لائیو, سعودی عرب: آرامکو تیل تنصیب پر ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک، پاکستان شہری سمیت دو زخمی
سعودی عرب کی وزارتِ توانائی اور سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ کے مطابق بدھ 21 اکتوبر کی صبح سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ڈرون کو فضائی دفاعی نظام نے روک کر فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
بریکنگ, سعودی عرب: آرامکو تیل تنصیب پر ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک، پاکستان شہری سمیت دو زخمی
،تصویر کا ذریعہ@anadoluagency
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
سعودی عرب کی وزارتِ توانائی اور سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ کے مطابق بدھ 21 اکتوبر کی صبح سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ڈرون کو فضائی دفاعی نظام نے روک کر فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
سعودی وزارتِ توانائی نے واقع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں آئل فیلڈ میں کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی۔ گاڑی تنصیب کی حدود سے باہر تھی اور واقعے سے تیل کی پیداوار یا دیگر آپریشنز متاثر نہیں ہوئے۔
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق اس واقعے میں دو غیر مُلکی ہلاک ہوئے جن میں ایک فلپائنی اور ایک نیپالی شہری شامل ہیں، جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایک پاکستانی اور ایک انڈین شہری شامل ہیں۔
ایرانی خطرہ ختم کرنے کا واحد راستہ حکومت کا تختہ الٹنا ہے، موساد اور سکیورٹی اداروں کو ہدایات جاری کر دیں: نیتن یاہو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشناسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’ایران سے لاحق خطرے کو ختم کرنے کا واحد راستہ وہاں کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔‘
جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ ’ایران اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتا تھا، لیکن اسرائیل نے اسے ایسا کرنے سے پوری طاقت کے ساتھ روک دیا ہے۔‘
ان کے بقول ایران جوہری بم بنانے کی کوشش بھی کر رہا تھا، جسے روک دیا گیا، تاہم ایران اب بھی یہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران کے خلاف حالیہ دنوں میں اپنے سخت بیانات میں مزید شدت لاتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ’موجودہ صورتحال ختم کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ انھوں نے ’اسرائیلی فوج، خفیہ ایجنسی موساد اور ملک کے تمام سکیورٹی اداروں کو اس حوالے سے حکم جاری کر دیا ہے۔‘
تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس حکم پر کب اور کس طرح عمل درآمد کیا جائے گا۔
ایران طویل عرصے سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کے الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔
حوثی حملوں کے بعد فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کا سعودی عرب کا اچانک دورہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کا اچانک دورہ کیا ہے، جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔ اس دورے کا مقصد حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے۔
ایران کے اتحادی حوثی جنگجوؤں کے حملوں میں اضافے کے بعد ایمانویل میکخواں سعودی عرب پہنچنے والے پہلے مغربی رہنما ہیں۔
ایمانویل میکخواں کی سعودی عرب آمد سے قبل فرانسیسی ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس دورے کا مقصد حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ فرانس کی یکجہتی کا اظہار کرنا اور ہائیڈروکاربن وسائل کی فراہمی کو محفوظ بنانے اور ان کے ذرائع میں تنوع لانے کی کوششیں جاری رکھنا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایمانویل میکخواں نے کہا کہ وہ ’اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔‘
سعودی عرب پہنچنے سے پہلے ایمانویل میکخواں قطر میں تھے، جہاں انھوں نے اعلان کیا کہ فرانس نے سعودی عرب کی اہم آئل ٹرمینل بندرگاہ ینبع پر اہلکار اور سازوسامان بھیجا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کے جنوبی صوبے حضرموت کے دارالحکومت مکلا کے الریان ایئرپورٹ پر سعودی عرب کی جانب سے فوجی کارگو طیاروں کے ذریعے پہنچائے گئے فوجی سازوسامان کو نشانہ بنانے کا دعویٰ حوثی تنظیم انصار اللہ نے کیا ہے۔
