لائیو, ایران اپنی فوج کے بڑے حصے کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہے: امریکی صدر کا دعویٰ

منگل کو ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’دیوالیہ ہو چکی اسلامی جمہوریہ ایران اپنی فوج کے ایک بڑے حصے کو تنخواہیں ادا نہیں کر رہی، جبکہ ساتھ ہی ساتھ غیر معمولی پیمانے پر مظاہرین کو ہلاک بھی کر رہی ہے، یہاں تک کہ اس وقت بھی جب وہ احتجاج نہیں کر رہے ہوتے۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ کا کوئی دھمکی آمیز پیغام نہیں لائے تھے: ایرانی عہدے دار کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کے موقف اور شرائط کا پاکستان کے ذریعے واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے۔‘

    تسنیم جو عسکری اور سکیورٹی اداروں سے قریبی تعلق رکھتی ہے نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک قریبی فرد کا یہ بیان نقل کیا کہ ’بعض میڈیا اداروں کے دعووں کے برعکس، پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیرجنھوں نے گذشتہ روز ایران کا دورہ کیا، اپنے ساتھ امریکہ کی جانب سے کوئی دھمکی آمیز یا اس نوعیت کا کوئی پیغام نہیں لائے تھے؛ بلکہ وہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور امریکی فریق تک ایران کی شرائط و موقف پہنچانے کے خواہاں تھے۔

    اس ذریعے نے مزید کہا: ’امریکہ کی ’اسلام آباد میمورنڈم‘ (معاہدے) کی طرف واپسی اور اس کی شقوں پر عمل درآمد جن میں آرٹیکل 5 یعنی آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی انتظامات شامل ہیں۔ ایران کی شرائط میں سے ہیں۔ اس معاملے کا اعلان پاکستانیوں کے ذریعے کیا گیا تھا اور پاکستانی فریق انھیں امریکی فریق تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جنھوں نے پاکستانی فوج اور مسلح افواج کے سربراہ عاصم منیر کے ہمراہ ایران کا دورہ کیا، نے مسعود پزشکیان کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو ’انتہائی مثبت اور تعمیری‘ قرار دیا۔

    پاکستانی فوج نے بھی اپنے ایک روزہ دورے کے اختتام پر جاری بیان میں کہا کہ عاصم منیر کی ایرانی اعلیٰ حکام کے ساتھ بات چیت کا مرکز آبنائے ہرمز کو کھولنے اور تنازع کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنے پر تھا۔

  2. ایران اپنی فوج کے بڑے حصے کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہے: امریکی صدر کا دعویٰ

    و

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنی مسلح افواج کے بڑے حصے کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہے۔

    منگل کو ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’دیوالیہ ہو چکی اسلامی جمہوریہ ایران اپنی فوج کے ایک بڑے حصے کو تنخواہیں ادا نہیں کر رہی، جبکہ ساتھ ہی ساتھ غیر معمولی پیمانے پر مظاہرین کو ہلاک بھی کر رہی ہے، یہاں تک کہ اس وقت بھی جب وہ احتجاج نہیں کر رہے ہوتے۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا انسانی بحران ہے اور اسے فوراً رکنا چاہیے۔

    امریکی صدر کی انتظامیہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر اقتصادی پابندیوں کا اعلان کر چکی ہے۔ سوموار کو امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ’ایران مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔‘

  3. امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن تقریباً 5000 اہلکاروں کے آرام کے لیے تھائی لینڈ میں لنگر انداز ہو گا

    طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایک تھائی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل مشن کے بعد اگلے ہفتے تھائی لینڈ میں لنگر انداز ہو گا۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جہاز پر سوار عملے کے اہل خانہ کی جانب سے ان کی ذہنی صحت اور جہاز کے اندر رہائشی حالات کی خرابی سے متعلق تشویش کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

    امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کے مطابق، ابراہم لنکن، جس نے سنیچر کے روز مشرقِ وسطیٰ چھوڑا، 200 سے زیادہ دنوں سے کسی بھی بندرگاہ پر نہیں رکا تھا، اس طرح اس نے مسلسل سمندر میں موجود رہنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے اس عہدیدار نے کہا کہ یہ جہاز، جس پر تقریباً 5000 اہلکار سوار ہیں، ’طویل سمندری سفر کے بعد آرام اور تفریح‘ کے لیے تھائی لینڈ میں رکے گا۔

