لائیو, ایران میں پیٹرول کی تقسیم کے لیے حکومت کے تین مجوزہ منصوبے، پمپس بند کرنے سے 30 لیٹر ماہانہ کوٹے تک

ایران کی حکومت نے جنگی حالات اور پابندیوں کے پیشِ نظر پیٹرول کی تقسیم کے نظام میں ممکنہ تبدیلی کے لیے تین تجاویز پیش کی ہیں، تاہم ان میں سے کسی ایک کی حتمی منظوری ابھی نہیں دی گئی۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ غزہ کی صورتحال پر مذاکرات کے لیے قاہرہ پہنچ گئے

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنحماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ

    حماس کے ذرائع کے مطابق تنظیم کے سیاسی رہنما اور چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ غزہ کی صورتحال پر مصری حکام سے مذاکرات کے لیے قاہرہ پہنچ گئے ہیں۔

    بی بی سی فارسی نے الجزیرہ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ خلیل الحیہ اتوار کی صبح مصر کی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ حسن رشاد سے ملاقات کریں گے۔ جولائی کے اواخر میں حماس کی قیادت سنبھالنے کے بعد یہ ان کا مصر کا پہلا دورہ ہے۔

    خلیل الحیہ کا یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے خطے کے متوقع دورے سے قبل ہو رہا ہے۔

    جیرڈ کشنر آئندہ ہفتے اسرائیل اور مصر کا دورہ کریں گے، جہاں وہ غزہ سے متعلق ایک منصوبے پر اختلافات کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اس منصوبے کو مسترد کر چکے ہیں۔

    غزہ کے لیے اقوام متحدہ کے امن مندوب نکولائی ملاڈینوف بھی جیرڈ کشنر کے ہمراہ خطے کے دورے پر جانے والے ہیں۔

  2. حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں سے یمن میں بڑے پیمانے پر جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یمن میں کئی برس کی نسبتاً پُرسکون صورتحال کے بعد ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر حملے تیز کر دیے ہیں، جس سے ملک میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    دو بچوں کے والد انور نے شمالی یمن میں حوثیوں کی جانب سے اپنے آبائی شہر حدیدہ کی جانب پیش قدمی کے بعد بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر مخا میں پناہ لی تھی۔ تاہم گزشتہ ہفتے حوثیوں کی جانب سے مخا کی بندرگاہ پر کیے گئے حملوں نے جنگ کو ان کی اور ان کے بچوں کی زندگیوں کے مزید قریب پہنچا دیا، جس سے بڑے پیمانے پر نئی نقل مکانی اور تشدد کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

    انور نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ حوثیوں کے حملوں کا خوف مسلسل ہماری زندگیوں پر موجود رہے۔ مخا پہلے ایک محفوظ شہر اور بہت سے یمنیوں کے لیے پناہ گاہ تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے اپنی جان کا خوف نہیں، میری فکر اپنے بچوں اور خاندان کے لیے ہے اور میرے لیے بس یہی سب سے مشکل بات ہے۔‘

    مخا کے ایک اور رہائشی نجم حمود الوہبانی نے بھی کہا کہ ’ہر شخص خوف میں زندگی گزار رہا ہے۔ ہر روز حوثیوں کے میزائل اور ڈرون ہمارے سروں کے اوپر سے گزرتے ہیں۔ جب ہمیں دور کہیں حملوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں تو بہت خوف محسوس ہوتا ہے کہ کہیں کل یہ جگہ ان کا نشانہ نہ بن جائے۔‘

  3. ایران کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت اور اقوام متحدہ پر تنقید: ’تہران لبنان کی خودمختاری اور دفاع میں اس کے ساتھ کھڑا ہے‘ اسماعیل بقائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان میں اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    بقائی نے سنیچر کے روز رات گئے ایک بیان میں لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اسرائیل کی مبینہ خلاف ورزیوں پر مسلسل خاموشی پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔

    انھوں نے جنوبی لبنان میں سنیچر کے روز کیے گئے اسرائیلی حملوں کی بھی شدید مذمت کی، جن میں خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔

    اسماعیل بقائی نے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں لبنانی عوام کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’ایران لبنان کی خودمختاری اور وقار کے دفاع میں اس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘

  4. اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان پر حملوں میں 11 افراد کی ہلاکت کے بعد شہریوں کی نقل مکانی جاری

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں سنیچر کے روز اسرائیلی حملوں کے بعد شہری اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ان حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق انصار نامی گاؤں پر ایک حملے میں تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دیر الزہرانی پر ایک اور حملے میں چار افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔

    سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تصاویر اور مقامی میڈیا کی رپورٹس میں جنوبی لبنان کی سڑکوں پر شدید ٹریفک دکھائی گئی ہے، جہاں درجنوں خاندان نباطیہ کے علاقے سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’یہ حملے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیے گئے، جس میں اس کے مطابق تین فوجی شدید زخمی ہوئے۔‘

    اسرائیلی حکام نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ’انصار پر حملے کے دوران حزب اللہ کی رضوان فورس کے ایک کمانڈر کو بھی ہلاک کیا گیا۔‘

    یہ حملے جون میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے آغاز کے بعد ہونے والے خونریز حملوں میں شامل ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  5. آبنائے ہرمز کے بجائے اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی کی ٹرمپ کو تنبیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکی صدر کو آبنائے ہرمز کے بارے میں مسلسل دھمکیاں دینے کے بجائے اپنی سکیورٹی کی فکر کرنی چاہیے۔‘

    ابراہیم عزیزی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’ٹرمپ کو اپنی سلامتی کے لیے شاید ’فوڈ ٹرک میں پناہ لینا پڑے۔‘

    ان کا یہ بیان ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ شب دیے گئے اس بیان کے ردِعمل میں سامنے آیا، جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ’میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے جا رہا ہوں۔‘

    بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ صدر ٹرمپ یہ بات مذاق میں کہہ رہے تھے۔ تاہم ان کے بیان نے عالمی میڈیا کے ساتھ ساتھ ایران کے حکام اور سیاسی حلقوں میں بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔

  6. ایران میں پیٹرول کی تقسیم کے لیے حکومت کے تین مجوزہ منصوبے، پمپس بند کرنے سے 30 لیٹر ماہانہ کوٹے تک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کی حکومت نے جنگی حالات اور پابندیوں کے پیشِ نظر پیٹرول کی تقسیم کے نظام میں ممکنہ تبدیلی کے لیے تین تجاویز پیش کی ہیں، تاہم ان میں سے کسی ایک کی حتمی منظوری ابھی نہیں دی گئی۔

    ایران میں ایندھن کے استعمال کے حوالے سے موجود تنظیم کے سربراہ ساقب اصفہانی کے مطابق موجودہ حالات میں ملک میں پیٹرول کی کھپت کو پیداوار کے برابر لانا ضروری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت پیٹرول کی تقسیم کے حوالے سے تین مختلف نکات پر غور کر رہی ہے۔

    پہلا منصوبہ یہ ہے کہ اس صورت میں پیٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، تاہم روزانہ صرف ملکی پیداوار کے قریب 121 ملین لیٹر پیٹرول ہی پمپس کو فراہم کیا جائے گا۔ جب یہ مقدار ختم ہو جائے گی تو پمپس مزید پیٹرول فراہم نہیں کریں گے۔

    دوسرا منصوبہ یہ ہے کہ اس تجویز کے تحت دستیاب تقریباً 121 ملین لیٹر پیٹرول کو گاڑیوں کے درمیان مقررہ کوٹے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ جو افراد اپنے مقررہ کوٹے سے زیادہ پیٹرول استعمال کریں گے، انھیں اضافی پیٹرول آزاد مارکیٹ کی قیمت پر خریدنا ہوگا۔ اصفہانی کے مطابق یہ طریقہ کار اس منصوبے سے ملتا جلتا ہے جسے صوبہ کرمان میں نافذ کرنے کی تیاری کی گئی تھی۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    تیسرا منصوبہ اس تجویز میں پیٹرول کا کوٹا گاڑیوں کے بجائے افراد کو منتقل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ یعنی گاڑی رکھنے والے اور نہ رکھنے والے تمام شہریوں کو پیٹرول کا کوٹا دیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت روزانہ تقریباً 30 ملین لیٹر پیٹرول پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹیکسیوں کے لیے مختص کیا جائے گا، جبکہ باقی مقدار عوام میں تقسیم کی جائے گی۔

    ایرانی حکام کے مطابق اس نظام میں ہر فرد کو ماہانہ تقریباً 30 لیٹر پیٹرول کا کوٹا مل سکتا ہے۔ اس کوٹے کو دوسرے افراد کو منتقل کرنے کے علاوہ خرید و فروخت کرنے کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔

    اصفہانی کے مطابق ایران میں پیٹرول کی اوسط یومیہ کھپت تقریباً 135 ملین لیٹر ہے، جبکہ ملک کی ریفائنریاں روزانہ تقریباً 112 ملین لیٹر پیٹرول تیار کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ پیٹروکیمیکل مصنوعات کو پیٹرول میں تبدیل کرکے تقریباً 9 ملین لیٹر مزید فراہم کیے جاتے ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران میں پیٹرول کی قیمت اور تقسیم کے نظام پر بحث گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، خصوصاً صوبہ کرمان میں نافذ کیے جانے والے ایندھن کے منصوبے کے بعد۔ کرمان میں پہلے سے موجود کوٹے کے علاوہ 5,000 تومان کا ایک اضافی کوٹا متعارف کرایا گیا تھا، جسے بعد میں مقامی حکام نے بڑھا کر 40 لیٹر کرنے کا اعلان کیا۔

    اس منصوبے کے نفاذ کے بعد پیٹرول سٹیشنز پر طویل قطاریں لگ گئیں اور عوام کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی۔ صورتحال کے باعث حکام کو صوبے میں داخل ہونے والے مسافروں کے لیے بعض پیٹرول سٹیشنز پر منصوبے کی مقررہ حدود سے زیادہ پیٹرول حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنا پڑی۔

    ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ مذکورہ تینوں تجاویز میں سے کسی پر بھی ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حکام کے مطابق اگر ان میں سے کوئی منصوبہ منظور ہوا تو اس کی تفصیلات عمل درآمد سے چند ہفتے قبل عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

  7. قطر کی ایرانی پائلٹ قید میں ہونے کے ایرانی دعوے کی تردید

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایران کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس کے تین پائلٹ قطر کی قید میں ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں وہ ’اس وقت ایسے گمراہ کن بیانات پر بہت حیران ہیں۔‘

    ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں لکھا کہ مارچ میں قطری فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد انھوں نے ایرانی پائلٹوں سے رابطہ کیا تھا اور ان کے ہدفی راستے کی تصدیق کی تھی۔ ان کے مطابق جب پائلٹوں کی جانب سے پیغامات کا کوئی جواب نہیں ملا تو قطر نے ’تنازعات سے متعلق قوانین اور بین الاقوامی قانون کے تقاضوں کے مطابق‘ اپنے دفاع میں کارروائی کی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ قطری تلاش و امدادی ٹیموں نے ان پائلٹوں کی تلاش کے لیے آپریشن کیا۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک پائلٹ کی لاش ملی تھی جس کی باقیات ایران کے حوالے کرنے کے لیے قطری حکومت نے تہران سے رابطہ بھی کیا۔

    ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی گمشدہ افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ تین ایرانی پائلٹ قطر میں قید ہیں اور انھوں نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے ان کی صورتحال واضح کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل محمد باقر زادہ نے آئی سی آر سی کی صدر ماریانا سپولیئرک کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ دو ایس یو-24 جنگی طیارے 2 مارچ 2026 کو قطر میں واقع ایک ’دشمن فوجی اڈے‘ کو نشانہ بنانے کے لیے مشن پر روانہ ہوئے تھے۔

    ان کے بقول، مشن کی تکمیل کے بعد واپسی کے دوران طیاروں کو دشمن کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں چار ایرانی پائلٹ متاثر ہوئے۔

    ان چار پائلٹوں میں سے ایک، ماجد کاظمی، کی میت بعد ازاں ایران منتقل کی گئی اور انھیں 29 اگست کو شیراز میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

    بریگیڈیئر جنرل باقر زادہ نے دعویٰ کیا کہ باقی تین پائلٹوں، جواد صالحی، عبدالمجید دشتیان اور عمران بہروشیان، کو قطری افواج نے زندہ گرفتار کر لیا تھا۔

    اس سے قبل بھی ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا ان تینوں پائلٹوں کی ’حیثیت معلوم کرنے کی کوششوں‘ کا ذکر کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

  8. آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں اور اسے دوبارہ کھولنا ترجیح ہے: ترک صدر

    erdogan

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں اور اسے دوبارہ کھولنا ترجیح ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ترک صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان لفظی گولہ باری جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ وہ ’ایران کی شکست‘ کے بعد جلد ہی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔ تاہم امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ بیان مذاق کے طور پر دیا گیا تھا۔

    ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ماضی میں بھی، اب بھی اور مستقبل میں بھی ایران کی رہے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز صرف ایران کے حکم پر ہی بند یا کھولی جائے گی۔

    اردوغان نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورے کے دوران ان کے ساتھ لبنان کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کی ضرورت اور اس سلسلے میں واشنگٹن کے اہم کردار پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔

    انھوں نے ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مستقبل میں مصر سمیت دیگر ممالک کے بھی اس معاہدے میں شامل ہونے کا امکان ہے۔

