لائیو, لانگ مارچ کا قافلہ خیبر پہنچ گیا: اس بار میچ فِکس نہیں ہو گا، صوابی پہنچ کر آگے کا پلان دیں گے، سہیل آفریدی
تحریک انصاف کا لانگ مارچ خیبر پہنچ گیا۔ باڑہ بازار میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوابی پہنچنے پر تحریک انصاف اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی اور اس کے بعد مخالفین کی ’نیندیں حرام ہو جائیں گی۔‘ انھوں نے کہا: ’اس بار فکسڈ میچ نہیں ہو گا، میدان میں مقابلہ کریں گے۔‘
پاکستانی فوج کے دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہAPP
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا: ’میں تصدیق کرتا ہوں
کہ پاکستانی فورسز وہاں (سعودی عرب میں) پہلے سے موجود ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستانی دستے مکہ اتحاد کے تحت سعودی عرب
میں موجود ہیں تو پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر
جنرل نے کہا: ’مختلف صلاحیتیوں کے حامل دستے سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے موجود رہے
ہیں۔ مکہ اتحاد کسی خلا میں پیدا نہیں ہوا۔ یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان
سفارتی، سیاسی اور فوجی تعلق کا تسلسل ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مختلف صلاحیتوں کی حامل پاکستانی فورسز پہلے سے وہاں
موجود ہیں۔‘
سی این این کے مطابق پاکستانی فوج کے ترجمان نے یہ معلومات شیئر نہیں
کیں کہ پاکستانی فوج کے دستے کس تعداد میں سعودی عرب میں موجود ہیں۔ سی این این کے
مطابق ترجمان نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ کن صلاحیتوں سے لیس ہیں اور آیا وہ یمن میں
حوثیوں کے خلاف سرحد پار کارروائیوں میں بھی شامل ہیں۔
سی این این کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
نے کہا ہے کہ ان معلومات کو خفیہ رکھا گیا ہے۔
اس بار فکسڈ میچ نہیں ہو گا، صوابی پہنچ کر اگلا پلان بتائیں گے: سہیل آفریدی
،تصویر کا ذریعہPTI
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل
آفریدی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ صوابی پہنچنے پر تحریک انصاف اپنی آئندہ حکمت عملی
کا اعلان کرے گی اور اس کے بعد مخالفین کی ’نیندیں حرام ہو جائیں گی۔‘
ضلع خیبر کے باڑہ بازار میں لانگ
مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ مارچ کے اگلے مرحلے کا
منصوبہ فی الحال ظاہر نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مخالفین پریشان ہیں۔
انھوں نے کہا: ’اس بار فکسڈ میچ نہیں
ہو گا، میدان میں مقابلہ کریں گے‘ اور دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت ہر روز ایک نئی
حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوابی میں عوام
کی بڑی تعداد کی شرکت ایک نئے سیاسی مرحلے کا آغاز ثابت ہو گی۔ ان کے مطابق کل
جمعرات کے روز قافلہ پشاور سے مارچ شروع کرے گا اور شہر کے مختلف علاقوں سے گزرتا
ہوا چارسدہ کی جانب بڑھے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تحریک
انصاف کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، کل آٹھ اکتوبر کو دوپہر دو بجے لانگ مارچ
تحصیل پشتخرہ کے حیات آباد ٹول پلازہ سے روانہ ہو گا اور بھانہ ماڑی چونگی،
کوہاٹی چوک، جمیل چوک، پیرزکوڑی پل، اور کبوتر چوک سے ہوتا ہوا رات کے نو بجے
چارسدہ روڈ پہنچے گا۔
باڑہ بازار میں خطاب کرتے ہوئے سہیل
آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ مکمل طور پر پُر امن رہے گا اور اس کے شرکا کسی قسم کی
غیر آئینی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے۔
ان کے بقول تحریک انصاف آئین اور
قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی جن مطالبات
کے لیے لانگ مارچ کر رہی ہے، ان کی تفصیلات وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
نے چار اکتوبر کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کی تھیں۔
ان میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو
طبی سہولیات کی فراہمی، وکلا اور رفقا سے ملاقات کی اجازت، ’بلا جواز تاخیر کے
بغیر‘ مقدمات کا فیصلہ، اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے وفاق اور
صوبے کے درمیان نئی مشاورت اور سکیورٹی پالیسی پر نظر ثانی سمیت سات مطالبات شامل
ہیں۔
وزیر اعلیٰ کا رویہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی راہ ہموار کر رہا ہے: طارق فضل چوہدری
،تصویر کا ذریعہAPP
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور
طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا رویہ
صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی راہ ہموار کر رہا ہے، تاہم ’وفاقی حکومت کو صوبے میں
ایمرجنسی لگانے کا کوئی شوق نہیں۔‘
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے
ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہوتی ہے تو
اس کی وجہ وزیر اعلیٰ کا شدت پسندی کے خلاف جاری حکومتی پالیسیوں میں عدم تعاون ہو
گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کا یہ
بیان کہ وہ وفاقی حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل درآمد نہیں کریں گے،
ایک ’انتہائی خطرناک‘ مؤقف ہے۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید عمران
خان کی ملاقاتوں کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کے لیے
