یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یمن میں سعودی فوجی اتحاد کے حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے: حوثی ترجمان کا دعویٰ
حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے یمن میں 110 فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔ بیان کے مطابق حملوں میں دارالحکومت صنعاء کے علاوہ متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
خلاصہ
- سعودی فوجی اتحادی کے حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے: حوثی ترجمان کا دعویٰ
- سعودی عرب: نجران میں نامعلوم پروجیکٹائل گرنے سے چھ افراد زخمی
- روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف آج تہران پہنچیں گے
- مصری پارلیمان کے ایوان زیریں (مجلس النواب) نے سعودی عرب کے دفاع اور فوجی مداخلت کی منظوری سے متعلق ہنگامی اجلاس پیر تک ملتوی
- سعودی قیادت میں قائم اتحادی فورسز کے ترجمان کے مطابق سعودی عرب کے علاقے نجران میں ایک ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں عملے کے دو ارکان ہلاک ہوئے ہیں
- یمن میں جھڑپیں جاری: سرکاری فوج کا تعز محاذ پر پیش قدمی کا دعویٰ، دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد بے گھر
- پاکستانی تاجروں کی ایرانی سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کی مخالفت: پابندی عارضی ہے، مقصد بارڈر مینجمنٹ بہتر بنانا ہے، بلوچستان حکومت
لائیو کوریج
یمن میں سعودی حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے: حوثی ترجمان کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہAP
،تصویر کا کیپشنحوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ ان سعودی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 30 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے یمن میں 110 فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔
بیان کے مطابق حملوں میں دارالحکومت صنعاء کے علاوہ الحدیدہ، تعز، عمران، حجہ، صعدہ، الجوف، الضالع اور مأرب کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یحییٰ سریع کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 30 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
سعودی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
حوثی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد سے اب تک یمن پر 2,652 سعودی فضائی اور میزائل حملے کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
سعودی حکام کا ابہا شہر کے لیے ہنگامی الرٹ، بعد میں خطرہ ٹلنے کا اعلان
سعودی عرب کے محکمہ سول ڈیفنس نے کہا ہے کہ قومی ابتدائی انتباہی پلیٹ فارم نے جنوب مغربی صوبہ عسیر کے دارالحکومت ابہا کے لیے ’ممکنہ خطرے‘ کا الرٹ جاری کیا تھا۔
محکمے کے مطابق کچھ ہی دیر بعد اعلان کیا گیا کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ اپنی حفاظت کے لیے سول ڈیفنس کی ہدایات پر عمل جاری رکھیں اور غیر ضروری طور پر مجمع لگانے یا ویڈیو بنانے سے گریز کریں۔
حکام نے فوری طور پر خطرے کی نوعیت یا اس کی وجہ کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
کینیڈا کے فوجی اڈے میں آگ، چار فوجی ہلاک، درجنوں زخمی

،تصویر کا ذریعہReuters
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ صوبہ البرٹا میں ایک فوجی اڈے پر لگنے والی آگ کے نتیجے میں چار کینیڈین فوجی ہلاک جبکہ درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
وزیر اعظم نے اس واقعے کو کینیڈا کی مسلح افواج کی تاریخ میں امن کے دور کے بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیا۔ حکام کے مطابق آگ فوجی تربیتی علاقے میں بھڑکی اور تیز ہواؤں کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔
واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ آگ کا تعلق کسی دہشت گردانہ کارروائی سے ہے۔
زخمیوں کو البرٹا کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں متاثرین لائے جانے کے باعث طبی سہولیات پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف آج تہران پہنچیں گے، علاقائی و عالمی امور پر بات چیت متوقع

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف پیر کو تہران کا دورہ کریں گے۔
اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ دورہ تہران اور ماسکو کے درمیان جاری مشاورت کے سلسلے کی کڑی ہے۔ ان کے مطابق ملاقاتوں میں دو طرفہ معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران اور روس باہمی تعاون کے مختلف شعبوں میں رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا دورہ اسی تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔
سعودی عرب کو فوجی معاونت دینے یا نہ دینے کا معاملہ: مصری پارلیمنٹ نے اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصر کے ارکانِ پارلیمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے سعودی عرب کو فوجی معاونت کی منظوری سے متعلق درخواست پر ووٹنگ آج کے اجلاس کے دوران مؤخر کر دی گئی اور اسے کل (پیر 19 اکتوبر) تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ایک مصری رکنِ پارلیمان کا کہنا ہے کہ اجلاس کا دورانیہ اس لیے بڑھایا گیا تاکہ تمام ارکان کو اظہارِ خیال اور اپنی آرا پیش کرنے کا موقع مل سکے۔
گذشتہ روز عبدالفتاح السیسی نے ارکانِ پارلیمان سے درخواست کی تھی کہ اگر سعودی عرب حوثیوں کے حملوں کے خلاف معاونت طلب کرے تو مصر کو اس کی حمایت کی اجازت دی جائے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’میں جانتا ہوں کہ اس اقدام کے لیے مصری پارلیمان کی منظوری درکار ہے، اسی لیے میں نے ہنگامی اجلاس بلانے اور سعودی عرب کی درخواست کی صورت میں ہمیں کارروائی کا اختیار دینے کی درخواست کی ہے۔‘
مصر 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد میں شامل ہوا تھا، اگرچہ اس کا کردار زیادہ تر بحیرۂ احمر کی بحری گزرگاہوں کے تحفظ تک محدود رہا ہے، نہ کہ محاذِ جنگ پر براہِ راست فوجی کارروائیوں تک۔
حوثیوں سے وابستہ متعدد شخصیات نے مصر کو متنبہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ان کی جنگ میں مداخلت نہ کرے کیونکہ ان کے بقول ایسی مداخلت بالآخر اسرائیل کے مفادات کو تقویت دے گی۔
اگرچہ انحوں نے براہِ راست دھمکیاں دینے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے 1960 کی دہائی میں یمن میں مصر کی فوجی مداخلت کا حوالہ دیا، جس کے نتیجے میں مصر کو بھاری انسانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
حوثیوں کی سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کے قریب انخلا کی نئی وارننگ
یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کے قریب موجود ملازمین اور شہریوں کو ایک بار پھر انخلا کی وارننگ جاری کی ہے۔
حوثیوں کے عسکری ذریعے نے گروپ کی خبر رساں ایجنسی سبا کو بتایا کہ یہ انتباہ چند روز قبل مشرقی سعودی شہر ظہران میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ملکیت ایک عمارت پر میزائل حملے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
حوثی ذریعے نے آرامکو کے شیئر ہولڈرز سے بھی اپیل کی کہ وہ ’دیر ہونے سے پہلے ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے‘ اپنے حصص فروخت یا واپس لے لیں۔
بیان میں فضائی کمپنیوں کو بھی خبردار کیا گیا کہ وہ مکہ اور مدینہ کے اطراف کے علاقوں کے علاوہ سعودی ہوائی اڈوں اور فضائی حدود سے گریز کریں۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کیا گیا ایک مہلک حملہ بھی شامل ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے جواباً حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں یمن کا دارالحکومت صنعا بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ حوثیوں نے 13 اکتوبر کو بھی سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کے قریب موجود افراد کے لیے اسی نوعیت کے انخلا کے انتباہات جاری کیے تھے۔
یمن میں جھڑپیں جاری: سرکاری فوج کا تعز محاذ پر پیش قدمی کا دعویٰ، دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد بے گھر

،تصویر کا ذریعہEPA
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی صوبہ تعز کے سنامہ اور صراری محاذوں پر انھوں نے پیش رفت کی ہے۔
سرکاری فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کی صبح شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے دوران حوثی جنگجوؤں کی پوزیشنوں کو ’بھاری نقصان‘ پہنچایا گیا۔
فوج کے مطابق تعز کے شمال مغربی علاقوں میں حوثی جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے تین فضائی حملے بھی کیے گئے، جبکہ صوبے کے مختلف محاذوں پر لڑائی تاحال جاری ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کا کہنا ہے کہ یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران لڑائی میں شدت آنے کے باعث دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
