر محمد عاصم کے مطابق شہر میں حالات نارمل ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر رواں دواں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر اور سکولوں میں طلبا طالبات کی تعداد بھی معمول کے مطابق ہے دوسری جانب کالعدم تنظیم جیک کی کور کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کی جبری گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ہائی کورٹ کے جج جسٹس خالد چوہدری کے میر پور ڈویژن بینچ میں ہونے کی وجہ سے نہیں ہوسکی۔

    شوکت نواز میر کی بہن نے اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دے رکھی ہے اس درخواست کی سماعت کرنے والے جج جسٹس خالد رشید نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو ذاتی حثیت میں طلب کر رکھا تھا۔

    درخواست گزار کے وکیل شاہد اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ جسٹس خالد رشید اگلے دو ہفتے میر پور ڈویژن میں ہی مقدمات کی سماعت کریں گے۔

  12. جی سیون کے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کے فیصلے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نسبتاً کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

    پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافہ اور گروپ سیون (جی 7) ممالک کی جانب سے ہنگامی تیل و ڈیزل ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    امریکا کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران خلیج فارس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق خدشات کے باوجود، اضافی سپلائی کے امکانات نے منڈیوں کے خدشات میں کمی پیدا کی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 66 سینٹ کم ہو کر 101.59 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ امریکی خام تیل 95 سینٹ کمی کے بعد 90.12 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب جمعے کے روز جی 7 ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 100 ملین بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے کی منظوری دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے بعد ان ممالک نے توانائی کی برآمدات پر پابندیاں عائد نہ کرنے کا عہد بھی کیا۔

    پیر کو جاری ہونے والے شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ ہنگامی ذخائر کے اجراء سے مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں کے باوجود ستمبر کے آخری چار دنوں میں تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کر گئی تھیں۔

    توانائی منڈی کے سینئر تجزیہ کار ٹیم واٹرر نے کہا کہ جی 7 کا تزویراتی ذخائر استعمال کرنے کا فیصلہ سپلائی سے متعلق فوری خدشات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس تاثر کو بھی تقویت ملی ہے کہ سعودی عرب کی تیل برآمدات بتدریج جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ رہی ہیں، اگرچہ تیل کی ترسیل اب بھی زیادہ لاگت اور نسبتاً کم مؤثر راستوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

  13. مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا جس کے لیے پاکستان خکام آج سعودی عرب جائیں گے۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی (SPDC) کے اجلاس میں شرکت کے لیے آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچیں گے۔

    پاکستان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور سربراہانِ جنرل اسٹاف بھی شریک ہوں گے۔

    اجلاس کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔

    دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اجلاس میں پاکستان کی شرکت خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اس کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے اور ملک کی علاقائی سلامتی سے متعلق کوششوں کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔

  14. امریکہ نے برطانوی فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے ہٹا لیے

    برطانوی فوجی اڈے پر بمبار طیارے

    امریکہ نے برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے واپس امریکہ میں ان کے مستقل اڈوں پر منتقل کر دیے ہیں۔ امریکی محکمے کے ایک اہلکار نے اتوار کے روز اس کی تصدیق کی۔

    امریکہ نے اس انخلا کی کوئی وجہ نہیں بتائی، تاہم یہ اقدام 27 ستمبر کو پیش آنے والے ایک بڑے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے، جب گلوسٹرشائر میں واقع اس فضائی اڈے کے قریب تین ’مشکوک گاڑیوں‘ کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس کو طلب کیا گیا تھا۔

    اس واقعے کے سلسلے میں ابتدائی طور پر پانچ افراد کو دہشت گردی سے متعلق الزامات کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انھیں پولیس ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ بعد ازاں ایک چھٹے شخص، جو برطانوی۔ایرانی شہری بتایا جاتا ہے، کو بھی گرفتار کرکے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

    وائٹ ہال ذرائع نے اس تاثر کی تردید نہیں کی کہ واشنگٹن کا یہ فیصلہ آر اے ایف فیئر فورڈ کے واقعے کے ردعمل میں کیا گیا۔