یہ ’انا کا مسئلہ‘ نہیں ہے اور نہ ہی حکومت عمران خان کو کسی قسم کی تکلیف پہنچانا
چاہتی ہے۔
ان کے مطابق عمران خان کی صحت اور
علاج کے لیے ممکنہ حد تک بہترین سہولتیں فراہم کی گئی ہیں اور جیل مینوئل کے تحت
حاصل تمام حقوق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں
کی ان سے ملاقاتیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں، جن میں سے بعض میڈیا پر رپورٹ ہوئیں
جبکہ بعض نہیں ہوئیں۔
میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن نے گواہوں کے بیانات مکمل کر لیے, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی
،تصویر کا ذریعہInstagram/@chaipapa_podcast
،تصویر کا کیپشنمیر رضا علی 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے اور بعدازاں اُن کی لاش برآمد ہوئی
کراچی میں پراسرار حالات میں مرنے
والے تاجر میر رضا علی کے کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے گواہوں کے
بیانات ریکارڈ کرنے کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔
جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم
کمیشن نے سماعت کے دوران پولیس تفتیش، کرائم سین، سی سی ٹی وی فوٹیجز، جیو فینسنگ،
موبائل فون، ایپل واچ، پوسٹ مارٹم رپورٹس، کرپٹو اکاؤنٹس اور دیگر شواہد سے متعلق
تفصیلی سوالات کیے۔
کمیشن کے سامنے مجموعی طور پر 49
گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ حسن تنولی اور صارم بن طاہر کے بیانات زوم
کے ذریعے قلم بند کیے گئے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، ڈی
آئی جی شرقی فرخ لنجار اور ڈی آئی جی عامر فاروقی سے تحریری جوابات بھی طلب کیے
گئے، جو تینوں افسران نے سیل بند لفافوں میں جمع کرا دیے۔
کمیشن نے تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج
لاشاری سے پولیس کی جانب سے ریکارڈ کیے گئے بیانات پر سوالات اٹھاتے ہوئے نشاندہی
کی کہ متعدد گواہوں نے بعد میں اپنے سابقہ بیانات کے بعض حصوں کو ماننے سے انکار
کیا، جبکہ بعض کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے نام سے کیا بیان درج کیا گیا ہے۔
کمیشن نے سوال کیا کہ گواہوں سے صرف
رقم کے لین دین سے متعلق سوالات کیوں کیے گئے اور دیگر ممکنہ محرکات یا پہلوؤں پر
توجہ کیوں نہیں دی گئی۔
سراج لاشاری نے مؤقف اختیار کیا کہ
پولیس نے تمام پہلوؤں سمیت قتل کے امکان پر بھی تفتیش کی۔
کمیشن نے جائے وقوعہ سے متعلق ریکارڈ
میں موجود تضادات پر بھی سوالات کیے۔ کرائم سین یونٹ کی آمد کے اوقات اور پولیس
میموز میں فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے کمیشن نے پوچھا کہ کیا جائے وقوعہ پر آگ لگانا
پولیس پروٹوکول کا حصہ تھا۔ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
کمیشن نے اس اقدام کو غیر قانونی
قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا شواہد کو خراب یا تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔
سٹیزنز پولیس لائیزن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے نمائندے نے کمیشن
کو بتایا کہ جیو فینسنگ کا 48 گھنٹوں کا ڈیٹا حاصل کیا گیا اور ہزاروں نمبروں کی
جانچ پڑتال کے باوجود کوئی ایسی مشکوک سرگرمی سامنے نہیں آئی جس سے کسی مخصوص شخص
کو واقعے سے جوڑا جا سکے۔
سی پی ایل سی کے مطابق میر رضا کا
انٹرنیٹ صبح چار بج کر 25 منٹ تک فعال تھا جبکہ چار بج کر 10 منٹ سے 4 بج کر 20
منٹ کے دوران ایپل میپس استعمال کیا گیا۔
کمیشن نے ایپل واچ کی فرانزک رپورٹ
بھی طلب کی۔ سراج لاشاری نے بتایا کہ یہ رپورٹ سات یا آٹھ ستمبر کو موصول ہوئی
تھی اور اس کے مطابق میر رضا کی واچ پر آخری سرگرمی چار بج کر 22 منٹ پر ریکارڈ
ہوئی۔
وکیل جبران ناصر نے نشاندہی کی کہ 29
جولائی کے بعد متعدد افراد کو اس واچ تک رسائی حاصل رہی اور خاندان نے اس حوالے سے
تفصیلات طلب کی تھیں۔
موبائل فون کے ڈیٹا کی عدم دستیابی
پر تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ فون بار بار اَن لاک کرنے کی کوششوں کے باعث
بلاک ہو گیا تھا اور متعلقہ ماڈل کو پاکستان میں اَن لاک کرنے کا کوئی طریقہ
دستیاب نہیں تھا۔
کمیشن نے میر رضا کے کرپٹو اکاؤنٹس
پر بھی سوالات کیے۔ سراج لاشاری کے مطابق تین کرپٹو اکاؤنٹس کے ذریعے تقریباً نو
کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئیں جبکہ مزید تفصیلات کے لیے این سی سی آئی اے سے
رابطہ کیا گیا ہے۔ جبران ناصر نے کہا کہ بینک اکاؤنٹس کا جائزہ لینے سے تین افراد
کی نشاندہی ہوئی اور میر رضا کے اکاؤنٹ میں کرپٹو لین دین سے متعلق ادائیگیاں بھی
موصول ہوئیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق کرپٹو اکاؤنٹس کے جائزے میں تقریباً تین کروڑ
روپے کی کمی سامنے آئی ہے اور پلیٹ فارم کے مطابق یہ رقم واپس اکاؤنٹ میں نہیں
آئی۔
سماعت کے دوران کمیشن نے تفتیشی افسر
سے پوچھا کہ ملزمان کب گرفتار ہوں گے۔ سراج لاشاری نے جواب دیا کہ پولیس کے لیے
کسی کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنانا آسان تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ
پولیس انصاف کے حصول کی خواہاں ہے۔
کمیشن نے متعدد مواقع پر تفتیش میں
پائی جانے والی بے ضابطگیوں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر
سوالات اٹھائے۔ ایس ایچ او عدیل افضال سے متعلق کمیشن نے ریمارکس دیے کہ شواہد