    تھائی بحریہ کے ترجمان نے اس بارے میں تبصرے کی درخواست کا تا حال جواب نہیں دیا ہے۔

  4. عمران خان کی شفا ہسپتال منتقلی کا معاملہ: توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات دور کر کے آج دوبارہ جمع کروا دی جائے گی، پی ٹی آئی

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو علاج کی غرض سے شفا ہسپتال منتقل نہ کرنے پر حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست آج دوبارہ دائر کر دی جائے گی۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے پر حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست جمع کروائی گئی تھی اور جلد سماعت کی استدعا بھی کی گئی تھی۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آج انھیں رجسٹرار سپریم کورٹ نے بتایا کہ اس درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض عائد کیا گیا ہے کہ توہین کے مرتکب افراد کو الزامات کی لسٹ نہیں بھیجی گئی۔

    پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ آج ہی اعتراض دور کر کے درخواست دوبارہ جمع کروا دی جائے گی۔

    یاد رہے کہ 18 اگست کو سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ عمران خان کو علاج کی غرض سے اسلام آباد کے شفا ہسپتال کیا جائے۔

    تاہم حکومت نے انھیں شفا ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے ایک سرکاری ہسپتال سے معائنہ کروا کر واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا تھا۔

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے موقف اپنایا کہ شفا ہسپتال کے باہر اور اطراف سکیورٹی کی صورتحال کے باعث عمران خان کو سرکاری ہسپتال پمز لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز سے ‘تفصیلی معائنے’ کے بعد انھیں ‘صحت مند’ قرار دیا۔

    عطا تارڑ کے مطابق ’پی ٹی ائی کے کارکنوں کی طرف سے جو سیکیورٹی کی صورتحال شفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے مطابق وہ صحت مند پائے گئے۔‘

  5. ایران پر امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے بعد چین کا اپنے مفادات کے لیے ضروری اقدامات کا اعلان

    امریکہ کی جانب سے چین کے اقتصادی شراکت دار ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ’چین متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ وہ غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ چین اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘

    یاد رہے کہ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف عائد کی گئی نئی پابندیوں کو ’تاریخ کی سب سے بڑی مالیاتی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے ایران کے خلاف اس اقدام کو ’اقتصادی ڈی ڈے‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ تمام معاشی روابط منقطع کر دے گا۔

    انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مالی شراکت داری رکھنے والے ممالک کو بھی عالمی اقتصادی نظام سے الگ تھلگ کر دیا جائے گا۔

  6. پاکستان اور ترکی کے وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال

    Turkish Foreign Minister Hakan Fidan Foreign Minister Muhammad Ishaq Dar

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گفتگو میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ نے ریجنل فور (آر فور) کے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس اور دیگر متوقع کثیرالجہتی سرگرمیوں پر بھی بات چیت کی۔

    وزارتِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

  7. صدر ٹرمپ کی کینیڈین گاڑیوں پر ٹیرف 50 فیصد تک کرنے کی دھمکی

    Donald Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازع مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں پر امریکی محصولات میں اضافے کی دھمکی دی ہے۔

    سوموار کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اگلے سال یکم جنوری سے کینیڈین کاروں، ٹرکوں اور آٹو پارٹس پر عائد محصولات 25 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیں گے۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے کے آخر میں امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہو گئے تھے، اور دونوں فریق ایک دوسرے پر آخری وقت میں غیر معقول مطالبات کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

  8. آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے: یو کے ایم ٹی او

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ ایک آئل ٹینکر نے تنظیم کو اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں اسے ’نامعلوم نوعیت کے ایک پراجیکٹائل نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ ناکارہ ہو گیا۔‘

    رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ عمانی سمندری حدود میں الشیشہ کے علاقے سے تقریباً 16 کلومیٹر شمال مشرق میں پیش آیا۔

    یو کے ایم ٹی او نے پیر 19 ستمبر کی شام ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ایک آئل ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ بحری جہاز کو ایک نامعلوم پراجیکٹائل نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں انجن روم کو نقصان پہنچا اور جہاز ناکارہ ہو گیا۔‘

    تنظیم کے مطابق جہاز کا عملہ ’مکمل طور پر محفوظ اور خیریت سے ہے۔‘

    گذشتہ روز برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران کم سطح پر رہی ہے۔

  9. امریکہ کی پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر عہدیداروں کی معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر تک کے انعام کی پیشکش

    US STATE DEPT.