آئی او ایم کے مطابق بے گھر ہونے والوں میں خواتین، بچے، بزرگ اور معذور افراد شامل ہیں، جو پہلے ہی گنجان اور غیر محفوظ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں تحفظ سے متعلق بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
ادارے نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو پہلے بھی کئی بار نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ مسلسل بے دخلی کے باعث ان کے وسائل ختم ہو چکے ہیں، روزگار کے ذرائع متاثر ہوئے ہیں اور بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
آئی او ایم کے مطابق نئی آنے والی بے گھر آبادی پہلے سے محدود وسائل رکھنے والی مقامی برادریوں اور انسانی امدادی خدمات پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔
سعودی عرب: نجران میں گرنے والے نامعلوم پروجیکٹائل سے چھ افراد زخمی

،تصویر کا ذریعہ@SaudiDCD
سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر نجران میں ایک پروجیکٹائل گرنے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ سعودی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق واقعے میں تین رہائشی مکانات اور تین گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اس سے قبل سعودی عرب کے جنوب میں واقع نجران صوبے کے لیے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم نے ممکنہ خطرے کے حوالے سے انتباہ جاری کیا تھا۔
حکام نے فی الحال یہ نہیں بتایا کہ گرنے والا پروجیکٹائل کس نوعیت کا تھا اور کہاں سے داغا گیا تھا، البتہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
نجران سعودی عرب کے جنوبی سرحدی علاقوں میں واقع ہے اور ماضی میں بھی سرحد پار حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث خبروں میں رہا ہے۔
اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس بار ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا: محسن رضائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس بار ملک کا ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور تباہ کن ہوگا۔
محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایران نے ایک نئی حکمت عملی تیار کی ہے جو ان کے بقول ’12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں سے بھی زیادہ تباہ کن‘ ہو سکتی ہے۔
انھوں نے امریکی اور اسرائیلی حکام کی جانب سے ملنے والی مبینہ دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا نیا آپریشنل منصوبہ ان روایتی اصولوں کے مطابق نہیں ہوگا جن سے مخالفین واقف ہیں۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث حالیہ دنوں میں ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کسی بھی صورتحال کا جواب دینے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے۔
اس سے قبل عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے ابھی تک امریکہ کی تازہ ترین پیشکش کا باضابطہ جواب نہیں دیا تاہم اس پر غور جاری ہے۔
امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم مذاکرات شرائط پوری ہونے پر ہی ہو سکتے ہیں: عباس عراقچی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران نے اب تک امریکہ کی تازہ ترین تجویز کا جواب نہیں دیا تاہم شرائط پوری ہونے پر مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ بات اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزارتی اجلاس کے دوسرے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انھوں نے کہا کہ ایران کی شرائط واضح ہیں اور سات روزہ منصوبے کی صورت میں امریکہ کے سامنے پیش کی جا چکی ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ’ہم نے اپنی شرائط پیش کیں، امریکہ نے اپنی رائے دی اور ہم ابھی اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہماری نظر میں سات روزہ منصوبہ اب بھی میز پر موجود ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ دیانتداری کا مظاہرہ کرے، تو آگے بڑھنے کا راستہ واضح ہے۔ اگر وہ ان شرائط پر عمل کرتے ہیں تو آبنائے ہرمز چھٹے دن کھول دی جائے گی اور ساتویں دن مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔‘
عباس عراقچی نے زور دے کر کہا کہ ’ہم کسی بھی صورت دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران کی دفاعی تیاری ماضی کی جنگوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنی دفاعی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے راستے پر بھی آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل ایران کے سات روزہ منصوبے کو مسترد کر چکے ہیں۔