    بی بی سی کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ فوجی نوعیت کا تھا، جسے عملیاتی سطح پر امریکی فوج نے کیا اور اپنے برطانوی ہم منصبوں کو اس سے آگاہ کیا۔

    برطانیہ کی وزارت دفاع نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    واقعے کے چند روز بعد برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کہا تھا کہ اس واقعے میں ایران کے کردار کے ’واضح اشارے‘ موجود ہیں، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تہران نے کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔

    ابتدائی طور پر 23 سے 25 سال عمر کے پانچ افراد کو علی الصبح اس وقت گرفتار کیا گیا جب اطلاع ملی کہ گاڑیاں امریکی فضائیہ کے زیر استعمال اڈے کی طرف جا رہی ہیں۔ یہ تمام افراد لندن سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری تھے۔

    انھیں پہلے دھماکا خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں اور بعد ازاں دہشت گردانہ کارروائی کی تیاری کے شبہے میں گرفتار کیا گیا، لیکن بعد میں پولیس کے مطابق ایک ’تحقیقی فیصلے‘ کے تحت ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جو ’تجربے اور حکمت عملی‘ کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

    چھٹے شخص، جس کی عمر 25 سال ہے، کو جمعرات کے روز لندن میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی تیاری کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی پولیس نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ اسے بھی ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

    آر اے ایف فیئر فورڈ کئی دہائیوں سے امریکی فضائیہ کے لیے ایک پیشگی آپریشنل اڈے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔

    حالیہ مہینوں میں امریکی بمبار طیارے اسی اڈے سے مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں کر چکے ہیں، جب برطانیہ نے ایران کے خلاف دفاعی حملوں کے لیے اس اڈے کے استعمال کی امریکی درخواست منظور کی تھی۔

    جولائی میں ایران نے کہا تھا کہ ’ایرانی سرزمین کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی اڈہ ہماری افواج کے لیے ایک جائز ہدف ہوگا۔‘

    واقعے کے چند روز بعد، اور چھٹے شخص کی گرفتاری سے پہلے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ اس معاملے میں ’واضح طور پر کسی غیر ملکی فریق کا ہاتھ شامل ہے۔‘

    روبیو نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں اور کہا تھا کہ وہ اس وقت ٹی وی پر اس بارے میں زیادہ بات کرنے میں محدود ہیں۔

  15. مکہ معاہدے کے رکن ممالک کا اجلاس: حوثیوں کے ساتھ سیاسی ثالثی کے لیے ایرانی پیشکش پر غور ہوگا

    ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘

    سعودی دارالحکومت ریاض میں آج یعنی پیر کو ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے رکن ممالک کا اجلاس ہو رہا ہے۔

    ترکی کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، اجلاس میں ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور چیف آف جنرل سٹاف سلجوق بیرقدار اوغلو شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور پاکستان کے نمائندے بھی اجلاس میں شرکت کریں گے، جو اس معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر دو ممالک ہیں۔

    ترکی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اجلاس میں حالیہ علاقائی پیش رفت اور اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوششوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔‘

    پاکستان کے وزیر خارجہ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ ایران نے حوثیوں کے ساتھ سیاسی ثالثی کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، اور اس تجویز پر اجلاس کے دوران غور کیا جائے گا۔

    یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے ایران کے حمایت یافتہ انصار اللہ حوثی گروپ کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ان علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے جو اس گروہ کے قبضے میں ہیں۔

    اتوار کو ایک ٹیلی وژن خطاب میں یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا: ’قومی دفاعی کونسل کے فیصلوں کی بنیاد پر ہم آج جمہوریہ کے باقی ماندہ علاقوں کی بازیابی اور پورے ملکی علاقے میں ریاستی اختیار اور اداروں کی عملداری بحال کرنے کے لیے فوجی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں۔‘

    العلیمی نے مزید کہا کہ ’میں مسلح افواج، سکیورٹی فورسز اور تمام فوجی تشکیلوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اعلان کردہ منصوبوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دینا شروع کریں، یہاں تک کہ ملک کو حوثی دہشت گرد ملیشیا کے قبضے سے آزاد کرا لیا جائے۔‘