    ،تصویر کا ذریعہx/RFJ_USA

    امریکی محکمہ خزانہ نے پاسدارانِ انقلاب کے پانچ سینیئر عہدیداروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر تک کے انعامات کی پیشکش کی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ سے وابستہ ’ریوارڈز فار جسٹس‘ اکاؤنٹ نے ایکس پر جاری ایک پیغام میں لکھا کہ ’یہ افراد پاسدارانِ انقلاب کی اُن یونٹس کی کمان کرتے ہیں جنھوں نے مسلح حملوں کے ذریعے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور تباہ کن سائبر کارروائیوں کے ذریعے اہم تنصیبات کو ہدف بنایا۔‘

    اس فہرست میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی، خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی اور پاسدارانِ انقلاب کے سائبر شعبے کے کمانڈر حمید رضا لشگریان شامل ہیں۔

    فہرست میں سعید آقاجانی اور مجید خادمی کے نام بھی شامل ہیں۔ سعید آقاجانی پاسدارانِ انقلاب کی فضائی و خلائی فورس کے سابق کمانڈر تھے جبکہ مجید خادمی پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس کمانڈر تھے۔ دونوں حالیہ جنگ کے دوران مارے گئے تھے۔

  10. یمنی فوج کا حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

    یمن کی حکومتی مسلح افواج نے حوثی فورسز کے خلاف ڈرون حملوں کا اعلان کیا ہے۔

    یمنی مسلح افواج کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیوز جاری کی گئی ہیں جن کے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ چھٹے اور ساتویں فوجی ریجن کی جانب سے ’حوثی ملیشیا‘ کے جنگجوؤں اور ’حوثیوں کے زیرِ کنٹرول ٹھکانوں‘ پر کیے گئے حملوں کی ویڈیوز ہیں۔

    یمنی فوج عالمی برادری کی جانب سے تسلیم کردہ حکومت کے تحت کام کرتی ہے۔ اس فوج نے حالیہ ہفتوں میں ایران سے وابستہ حوثیوں کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں۔

  11. ایران کے خلاف حملے بند نہیں کیے جا رہے، ضرورت پڑی تو مسلح کارروائیاں کی جائیں گی: امریکی وزیرِ دفاع

    Pete Hegseth

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف حملے بند نہیں کیے جا رہے اور ضرورت پڑی تو مسلح کارروائیاں کی جائیں گی۔

    سوموار کے روز امریکی ریاست وسکونسن میں اوشکوش کارپوریشن کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران معاشی دباؤ برداشت نہیں کر سکتا اور اس کی معیشت زوال کا شکار ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا کنٹرول ہے اور اس راستے سے تیل کی ترسیل بھی شروع ہو گئی ہے۔

    امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو بری طرح سے نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کے پاس اب بھی کچھ صلاحیتیں موجود ہیں لیکن وہ ان کی سابقہ صلاحیتوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔

    ’ان کے پاس واحد راستہ یہ ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور جوہری پروگرام کے بارے میں بات کریں، جیسا کہ صدر نے مطالبہ کیا ہے۔‘

    ایک صحافی کی جانب سے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران معاشی پابندیاں عائد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اب ایران پر حملے نہیں کیے جائیں گے۔

    اس پر پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایران کے خلاف طاقت کا استعمال کرے گا۔

    امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ’اگر ایران اتنا نادان ہوا کہ حد سے آگے بڑھ جائے یا امریکی فوج کے ساتھ الجھنے کی کوشش کرے، تو ہم وہی کریں گے جو ہمیں ضروری لگا۔‘

    ’تاہم ہم جانتے ہیں کہ اس وقت معاشی دباؤ انھیں سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم آبنائے ہرمز میں یا ایران کے آس پاس فوجی حملے کرنے کا آپشن ترک کر چکے ہیں۔‘