تاہم اس کے بعد واشنگٹن کی جانب سے تہران کو ایک نئی تجویز موصول ہوئی، جس کے بارے میں عراقچی نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ ایران امریکہ کی تازہ ترین تجویز پر غور کر رہا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مصر اور ایرانی وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال
پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری مختصر بیان کے مطابق اسحاق ڈار اور عباس عراقچی نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بغداد میں جاری اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس پر تبادلۂ خیال کیا۔
بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل رابطوں، مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کا رابطہ، سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی آج مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفون پر گفتگو میں خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا ہے جبکہ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
دونوں رہنماؤں نے آر-4 (پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب) فریم ورک کے تحت تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی امور پر رابطہ و تعاون بڑھانے کے لیے آر-4 کے آئندہ اجلاس کے جلد انعقاد کی خواہش کا اظہار کیا۔
خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: گزشتہ سال کے آخر میں بھی نال کے علاقے میں ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا گیا تھا بلوچستان کے ضلع خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق اغوا کا یہ واقعہ ضلع کی تحصیل نال کےعلاقے بیسار اناری میں پیش آیا۔
تھانہ نال پولیس کے ایس ایچ او غلام مصطفیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آوروں کی ایک بڑی تعداد گزشتہ شب اس علاقے میں سنگ مرمر کی ایک کان اور فیکٹری پر آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد وہاں سے 18 افراد اغوا کرکے لے گئے۔ مغویوں میں مائنز کے مالک کا بیٹا اور 17مزدور شامل ہیں۔
جس مائنز سے مزدوروں سمیت 18افراد کو اغوا کیا گیا وہ علاقے کی ایک قبائلی شخصیت کی ہے ۔ پولیس افسر کے مطابق مسلح افراد مائنز سے ایک لوڈر اور دو گاڑیاں بھی لے گئے۔
اغوا ہونے والے مزدوروں کا تعلق ضلع خضدار کے علاقوں نال اور وڈھ سے ہے۔ تاحال کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
گزشتہ سال کے آخر میں بھی نال کے علاقے میں ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا گیا تھا ۔ حملہ آور وہاں مشنری کو نذر آتش کرنے کے علاوہ ایک درجن سے زائد مزدوروں کو اغوا کرلیا تھا۔
ان مغوی مزدوروں کا تعلق سندھ سے تھا جن کو بعد میں چھوڑ دیا گیا تھا ۔ ضلع خضدار کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہیں۔
خضدار کے دیگر علاقوں میں بھی سنگین بدامنی کے واقعات کے علاوہ تعمیراتی کمپنیوں سے کارکنوں کے اغوا کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کی بہتری کے لیے سکیورٹی فورسز کے آپریشنز سمیت دیگر اقدامات جاری ہیں ۔
بلوچستان کے تین اضلاع میں سکیورٹی آپریشن، آٹھ شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے 17 اکتوبر کو بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات پر تین انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائیاں کیں، ہیں جس دوران آٹھ (مبینہ) شدت پسند ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ضلع کوئٹہ کے علاقے پنجپائی میں شدت پسندوں کی جانب سے مقامی ٹریفک میں خلل ڈالنے کے لیے سڑک بند کرنے کی کوشش کی گئی، جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ بیان کے مطابق کارروائی کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ ضلع نوشکی میں ایک کلیئرنس آپریشن کے دوران شدت پسندوں کا ایک مبینہ ٹھکانہ تباہ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں دو شدت پسند مارے گئے جبکہ اس دوران ان کے ٹھکانوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ضلع خضدار میں ایک اور انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک مبینہ شدت پسند ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس میں ایک شدت پسند ہلاک ہوا۔ بیان کے مطابق کارروائی کے دوران 490 کلوگرام دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے بیانات میں کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے قبل ایک نظر اب تک کی اہم خبروں کے خلاصے پر ڈال لیتے ہیں۔
