یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ تہران نے اپنی شرائط امریکہ کو بتا دی ہیں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ’فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔‘ آذربائیجان کے نائب وزیر اعظم، جو تہران کے دورے پر آئے تھے، سے ملاقات میں محسن رضائی نے کہا کہ امریکی صدر ’ایک ایسی دلدل میں پھنس گئے ہیں جہاں وہ نہ مذاکرات کر سکتے ہیں اور نہ جنگ لڑ سکتے ہیں۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGet
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق افریقی ملک جبوتی میں پاکستانی مشن کو ایک ایسے بحری جہاز کو قزاقوں سے چھڑانے کی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جسے چند ماہ قبل ’پنٹ لینڈ‘ کے علاقے میں بحری قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق اس جہاز پر 10 پاکستانی شہری بھی یرغمال بنائے گئے تھے۔ تاہم پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق مشن حقائق کا تعین کرنے اور صورتحال کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ سرکاری تصدیق دستیاب ہوتے ہی مزید معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔
اس سے قبل صومالیہ کے شمال مشرق میں نیم خود مختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ’دھارین بار‘ کے ساحل کے قریب سمندری آپریشن میں بحری قزاقوں کے قبضے میں جانے والے آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘ کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔
میری ٹائم پولیس نے دعوی کیا ہے کہ کارروائی کے دوران 21 مشتبہ بحری قزاقوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
میری ٹائم پولیس کے مطابق یہ جہاز اب پنٹ لینڈ حکومت کی تحویل میں ہے۔
خیال رہے کہ ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی بحری جہاز کو رواں برس اپریل میں صومالی قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔ اس جہاز پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ عملے میں انڈونیشین، سری لنکن، انڈین اور میانمار کے شہری بھِی شامل ہیں۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق بحری قزاقوں نے مغویوں کی رہائی کے لیے 30 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Saudi Royal Court/Reuters
یمن کے معاملے پر مہینوں کے اختلافات کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کی ریاض میں ملاقات ہوئی۔
ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل، سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یمن میں باغیوں کی حمایت کر کے سعودی قومی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے۔
منگل کی یہ ملاقات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید النہیان کے درمیان ہوئی۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اس موقع پر ملک کے وزیرِ دفاع خالد بن سلمان بھی موجود تھے۔
سعودی عرب حوثیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مدد حاصل کرنے کی غرض سے کئی ہفتوں سے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے۔
ایران کے اتحادی حوثی سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور بحیرہ احمر میں اس کے جہازوں پر حملے کر رہے ہیں۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں کے ٹھکانوں پر کئی بار بمباری کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ تہران نے اپنی شرائط امریکہ کو بتا دی ہیں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ’فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔‘
آذربائیجان کے نائب وزیر اعظم، جو تہران کے دورے پر آئے تھے، سے ملاقات میں محسن رضائی نے کہا کہ امریکی صدر ’ایک ایسی دلدل میں پھنس گئے ہیں جہاں وہ نہ مذاکرات کر سکتے ہیں اور نہ جنگ لڑ سکتے ہیں۔‘
محسن رضائی نے کہا کہ ’ایران کی شرائط امریکہ کو بتا دی گئی ہیں، لیکن ٹرمپ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں، اور امریکہ نے فوجی جنگ میں بے بسی کے باعث فضائی ناکہ بندی کا سہارا لیا ہے۔‘
اس سے چند گھنٹے قبل، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک سے تہران واپسی کے موقع پر کہا تھا کہ اس دورے میں ان کا مشن امریکہ کو ایران کی شرائط سے آگاہ کرنا تھا، جن میں آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی شامل ہے۔
عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ’اس حوالے سے ایران کے پاس ایک منصوبہ موجود ہے، اس کی شرائط مکمل طور پر منصفانہ اور منطقی ہیں، اور اگر امریکی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کسی معاہدے یا پرامن حل کے خواہاں ہیں، تو ہم یہ حل پیش کر چکے ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے منصوبے سے اتفاق نہیں کرتے، تاہم اسی دوران اطلاعات ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرنے والے فریق ان سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی لانگ مارچ کرنے کی سکت نہیں رکھتے، لیکن اگر پی ٹی آئی نے یہ کوشش کی تو انھیں اسلام آباد کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیں گے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات ہو رہے ہیں، لہذا ان کے لیے ان حالات میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو متحرک کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کئی ممالک کے سفارتخانے ہیں، یہاں غیر ملکی وفود آتے ہیں، کیا پاکستان کا یہ تاثر جانا چاہیے کہ یہاں جلاؤ گھیراؤ ہوتا رہتا ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ تاہم وہاں فی الحال گورنر راج یا ایمرجنسی پر بات کرنا قبل از وقت ہو گا۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں اور لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ حکومت گھر جائے۔

،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images
انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ترک صدر رجب طیب اروغان نے جموں و کشمیر پر جو حوالہ دیا، ’انڈیا اسے مسترد کرتا ہے۔‘
واضح رہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں ’مسئلہ کشمیر‘ سمیت تمام تنازعات کو ’اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔‘
اس خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے آج انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر کا ’معاملہ انڈیا کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری سے متعلق ہے‘ اور کسی بھی بیرونی فریق کو اس پر بات کا اختیار نہیں۔

،تصویر کا ذریعہDGPR Balochistan
بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں منگل کو ’جناح پیپلز میٹرو ٹرین‘ کے نام سے صوبے کی پہلی ماس ٹرانزٹ ٹرین سروس کا افتتاح کر دیا گیا۔
کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر منعقدہ تقریب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد شہریوں کو محفوظ، آرام دہ اور کم لاگت سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کے لیے ٹرین کا سفر مفت ہو گا۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق ابتدائی طور پر چین سے انجن اور بوگیاں درآمد کرنے کی تجویز تھی جس پر 50 سے 60 ارب روپے لاگت آنا تھی اور تین سے چار سال کا وقت لگتا، تاہم پاکستان ریلویز کے ذریعے مقامی سطح پر انجن اور بوگیاں تیار کروانے کا فیصلہ کیا گیا جس سے وقت اور وسائل کی بچت ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ مستقبل میں اس سروس کو پشین اور مستونگ تک توسیع دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ٹرین کہاں تک چلے گی؟
سرکاری اعلامیے کے مطابق جناح پیپلز میٹرو ٹرین کچلاک سے سریاب ریلوے سٹیشن تک چلے گی۔ ایک انجن اور دو بوگیوں پر مشتمل ٹرین میں بیک وقت 250 مسافر سفر کر سکیں گے۔
اس منصوبے کے لیے 32 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کی گئی ہے جبکہ اس پرتین ارب روپے لاگت آئی ہے۔
کچلاک تا سریاب روٹ پر کچلاک، بلیلی، شیخ ماندہ، جی او آر کالونی کوئٹہ، لوڑ کاریز اور سریاب سمیت سات اسٹیشن ہیں۔

،تصویر کا ذریعہYT/Sohail Afridi
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ چار اکتوبر کو لانگ مارچ ہر صورت ہو گا۔
چیف منسٹر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران سہیل آفریدی سے سوال کیا گیا کہ ’چار اکتوبر کو کہاں سے نکلیں گے اور اسلام آباد بھی جائیں گے یا نہیں جائیں گے؟‘
اس کے جواب میں انھوں نے کہا: ’پہلے مرحلے میں ہم صوابی جائیں گے، اور صوابی کے بعد آگے ضرور جائیں گے۔‘