حوثی گروپ نے ریاض کو خبردار بھی کیا ہے کہ وہ ’شہری تنصیبات کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال‘ نہ کرے۔
روس امریکہ اور ایران کے تنازع کے حل میں مدد کے لیے تیار ہے، پوتن کی ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سے گفتگو
،تصویر کا ذریعہIRNA
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف سے ملاقات میں ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع حل کرنے میں مدد دینے کے لیے روس کی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
بدھ کو روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات کے آغاز پر پوتن نے کہا کہ وہ مغربی ایشیا کی صورتحال اور ایران سے متعلق معاملات پر امریکہ کا مؤقف جاننے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
انھوں نے ایران کے ساتھ روس کے خصوصی اور اعتماد پر مبنی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ماسکو اس بحران کے حل میں مدد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے پر خوش ہو گا۔‘ یہ بحران ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
یوکرین کے ساتھ جاری تنازع کا ذکر کرتے ہوئے روسی صدر نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کا حوالہ دیا اور ماسکو اور کیئو کے درمیان تنازع حل کرنے میں ٹرمپ کی دلچسپی کو سراہا۔
پوتن نے روسی ڈیزل کی امریکہ اور عالمی منڈیوں کو فراہمی سے متعلق معاہدے کو بھی مثبت قرار دیا اور امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعاون بحال کرنے کے لیے روس کی آمادگی ظاہر کی۔
دوسری جانب سٹیو وٹکوف نے گفتگو کے دوران روسی ڈیزل کی فراہمی پر ٹرمپ کی جانب سے پوتن کے لیے اظہارِ تشکر اور امریکہ، یوکرین اور روس کے درمیان سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر توجہ مرکوز کی۔
امریکی خصوصی ایلچی نے اس بار پوتن سے تنہا ملاقات کی۔ ان کی گذشتہ دو ملاقاتوں میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی ان کے ہمراہ تھے، تاہم اطلاعات کے مطابق بیماری کے باعث وہ اس بار ملاقات میں شریک نہیں ہوئے۔
جنگ چھیڑ کر دنیا میں افراتفری پھیلانے والا ملک خود کو مظلوم ظاہر نہیں کر سکتا: اسماعیل بقائی
،تصویر کا ذریعہIRNA
،تصویر کا کیپشنایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ ’واشنگٹن نے نو ماہ سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ ایران پر حملے کیے اور یہ سب ایک ایسے وقت میں ہوا کہ جب مذاکرات جاری تھے۔‘
اسماعیل بقائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’امریکہ نے میناب میں ایرانی بچوں کا قتلِ عام کیا، لامرد میں بچیوں کو قتل کیا، ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنایا اور ایرانی عوام پر پابندیاں مزید سخت کر دیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے 17 جون کو خود دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشت کو بھی توڑ دیا اور اب دنیا سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ایران کی مذمت کرے۔‘
ایرانی ترجمان کے مطابق امریکہ کی ’غیر قانونی جارحیت‘ کی قیمت دنیا کو خطے میں عدم استحکام اور عالمی معیشت میں بے یقینی کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ’امریکہ اپنی مرضی سے جنگ شروع کرنے، خطے کو آگ میں جھونکنے اور دنیا بھر میں افراتفری پھیلانے کے بعد خود کو مظلوم ظاہر نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جارح کو مدعی اور مظلوم کو مجرم بنا کر ذمہ داری سے نہیں بچا جا سکتا۔‘
اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 74 ہزار سے تجاوز کر چُکی ہے: وزارتِ صحت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں اب تک 74 ہزار 494 فلسطینی ہلاک جبکہ ایک لاکھ 75 ہزار 604 زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارتِ صحت نے بدھ کو بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے سات افراد کی لاشیں اور 24 زخمی لائے گئے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق وزارت نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 534 ہو گئی ہے، جبکہ اس عرصے میں پانچ ہزار 486 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ متعدد متاثرین کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں یا سڑکوں پر پڑی ہیں، جہاں تک ایمبولینسوں اور امدادی ٹیموں کی رسائی ممکن نہیں، کیونکہ یہ ٹیمیں پہلے ہی شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