ضائع ہونے کے باوجود وہ اب بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں۔ کمیشن کے مطابق اصل سوال
اعلیٰ سطح پر ذمہ داری کے تعین کا ہے، جبکہ پولیس نے صرف نچلی سطح کے اہلکاروں کے
خلاف کارروائی کی۔
میر رضا کے اہل خانہ سے مکالمے کے
دوران کمیشن نے کہا کہ خاندان کو حکومت پر اعتماد نہیں تھا اور کسی حکومتی نمائندے
نے ان سے مؤثر رابطہ نہیں کیا۔ کمیشن نے کہا کہ اگر خاندان کو مسلسل آگاہ رکھا
جاتا تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔
کمیشن نے یہ بھی کہا کہ بعض عناصر نے
کیس کو لسانی رنگ دینے کی کوشش کی، جس پر انھیں شرم آنی چاہیے۔
تمام گواہوں کے بیانات، پولیس افسران
کے تحریری جوابات، طبی اور فرانزک رپورٹس، سی سی ٹی وی ریکارڈ، جیو فینسنگ ڈیٹا،
ڈیجیٹل شواہد اور دیگر مواد کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن اب اپنی حتمی فائنڈنگز
مرتب کرے گا۔ کمیشن کی رپورٹ بعد ازاں وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی، جس کے
بعد اس کی اشاعت یا مزید کارروائی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا میں کوئی نیا فوجی آپریشن نہیں ہونے دوں گا: سہیل آفریدی کا لانگ مارچ سے خطاب
،تصویر کا ذریعہx.com/PTIofficial
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل
آفریدی نے کہا ہے کہ وہ صوبے میں کوئی نیا فوجی آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔
ضلع خیبر میں لانگ مارچ کے شرکا سے
خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ گذشتہ دنوں ہونے والے مذاکرات سیاسی نوعیت
کے تھے، تاہم ان کے بقول بعض حلقے ان سے ایک اور فوجی آپریشن کی حمایت چاہتے تھے،
جس کا وہ کبھی حصہ نہیں بنیں گے۔
انھوں نے کہا کہ سابق فوجی آپریشنوں
کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیر اعلیٰ نے قبائلی اضلاع کے لیے
مالی وسائل کی فراہمی کے معاملے پر بھی وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے کہا کہ فوجی آپریشنوں سے
متاثرہ بے گھر افراد کی آباد کاری کے لیے وفاق کی مختص کی گئی رقم نا کافی ہے جبکہ
خیبر پختونخوا حکومت اس مد میں 21 ارب روپے فراہم کر چکی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر
پختونخوا میں ان کی حکومت پر عدم تعاون کا الزام عائد کرتی ہے، تاہم، وزیر اعلیٰ کے
دعوے کے مطابق، بلوچستان میں صوبائی حکومت کے تعاون کے باوجود امن قائم نہیں ہو
سکا، جس سے موجودہ پالیسیوں کی افادیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 2018 میں قبائلی
اضلاع کا خیبر پختونخوا میں انضمام تو کر دیا گیا، لیکن مالی انضمام اب تک مکمل
نہیں ہوا۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت پر قبائلی اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے
واجب الادا ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے لانگ مارچ میں عوامی
شرکت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مارچ صوابی تک جائے گا جہاں وہ آئندہ کے
لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا: آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہٰISPR
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل
انتونیو گوتریس نے منگل کو جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں پاکستان کے
چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس
پی آر) کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال
اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ میں اقوامِ متحدہ کے کردار پر تبادلۂ خیال
کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ انتونیو
گوتریس نے ’علاقائی تنازعات کے پُر امن حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کو خاص طور پر
سراہا۔‘
آئی ایس پی آر کی جاری کردہ پریس
ریلیز کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’علاقائی استحکام، جموں و کشمیر تنازع، انڈیا کی
جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے اور افغانستان سے جنم لینے والی شدت پسندی
سمیت مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔‘
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کا
کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بین الاقوامی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا
اعادہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں ملک کی خدمات کو اجاگر کیا۔
پریس ریلیز میں درج ہے کہ اقوامِ
متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے شدت پسندی کے خلاف جنگ اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز
میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج کی قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
حکومت مطالبات ماننے میں سنجیدہ ہوئی تو تحریک انصاف دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ جائے گی: شیخ وقاص اکرم کا رانا ثنا اللہ کو جواب
،تصویر کا ذریعہx.com/PTIofficial
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے
مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ حکومت مطالبات ماننے میں
سنجیدہ ہوئی تو پارٹی دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان
میں انھوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی ذمہ دار
تحریک انصاف نہیں بلکہ موجودہ حکومت ہے، جبکہ مذاکرات حکومت کی ’ہٹ دھرمی، ضد اور