  9. اب بہت ہوگیا حقوق کے لیے لڑنے کے دعوے دار بلوچ روایات کو پامال کررہے ہیں: ضیاء اللہ لانگو

    بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے لوگ انڈیا اور افغان طالبان کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں اس لیے بلوچستان کے لوگوں کو ان کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے اور ان سے اپنے بچوں کو بچانا چاہیے۔

    سینچر کو محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے ہمراہ کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان بھر میں لوگوں نے 14 اگست کو جوش و خروش سے منایا جس پر وہ پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی وجہ سے ممکن ہوا جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ بھی اپنے حلقہ انتخاب،قلات میں یوم آزادی منانے کے لیے ہیلی کاپٹر میں گئے تھے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ کوئٹہ سے سکواڈ کی گاڑیاں اور لوگ نہیں گئے تھے اس لیے وہ کوئٹہ واپسی کے لیے ایس پی قلات کی گاڑی اور وہاں کے پولیس کے اہلکاروں کے ہمراہ کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے۔

    انھوں نے بتایا کہ جب ان کا قافلہ ضلع مستونگ میں کُنڈ عمرانی کے قریب پہنچا تو ان پر مسلح افراد نے حملہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے پہلے اس گاڑی کے ٹائروں کو نشانہ بنایا جس میں، میں سوار تھا لیکن گاڑی کی ٹائروں کو گولیاں نہیں لگیں تاہم بعد ان کے سنائپرز نے مجھے نشانہ بنایا لیکن میں محفوظ رہا لیکن ان کی فائِرنگ سے میرے سکواڈ کے پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اب بہت ہوگیا۔ بلوچستان کے لوگوں کو نام نہاد آزادی اور بلوچوں کے حقوق کے لیے لڑنے کے ان دعویداروں کے بارے میں سوچنا چاہیے کیونکہ یہ لوگ بلوچ روایات کو پامال کررہے ہیں اور ان کے بقول خواتین کی بے توقیری سے بھی گریز نہیں کرتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے گذشتہ دس سال کے دوران قلات میں لوگوں بالخصوص خواتین کی سہولیات کے لیے 30 سے زائد ایمبولینس دیں جوان نام نہاد آزادی کے دعویدار چھین کر لے گئے ہیں۔‘

    ان کا الزام تھا کہ ’اسی طرح وہ مقامی زمینداروں سے بھتہ کی وصولی کرتے ہیں جبکہ شاہراہوں پر ان کی مبینہ لوٹ مار اور ظلم و زیادتی کی وجہ سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ لوگ یہاں کے لوگوں کی عزت اور ناموس کے لیے جدوجہد نہیں کررہے ہیں بلکہ یہاں کے روایات کی پامالی کررہے ہیں کیونکہ ان کی قیادت انڈیا اور افغان طالبان کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوئی ہے اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان کی باتوں میں نہیں آئیں بلکہ وہ ان سے اپنے بچوں کو بچائیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’کوئٹہ کراچی شاہراہ پر کوئی نو گو ایریا نہیں ہیں تاہم دہشت گرد موجود ہیں لیکن جب ان کے خلاف سکیورٹی فورسز کوئی کارروائی کرتے ہیں تو لوگ اور سول سوسائٹی حکومت اور سکیورٹی فورسز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔‘

  10. آج لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کا ’مناسب‘ جواب دیں گے: حزب اللہ

    حزب اللہ نے کہا ہے کہ وہ آج لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملوں کا ’مناسب‘ جواب دے گا۔

    اسرائیل کے یہ حملے، جو ہفتے کے روز صبح کے وقت کیے گئے، لبنان کے مختلف سیاسی حلقوں کے رہنماؤں کی جانب سے وسیع تنقید کا سبب بنے ہیں۔

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق، جنوبی لبنان میں دو مقامات، نبطیہ ضلع کے دیر الزہرانی اور انصار گاؤں پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے، جبکہ 19 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    لبنانی حکومت اور اسرائیل کے درمیان امریکا کی ثالثی میں مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ماہ (ستمبر) کے آغاز میں روم میں منعقد ہوگا۔

    حزب اللہ نے ایک بار پھر ان مذاکرات کو روکنے کے اپنے مطالبے پر زور دیا اور اسے ’ذلت آمیز راستہ‘ قرار دیا جو ’دشمن کو مفت رعایتیں دیتا ہے۔‘