وزارت کے مطابق اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ بڑے پیمانے پر مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ ضروری خدمات کا نظام بھی مفلوج ہو چکا ہے۔
وزارت نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے میں امدادی سامان کی بلا روک ٹوک ترسیل کی ضمانت کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے امدادی سامان اور تعمیرِ نو کے لیے ضروری مواد کی آمد پر جاری پابندی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
امریکہ نے مفاہمت کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہIRNA
،تصویر کا کیپشنایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی، تاہم ایران سفارت کاری کے لیے تیار ہے اور اپنے دفاع سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔‘
بی بی سی فارسی کے مطابق عباس عراقچی نے مزید کہا ہے کہ ’ایران اس تنازع کا پُرامن اور باعزت حل تلاش کرنے کے لیے پُرعزم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دفاع کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔‘
انھوں نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار فنانشل ٹائمز میں اپنے مضمون میں لکھا کہ ’وائٹ ہاؤس نے مفاہمت تک پہنچنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور اب کسی پیش رفت کی توقع کرنے کی بھی بہت کم وجوہات ہیں۔‘
دھمکیوں اور پابندیوں کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے
کہ جب تک دھمکیوں اور پابندیوں میں عملی طور پر کمی نہیں آتی، تب تک با معنی
مذاکرات کے لیے سازگار فضا پیدا نہیں ہو سکتی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری
اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’ایک طرف پابندیوں اور دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا
جائے، رابطے کے راستے بند کیے جائیں، اور دوسری طرف مذاکرات کی بات کی جائے،‘ تو
یہ مؤثر نہیں ہو سکتا۔
ایرانی
صدر کا کہنا تھا کہ ’دھمکیوں اور دباؤ کی زبان میں ہونے والی بات چیت کے کوئی معنی
نہیں ہوتے۔‘
پاکستان، قطر، ترکی اور انڈونیشیا میں ’بدر معاہدے‘ کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط: معاہدے کا مقصد چاروں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے، ترک وزارت دفاع
،تصویر کا ذریعہTRT
پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے ’بدر معاہدے‘
کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔
ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق اس ضمن میں ایک تقریب
بدھ کے روز قطری دار الحکومت دوحہ میں منعقد ہوئی۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف، انڈونیشیا کے نائب
وزیر دفاع یوسف جوہری، ترکی کے وزیر دفاع یاشار گولر اور قطر کے نائب وزیر اعظم اور
وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن آل ثانی نے اس مفاہمتی یادداشت
پر دستخط کیے۔
ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ٹی آر ٹی‘ کے مطابق
معاہدے کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار میں تعاون کو فروغ دینا، چاروں
ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، اور تکنیکی و عسکری امور، تربیت، تحقیق اور
ترقی کے شعبوں میں باہمی تعاون کی حمایت کرنا ہے۔
ترک خبر رساں
ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ’معاہدہ
چاروں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح
پر ترک دفاعی صنعت کی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں بھی مدد دے گا۔‘
ٹی آر ٹی کے مطابق یہ اقدام جدید
دفاعی نظاموں کی ترقی سے ہم آہنگ نئی ٹیکنالوجیز اور صنعتی صلاحیتوں کے فروغ میں
معاون ثابت ہو گا۔
ترک خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے
کہ مکمل چاند کو ’بدر‘ کہتے ہیں اور معاہدے کا نام بھی اسی مناسبت سے رکھا گیا ہے،
’کیوں کہ اس معاہدے کے تحت چاروں ممالک ایک دوسرے کی صلاحیتوں کی تکمیل کریں گے۔‘
ٹی آر ٹی کے مطابق اس معاہدے کے تحت
دفاعی پیداوار میں ہر ملک کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے گا، دفاعی صنعت کی
استعداد میں اضافہ ہو گا، اور اتحادی و دوست ممالک کی ضروریات بہتر انداز میں پوری
کی جا سکیں گی۔
مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ شریک
ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرنے، دفاعی صنعت کے شعبے میں