انا‘ کے باعث ناکام ہوئے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی اپنے مطالبات
کے حق میں لانگ مارچ کر رہی ہے، جبکہ گذشتہ روز
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا تھا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ سے ملکی معیشت
متاثر ہوتی ہے اور ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔
شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور
رانا ثنا اللہ نے آج بدھ کے روز بتایا کہ وزیر اعظم نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر
تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کی ہے۔
رانا ثنا اللہ کو جواب میں شیخ وقاص
اکرم نے کہا کہ تحریک انصاف نے کبھی مذاکرات کے راستے سے گریز نہیں کیا اور آج بھی
اس کے بنیادی مطالبات میں ذاتی معالج کی نگرانی میں عمران خان کا علاج، ’نا حق‘ قید
کا خاتمہ، عمران خان کی بہنوں اور دیگر افراد کی نظر بندی ختم کرنا شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان سمیت تمام
زیر حراست افراد کو آئین اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے اور عدالتی و
قانونی عمل میں رکاوٹیں ڈالنا بند کیا جائے۔
شیخ وقاص اکرم کے مطابق جس دن حکومت
ان مطالبات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی، تحریک انصاف اسی دن دوبارہ مذاکرات کی
میز پر موجود ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مطالبات ’اس سے کم ہیں اور نہ زیادہ۔‘
مطالبات پورے ہونے تک لانگ مارچ جاری رہے گا: شفیع جان
،تصویر کا ذریعہx.com/ShafiJanPTI
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع
جان نے کہا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ
مارچ جاری رہے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر
کیے گئے بیان میں شفیع جان نے کہا کہ لانگ مارچ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق آگے
بڑھ رہا ہے اور شرکا پُر امن انداز میں سفر جاری رکھے ہوئے ہیں، ان کے پاس کسی قسم
کا اسلحہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’لانگ مارچ اس وقت
پشاور پہنچ چکا ہے۔ آج ہم ضلع خیبر کی جانب روانہ ہو رہے ہیں، جہاں سے کل دوبارہ
پشاور میں داخل ہوں گے۔‘
واضح رہے کہ پی ٹی آئی جن مطالبات
کے لیے لانگ مارچ کر رہی ہے، ان کی تفصیلات وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
نے چار اکتوبر کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کی تھیں۔
ان میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو
طبی سہولیات کی فراہمی، وکلا اور رفقا سے ملاقات کی اجازت، ’بلا جواز تاخیر کے
بغیر‘ مقدمات کا فیصلہ، اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے وفاق اور
صوبے کے درمیان نئی مشاورت اور سکیورٹی پالیسی پر نظر ثانی سمیت سات مطالبات شامل
ہیں۔
بدھ کے روز اپنے بیان میں صوبائی وزیر
اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ خیبر پختونخوا شدت پسندی سے متاثر ہے اور اس حوالے سے
وفاقی حکومت کی موجودہ پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت
کے پاس امن کے قیام کے لیے ایک منصوبہ موجود ہے، جس سے صوبے میں 100 دن کے اندر
امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
ان
کا کہنا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت کی تجویز کردہ پالیسی نافذ ہونے کے 100 دن
بعد امن نہ آئے تو پھر وفاق اپنی پالیسی دوبارہ لا سکتا ہے۔
وی آئی پی موومنٹ کے دوران رکاوٹیں ہٹانے کا مقدمہ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد، ملزمان کا صحتِ جرم سے انکار
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت
نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر وی آئی پی موومنٹ کے دوران
پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے اور سرکاری امور میں مداخلت سے متعلق
مقدمے میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔
یہ مقدمہ 2024 میں اسلام آباد کے
تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ
نے اسلام آباد ایکسپریس وے پر وی آئی پی موومنٹ کے دوران لگائی گئی رکاوٹوں کو
ہٹایا اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ جھگڑا کیا۔ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی
دفعہ سات بھی شامل کی گئی تھی۔
بدھ کو انسدادِ دہشت گردی عدالت کے
جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کی سماعت کی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ایک
دوسرے مقدمے میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی وکیل زینب جنجوعہ نے مؤقف اختیار
کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ان کی اپنے مؤکلین سے ملاقات نہیں کروائی گئی اور
نہ ہی مقدمے میں ہونے والی تفتیش کی کاپیاں ملزمان کو دی گئی ہیں۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ دو
گھنٹے تک اڈیالہ جیل کے باہر انتظار کرتی رہیں لیکن ملاقات نہیں ہو سکی۔ اس پر عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کو ایمان
مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم دیا۔
زینب جنجوعہ نے یہ اعتراض بھی اٹھایا
کہ جب تک انھیں مقدمے کے چالان کی نقول فراہم نہیں کی جاتیں، فردِ جرم کیسے عائد کی
جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نہ تو ملزمان اور
نہ ہی ان کی وکیل کو مقدمے کی کاپیاں دی گئی ہیں۔
ویڈیو لنک پر پیشی کے دوران ایمان
مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ انھیں ابھی تک مقدمے کے چالان
کی نقول نہیں ملیں اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔
تاہم عدالت نے تمام اعتراضات مسترد
کرتے ہوئے دونوں ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی اور قرار دیا کہ وہ اس حکم کو
متعلقہ فورم پر چیلنج کر سکتے ہیں۔
فردِ
جرم عائد کیے جانے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے صحتِ جرم سے انکار کر
دیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے
ہوئے کیس کی سماعت نو اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
آئی جی اور چیف سیکریٹری کسی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں: سہیل آفریدی
،تصویر کا ذریعہx.com/PTIofficial
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے گذشتہ روز بلائے گئے اجلاس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی آئینی حیثیت کے تعین کے لیے ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔
پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے، صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال ہیں، ایسے میں گورنر کی جانب سے چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو بلا کر اجلاس منعقد کرنا آئین اور جمہوریت پر حملے کے مترادف ہے۔
وزیر اعلیٰ نے آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ کار موجود ہے جس کے لیے عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکتی ہے، تاہم ’کسی کو جمہوری نظام پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل
آفریدی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’خیبر پختونخوا پولیس کے پاس پاکستان میں
موجود کسی بھی پولیس کے مقابلے میں جدید ترین اسلحہ اور آلات موجود ہیں۔‘
پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا
پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور سپیشل برانچ کی استعداد کار میں
مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔
امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے
ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ 22 برسوں میں 14 ہزار
انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے فوجی آپریشنز کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو سکا،
جس سے موجودہ پالیسیوں کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر
صوبے کے سٹیک ہولڈرز کی تجاویز کے مطابق پالیسی اختیار کی جائے تو 100 روز میں امن
کی صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے قبائلی اضلاع کے
انضمام اور مالی وسائل کے حوالے سے بھی وفاقی حکومت پر تنقید کی۔ ان کا الزام تھا
کہ 2018 میں انضمام کے باوجود قبائلی اضلاع کو طے شدہ مالی حقوق نہیں مل سکے، جبکہ
شدت پسندی اور فوجی کارروائیوں سے متاثرہ افراد کے معاوضوں کی مد میں اربوں روپے
اب بھی واجب الادا ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بے گھر
افراد اور متاثرین کی معاونت کے لیے اپنے وسائل استعمال کر رہی ہے اور حکومت
سنبھالنے کے بعد اب تک اس مقصد کے لیے 21 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کے متعدد مواقع ضائع کیے: مارکو روبیو
،تصویر کا ذریعہMilos Bicanski/Getty Images
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے
ایتھنز میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں
امریکہ کے ساتھ معاہدے کے متعدد مواقع ضائع کر چکا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے
لیے وہی معاہدہ قابل قبول ہو گا جو اس بات کی ضمانت دے کہ ایران کبھی بھی جوہری
ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی
وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایرانی حکومت کو یورینیم افزودگی کی اپنی
صلاحیت میں ’با معنی‘ کمی کرنا ہو گی۔
پریس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ
نے یہ بھی کہا کہ ایران کی معیشت مکمل زوال کا شکار ہے۔
تیل کی ترسیل میں اضافے کا حوالہ
دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا: ’اس وقت تقریباً اتنا ہی تیل باہر جا رہا ہے جتنا
اس تنازع سے پہلے جاتا تھا۔ وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کھو چکے ہیں۔‘
اسلام آباد پولیس کے اہلکار ذاتی تشہیر کے لیے یونیفارم میں ویڈیوز نہیں بنا سکیں گے، نئی سوشل میڈیا پالیسی جاری
،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images
اسلام آباد پولیس نے تمام افسران اور
اہلکاروں کے لیے نئی سوشل میڈیا پالیسی جاری کر دی ہے، جس کے تحت ذاتی تشہیر کے
لیے پولیس اہلکاروں کے یونیفارم میں ویڈیوز بنانے اور تصاویر کھنچوانے پر مکمل
پابندی ہو گی۔
پالیسی میں کہا گیا ہے کہ سرکاری
گاڑیوں، دفاتر اور نجی مقامات پر یونیفارم میں ویڈیو بنانے والوں کے خلاف کارروائی
کی جائے گی۔ اس کے علاوہ بغیر اجازت میڈیا کو بیانات دینے، عوامی فورمز پر گفتگو
کرنے اور مضامین لکھنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
پالیسی کے مطابق پولیس اہلکار سوشل
میڈیا پر اپنے ذاتی سیاسی یا مذہبی نظریات کا اظہار نہیں کر سکیں گے، جبکہ کسی بھی