- فرانس میں سنیچر کے روز سکولوں میں مشکلات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف پُرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد سڑکوں پر نکلے جبکہ کم از کم 1200 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
- پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر جھڑپوں کی اطلاعات ہیں اور دونوں کی طرف سے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔افغانستان کے میڈیا کے مطابق صوبہ پکتیا میں کئی گھنٹوں تک افغان سکیورٹی فورسز اور پاکستانی فورسز کے درمیان لڑائی جاری رہی۔ اس سے قبل ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپر کرم میں ’پاکستانی فوج نے افغان طالبان حکومت کی فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کا موثر جواب دیا۔‘
- مصری پارلیمان کے ایوان زیریں (مجلس النواب) نے سعودی عرب کے دفاع اور فوجی مداخلت کی منظوری سے متعلق ہنگامی اجلاس اتوار کو طلب کر لیا ہے۔ یہ اعلان صدر عبدالفتاح السیسی کی اس درخواست کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے سعودی عرب کو دفاعی معاونت فراہم کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔
- سعودی قیادت میں قائم اتحادی فورسز کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے علاقے نجران میں ایک اے ایچ سِکس آئی ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں عملے کے دو ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔
- انڈین ریاست مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کہا ہے کہ کولکتہ میں درگا پوجا کے دوران بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 25 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
- یورپی سفارت کاروں کے ایک وفد پر مقبوضہ مغربی کنارے میں نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے حملہ کیا ہے۔ بیلجیئم نے اپنے قونصل جنرل اور دیگر سفیروں پر حملے کی مذمت کی ہے اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ تاہم وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے واقعے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ انھوں نے عندیہ دیا کہ یہ اسرائیل کو ’بدنام کرنے کی مہم کا حصہ ہو سکتا ہے۔‘
- امریکہ نے روس پر عائد متعدد پابندیوں کے نفاذ سے صرف دو دن قبل انھیں روک دیا ہے جس سے بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان تنازع مزید گہرا ہو رہا ہے۔
- کینیڈا کے صوبے البرٹا میں ایک فوجی اڈے پر آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔ تاہم کینیڈین وزیرِ دفاع نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے۔
سعودی عرب کی دفاعی مدد کی منظوری کے لیے مصری پارلیمان کا ہنگامی اجلاس آج طلب

،تصویر کا ذریعہReuters
مصری پارلیمان کے ایوان زیریں (مجلس النواب) نے سعودی عرب کے دفاع اور فوجی مداخلت کی منظوری سے متعلق ہنگامی اجلاس اتوار کو طلب کر لیا ہے۔
یہ اعلان صدر عبدالفتاح السیسی کی اس درخواست کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے سعودی عرب کو دفاعی معاونت فراہم کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔
مصری میڈیا کے مطابق مجلس النواب کے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’صدر کی درخواست کے پیشِ نظر فیصلہ کیا گیا ہے کہ کونسل کا مکمل اجلاس کل، اتوار 18 اکتوبر 2026 کو دوپہر ایک بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام چار بجے) منعقد کیا جائے گا۔‘
السیسی نے خلیجی ممالک میں اپنے ’بھائیوں‘ کے لیے مصر کی مکمل حمایت اور ان کے دفاع کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا تھا۔
ان کے یہ بیانات سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔
مصری صدر نے کیا کہا تھا؟
سنیچر کے روز نئے دارالحکومت میں مصری ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے السیسی نے کہا تھا کہ اگر درخواست کی گئی تو مصر سعودی عرب کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔
انھوں نے تسلیم کیا کہ ایسی کسی کارروائی کے لیے پارلیمانی منظوری درکار ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر ریاض نے مصری معاونت کی درخواست کی تو یہ اختیار دینے کے لیے ہنگامی اجلاس بلایا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی سے لڑنا یا کسی پر حملہ کرنا نہیں چاہتے۔ ہم صرف سعودی عرب کا دفاع کریں گے۔‘