تعلقات کو فروغ دینے اور کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔
ٹی
آر ٹی کے مطابق اس معاہدے سے سلامتی، استحکام اور مشترکہ اہداف کے حصول میں مدد
ملے گی۔
آبی حقوق کی خلاف ورزی کو پاکستان ’جنگی اقدام‘ سمجھے گا: وزیرِ اعظم شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہx.com/GovtofPakistan
،تصویر کا کیپشنوزیرِ اعظم شہباز شریف کی اسلام آباد میں مالدیپ کے صدر محمد معیزو سے ملاقات
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ
پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے انڈیا کے فیصلے پر شدید تحفظات ہیں۔ ان
کا کہنا تھا کہ انڈیا ایک ایسے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس پر دونوں ممالک
عمل کے پابند ہیں اور پاکستان کے آبی حقوق کی خلاف ورزی کو ’جنگی اقدام‘ سمجھا
جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حکومت
پاکستان کے اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اسلام
آباد میں مالدیپ کے صدر محمد معیزو سے ملاقات ہوئی اور دونوں ممالک میں وفود کی
سطح پر مذاکرات بھی ہوئے۔
مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس میں شہباز
شریف نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ معاہدوں کا احترام کیا جانا
چاہیے اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ ڈالنے یا بلیک میل کرنے کے لیے استعمال
نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یہ مؤقف
مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کر چکا ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل
اسمبلی سے خطاب میں بھی انھوں نے کہا تھا کہ پانی پاکستان کے لیے ’سرخ لکیر‘ ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پانی خوشحالی
اور ترقی کا ذریعہ ہے، اسے دھمکیوں یا تنازعات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا
چاہیے۔
ان کے بقول پانی انسانیت کے لیے
ناگزیر ہے، خصوصاً ان ممالک کے لیے جو دریاؤں کے نچلے حصوں میں واقع ہیں۔
یاد
رہے کہ انڈیا نے گذشتہ سال اپریل میں پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل
کرنے کا اعلان کیا تھا۔
آبنائے ہرمز کے قریب ایک آئل ٹینکر کو ’نشانہ بنایا گیا‘
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنآبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز (فائل فوٹو)
برطانوی تنظیم میری ٹائم ٹریڈ
آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے کہا ہے کہ عمان کے قریب، آبنائے ہرمز کے سامنے واقع
علاقے میں ایک تیل بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
تنظیم کے مطابق اس واقعے کے نتیجے
میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور آئل ٹینکر اس وقت لنگر انداز ہے۔
رپورٹس
کے مطابق جہاز کے عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔
حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے کی تردید کر دی
،تصویر کا ذریعہHouthi Media Center/Getty Images
یمن کے حوثی گروپ کے ترجمان نے کہا
ہے کہ گروپ نے بدھ کے روز سعودی عرب کے شہر مدینہ کی جانب کوئی ڈرون نہیں بھیجا
اور نہ ہی سعودی عرب کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کی ہے۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے اس سے
قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب کی جانب آنے والے پانچ ڈرونز کو تباہ کر دیا
ہے۔
اتحاد کے مطابق ان حملوں کے ممکنہ
اہداف میں مدینہ کا علاقہ بھی شامل تھا۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے
ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا: ’سعودی عرب کی جانب داغے گئے
چار ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘
بعد ازاں ایک دوسرے پیغام میں انھوں
نے کہا کہ یہ ڈرونز سعودی عرب کے مشرقی علاقے اور مدینہ کے علاقے میں روکے گئے۔
المالکی
نے ان حملوں کے ذمہ دار کسی فریق کا نام نہیں لیا، تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ
ایک اور ڈرون بھی سعودی عرب کے مشرقی حصے میں روک لیا گیا۔
امریکہ کا ایران سے ثالثی کی کوششوں کا خیر مقدم
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے
مختلف ممالک کی جانب سے امریکہ اور ایران میں ’ثالثی کی کوششوں‘ کا خیر مقدم کیا
ہے۔
مارکو روبیو نے صحافیوں کے سوالات کے
جواب دیے، جن کا متن امریکی محکمہ خارجہ نے جاری کیا ہے۔
