کراچی میں پراسرار حالات میں مرنے
والے تاجر میر رضا علی کے کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے گواہوں کے
بیانات ریکارڈ کرنے کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔
جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم
کمیشن نے سماعت کے دوران پولیس تفتیش، کرائم سین، سی سی ٹی وی فوٹیجز، جیو فینسنگ،
موبائل فون، ایپل واچ، پوسٹ مارٹم رپورٹس، کرپٹو اکاؤنٹس اور دیگر شواہد سے متعلق
تفصیلی سوالات کیے۔
کمیشن کے سامنے مجموعی طور پر 49
گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ حسن تنولی اور صارم بن طاہر کے بیانات زوم
کے ذریعے قلم بند کیے گئے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، ڈی
آئی جی شرقی فرخ لنجار اور ڈی آئی جی عامر فاروقی سے تحریری جوابات بھی طلب کیے
گئے، جو تینوں افسران نے سیل بند لفافوں میں جمع کرا دیے۔
کمیشن نے تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج
لاشاری سے پولیس کی جانب سے ریکارڈ کیے گئے بیانات پر سوالات اٹھاتے ہوئے نشاندہی
کی کہ متعدد گواہوں نے بعد میں اپنے سابقہ بیانات کے بعض حصوں کو ماننے سے انکار
کیا، جبکہ بعض کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے نام سے کیا بیان درج کیا گیا ہے۔
کمیشن نے سوال کیا کہ گواہوں سے صرف
رقم کے لین دین سے متعلق سوالات کیوں کیے گئے اور دیگر ممکنہ محرکات یا پہلوؤں پر
توجہ کیوں نہیں دی گئی۔
سراج لاشاری نے مؤقف اختیار کیا کہ
پولیس نے تمام پہلوؤں سمیت قتل کے امکان پر بھی تفتیش کی۔
کمیشن نے جائے وقوعہ سے متعلق ریکارڈ
میں موجود تضادات پر بھی سوالات کیے۔ کرائم سین یونٹ کی آمد کے اوقات اور پولیس
میموز میں فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے کمیشن نے پوچھا کہ کیا جائے وقوعہ پر آگ لگانا
پولیس پروٹوکول کا حصہ تھا۔ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
کمیشن نے اس اقدام کو غیر قانونی
قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا شواہد کو خراب یا تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔
سٹیزنز پولیس لائیزن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے نمائندے نے کمیشن
کو بتایا کہ جیو فینسنگ کا 48 گھنٹوں کا ڈیٹا حاصل کیا گیا اور ہزاروں نمبروں کی
جانچ پڑتال کے باوجود کوئی ایسی مشکوک سرگرمی سامنے نہیں آئی جس سے کسی مخصوص شخص
کو واقعے سے جوڑا جا سکے۔
سی پی ایل سی کے مطابق میر رضا کا
انٹرنیٹ صبح چار بج کر 25 منٹ تک فعال تھا جبکہ چار بج کر 10 منٹ سے 4 بج کر 20
منٹ کے دوران ایپل میپس استعمال کیا گیا۔
کمیشن نے ایپل واچ کی فرانزک رپورٹ
بھی طلب کی۔ سراج لاشاری نے بتایا کہ یہ رپورٹ سات یا آٹھ ستمبر کو موصول ہوئی
تھی اور اس کے مطابق میر رضا کی واچ پر آخری سرگرمی چار بج کر 22 منٹ پر ریکارڈ
ہوئی۔
وکیل جبران ناصر نے نشاندہی کی کہ 29
جولائی کے بعد متعدد افراد کو اس واچ تک رسائی حاصل رہی اور خاندان نے اس حوالے سے
تفصیلات طلب کی تھیں۔
موبائل فون کے ڈیٹا کی عدم دستیابی
پر تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ فون بار بار اَن لاک کرنے کی کوششوں کے باعث
بلاک ہو گیا تھا اور متعلقہ ماڈل کو پاکستان میں اَن لاک کرنے کا کوئی طریقہ
دستیاب نہیں تھا۔
کمیشن نے میر رضا کے کرپٹو اکاؤنٹس
پر بھی سوالات کیے۔ سراج لاشاری کے مطابق تین کرپٹو اکاؤنٹس کے ذریعے تقریباً نو
کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئیں جبکہ مزید تفصیلات کے لیے این سی سی آئی اے سے
رابطہ کیا گیا ہے۔ جبران ناصر نے کہا کہ بینک اکاؤنٹس کا جائزہ لینے سے تین افراد
کی نشاندہی ہوئی اور میر رضا کے اکاؤنٹ میں کرپٹو لین دین سے متعلق ادائیگیاں بھی
موصول ہوئیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق کرپٹو اکاؤنٹس کے جائزے میں تقریباً تین کروڑ
روپے کی کمی سامنے آئی ہے اور پلیٹ فارم کے مطابق یہ رقم واپس اکاؤنٹ میں نہیں
آئی۔
سماعت کے دوران کمیشن نے تفتیشی افسر
سے پوچھا کہ ملزمان کب گرفتار ہوں گے۔ سراج لاشاری نے جواب دیا کہ پولیس کے لیے
کسی کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنانا آسان تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ
پولیس انصاف کے حصول کی خواہاں ہے۔
کمیشن نے متعدد مواقع پر تفتیش میں
پائی جانے والی بے ضابطگیوں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر
سوالات اٹھائے۔ ایس ایچ او عدیل افضال سے متعلق کمیشن نے ریمارکس دیے کہ شواہد
ضائع ہونے کے باوجود وہ اب بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں۔ کمیشن کے مطابق اصل سوال
اعلیٰ سطح پر ذمہ داری کے تعین کا ہے، جبکہ پولیس نے صرف نچلی سطح کے اہلکاروں کے
خلاف کارروائی کی۔
میر رضا کے اہل خانہ سے مکالمے کے
دوران کمیشن نے کہا کہ خاندان کو حکومت پر اعتماد نہیں تھا اور کسی حکومتی نمائندے
نے ان سے مؤثر رابطہ نہیں کیا۔ کمیشن نے کہا کہ اگر خاندان کو مسلسل آگاہ رکھا
جاتا تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔
کمیشن نے یہ بھی کہا کہ بعض عناصر نے
کیس کو لسانی رنگ دینے کی کوشش کی، جس پر انھیں شرم آنی چاہیے۔
تمام گواہوں کے بیانات، پولیس افسران
کے تحریری جوابات، طبی اور فرانزک رپورٹس، سی سی ٹی وی ریکارڈ، جیو فینسنگ ڈیٹا،
ڈیجیٹل شواہد اور دیگر مواد کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن اب اپنی حتمی فائنڈنگز
مرتب کرے گا۔ کمیشن کی رپورٹ بعد ازاں وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی، جس کے
بعد اس کی اشاعت یا مزید کارروائی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