السیسی نے خلیجی ممالک کے تحفظ کے لیے مصر کی آمادگی کا بھی اظہار کیا اور 2011 کے بعد مصر کو درپیش معاشی مشکلات کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
جمعرات کو السیسی نے کہا تھا کہ سعودی عرب کو لاحق خطرات براہِ راست مصر اور عرب دنیا کی قومی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں۔
ان کے یہ بیانات سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بعد سامنے آئے۔ اس میں انھوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لیے مصر کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
مصر نے سعودی عرب پر حوثیوں کے نئے حملوں کی بھی مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ حملے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
کینیڈا کے فوجی اڈے پر آتشزدگی سے اموات ہوئی ہیں: وزیر دفاع

،تصویر کا ذریعہReuters
کینیڈا کے صوبے البرٹا میں ایک فوجی اڈے پر آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔ تاہم کینیڈین وزیرِ دفاع نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے۔
کینیڈا کے وزیرِ دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے کہا کہ کینیڈین مسلح افواج آگ پر قابو پانے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں اور اس کی وجوہات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ انھوں نے صورتحال کو ’انتہائی متحرک اور نازک‘ قرار دیا ہے۔
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ایکس پر کہا کہ ’ایک سنگین واقعہ پیش آیا ہے جس کے باعث بڑی آگ بھڑک اٹھی‘۔ انھوں نے متاثرہ افراد کے لیے ہمدردی ظاہر کی ہے۔
کینیڈین فوجی اڈہ ’وینرائٹ‘ ملک کے سب سے مصروف فوجی تربیتی مراکز میں سے ایک ہے۔
کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (سی بی سی) کے مطابق یہ ’فائرنگ کی مشقوں کے لیے مرکزی اڈہ‘ ہے۔ سی بی سی کے مطابق عام دنوں میں وہاں تقریباً 690 فوجی اہلکار اور 300 سویلین کارکن موجود ہوتے ہیں۔
وینرائٹ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق سنیچر کے روز لگنے والی آگ ’ہواؤں کے باعث تیزی سے پھیل گئی‘ اور اڈے کی باڑوں کو بھی عبور کر گئی۔
البرٹا کی وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل سمتھ نے کہا کہ یہ ’بڑا اور افسوس ناک واقعہ‘ صوبے کے ’بہت سے بہادر فوجی اہلکاروں کو متاثر کر رہا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ صورتحال سے نمٹنے اور اس کی تحقیقات کے سلسلے میں صوبائی حکام وفاقی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ آگ کب بھڑکی، تاہم ضلعی انتظامیہ نے پہلی بار مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 5:30 بجے اس واقعے کے بارے میں اطلاع دی تھی۔
مقامی حکام نے رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ علاقے سے دور رہیں اور تمام ہنگامی امدادی گاڑیوں کو راستہ دیں۔
نجران میں سعودی ہیلی کاپٹر گِر کر تباہ، عملے کے دو ارکان ہلاک

،تصویر کا ذریعہBoeing
سعودی قیادت میں قائم اتحادی فورسز کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے علاقے نجران میں ایک اے ایچ سِکس آئی ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں عملے کے دو ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہیلی کاپٹر اس علاقے میں گر کر تباہ ہوا جو سعودی وزارتِ نیشنل گارڈ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
نجران کا جنوب مغربی علاقہ حالیہ ہفتوں کے دوران ایران سے منسلک حوثیوں کے حملوں کی زد میں رہا ہے۔ جبکہ سعودی اتحاد اور یمن میں حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سنیچر کے روز ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ گروہ نے نجران کے قریب ایک سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے، جو ان کے بقول سرحد کے قریب حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے میں ملوث تھا۔
المالکی نے اتوار کو سریع کی اس پوسٹ پر کئی اپاچی ہیلی کاپٹروں کی تصویر کے ساتھ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ نے اسے مار گرایا ہے۔ لیکن یہ جلد ہی دوبارہ میدانِ جنگ میں موجود ہوگا۔‘