امریکی وزیر
خارجہ سے سوال کیا گیا: ’قطری
میڈیا میں ایسی اطلاعات تھیں کہ قطر اور پاکستان نے ایران کے سامنے ایک نئی تجویز
رکھی ہے تاکہ امریکہ اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ سکیں۔ کیا یہ اطلاعات
درست ہیں؟‘
روبیو نے جواب میں کہا کہ ایک عرصے
سے کئی ممالک ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مختلف تجاویز پیش کرتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ’ثالثی کی
کوششوں‘ کا خیر مقدم کرتا ہے، خصوصاً ایسے ممالک کی جانب سے جن کے ساتھ واشنگٹن کے
مضبوط اتحاد اور شراکت ہے۔ انھوں نے کہا کہ قطر طویل عرصے سے اس معاملے میں کردار
ادا کرتا رہا ہے۔
مارکو روبیو نے مزید کہا: ’میں سمجھتا ہوں کہ (پاکستان کے) فیلڈ مارشل عاصم منیر گذشتہ روز تہران میں موجود
تھے۔‘
تاہم ان کے بقول آخر کار کسی بھی
تجویز کی منظوری یا قبولیت کا فیصلہ ’امریکی صدر کے ہاتھ میں ہے۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر
ٹرمپ بار ہا واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ کسی ایسے معاہدے کی حمایت نہیں کرے گا جو
ایران کو مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرے۔
روبیو
نے کہا کہ ’جب تک صدر ٹرمپ اقتدار میں ہیں، ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے
گا۔‘
بریکنگ, عراق اور ایران کے درمیان سرحدی کراسنگ کی بندش کی اطلاعات
اطلاعات ہیں کہ عراق نے ایران کے ساتھ چذابہ سرحدی گزرگاہ کو بند کر دیا ہے۔ جبکہ شلمچہ سرحدی گزرگاہ پر کئی گھنٹوں سے آمد و رفت کی بندش یا تعطل کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق عراق نے فی الحال چذابہ گزرگاہ کو مسافروں، گاڑیوں اور تجارتی ٹرکوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ یہ گزرگاہ دونوں ممالک کے درمیان اشیا اور مسافروں کی آمد و رفت کے اہم راستوں میں سے ایک ہے۔
روئٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ فیصلہ گزرگاہ کے اندر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ ایک عراقی سرکاری اہلکار نے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ ملک کے وزیر اعظم نے ایران کے ساتھ شلمچہ سرحدی گزرگاہ کو مزید اطلاع تک بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
عراقی اہلکار نے کہا تھا کہ عراق اور ایران کے درمیان متعدد دیگر سرحدی گزرگاہوں کو بھی آنے والے دنوں میں مرحلہ وار بند کیا جانا ہے۔
عراق کی خبر رساں ویب سائٹ شفق نیوز نے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ چذابہ سرحدی گزرگاہ بدھ سے ’تکنیکی وجوہات‘ کی بنا پر اور مزید اطلاع تک بند کر دی گئی ہے۔
عراقی حکومت نے تاحال اس فیصلے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی ہے۔
ادھر العربیہ ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ عراقی حکام ایران کے ساتھ متعدد مرکزی سرحدی گزرگاہوں کو بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ممکن ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت کو صرف دو سرحدی گزرگاہوں تک محدود کر دیا جائے۔ بغداد اور تہران نے تاحال اس رپورٹ پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے منگل کے روز اطلاع دی کہ عراق میں زرعی پیداوار لے جانے والے تمام ایرانی ٹرکوں کے داخلے کی اجازت جاری کر دی گئی ہے۔ ارنا نے لکھا کہ ’عراقی حکومت نے باضابطہ طور پر اُن تمام ٹرکوں کے داخلے کی اجازت دے دی ہے جو پیاز، ٹماٹر اور آلو لے جا رہے تھے اور جو کئی روز سے ایران عراق سرحد پر رکے ہوئے تھے۔‘
ارنا میں یہ خبر شائع ہونے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل سوشل میڈیا پر بعض ٹرک ڈرائیوروں کے سرحد بند ہونے کے خلاف احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں۔ ایک ویڈیو میں ایک ٹرک ڈرائیور احتجاجاً زرعی پیداوار زمین پر پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان نے ایران کے ساتھ برآمدات کے لیے سرحد عارضی طور پر کھول دی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے
تاجروں نے دعویٰ کیا ہے ایران سے درآمدات تاحال بند ہیں تاہم برآمدات کے لیے سرحد
کو عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے سرحدی اضلاع کیچ اور چاغی کے دو سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ برآمدات کے لیے بارڈر
عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے۔
تاہم اس حوالے سے