یہ جواب دینے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مسکرانے لگے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر لانگ مارچ کے دوران وفاقی حکومت نے کوئی غیر آئینی قدم اٹھایا تو اسے ’بہت بھاری قیمت‘ چکانا پڑے گی۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کے وزرا پریس کانفرنسوں کے ذریعے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار لانگ مارچ میں شریک افراد کی تعداد حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو گی۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا، تاہم 25 ستمبر کو وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لانگ مارچ کو چار اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے آج کابل میں پاکستان کے سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے ایک احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق یہ احتجاج ’تخریبی مسلح عناصر‘ کی جانب سے ڈیورنڈ لائن عبور کر کے نورستان داخل ہونے کے معاملے پر کیا گیا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی سرحد سے ملحقہ افغان صوبوں نورستان اور کنڑ میں طالبان حکومت کی فورسز اور مخالف مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
طالبان حکومت نے الزام لگایا تھا کہ جنگجو ڈیورنڈ لائن (پاکستان اور افغانستان کی سرحد) عبور کر کے آئے تھے اور انھیں پاکستان کی حمایت حاصل تھی۔
افغانستان کی وزارتِ دفاع نے الزام عائد کیا تھا کہ صوبہ نورستان کے ضلع کامدیش کے قریب ایک کارروائی کے دوران 28 افراد ہلاک اور 32 گرفتار کیے گئے، اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ انھیں پاکستان نے تربیت دے کر تخریب کاری کے لیے افغانستان بھیجا تھا۔
تاہم پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے صوبہ نورستان میں مبینہ تشدد یا سکیورٹی کارروائیوں سے پاکستان کو جوڑنے کے دعوے بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پولیو کے خاتمے کے لیے اسلام آباد میں قائم علاقائی ریفرنس لیبارٹری نے پاکستان میں 2026 کے پانچویں پولیو کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ کیس جنوبی خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں رپورٹ ہوا ہے۔
رواں سال سامنے آنے والے پانچ پولیو کیسز میں سے چار بنوں ڈویژن سے رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے تین کیسز صرف ضلع بنوں میں سامنے آئے۔
تازہ کیس بنوں ضلع کی تحصیل ڈومیل کی خندر خان خیل یونین کونسل سے تعلق رکھنے والی 17 ماہ کی ایک بچی کا ہے۔
پاکستان میں انسداد پولیو پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق 2025 کے دوران ملک میں پولیو کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ رواں برس اب تک پانچ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق پولیو ایک انتہائی متعدی اور لا علاج بیماری ہے جو عمر بھر کی معذوری اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم پولیو ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران میں امریکی ڈالر کی قیمت دو لاکھ 50 ہزار تومان کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔
ایران میں زر مبادلہ کی شرح جاری کرنے والے ذرائع کے مطابق منگل کے روز ایک یورو کی قیمت دو لاکھ 84 ہزار تومان سے تجاوز کر گئی، جبکہ برطانوی پاؤنڈ تین لاکھ 31 ہزار تومان سے زائد میں فروخت ہوا۔
ماہرین کے مطابق معاشی صورتحال میں بہتری کی واضح امید نہ ہونے، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے غیر یقینی مستقبل اور جنگ کے مکمل خاتمے سے متعلق ابہام کے باعث سرمایہ کار متبادل منڈیوں، خصوصاً زر مبادلہ اور سونے کی جانب رخ کر رہے ہیں۔
ملک میں کئی ماہ سے جاری کرنسی کی قدر میں کمی کے نتیجے میں کاروباری طبقہ بھی مشکلات کا شکار ہے۔ متعدد کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ ڈالر کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث وہ اپنی اشیا فروخت کرنے سے ہچکچا رہے ہیں، کیونکہ فروخت کے بعد وہی سامان دوبارہ زیادہ قیمت پر خریدنا پڑتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے عراقی ایئرلائن کو عراق اور ایران کے درمیان محدود مسافر پروازیں چلانے کی اجازت دے دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ اجازت سخت شرائط کے ساتھ ایک ماہ کے لیے دی گئی ہے۔
اجازت نامے کے تحت تمام پروازیں نجف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے روانہ ہوں گی اور اسی ہوائی اڈے پر واپس آئیں گی، جبکہ ان پروازوں کے ذریعے صرف زیارت کی غرض سے سفر کرنے والے ایرانی شہریوں کو منتقل کیا جا سکے گا۔