    حوثی

    یہ اعلان گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے کیے گئے اچانک حملے کے بعد جنگ میں ایک بڑا نیا اضافہ سمجھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں گروہ نے بحیرہ احمر کے ساحل پر وسیع علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

    دوسری جانب حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے ریاض اور خریص میں سعودی آرامکو کے مقامات پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور یہ کارروائیاں گذشتہ 12 گھنٹوں کے دوران سعودی قیادت والے اتحاد کی جانب سے کیے گئے 50 فضائی اور میزائل حملوں کے جواب میں کی گئیں۔

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گروہ نے ریاض میں سعودی آرامکو کے مقامات اور سعودی عرب کے مشرق میں واقع تیل سے مالا مال علاقے خریص پر متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ’دو خصوصی فوجی کارروائیاں‘ انجام دیں۔

    ترجمان نے دعویٰ کیا کہ دونوں کارروائیاں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہیں اور نشانہ بنائے گئے مقامات پر بڑی آگ لگ گئی۔

    گذشتہ ہفتے بھی انصار اللہ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

    اُس وقت سعودی عرب نے کہا تھا کہ اس نے طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے چھ بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا تھا، تاہم آرامکو کی تنصیبات کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

  16. پشتونوں کے مفادات پر سمجھوتہ کرنے والی ہر قوت کو ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہیں گے، سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قافلہ پیر کو کرک سے اپنے اگلے مرحلے کی جانب روانہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کرک کے عوام ہمیشہ سیاسی شعور اور بیداری کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین و قانون کی بالادستی کی بات کرے تو اسے ناسمجھ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ عوام ایسے ہی نظریات کے حامی ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کا جمِ غفیر اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر میں حکمران طبقے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک سمجھدار وہ لوگ سمجھے جاتے ہیں جو کرپشن کریں اور قومی مفادات پر سمجھوتے کریں۔ انھوں نے پشتونوں کے مسائل، فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر آواز اٹھانے کی وجہ سے انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ہر اس قوت کو ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہیں گے جو ان کے بقول پشتونوں کے مفادات کے خلاف فیصلے کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ سمیت دیگر پارٹی رہنما ناحق قید کاٹ رہے ہیں اور یہ سب ملک کے نوجوانوں اور عوام کے مستقبل کے لیے برداشت کر رہے ہیں۔

    سہیل آفریدی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے مستقبل اور اپنے بچوں کے بہتر کل کے لیے تحریک کا حصہ بنیں، ورنہ حکمران عوام کے وسائل پر قابض رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ طاقتور حلقوں کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلے قابل قبول نہیں ہیں۔

    وزیراعلیٰ کے مطابق لانگ مارچ کا اگلا پڑاؤ کوہاٹ میں ہوگا، جبکہ صوابی پہنچنے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب قافلہ صوابی پہنچے گا تو ’طاقتوروں کی نیندیں حرام ہو جائیں گی‘۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کہا کہ اس بار ان کی تحریک کا مقصد کامیابی حاصل کرنا اور عدلیہ، پارلیمنٹ اور میڈیا کو آزاد کرانا ہے۔

  17. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات اور علاج سمیت دیگر مطالبات کے لیے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ اس دوران ایک خطاب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت صوبے میں کسی نئی ملٹری کارروائی یا ڈرون حملوں کی پالیسی قبول نہیں کرے گی اور خیبرپختونخوا سے متعلق فیصلے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونے چاہییں۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف نے حکومت اور پی ٹی آئی و تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی مشترکہ مذاکراتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز اختتام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ عمران خان تک رسائی کا مطالبہ تھا تاکہ پارٹی قیادت اہم سیاسی اور قومی معاملات پر ان سے مشاورت کر سکے، تاہم حکومت نے اسے معاہدے کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا۔
    • وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور صوبے کو درپیش حالات پیش نظر سکیورٹی معاملات کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔
    • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے حل کے لیے نہ تو فوجی راستہ اختیار کرنے سے مسئلہ حل ہوگا اور نہ ہی مزید پابندیاں عائد کرنے سے۔‘
    • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ نے حال ہی میں ثالثوں کے ذریعے ایران کو کچھ تجاویز پیش کی ہیں، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت میں طے کردہ سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