  12. سکیورٹی چیک پوسٹ پر خواتین کی تصاویر بنانے سے متعلق بیان، گوادر میں مولانا ہدایت الرحمان کے خلاف مقدمہ درج

    Hidayatur rehman

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کے خلاف سکیورٹی چیک پوسٹ پر خواتین کی تصاویر بنانے سے متعلق معاملے پر ویڈیو بنانے اور لوگوں کو سکیورٹی اداروں کے خلاف کے الزام پر گوادر میں مولانا ہدایت الرحمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    مقدمہ سوشل میڈیا پر مولانا ہدایت الرحمان کی سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ کے قریب ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد درج کیا گیا ہے۔

    گوادر پولیس کے مطابق اس سلسلے میں قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    مولانا ہدایت الرحمان کے ویڈیو بیان میں کیا ہے؟

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں مولانا ہدایت الرحمان کو ایک چیک پوسٹ کے قریب کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ویڈیو میں انھیں کہتے سنا جا سکتا ہے کہ صبح وہ جب یہاں سے جا رہے تھے تو انھیں بتایا گیا کہ فورس کے کمانڈنگ افسر کا حکم ہے کہ پیشکان اور جیونی سے جو خواتین آئیں گی تو ان کا پردہ ہٹا کر چیک پوسٹ پر لگے کیمرے میں ان کی تصاویر اتاری جائیں۔

    انھوں نے اسے بلوچ خواتین کے غیرت کے ساتھ کھیلنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر اس کیمرے کو نہیں ہٹایا گیا اور چیک پوسٹ پر بلوچ خواتین کے پردے کو ہٹا کر ان کی تصاویر بنائی گئیں تو وہ اس چیک پوسٹ پر عوام کے ساتھ آ کر احتجاج کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر اور دیگر ذمہ دار سرکاری حکام کو آگاہ کردیا ہے۔

    ایف آئی آر میں میں کیا کہا گیا ہے؟

    مولانا ہدایت الرحمان کے خلاف سٹی پولیس سٹیشن میں گوادر کے رہائشی فدا حکیم رند کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    مدعی کا کہنا ہے کہ مولانا ہدایت الرحمان نے گوادر اور پشکان روڈ پر قائم سکیورٹی چیک پوسٹ پر اپنی گاڑی کو روک کر کار سرکار میں مداخلت کی اور وہاں سکیورٹی اہلکاروں اور اداروں کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس دیے۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ ویڈیو میں رکن بلوچستان اسمبلی نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے سکیورٹی اداروں پر بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔

    مدعی مقدمہ کے بقول مولانا ہدایت الرحمن کے اقدام سے نہ صرف عوام مشتعل ہو سکتی ہے بلکہ موجودہ حالات میں قیام امن کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 353، 186، 503، 504، 505 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

    اس سلسلے میں جب سٹی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او بشیر احمد سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایک شہری نے تھانے میں درخواست دی تھی جس پر مقدمہ درج کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ مقدمے کے اندراج کے بعد اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں اور قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب حق دو تحریک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے خلاف احتجاج پر مولانا ہدایت الرحمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جو افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

  13. 47 برس بعد امریکہ نے شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا

    U.S. President Donald Trump shakes hands with Syrian President Ahmed al-Sharaa

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ نے تقریباً 47 برس بعد شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی اپنی فہرست سے نکال دیا ہے۔

    واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے شام میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور عالمی معیشت میں اس کی دوبارہ شمولیت کی راہ میں حائل آخری بڑی رکاوٹ بھی دور ہو گئی ہے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ فیصلہ شامی حکومت کی جانب سے خود کو بین الاقوامی دہشت گردی کی کارروائیوں سے مکمل طور پر الگ کرنے کے لیے کیے گئے مثبت اقدامات کے اعتراف میں کیا گیا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شام کے نئے صدر احمد الشرع کے ساتھ روابط کو فروغ دے رہی ہے۔

    احمد الشرع ماضی میں ایک عسکریت پسند رہنما رہے ہیں اور ابو محمد الجولانی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ وہ ایک زمانے میں القاعدہ سے منسلک ایک گروہ کی قیادت کرتے تھے جس کے باعث امریکہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے اور ان کی گرفتاری پر انعام مقرر تھا۔