سرکاری سطح پر کوئی نوٹیفکیشن یا اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی تبادلے جاری ہیں اور اس میں
کوئی تعطل نہیں۔
سینیچر کے روز پاکستانی
حکام نے ایران کے ساتھ سرحد کو تجارت کے لیے بند کردیا تھا جس کے باعث سرحد کی دونوں
جانب بڑی تعداد میں مال بردار گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔
گوادر کی ضلعی انتظامیہ
سے سرحد کی موجودہ صورتحال جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے کال وصول
نہیں کی تاہم کیچ اور چاغی میں دو سینیئر سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط
پر بتایا کہ سرحد تاحال ایران سے درآمدات کے لیے بند ہے تاہم اسے برآمدات کے لیے عارضی
طور پر کھول دیا گیا ہے۔
ضلع گوادر سے گبد ریمدان
بارڈر پر پاکستانی تاجروں کی تنظیم کے چیئرمین عبدالغفور ہوت نے بتایا کہ منگل کو ایک
سینیئر فوجی افسر نے گوادر کا دورہ کیا تھا۔
عبدالغفور ہوت کے
مطابق تاجروں کی فوجی افسر سے ملاقات ہوئی اور سرحد کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات
سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ
منگل کو روز دوپہر کے بعد گبد ریمدان بارڈر کو پاکستانی حکام نے صرف برآمدات کے لیے
کھول دیا لیکن ایران سے امپورٹ اب بھی بند ہے۔
عبدالغفور ہوت کا
کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سرحد کو درآمدات کے لیے بھی کھول دیا جائے۔
انھوں نے توقع ظاہر
کی کہ بارڈر کو ایک دو دن میں درآمدات کے لیے بھی کھول دیا جائے گا۔
’پاکستان کے ساتھ
سرحدی تبادلے جاری ہیں‘
ایران کی وزارتِ
داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی تبادلے جاری ہیں اور اس
حوالے سے کوئی تعطل نہیں۔
وزارتِ داخلہ کی
جانب سے جاری بیان کے مطابق ترجمان علی زینی وند کا کہنا ہے کہ ’ہمیں بعض ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی
تبادلوں میں کچھ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ان میں سے بعض رکاوٹیں فطری نوعیت کی ہیں،
جو کسی بھی دور میں پیش آ سکتی ہیں، حتیٰ کہ جنگ یا پابندیوں کی عدم موجودگی میں
بھی۔‘
علی زینی وند کا کہنا
ہے کہ ’تاہم
ان میں سے بعض رکاوٹیں یقیناً امریکہ کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کا نتیجہ
ہیں، جسے وہ ہمارے ہمسایہ ممالک پر عائد کردہ 'محاصرے' کا حصہ قرار دیتا ہے۔‘
پاکستان کے ساتھ
سرحدی تجارت کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت پاکستان کے ساتھ ہمارے سرحدی
تبادلے جاری ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا
تھا کہ پاکستانی حکومت نے بعض تکنیکی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل، خاص طور
پر مالیاتی نظام سے جڑے چیلنجز، کی نشاندہی کی ہے جنھیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔
’اس لیے فی الحال
ہمارے تبادلوں میں کوئی رکاوٹ یا تعطل نہیں ہے۔‘
انھوں نے امید
ظاہر کی کہ جلد ان معمولی رکاوٹوں کو دور کر لیا جائے گا، ’جس کے بعد دو طرفہ تبادلے مکمل طور پر
بحال ہو جائیں گے۔‘
گذشتہ روز پاکستان
کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کے بعد ایران کی نیم سرکاری خبر
رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے ایران اور پاکستان کے درمیان
سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھولنے کے اعلان کے باوجود منگل کی رات 9 بجے تک سرحدیں بند
رہیں۔
فارس نے اپنی رپورٹ
میں دعویٰ کیا کہ پاکستانی کسٹمز حکام نے دونوں جانب ہونے والے مذاکرات کے باوجود
سرحدی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے سے گریز کیا۔
’ایل پی
جی گاڑیاں نہ آنے سے پاکستان میں ایل پی جی کا بحران پیدا ہو رہا ہے‘
گوادر چیمبر آف کامرس
کے سابق صدر شمس الحق نے بتایا کہ سرحد کو گذشتہ روز برآمدات کی گاڑیوں کے کھول دیا
گیا تھا جس کے بعد وسطی ایشائی ریاستوں کو جانے والی کچھ گاڑیاں نکلی تھیں اور اسی
طرح ایران جانے والی گاڑیوں کو بھی اجازت دی گئی تھی۔
شمس الحق نے بتایا
کہ ایران سے درآمدات پر پابندی کے باعث ایران کی جانب سینکڑوں ایل پی جی کی باؤزرز
کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ
سینیچر سے ایل پی جی گاڑیاں نہ آنے سے پاکستان میں ایل پی جی کا بحران پیدا ہو رہا
ہے۔
انھوں نے بتایا کہ
اس وقت کراچی اور لاہور سمیت دیگر شہروں میں طلب اور رسد میں فرق ہونے سے ایل پی جی
کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔
ضلع چاغی کے سرحدی
شہر تفتان سے تعلق رکھنے والے تاجر رہنما حاجی شوکت عیسی زئی نے بتایا سرحد کی بندش