    اسرائیلی فوج اس سے پہلے کہہ چکی ہے کہ اس نے یہ حملے جنوبی لبنان کے نبطیہ اور انصار میں ’حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے‘ کو نشانہ بنانے کے لیے کیے تھے، لیکن لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے کہا: ’انصار گاؤں پر اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے افراد ’فوجی بنیادی ڈھانچہ‘ نہیں تھے، اور جو خواتین اور بچے مارے گئے، وہ فوجی اہداف نہیں تھے۔‘

    انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بمباری ’انتہائی خطرناک ہے اور جنوب میں استحکام مضبوط کرنے کی کوششوں کو کمزور کرتی ہے۔‘

  11. جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 11 افراد ہلاک، حکام

    لبنانی حکام کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنلبنانی حکام کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں

    لبنانی حکام کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جون میں کشیدگی کم کرنے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے بعد یہ مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیے جا رہے ہیں۔

    لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے بتایا کہ ضلع نبطیہ کے علاقے انصار کے نواح میں ایک گھر پر ہونے والے حملے میں سات افراد جان سے گئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین بچے اور دو خواتین بھی شامل تھیں۔

    وزارتِ صحت کے مطابق ہفتے کے روز بعد میں دیر الزہرانی قصبے پر ایک اور حملے میں چار افراد ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہو گئے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے‘ کو نشانہ بنایا اور یہ کارروائی اپنے فوجیوں کے خلاف مبینہ حملے کے جواب میں کی گئی۔

    حکام کے مطابق انصار میں حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے اس مقام پر ہوا جہاں بے گھر خاندان پناہ لیے ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں گاؤں کی گلیوں میں دھویں کے بادل بلند ہوتے اور سائرن بجتے سنے جا سکتے ہیں۔

    وزیرِ اعظم نواف سلام نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے عام شہری تھے اور انہیں "عسکری ڈھانچہ" قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    ان کا کہنا تھا، ’اسرائیل کو یہ کشیدگی بڑھانا بند کرنا چاہیے۔ ہمارے لوگوں کی سلامتی اور اپنی سرزمین پر جینے کا حق کسی قسم کی سودے بازی کا موضوع نہیں۔‘

    اسرائیلی فوج کے مطابق جس واقعے کے بعد انصار پر حملہ کیا گیا وہ علی الطاہر کی پہاڑی پر پیش آیا، جو جنوبی مشرقی لبنان پر نظر رکھنے والی ایک اہم عسکری پوزیشن سمجھی جاتی ہے۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے نے بھی اس پہاڑی کے اطراف متعدد حملوں کی اطلاع دی ہے۔

    سرحدی علاقے بنت جبیل میں بھی کئی گھروں کے تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ این این اے کے مطابق اسرائیلی فوج نے رہائشی گھروں کی جانب بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی۔

    جون میں طے پانے والے جنگ بندی فریم ورک کے تحت حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے، اسرائیلی افواج کے جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا اور لبنانی فوج کی تعیناتی کا منصوبہ شامل ہے۔

    لبنان کے صدر جوزف عون نے انصار میں ایک ہی خاندان کے افراد کی ہلاکت اور جنگ بندی معاہدے کی ’بار بار خلاف ورزیوں‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کے لیے ایک واضح پیغام ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے، خلاف ورزیاں اور زمینی حقائق مسلط کرنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں اور ان کا مناسب جواب دیا جائے گا۔

    اگرچہ جون کے معاہدے کے بعد لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ لبنانی اور اسرائیلی مذاکرات کاروں کے درمیان ستمبر میں مذاکرات کا آٹھواں دور متوقع ہے، تاہم اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔

  12. پرچم کی توہین کرنے والے دو طالب علموں کا تہران یونیورسٹی نے داخلہ منسوخ کر دیا

    تہران یونیورسٹی کے صدر محمد حسین امید نے کہا ہے کہ ایرانی پرچم کی توہین کے الزام میں دو طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے، جبکہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا مرحلہ جاری ہے۔

    ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی تادیبی کونسل ایسے متعدد طلبہ کے مقدمات کی تحقیقات کر رہی ہے یا مکمل کر چکی ہے جن پر یونیورسٹی کے مفادات کو نقصان پہنچانے یا مقدسات کی توہین کے الزامات عائد ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد متعلقہ طلبہ کے بارے میں تادیبی کونسل کے فیصلوں سے آگاہ کیا جائے گا۔