اجازت نامے کے مطابق طیاروں میں صرف مسافروں کا ذاتی سامان اور پرواز کے لیے ضروری اشیا لے جانے کی اجازت ہو گی۔
اس اجازت میں بڑی مقدار میں نقد رقم، یا عسکری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے متعلق سامان کی ترسیل شامل نہیں ہے۔
امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد، بشمول ایرانی حکومت سے وابستہ شخصیات، بھی ان پروازوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ ایران نواز مسلح گروہوں سے وابستہ افراد پر بھی یہ پابندی لاگو ہو گی۔
دستاویز کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ ایک ماہ کی مدت کے دوران اس اجازت نامے میں ترمیم کرے یا اسے منسوخ کر دے۔
عراقی ایئرلائن کو اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے 10 کاروباری دنوں کے اندر امریکی محکمہ خزانہ کو ایک رپورٹ جمع کرانا ہو گی، جس میں سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد، ان کے نام اور پاسپورٹ نمبر، نیز ایران میں ایندھن، مرمت، دیکھ بھال اور ہوائی اڈے کی دیگر خدمات پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
واضح رہے کہ امریکہ نے 24 اگست کو ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت ایران کے خلاف مزید معاشی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ ایران کے لیے فضائی روابط پر عائد پابندیاں بھی معاشی دباؤ کی مہم کا حصہ ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ قطر کی فوج اور حکومت نے تین لاپتہ ایرانی پائلٹس کے بارے میں کوئی نئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
محمد اکرامینیا نے عربی زبان کے ایرانی ٹی وی چینل العالم سے گفتگو میں کہا کہ ’قطر کی فوج اور حکومت نے ہمیں کوئی نئی معلومات نہیں دی ہیں اور وہ مسلسل یہ کہتے ہیں کہ انھیں ان پائلٹس کی صورتحال کے بارے میں علم نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران کو توقع ہے کہ قطر ان تینوں افراد کے بارے میں جلد از جلد صورتحال واضح کرے گا۔
ایران نے تقریباً دو ماہ قبل دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے آغاز کے دو روز بعد ایرانی فضائیہ کے دو جنگی طیاروں نے شیراز ایئر بیس سے ایک مشن کے دوران قطر میں واقع العدید امریکی اڈے کو ’بھاری نقصان‘ پہنچایا تھا۔
ایران کے مطابق واپسی کے دوران خلیج فارس کے اوپر ان طیاروں کو ’دشمن کے حملے‘ کا سامنا کرنا پڑا۔
لاپتہ پائلٹس میں سے ایک کی باقیات دو ماہ قبل ایران میں دفن کی گئی تھیں۔
ایرانی ہلالِ احمر نے بھی ایک خط میں مبینہ طور پر گرفتار کیے گئے تین پائلٹس کی صورتحال معلوم کرنے کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران کی نجی فضائی کمپنی کیسپیئن ایئرلائن کے ایک مسافر بردار طیارے کو ترکی کے شہر استنبول کے ہوائی اڈے پر روک لیا گیا ہے۔
اس کی وجہ قرض کی عدم ادائیگی بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تحویل میں لیا گیا طیارہ بوئنگ 500-737 ماڈل کا ہے۔
کیسپیئن ایئرلائن کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں کہا کہ بوئنگ طیاروں میں سے ایک کی آپریشنل سرگرمی عارضی طور پر ایک انتظامی معاملے کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ معاملے کے حل کے لیے رابطے اور قانونی و انتظامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں، جبکہ روکا گیا طیارہ آج (منگل) ایران واپس آ جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ استنبول سے تہران روانگی کی تیاری کر رہا تھا کہ عدالتی حکم پر اسے روک لیا گیا، جس کے بعد مسافروں کو طیارے سے اترنا پڑا۔
ہوا بازی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی تمسیل گیزٹم کا کہنا ہے کہ کیسپیئن ایئرلائن اس کی تقریباً 30 لاکھ یورو کی مقروض ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ کمپنی نے طیارے کی ضبطی کے لیے عدالت سے حکم حاصل کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAPP
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان عوام اور وہاں قائم عبوری حکومت کے درمیان ایک بڑا خلا موجود ہے اور اتفاقِ رائے پیدا کر کے عوام کو اپنے مستقبل کے انتخاب کا حق دینا ہو گا۔