کی وجہ سے اس وقت ایران کی جانب پاکستان کے لیے ایل پی جی لانے والی 1500 گاڑیاں کھڑی
ہیں۔
انھوں نے فون پر بی
بی سی کو بتایا کہ اس وقت پاکستان میں ایل پی جی کی کھپت کا 80 فیصد انحصار ایران پر
ہے۔
حاجی شوکت نے خدشے
کا اظہار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ سرحدی تجارت زیادہ دیر بند رہی تو پاکستان میں ایل
پی جی کا بحران شدید ہو سکتا ہے۔
یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں، ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات طے
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف بدھ کے روز سینٹ پیٹرزبرگ میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں روس اور یوکرین کے درمیان کئی برس سے جاری تنازع کے خاتمے سے متعلق تجاویز پر بات چیت ہو گی۔
یہ مذاکرات وٹکوف کی ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ہونے والی ملاقات کے ایک دن بعد ہو رہے ہیں، جسے ایک امریکی عہدیدار نے ’مثبت اور تعمیری‘ قرار دیا تھا۔
یوکرین اس سے قبل امریکہ پر انٹیلی جنس شیئرنگ روکنے کا الزام عائد کر چکا ہے۔ تاہم واشنگٹن نے اس الزام کو ’باعثِ حیرت‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ منگل کو زیلنسکی نے کہا کہ روسی میزائل حملوں سے متعلق امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ ’اب دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔‘
زیلنسکی اور ان کے یورپی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ اوسلو میں جن تجاویز پر اتفاق ہوا ہے، اب اس پر روس کی جانب سے جواب کا انتظار ہے۔
اوسلو میں منگل کے روز ہونے والی بات چیت میں شامل فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب نے کہا ہے کہ امن کے حصول کے لیے تجاویز پر ’حقیقی پیش رفت‘ ہوئی ہے، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں اور خبردار کیا کہ اس عمل میں صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
خیال رہے کہ مذاکرات کے بعد ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں وٹکوف نے شرکت نہیں کی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
بعد ازاں ایک امریکی عہدیدار نے مذاکرات کو ’انتہائی نتیجہ خیز اور تعمیری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اگلے اقدامات‘ کے حوالے سے امریکہ، یوکرین اور یورپی ممالک کے درمیان عملی سطح پر نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
راجن پور میں بس حادثے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
،تصویر کا ذریعہRescue 1122
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے راجن پور میں بس حادثے کے
نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ بدھ کی صبح راجن پور کے تحصیل
روجھان میں پیش آیا۔ 23 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ ایک درجن سے زائد افراد معمولی اس حادثے میں زخمی ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایک نجی کمپنی کی مسافر بردار بس سڑک کے
ساتھ بنی حفاظتی دیوار سے ٹکرا کر الٹ گئی تھی۔ ریسکیو 1122 کے مطابق بظاہر حادثہ تیز
رفتاری کے باعث پیش آیا۔
وزیراعلی پنجاب مریم
نواز شریف نے راجن پور کے قریب بس حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری
کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
ایران کو شکست دینے کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، صرف اتنا فیصلہ کرنا ہے کہ یہ جنگ کس طرح جیتنی ہے: امریکی صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں ایران کو شکست دینے کے لیے کسی کی مدد کی
ضرورت نہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات
کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایرانی
حکومت کو کس طریقے سے شکست دینا چاہتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’جیسا کہ آپ
جانتے ہیں ہم ایران کے معاملے میں بہت اچھی پوزیشن میں ہیں۔
ہمیں صرف یہ حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس طریقے سے جیتنا چاہتے ہیں۔ کیا ہم اچھے
طریقے سے جیتنا چاہتے ہیں یا ناخوشگوار طریقے سے؟‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ بہت بہتر پوزیشن میں ہے اور اسے کسی کی
مدد کی ضرورت نہیں۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے کئی ممالک کے رہنماؤں سے