  13. قطر نے تین ایرانی پائلٹوں کو حراست میں لے لیا: تہران

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی گمشدہ افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ تین ایرانی پائلٹ قطر میں قید ہیں اور انھوں نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے ان کی صورتحال واضح کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل محمد باقر زادہ نے آئی سی آر سی کی صدر ماریانا سپولیئرک کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ دو ایس یو-24 جنگی طیارے 2 مارچ 2026 کو قطر میں واقع ایک ’دشمن فوجی اڈے‘ کو نشانہ بنانے کے لیے مشن پر روانہ ہوئے تھے۔

    ان کے بقول، مشن کی تکمیل کے بعد واپسی کے دوران طیاروں کو دشمن کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں چار ایرانی پائلٹ متاثر ہوئے۔

    ان چار پائلٹوں میں سے ایک، ماجد کاظمی، کی میت بعد ازاں ایران منتقل کی گئی اور انھیں 29 اگست کو شیراز میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

    بریگیڈیئر جنرل باقر زادہ نے دعویٰ کیا کہ باقی تین پائلٹوں، جواد صالحی، عبدالمجید دشتیان اور عمران بہروشیان، کو قطری افواج نے زندہ گرفتار کر لیا تھا۔

    اس سے قبل بھی ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا ان تینوں پائلٹوں کی ’حیثیت معلوم کرنے کی کوششوں‘ کا ذکر کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

    اپنے خط میں بریگیڈیئر جنرل باقر زادہ نے الزام عائد کیا کہ چھ ماہ گزر جانے کے باوجود قطر نے ان قیدیوں کے بنیادی حقوق کا احترام نہیں کیا۔ ان کے مطابق، یہ طرزِ عمل جنگی قیدیوں سے متعلق جنیوا کنونشنز اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ متعدد سفارتی کوششوں کے باوجود نہ تو ان قیدیوں کے اہلِ خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے اور نہ ہی ان کی حالت سے متعلق کوئی باضابطہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی فوج اس سے قبل یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ شیراز کے شہید دوران ایئر بیس سے اڑان بھرنے والے ان پائلٹوں نے قطر میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو ’بھاری نقصان‘ پہنچایا تھا، تاہم مشن سے واپسی کے دوران ان کے طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

  14. حزب اللہ کمانڈر کی ہلاکت کے بعد امریکہ سے مذاکرات معطل کر دیے: باقر قالیباف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’جنوبی بیروت میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر کی ہلاکت کے بعد امریکہ کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے گئے تھے۔‘

    ایرانی میڈیا کے مطابق محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں ہونے والے آخری حملے میں حزب اللہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ اپنے اہل خانہ سمیت ہلاک ہوئے، جس کے بعد ہم نے وہیں سب کچھ روک دیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران نے واضح کر دیا تھا کہ آج رات ہم آپ کو اسی انداز میں جواب دیں گے اور اگر صہیونی حکومت نے ردعمل دیا تو ہم پورے خطے کو نشانہ بنائیں گے۔‘

    ایرانی چیف مذاکرات کار کے مطابق ’اسی رات انھوں نے ناکہ بندی ختم کر دی، معاہدے کے 30 دن بعد نہیں۔ ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا کہ ہم آج رات ناکہ بندی ختم کر رہے ہیں۔ تاہم اس کے نیچے انھوں نے لکھا کہ اس کے بدلے ایرانی آبنائے ہرمز بھی کھولیں گے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قالیباف کا کہنا تھا کہ ’جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے اسے روک دیا اور کہا کہ ہمارا ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے ثالثوں سے کہا کہ اگر یہ ٹوئٹ ابھی حذف نہ کی گئی تو ہم اسی شدت سے حملہ کریں گے جس کا میں نے اعلان کیا ہے۔ 58 منٹ بعد ٹرمپ نے ٹوئٹ کا دوسرا حصہ حذف کر دیا اور لکھا کہ آبنائے ہرمز معاہدے کے تحت سنیچر کے روز کھولی جائے گی۔‘

    قالیباف نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ’یہ مذاکرات دراصل جدوجہد کا نام ہے۔‘

    رپورٹ کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی چند روز بعد دوبارہ شروع کر دی گئی اور تاحال جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز دھمکی دی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین کا حصہ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    ایرانی حکام نے ان بیانات پر شدید تنقید کی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز ہمیشہ ایرانی رہی ہے، آج بھی ایرانی ہے اور آئندہ بھی ایرانی رہے گی‘ اور اسے ’صرف ایران کی کمان میں ہی بند یا کھولا جائے گا۔‘