قسم کی محکمانہ یا خفیہ دستاویزات اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا بھی ممنوع
ہو گا۔
محکمے کی مثبت سرگرمیوں کو اجاگر
کرنے کے لیے بھی ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز کی پبلک ریلیشنز برانچ سے پیشگی منظوری
لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت یونٹ سربراہان اپنے
عملے کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کے خود ذمہ دار ہوں گے، جبکہ خلاف ورزی
کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق نئی سوشل
میڈیا پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور اسے آئی جی اسلام آباد کی منظوری
حاصل ہے۔
پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر آئے، خیبر پختونخوا میں نہ کوئی نیا آپریشن ہو گا نہ نئے آئی ڈی پیز بنیں گے: رانا ثنا اللہ
،تصویر کا ذریعہX/National Assembly
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے ایک بار پھر خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی عدم استحکام اور جماعتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینے کی روش ترک کریں اور تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی جانب آئیں۔ تاہم، ان کے بقول بات چیت کی خواہش کو ریاست پر دباؤ ڈال کر سیاسی مطالبات منوانے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے، تاہم کوئی نیا فوجی آپریشن شروع کیا جا رہا ہے اور نہ ہی نئی بے گھر آبادی (آئی ڈی پیز) پیدا ہونے کا کوئی امکان ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پہلے سے ایک منصوبہ موجود ہے جس پر عمل درآمد جاری ہے، جبکہ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کامیابی کے ساتھ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ کوئی بڑا نیا آپریشن ہونے جا رہا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ جو عناصر سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کر رہے ہیں، کارروائیاں ان کے خلاف ہو رہی ہیں اور ایسے آپریشنز کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے۔
رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی غلط تشریح کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف مشاورت کو مسترد کر دیا گیا یا اپوزیشن کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ اس بارے میں انھوں نے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا کے بیانات کو بھی حقائق کے منافی قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بارہا خیبر پختونخوا حکومت کو عوامی فلاح و بہبود اور گورننس کے معاملات پر توجہ دینے کا کہا، تاہم صوبائی حکومت نے ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چار اکتوبر سے جاری مارچ کے باوجود تحریک انصاف کسی مقام پر چند ہزار سے زیادہ افراد جمع نہیں کر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپوں کے لیے کروڑوں روپے چندہ جمع کیا گیا لیکن شرکا کے لیے بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں تھیں۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صوبے کے پانچ اضلاع ایسے ہیں جہاں پولیس کے تھانے موجود نہیں، جبکہ 17 ہزار پولیس آسامیاں خالی ہیں۔ ان کے مطابق بھرتیوں اور تربیت کے عمل میں بھی شدید کمی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی مجموعی نفری 3300 ہے، جن میں صرف 25 اہلکار مستقل حیثیت رکھتے ہیں جبکہ باقی ایڈہاک بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے بقول کئی علاقوں میں تھانوں کی عمارتیں موجود نہیں اور پولیس کو ضروری ہتھیار اور وسائل بھی میسر نہیں جبکہ وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ وہ ان کاموں کے لیے نہیں آئے ہیں۔
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قطر، چین، سعودی عرب اور ترکی نے افغان طالبان کو پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کرنے اور انھیں قائل کرنے کی کوشش کی، تاہم افغان طالبان مطلوبہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار نہیں۔
شہباز شریف کا ایم ایل ون منصوبہ تیزی سے آگے بڑھانے کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہPMO
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلوے کی اصلاحات اور مین لائن ون (ایم ایل ون) منصوبے پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلوے کو مضبوط، منافع بخش اور مالی طور پر خود کفیل ادارہ بنانے کے لیے کارپوریٹ طرز کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