رابطہ کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کون امریکہ کی مدد کرنے کے تیار ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں ان ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے منفی
جواب ملا۔
’میں ان
کا امتحان لے رہا تھا۔ میں نے مختلف صدور اور وزرائے اعظم کو فون کیا اور پوچھا کہ
کیا وہ ہماری مدد کرنا چاہیں گے، لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ انھوں نے کن رہنماؤں سے رابطہ کیا تھا
یا ان ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی مشاورت کی تفصیلات کیا تھیں۔
امریکی صدر کا یہ بیان اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کی جانب
سے صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی ٹیلیفونک گفتگو کی ویڈیو جاری کیے جانے کے بعد سامنے آیا
ہے۔
ویڈیو میں نیتن یاہو کو صدر ٹرمپ سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’ڈونلڈ،
ہمارا کام ابھی ختم نہیں
ہوا۔ ہم اسے مل کر مکمل کریں گے، کیونکہ اسے ہمارے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔‘
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد پابندیوں کے بعد ایندھن کی قیمتوں
میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’لوگ پیٹرول کی صورت حال سے ناخوش ہیں
اور کہتے ہیں کہ اس کی قیمت زیادہ ہے۔ میں یہ بات معمولی انداز میں نہیں کہنا
چاہتا، لیکن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی یہ دراصل بہت چھوٹی قیمت
ہے۔‘
سعودی فوجی اتحاد کا مدینہ اور ملک کے مشرقی حصوں کی جانب آنے والے پانچ ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مدد کے لیے
سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے مدینہ ریجن اور سعودی عرب کے مشرقی حصوں کی
جانب آنے والے پانچ ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ
سعودی عرب کی طرف آنے والے چار ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
بعد ازاں انھوں نے ایکس پر ایک اور پیغام جاری کرتے ہوئے سعودی عرب کے مشرقی حصے کی جانب آنے والا ایک اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا۔
تاہم ترجمان کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ڈرونز کہاں
سے آئے تھے اور آیا اس واقعے کے نتیجے میں کسی قسم کا نقصان ہوا ہے کہ نہیں۔
خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے
درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد سے سعودی عرب حوثیوں پر ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں
سے حملوں کے الزامات لگاتا آیا ہے۔
گذشتہ روز برطانوی حکومت نے کہا تھا کہ وہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے پیشِ نظر سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرے گی۔
دوسری جانب منگل کے روز عراق کے ٹی وی چینل الاخباریہ کی جانب سے نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب یا یمن کی حوثی تحریک نے اب تک ایران کی دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
سعودی عرب اور حوثیوں کی جانب سے ثالثی کی پیشکش پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا، عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب یا یمن کی حوثی تحریک نے اب تک ایران کی دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کا جواب نہیں دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کو نشر ہونے والے ایک ٹی وی انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس ماہ کے آغاز میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد بات چیت کے آغاز میں مدد کی پیشکش کی تھی۔
مصر کی جانب سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کے متعلق بیان پر ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی بیرونی مداخلت سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔‘
عراق کے ٹی وی چینل الاخباریہ کو دیے گئے انٹرویو میں عراقچی کا کہنا تھا کہ قاہرہ اس سے قبل تہران کو یقین دہانی کروا چکا ہے کہ وہ یمن کے تنازع میں ’براہِ راست‘ مداخلت نہیں کرے گا۔
دوسری جانب مصر کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی کے دفاع کے لیے اسے درکار تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
حوثیوں کے خلاف مصری فوج کی ممکنہ کارروائی سے متعلق مصری پارلیمان میں ہونے والی ووٹنگ 26 اکتوبر تک مؤخر کر دی گئی ہے۔ مصر کی فوج عرب دنیا کی بڑی فوجی قوتوں میں شمار ہوتی ہے۔