  15. انڈونیشیا میں 7.7 شدت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 20 تک جا پہنچی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈونیشیا میں سنیچر کی علی الصبح 7.7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ملک کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق زلزلے کے باعث متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد ابتدائی ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    زلزلے اور اس کے بعد آنے والے درجنوں آفٹر شاکس کے باعث علاقے میں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈونیشیا کی محکمہ موسمیات و جیو فزکس ایجنسی کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق سنیچر کی صبح پانچ بجے کے قریب جزیرے فلوریس میں آیا۔ زلزلے کی گہرائی 15 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

    ماؤمیرے بندرگاہ سے سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انٹرآئی لینڈ فیری پر سوار ہونے کے منتظر مسافروں کے اوپر ٹرمینل کی عمارت سے کنکریٹ کے بڑے ٹکڑے گر رہے ہیں۔ جہاز تک پہنچنے والا گینگ وے منہدم ہونے کے باعث بعض افراد سمندر میں جاگرے۔

  16. آبنائے ہرمز میں نامعلوم شے کے حملے سے مال بردار جہاز متاثر، عملہ محفوظ

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کو آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے ایک واقعے کی تصدیق شدہ رپورٹ موصول ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک بلک کیریئر جہاز نامعلوم شے کے حملے کی زد میں آیا جس سے جہاز کے ڈھانچے (ہل) کو نقصان پہنچا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق جہاز کا عملہ محفوظ ہے تاہم نقصان کی نوعیت اور حجم کے بارے میں ابھی کوئی تفصیلی جائزہ سامنے نہیں آیا، جبکہ ممکنہ ماحولیاتی اثرات کے بارے میں بھی تاحال معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

    یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے علاقے سے گزرنے والے جہازوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع ادارے کو دی جائے۔

  17. ہم سمجھ نہیں سکے کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی سے پاکستان آخر کیا حاصل کرنا چاہتا ہے: امیر خان متقی

    طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی

    طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ ’بارہا کوششوں کے باوجود ہم یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی سے پاکستان کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار سید عبداللہ نظامی سے گفتگو کرتے ہوئے امیر خان متقی نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے کبھی ان(پاکستان) پر حملہ نہیں کیا، ہم نے ان کی سڑکیں بند نہیں کیں، ہم نے ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ہم نے ان کے ٹرانزٹ (سامان) کی نقل و حمل میں بھی رکاوٹ نہیں ڈالی۔‘

    امیر متقی کے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان نے آمدورفت محدود کی، حملے کیے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اعتراضات اٹھائے۔‘

    یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

    تاہم امیر متقی کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جانب سے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

    طالبان حکومت کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کو وضاحت کرنی چاہیے کہ اس کی مجبوری یا تشویش کیا ہے اور معاملات یہاں تک کیوں پہنچے ہیں۔

    یاد رہے کہ ان حملوں کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ مسلح گروہوں کی جانب سے ہونے والے حملے ہیں، جنھیں وہ اپنی سرزمین اور شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

    تاہم امیر خان متقی کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کو اپنے داخلی مسائل کا سامنا ہے جبکہ وہاں (پاکستان میں) اختیارات کی تقسیم بھی غیر متوازن ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ افغان سرزمین اس کے مخالف مسلح گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔

    تاہم اس بارے میں امیر خان متقی نے کہا کہ ’اگر بات بلوچ گروہوں کی ہے تو وہ گزشتہ 78 برس سے حکومت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اگر ٹی ٹی پی کی بات کی جائے تو وہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہے اور جہاں تک افغان سرزمین کا تعلق ہے تو ہم نے ماضی کے مقابلے میں سرحدی نگرانی اور کنٹرول کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔‘

    جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ کیا مخالف فریق کے مطالبات اور خدشات کو سمجھنا بھی ان کی ذمہ داری نہیں، تو امیر خان متقی نے جواب میں دعویٰ کیا کہ ’ہماری جانب سے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں اور ہماری طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

    امیر خان متقی کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستانی حکام اور حکومت کے حامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے افغانستان میں طالبان حکومت کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقید کا سامنا ہے۔

    اگرچہ طالبان حکومت مذاکرات اور تحمل کے مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہے، تاہم اس نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو وہ اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کر سکتی ہے۔

    طالبان حکومت کے وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے حال ہی میں افغان سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو حکومت کو اپنی پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔

  18. امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، پیغامات کا مقصد مذاکرات ہونا نہیں: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: عباس عراچی نے کہا کہ قطر اور پاکستان ثالث کے طور پر ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں تاہم اس کا مطلب مذاکرات ہونا نہیں ہے