اسلام آباد میں ’افغانستان کی صورتحال اور امن کی جانب پیش رفت‘ کے موضوع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے متعدد اعلیٰ سطحی وفود افغانستان بھیجے اور اس حوالے سے استنبول اور دوحہ میں بھی مذاکرات ہوئے۔
انھوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ سوچ سے نکل کر ایک ذمہ دار ریاست کا طرزِ فکر اپنانا ہو گا کیونکہ افغانستان کو درپیش بیشتر مسائل عسکریت پسندانہ ذہنیت کا نتیجہ ہیں۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق افغانستان میں شدت پسندوں اور کالعدم تنظیموں کے ارکان کی محفوظ پناہ گاہیں تشویش کا باعث ہیں۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان میں تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ان کے بقول افغانستان میں امن سے وسطی ایشیا سے پاکستان تک تجارتی راستے کھولنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ وسطی ایشیائی ریاستیں افغانستان کے راستے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، تاہم افغان خواتین کی بڑی تعداد افرادی قوت میں شامل نہیں اور آبادی کے بعض طبقات کو معاشی ترقی میں حصہ لینے کے مواقع بھی میسر نہیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ افغان عوام کے بعض طبقات کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق افغان عوام تعلیم، اجتماع، انجمن سازی اور معاشی آزادی سمیت بنیادی حقوق کے مستحق ہیں اور انھیں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلوں میں آواز اور اختیار ملنا چاہیے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پُر امن بقائے باہمی کے لیے ’خود بھی جیو اور دوسروں کو بھی جینے دو‘ کے اصول کو اپنانا ہو گا کیونکہ صرف امن ہی خوشحالی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے جنسی ہراسانی کے الزام میں برطرف کیے گئے نیشنل بینک کے دو ملازمین کو بحال کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہر نا مناسب یا نا پسندیدہ رویہ جنسی ہراسانی کے زمرے میں نہیں آتا۔
چیف جسٹس قاضی امین کی سربراہی میں وفاقی شرعی عدالت کے تین رکنی بینچ نے عقیل عباس اور عثمان شاہد کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں منظور کرتے ہوئے کہا کہ جنسی عنصر کے بغیر ہراسانی کی شکایت کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ دینے کے قانون کے تحت قابلِ سماعت نہیں اور ایسی کارروائی وفاقی محتسب کے دائرۂ اختیار میں بھی نہیں آتی۔
فیصلے میں سنہ 2010 کے اس قانون کا حوالہ دیا گیا ہے جو کام کی جگہ پر خواتین کو جنسی ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ قانون کا مقصد خواتین اور مردوں دونوں کو کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی سے تحفظ دینا ہے۔
عدالت کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ جنسی ہراسانی ایک جرم ہے، تاہم ہر قسم کی ہراسانی کو جنسی ہراسانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون خواتین کو یہ حق دیتا ہے کہ کام کی جگہ پر ان کی صنف کے احترام کو یقینی بنایا جائے، لیکن اس قانون کے تحت خواتین خصوصی سلوک یا رعایت کی حق دار نہیں بنتیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ مخصوص قوانین مخصوص حالات کے لیے بنائے جاتے ہیں اور ان کا اطلاق عمومی حالات پر نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے کے مطابق اگر کسی ادارے میں ہراسانی یا نا مناسب رویے کا واقعہ پیش آئے تو متعلقہ ادارہ اپنے سروس رولز کے تحت تادیبی کارروائی کر سکتا ہے۔
مقدمے کا پس منظر یہ ہے کہ وفاقی محتسب نے نیشنل بینک کی ملازمہ نادیہ سرور کی شکایت پر عقیل عباس اور عثمان شاہد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد نیشنل بینک نے دونوں ملازمین کو جبری ریٹائر کر دیا تھا۔
دونوں ملازمین نے اس فیصلے کے خلاف صدرِ مملکت کو اپیل دائر کی تھی۔ صدرِ مملکت نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے جبری ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔
صدرِ مملکت کے اس فیصلے کے خلاف نادیہ سرور نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دسمبر 2024 میں صدرِ مملکت کا حکم نامہ کالعدم قرار دیتے ہوئے وفاقی محتسب کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔
بعد ازاں عقیل عباس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں اپیل دائر کی۔
وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہائی کورٹ وفاقی محتسب کے فیصلوں میں صرف محدود آئینی بنیادوں پر ہی مداخلت کر سکتی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور مذاکرات کار باقر قالیباف نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر ایران اپنا تیل فروخت نہیں کر سکتا تو خطے میں کوئی بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا اور اگر ہماری سکیورٹی یقینی نہ بنائی گئی تو کوئی انفراسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا۔‘
انھوں نے منگل کے روز پارلیمان کے آن لائن منعقد ہونے والے اجلاس کی کارروائی شروع ہونے سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایرانی عوام کو محاصرے اور دھمکیوں سے کبھی خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔‘
قالیباف نے کہا کہ ’اگر امریکہ اس بنیادی حقیقت کو نہ سمجھے تو وہ ایرانی قوم کی جانب سے بار بار سخت جواب ملنے کے چکر میں پھنسا رہے گا۔‘
اس سے قبل پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا تھا کہ ایران 40 روزہ جنگ سے بھی زیادہ سخت جنگ کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ آر اے ایف فیئر فورڈ میں ہفتے کے آخر میں پیش آنے والے واقعے میں ’واضح طور پر کسی غیر ملکی فریق کا کردار‘ شامل ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز کے پروگرام ’ہینیٹی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے دعوے کے لیے کوئی ثبوت یا مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
انھوں نے پروگرام میں کہا کہ ’مجھے محتاط رہنا ہوگا، کچھ ایسی باتیں ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر میں ٹی وی پر نہیں بتا سکتا۔ اتنا کہنا کافی ہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں برطانیہ میں جو کچھ ہوا، جو تقریباً ہونے والا تھا اور جو ہو سکتا تھا، وہ ایک انتہائی سنگین صورتِ حال ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس میں واضح طور پر کسی غیر ملکی فریق کا کردار شامل ہے۔‘
روبیو نے مزید کہا کہ ’وہ فی الحال اس بارے میں زیادہ تفصیل میں نہیں جائیں گے،‘ تاہم انھوں نے برطانیہ کے حکام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انھوں نے اس معاملے میں بھرپور تعاون کیا ہے اور صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ انھیں اس خبر پر تشویش کا بھی علم ہے کہ بعض افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے اور کچھ افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ ان کے بقول امریکہ ان تمام معاملات پر برطانوی حکام سے رابطے میں ہے۔
روبیو نے کہا کہ مجموعی طور پر برطانوی حکام نے ایک انتہائی سنگین واقعے سے متعلق معاملے میں امریکہ کے ساتھ ’بھرپور تعاون اور مدد‘ کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نیویارک میں اپنی سفارتی سرگرمیوں اور مشاورت مکمل کرنے کے بعد منگل کی صبح نیویارک سے تہران روانہ ہو گئے۔
امریکہ سے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کا سات نکاتی منصوبہ قطر کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دیا گیا ہے اور اب وہ وائٹ ہاؤس کے جواب کے منتظر ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکہ کا جواب آئندہ ایک گھنٹے کے دوران ثالثوں کے ذریعے ایران تک پہنچائے جانے کی توقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی طیاروں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے تین صوبوں میں 38 فضائی اور میزائل حملے کیے، جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
یمنی خبر رساں ادارے سبا کے مطابق یحییٰ سریع نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ سعودی حملے تعز، صعدہ اور حجہ صوبوں میں کیے گئے۔
ادارے کے مطابق یمن کے صعدہ گورنریٹ پر سعودی طیاروں نے منگل کو تین فضائی حملے کیے۔ ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ سعودی طیاروں نے سحار ضلع کو تین فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔
یحییٰ سریع کے مطابق ان حملوں میں خمیس مشیط اور طائف کے اڈوں سے اڑنے والے ایف-15 اور ٹائفون طیاروں نے حصہ لیا، جبکہ نجران اور جیزان سے میزائل حملے کیے گئے۔
انھوں نے بتایا کہ کشیدگی میں اضافے کے آغاز سے اب تک سعودی حملوں اور میزائل حملوں کی مجموعی تعداد 1123 ہو گئی ہے۔