    احمد الشرع کی تنظیم ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کو بھی امریکہ نے اپنی عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

    یہ تنظیم 2016 تک شام میں القاعدہ کی شاخ سمجھی جاتی تھی۔ تاہم احمد الشرع نے اسی سال القاعدہ سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    2024 کے اواخر میں ہیئت تحریر الشام نے باغیوں کی اُس کارروائی کی قیادت کی تھی جس کے نتیجے میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

    مارکو روبیو کا کہنا ہے اس فیصلے سے شامی عوام کو ’خوشحالی کی جانب ایک راستہ‘ ملے گا۔

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں شام میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوئے گی اور سیاسی و اقتصادی استحکام کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

    شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے اس اعلان کو ’ایک تاریخی قدم‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شامی حکومت شفافیت، باہمی مفادات اور احترام پر مبنی ماحول کے قیام کے لیے کام جاری رکھے گی۔

  14. امریکہ کا ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان: تہران کے ساتھ مالی روابط رکھنے والے ممالک کو بھی نشانہ بنایا جائے گا، سکاٹ بیسنٹ

    Scott Bessent

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف عائد کی گئی نئی پابندیوں کو ’تاریخ کی سب سے بڑی مالیاتی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے ایران کے خلاف اس اقدام کو ’اقتصادی ڈی ڈے‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ تمام معاشی روابط منقطع کر دے گا۔

    انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مالی شراکت داری رکھنے والے ممالک کو بھی عالمی اقتصادی نظام سے الگ تھلگ کر دیا جائے گا۔

    تاہم ایرانی حکومت کے خلاف یہ تازہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تنازع کے خاتمے کی امریکی کوششوں کے دوران وائٹ ہاؤس کئی بار اپنی پالیسی میں تبدیلیاں کر چکا ہے اور مختلف ڈیڈ لائنز میں توسیع بھی کرتا رہا ہے۔

    امریکی پابندیوں کے جواب میں ایران کے وزیرِ اقتصادیات علی مدنی زادہ نے کہا ہے کہ پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دو سالہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جو ان کے بقول واشنگٹن کے لیے ایک اور ناکامی کا باعث بنے گا۔

    جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع جاری رہا تو وہ خطے سے تیل کی تمام برآمدات روک دے گا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی حکومت نے جہاز رانی کے شعبے کو بھی نئی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز اس کی اجازت کے بغیر اس راستے سے سفر نہ کریں۔

    یاد رہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل اور گیس کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اور فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے عملی طور پر یہ ترسیل متاثر رہی ہے۔

    سوموار کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران سکاٹ بیسنٹ نے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کی تفصیلات پیش کیں۔

    امریکی وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے عالمی مالیاتی روابط کے خلاف ایک ’وسیع اقتصادی یلغار‘ شروع کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران کے سامنے اب صرف دو راستے ہیں: یا تو مکمل عالمی تنہائی، یا پھر معمول کے تعلقات کی جانب واپسی اور عالمی معیشت میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع۔

    وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ امریکہ ’اب ایرانی خطرے کو محض قابو میں رکھنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ اسے مکمل طور پر ختم کرنے جا رہا ہے۔‘

    بیسنٹ نے کہا کہ امریکی محکمۂ خزانہ نے اُن نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور مالیاتی ذرائع کا سراغ لگا لیا ہے جنھیں ایران پابندیوں سے بچنے اور تیل کی تجارت جاری رکھنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

    محکمۂ خزانہ کے مطابق اس نے پانچ شعبوں کے خلاف باضابطہ اقدامات کیے ہیں، جن میں ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور جہاز رانی شامل ہیں۔

    محکمے نے یہ بھی کہا کہ تقریباً 60 اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

  15. فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی صدر کی ملاقات میں اہم پیش رفت ہوئی: محسن نقوی

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دورہ ایران میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز رہی۔

    وفاقی وزیر نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا ہے کہ ’ہماری گفتگو کا محور ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آئندہ کا لائحۂ عمل تھا۔ اس کے علاوہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی بحالی کے لیے دونوں جانب سے درکار اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جو تنازع کے جامع حل کی جانب پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔‘

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ایران کے صدر نے کھل کر اپنی حکومت کا مؤقف اور خدشات ہمارے سامنے رکھے، جبکہ متعلقہ امور پر ہمارے درمیان تعمیری اور مفید گفتگو ہوئی۔

    ’ملاقات کے دوران اہم پیش رفت ہوئی اور بات چیت انتہائی مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔‘

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت مستقبل میں مزید مثبت اقدامات کی راہ ہموار کرے گی اور خطے میں دیرپا امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو گی۔

    اس سے قبل ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایرانی صدر اور چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسعود پزشکیان نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے بارے میں اپنا ’لہجہ اور نقطہ نظر‘ تبدیل کرے اور کہا ہے کہ دباؤ، زبردستی اور ’دھونس‘ کی پالیسیوں سے معاملات کے حل کے بجائے پیچیدگیاں بڑھیں گی۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ واشنگٹن کو قانون کی حکمرانی، بین الاقوامی اصولوں اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملات میں مثبت پیش رفت کے لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔

  16. فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایک روزہ دورہ ایران مکمل، آبنائے ہرمز کھولنے اور ایران-امریکہ تنازع کے خاتمے پر غور

    عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایران کا ایک روزہ دورہ مکمل ہو گیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ پاکستان کی اُن سفارتی کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں تعطل ختم کرنا اور خطے میں پائیدار امن اور عدم استحکام کے مستقل خاتمے کے لیے راستے تلاش کرنا ہے۔

    دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے محسن رضائی، ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔

    ملاقاتوں میں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازع کے جلد خاتمے کے لیے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں جانب سے خطے میں امن اور مختلف تنازعات کے مذاکرات کے ذریعے حل تک پہنچنے کے طریقوں پر بھی گفتگو ہوئی۔

    ایرانی قیادت نے مکالمے، کشیدگی میں کمی اور تنازع کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔

  17. ایرانی صدر کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں امریکہ سے لہجہ بدلنے کا مطالبہ، مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر زور

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے بارے میں اپنا ’لہجہ اور نقطہ نظر‘ تبدیل کرے اور کہا ہے کہ دباؤ، زبردستی اور ’دھونس‘ کی پالیسیوں سے معاملات کے حل کے بجائے پیچیدگیاں بڑھیں گی۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے یہ بات پیر کی شام تہران میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران کہی۔

    انھوں نے کہا کہ واشنگٹن کو قانون کی حکمرانی، بین الاقوامی اصولوں اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملات میں مثبت پیش رفت کے لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔

    صدر پزشکیان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے عمل میں پاکستان کے ’تعمیری کردار‘ کو سراہتے ہوئے اسلام آباد کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون مفاہمتی یادداشت کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ یادداشت جون میں پاکستان کی ثالثی سے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پائی تھی۔

    ادھر پیر کے روز ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

    ان ملاقاتوں میں ایرانی رہنماؤں نے امریکہ پر مفاہمتی یادداشت کے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکہ ماضی میں بارہا اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ محسن رضائی نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کرے اور مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔

  18. معاشی تنہائی یا عالمی معیشت میں شمولیت: امریکہ کا ایران کو پیغام

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایران کے پاس دو راستے ہیں: یا تو وہ اقتصادی تنہائی کا سامنا کرے یا پھر عالمی معیشت میں ضم ہونے کا انتخاب کرے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی محکمۂ خزانہ نے ایرانی حکومت اور پاسدارانِ انقلاب کی آمدنی کے تمام اہم ذرائع کی نشاندہی کر لی ہے اور واشنگٹن ان ذرائع کو ہدف بنانے کے لیے تیار ہے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ ایران کو ’معاشی طور پر تنہا کرنے کی مہم‘ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق اس حکمتِ عملی کا مقصد ایرانی حکومت پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ نے پابندیوں کے پانچ اہم شعبوں کا بھی اعلان کیا، جن میں ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور جہاز رانی شامل ہیں۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ جو ممالک یا ادارے ایرانی حکومت کی معاونت جاری رکھیں گے، وہ خود بھی ایران کی اقتصادی تنہائی میں کردار ادا کریں گے اور امریکی اقدامات کی زد میں آ سکتے ہیں۔

    پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے چین کو ممکنہ ثانوی امریکی پابندیوں میں شامل کیے جانے کے بارے میں سوال کیا، جس کے جواب میں سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’امریکہ کی ثانوی پابندیوں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں ہوگا۔‘

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایرانی حکومت کو مکمل طور پر عالمی سطح پر تنہا نہیں کر دیا جاتا۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی نئی اقتصادی حکمتِ عملی کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا اور اسے عالمی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنا ہے۔ امریکی انتظامیہ اس پالیسی کو ’معاشی تنہائی‘ کی مہم قرار دے رہی ہے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایسے اقدامات کیے ہیں جو ان کے بقول اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے نہیں کیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اب صرف ایرانی خطرے سے نمٹنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ اس خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔‘

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی مہم کا مقصد ایرانی حکومت کو سہارا دینے والے تمام مالی اور اقتصادی ذرائع کو ختم کرنا ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کو زندہ رکھنے والی ’تمام شریانیں کاٹ رہا ہے‘ اور یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران پر اقتصادی دباؤ کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو جاتے۔

    سکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکہ نے مختلف کمپنیوں اور اداروں کو ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات ختم کرنے کے لیے ایک مہلت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مدت کے اختتام کے بعد ایران کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے والوں کو امریکی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    اسی دوران امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے تیسرے ممالک سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں۔ محکمہ خزانہ کے مطابق امریکی وزارتِ خزانہ، وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کی مشترکہ ٹیمیں دنیا بھر کی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کر رہی ہیں تاکہ ایران سے متعلق ان سرگرمیوں کو ختم کیا جا سکے جن کی واشنگٹن نے نشاندہی کی ہے۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکومتوں اور اداروں کے لیے مخصوص ڈیڈ لائنز مقرر کی جا رہی ہیں، جبکہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان پابندیوں میں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی محدود یا مکمل طور پر ختم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

  19. ہم ایران سمیت سب کے خلاف جیت رہے ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک نئی پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ’ایران سمیت سب کے خلاف جیت رہا ہے‘۔

    ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ریپبلکن ووٹروں کے حوصلے پست کرنے کے لیے ’جعلی سروے‘ جاری کر رہی ہے۔

    انھوں نے لکھا، ’انتہا پسند بائیں بازو کے ڈیموکریٹس جعلی پولز کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دراصل ایسے اقدامات ہیں جن کا مقصد ریپبلکن ووٹروں کے حوصلے توڑنا ہے تاکہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نہ نکلیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ’حقیقی سروے ہمارے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہیں اور ملک میں جوش و جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔‘

    ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم ایران سمیت سب کے خلاف جیت رہے ہیں، جبکہ ایران اقتصادی اور عسکری اعتبار سے زوال کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے۔‘

  20. بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدور قتل، ایک زخمی حالت میں بازیاب, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدور ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا ہے۔

    سرکاری حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد مزدور تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد ضلع قلعہ عبداللہ میں انگور کے ایک باغ میں کام کر رہے تھے، جہاں سے انھیں مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا۔

    کوئٹہ میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں کو گذشتہ روز اغوا کیا اور بعد ازاں انھیں گولیاں مار دیں۔ حملے میں پانچ افراد موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ ایک شخص زخمی حالت میں بچ گیا۔

    پولیس کے مطابق لاشیں اور زخمی شخص پشین کے علاقے سرانان کے قریب سلیمانزئی میں پڑے ہوئے ملے۔ انھیں ابتدائی طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد میں زخمی شخص اور لاشوں کو کوئٹہ روانہ کر دیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق پنجاب سے ہے۔ واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم یا گروہ نے قبول نہیں کی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امن دشمن عناصر نے ایک بار پھر معصوم پاکستانیوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق شدت پسند مزدوروں اور مسافروں کو ’سافٹ ٹارگٹ‘ سمجھ کر حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گذشتہ جمعے کو سرانان بازار میں واقع پشین تھانے پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا تھا، جس سے عمارت کو نقصان پہنچا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