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    بی بی سی فارسی نے خبر رساں ادارے اسنا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ’مذاکرات کے حوالے سے عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ قطر اور پاکستان ثالث کے طور پر ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں اور دونوں جانب پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، تاہم اس کا مطلب مذاکرات ہونا نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت میں ’جنگ کے خاتمے‘ کی بات کی گئی تھی، نہ کہ جنگ بندی کی۔

    عباس عراقچی کے مطابق امریکہ نے اس مفاہمت کی خلاف ورزی کی جس کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔

    انھوں نے کہا کہ اسی لیے ’60 روزہ جنگ بندی‘ جیسی کوئی چیز موجود نہیں تھی جس میں توسیع کی ضرورت پڑتی۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ رابطوں کے لیے پہلے استعمال ہونے والے ذرائع اب مؤثر نہیں رہے۔

    ان کے بقول تہران اس وقت رابطے کے لیے ایک ’عبوری راستہ‘ تیار کر رہا ہے جو بعد میں مستقل شکل اختیار کر سکتا ہے۔

  19. انڈونیشیا میں 7.7 شدت کے زلزلے سے ایک شخص ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری

    انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ

    ،تصویر کا ذریعہBASARNAS

    انڈونیشیا میں سنیچر کو 7.7 شدت کے زلزلے سے کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ حکام کی جانب سے سونامی وارننگ جاری کیے جانے پر لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم بعد میں یہ وارننگ واپس لے لی گئی۔

    ماؤمیرے میں امدادی ٹیمیں تباہ شدہ عمارتوں میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اب تک چار افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم دور افتادہ اور پہاڑی علاقے میں نقصان کی مکمل نوعیت جاننے میں وقت لگ سکتا ہے۔

    زلزلے کے باعث جزیرۂ فلورس کے مرکزی شہر ماؤمیرے میں لوگ گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔

    بندرگاہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرمینل کی عمارت سے کنکریٹ کے بڑے بڑے ٹکڑے ٹوٹ کر وہاں گرے جہاں بین الجزائر فیری پر سوار ہونے کے منتظر مسافر موجود تھے۔ جہاز تک پہنچنے والا راستہ گرنے سے کچھ افراد سمندر میں جا گرے۔

    حکام کی جانب سے سونامی وارننگ جاری کیے جانے کے بعد موٹر سائیکلوں پر سوار لوگوں کی بڑی تعداد کو ساحل سے دور محفوظ علاقوں کی طرف جاتے دیکھا گیا۔

    انڈونیشیا کی موسمیات، موسمیاتی تبدیلی اور ارضی طبیعیات کی ایجنسی کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے سے کچھ پہلے مشرقی نوسا تنگارا کے فلورس علاقے میں آیا۔ ادارے کے مطابق زلزلے کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔

    زلزلے کے بعد حکام نے سونامی کے خدشے کے پیش نظر وارننگ جاری کی، تاہم بعد میں اسے ختم کر دیا گیا۔

    انڈونیشیا میں زلزلہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس وقت ترجیح عوام کی حفاظت اور آفٹر شاکس یا دیگر خطرات کے باعث مزید جانی نقصان کو روکنا ہے۔

    اسی علاقے میں کئی شدید آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے جن میں ایک کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی۔

    ادارے نے لوگوں کو پرسکون رہنے اور ساحلی علاقوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ’لوگوں کو عمارتوں میں داخل ہونے سے بھی گریز کرنا چاہیے، خاص طور پر ایسی عمارتوں میں جن میں پہلے ہی دراڑیں پڑ چکی ہوں یا جن کی ساخت کو نقصان پہنچا ہو۔‘

    ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور نقصان کے حجم کا تعین کرنے کے لیے فوری جائزہ لیا جا رہا ہے اور معلومات کی تصدیق کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

  20. حوثیوں کے میزائل حملے میں کم از کم چار شہری ہلاک: یمنی حکومت

    یمن کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثیوں نے جمعے کے روز بحیرہ احمر کی بندرگاہ موچا پر چھ بیلسٹک میزائل داغے جس کے نتیجے میں کم از کم چار شہری ہلاک ہو گئے۔

    بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے حکام کے مطابق حملے میں شہری بنیادی ڈھانچے اور بندرگاہ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ متعدد ماہی گیر کشتیوں میں بھی آگ لگ گئی۔

    دوسری جانب حوثیوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے موچا میں فوجی مقامات، ہتھیاروں اور سعودی حمایت یافتہ افواج کے جہازوں کو بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور یمن میں وسیع پیمانے پر تنازع کے دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