وزیراعظم کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ایم ایل ون منصوبے، ریلوے کی اراضی کے استعمال اور ادارے کی مالی و انتظامی بہتری سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ریلوے کی قبضہ شدہ زمینوں کی نشاندہی اور واگزاری کے لیے چیئرمین نیب کی سربراہی میں نیب اور وزارتِ ریلوے کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی ترقی، مسافروں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور فریٹ ٹرانسپورٹ میں اضافے کے لیے ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی اراضی کو کمرشل بنیادوں پر مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ایم ایل ون منصوبے کی تعمیر کو آگے بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کی املاک میں موجود حقیقی تجارتی صلاحیت کو بروئے کار لا کر نہ صرف ادارے کی آمدن بڑھائی جا سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے ریلوے کی اراضی پر مختلف کمرشل منصوبوں کے ذریعے بینکوں سے فنڈنگ حاصل کرکے ایم ایل ون کی تعمیر میں استعمال کرنے کی اصولی منظوری بھی دی۔ انھوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ریلوے کی اراضی کی تجارتی استعداد اور فنڈنگ کے امکانات کے حوالے سے دو ہفتوں میں جامع منصوبہ پیش کیا جائے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 1,726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون منصوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں کراچی۔روہڑی، روہڑی۔ملتان، ملتان۔لاہور اور لاہور۔پشاور سیکشن شامل ہیں۔ حکام کے مطابق کراچی۔روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن کے لیے بین الاقوامی فنانسنگ سے استفادہ کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر حصوں کی تکمیل کے لیے مقامی وسائل سے فنڈنگ کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، حنیف عباسی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
7 اکتوبر حملوں کی تیسری برسی، اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 74000 سے زائد افراد مارے گئے
،تصویر کا ذریعہEPA
حماس کے اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملوں کی تیسری برسی کے موقع پر اسرائیل بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں یادگاری تقریبات کا انعقاد بھی کیا گیا۔
7 اکتوبر کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 74 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دوران علاقے کے بڑے حصے کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے خلاف مغربی ممالک سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں مظاہرے ہوئے اور غزہ میں اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔
تین سال قبل اسی روز حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، جس میں 1,100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا تھا۔
اس موقع پر حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دنیا کے مختلف شہروں میں بھی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں فجر کے وقت سینکڑوں افراد یادگاری اجتماع میں شریک ہوئے اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
قیمتوں میں اضافے کے خدشات، تیل و گیس کے ذخائر کے اجرا کا منصوبہ زیرِ غور
،تصویر کا ذریعہReuters
تیل اور گیس کی عالمی منڈی میں ممکنہ سپلائی خدشات کے پیشِ نظر انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کا ایک غیر رسمی اجلاس آج مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے منعقد ہوگا، جس میں ہنگامی ذخائر سے تیل اور گیس جاری کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، یورپی یونین کے دو سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ اجلاس میں اس منصوبے پر غور کیا جائے گا، جبکہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے نمائندے اس حوالے سے پہلے ہی ابتدائی مشاورت کر چکے ہیں۔
گذشتہ ہفتے جی سیون (جی 7) ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے بعد اپنے ہنگامی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل خام تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اصولی اتفاق کیا تھا۔ ساتھ ہی انھوں نے توانائی کی برآمدات پر نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا تھا۔
تاہم اس حوالے سے اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کہ یورپ اور امریکہ مجموعی طور پر کتنی مقدار میں تیل اور گیس کے ذخائر مارکیٹ میں لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ اقدام کا مقصد سپلائی میں کمی کے خدشات کو کم کرنا اور توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے پر قابو پانا ہے۔
عمان کی فضائیہ نے آبنائے ہرمز میں تباہ شدہ ٹینکر سے عملے کے 10 زخمی ارکان کو نکال لیا
عمانی فضائیہ نے آبنائے ہرمز میں تباہ کیے گئے پانامہ کے جھنڈے والے آئل ٹینکر سے عملے کے 10 زخمی ارکان کو نکال لیا ہے۔ عمانی وزارت دفاع کے مطابق ٹینکر آن پیس کو منگل کو عمان کی بندرگاہ لیما سے 17 کلومیٹر دور نشانہ بنایا گیا۔
حملے کے نتیجے میں جہاز کے ڈیک پر آگ لگ گئی۔
عمانی وزارت دفاع نے ایکس چینل پر ایک بیان میں کہا، ’جہاز کے عملے کو خاصاب کے ایک ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔‘
بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کے عملے کے باقی تین پاکستانی بھی وطن واپس روانہ، اسحاق ڈار
،تصویر کا ذریعہPuntland Maritime Police Force
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی عملہ ارکان بھی محفوظ طریقے سے وطن واپس روانہ ہو گئے ہیں اور آج کراچی پہنچ کر اپنے اہلِ خانہ سے مل جائیں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ عمران علی، حسین یوسف اور محمد یٰسین ادیس ابابا سے کراچی کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور ان کی اپنے خاندانوں سے ملاقات ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے سفیر نے ادیس ابابا میں تینوں عملہ ارکان سے ملاقات کی اور ان کے قیام کے دوران ضروری سہولیات اور خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔
اسحاق ڈار کے مطابق وزارتِ خارجہ اور حکومتِ پاکستان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی عملے کے تمام ارکان کی محفوظ واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ انھوں نے ان کوششوں میں تعاون کرنے والے تمام افراد اور اداروں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ عملہ ارکان کی بحفاظت واپسی خوش آئند ہے، تاہم اس واقعے میں جان سے محروم ہونے والے تین پاکستانی سی فاررز کے نقصان پر گہرا افسوس ہے۔ انھوں نے مرنے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبر کی دعا بھی کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان سمندری قزاقی کے خاتمے اور بحری کارکنوں و سمندری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔
امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان، افغانستان، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ متاثر، خطے کے تقریباً نصف انتہائی غریب افراد پاکستان میں مقیم: عالمی بینک, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہEPA
عالمی بینک کی جانب سے جاری ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فروری 2026 میں خلیج فارس میں شروع ہونے والے تنازع نے پاکستان، افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پر مشتمل خطے میں لوگوں کے ذرائع معاش کو متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ انسانی سطح پر بھی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے افراد میں سے تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔
خطے کے ممالک سے متعلق جاری کیے گئے اکنامک اپ ڈیٹ میں عالمی بینک نے کہا ہے کہ لبنان، پاکستان، شام اور متحدہ عرب امارات میں پٹرول کی قیمتوں میں 40 فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ ڈیزل کی قیمت لبنان میں 80 فیصد سے زیادہ، متحدہ عرب امارات میں تقریباً 70 فیصد اور پاکستان، مغربی کنارے اور غزہ میں 40 فیصد سے زائد بڑھی۔
رپورٹ کے مطابق قیمتوں پر حکومتی کنٹرول اور سبسڈیز نے صارفین کو فوری اثرات سے کسی حد تک تحفظ فراہم کیا، تاہم اس کے نتیجے میں حکومتوں پر مالی دباؤ بڑھ گیا۔ مصر، اردن اور تیونس میں حکومتی قرضے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 80 فیصد سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ لبنان میں یہ شرح 130 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
عالمی بینک کے مطابق الجزائر، جبوتی، عراق، مراکش اور پاکستان کو بھی قرضوں اور مالی ضروریات کے حوالے سے نمایاں دباؤ کا سامنا ہے۔ اسی طرح ایندھن اور دیگر اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شام اور پاکستان میں احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح 2018-19 سے 2024-25 کے دوران روزانہ تین ڈالر کی غربت کی لکیر کے حساب سے 6.4 فیصد پوائنٹس، جبکہ 4.20 ڈالر یومیہ کی غربت کی لکیر کے حساب سے 3.2 فیصد پوائنٹس بڑھی۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں کووڈ-19 کی وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند افراطِ زر، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ نے غربت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ اندازہ ہے کہ یہ منفی رجحانات 2026 تک برقرار رہیں گے۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح وبا سے پہلے کی سطح سے اب بھی بلند ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خطے کے انتہائی غریب افراد میں تقریباً نصف کا تعلق پاکستان سے ہے، جبکہ دیگر غریب افراد کی بڑی تعداد افغانستان، شام اور یمن میں رہتی ہے۔ یہ تینوں ممالک جنگوں اور تنازعات سے متاثر ہیں، اور ان میں مجموعی طور پر روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے افراد کا مزید 47 فیصد حصہ آباد ہے۔
تحریک انصاف کا لانگ مارچ کوہاٹ سے ہوتا ہوا پشاور کے مضافات متنی تک پہنچ گیا
،تصویر کا ذریعہ@ShafiJanPTI
پاکستان تحریک انصاف کا چار اکتوبر کو شروع ہونے والا لانگ مارچ کوہاٹ سے پشاور کے مضافافتی علاقے متنی پہنچ گیا ہے، جہاں سے پھر یہ قافلہ خیبر کی طرف جائے گا۔ اس سے قبل یہ مارچ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ پہنچا تھا۔ کوہاٹ میں لانگ مارچ کے قافلے کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں شہریوں کی شرکت پر صوبائی ترجمان شفیع جان نے عوام کا شکریہ ادا کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں شفیع جان نے کہا کہ کوہاٹ کے باشعور عوام نے لانگ مارچ کے موقع پر بھرپور شرکت کر کے اپنے سیاسی شعور اور وابستگی کا مظاہرہ کیا۔
ان کے مطابق شہر میں پہنچنے والے قافلے کا والہانہ استقبال کیا گیا جبکہ شرکا کے ساتھ بھرپور تعاون بھی کیا گیا۔
شفیع جان نے کہا کہ کوہاٹ کے عوام کی میزبانی، تعاون اور گرم جوشی قابلِ ستائش ہے، جس نے مارچ کے شرکا کے حوصلے بلند کیے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ عوام آئندہ بھی عوامی مسائل کے حل اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے اسی جذبے کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق تحریک انصاف آج اس لانگ مارچ کے آگے کا اعلان کر سکتی ہے۔