دریں اثنا سعودی اتحاد کے ترجمان نے ریاض اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں کئی ڈرون حملے ناکام بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ جبکہ ان کے مطابق خميس مشيط کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل مار گرائے گئے ہیں۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر جھڑپوں کی اطلاعات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر جھڑپوں کی اطلاعات ہیں اور دونوں کی طرف سے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔
افغانستان کے سرکاری خبر رساں ادارے باختر کے مطابق اطلاعات ہیں کہ صوبہ پکتیا میں کئی گھنٹوں تک افغان سکیورٹی فورسز اور پاکستانی فورسز کے درمیان لڑائی جاری رہی۔
باختر نے طالبان کے حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے سات پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اس سے قبل ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر کرم میں ’پاکستانی فوج نے افغان طالبان حکومت کی فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کا موثر جواب دیا۔‘
ریڈیو پاکستان کے مطابق ’پاکستانی فوج کی بھرپور جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی کئی چوکیاں تباہ کر دی گئی ہیں جس کے نتیجے میں طالبان حکومت کے اہلکار اپنی پوزیشنز چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔‘
طالبان حکومت کے سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی پشتو سروس کو بتایا کہ اس کے فوجیوں اور سرحدی محافظوں کی پاکستانی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔ بی بی سی پشتو کو بھیجی گئی ایک ویڈیو میں طالبان حکومت کی فورسز کو سرحد پار پاکستانی فورسز کے خلاف راکٹ اور توپ استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث تجارتی راستے ایک سال سے بند ہیں۔ اکتوبر سنہ 2025 میں دونوں ملکوں کے درمیان مسلح جھڑپوں اور حملوں کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے بند کر دیے تھے۔
یکم اکتوبر 2026 کو پاکستان کی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی افواج نے ’مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات‘ کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں 22 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم افغان طالبان حکام نے پاکستانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ افغان صوبوں کنٹر اور ہلمند میں عام شہریوں کے گھروں پر کی گئی بمباری کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت نو افغان شہری ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔
ٹرمپ نے ’قومی مفاد میں‘ روسی معیشت کے خلاف بعض پابندیاں روک دیں

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ نے روس پر عائد متعدد پابندیوں کے نفاذ سے صرف دو دن قبل انھیں روک دیا ہے جس سے بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان تنازع مزید گہرا ہو رہا ہے۔
یہ پابندیاں امریکی کانگریس نے منظور کی تھیں اور ستمبر میں صدر نے انھیں قانون کی شکل دی تھی۔
تاہم ٹرمپ نے جمعے کی شب ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے بعض پابندیوں کی معطلی امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔ اس پر امریکی قانون سازوں کی جانب سے ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ادھر زیلنسکی نے کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ امریکہ نے پابندیوں کو ’مکمل طور پر نظر انداز‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ معطلی 60 روزہ وقفے پر مشتمل ہوگی جس کا مقصد عالمی معیشت پر اس کے اثرات کا جائزہ لینا ہے۔
ان نئی پابندیوں کا ہدف روسی معیشت تھی جس کے تحت ٹرمپ کو یہ وسیع اختیارات دیے گئے کہ وہ روسی تیل اور گیس خریدنے والے پانچ بڑے خریداروں، بالخصوص چین اور انڈیا، سے درآمدات پر 100 فیصد تک محصولات عائد کر سکیں۔
اس قانون میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سمیت روس کی اعلیٰ شخصیات، روسی مالیاتی اداروں اور ماسکو کے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف پابندیاں بھی شامل تھیں، جو موجودہ پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں پر مشتمل ہے۔
روبیو نے کہا کہ ٹرمپ 60 دن کا وقت اس بات کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ ’پابندیوں اور محصولات کے نفاذ کے عالمی معیشت اور حتیٰ کہ امریکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔‘
مقبوضہ مغربی کنارے میں یورپی سفارت کاروں پر اسرائیلی آباد کاروں کا حملہ, جیمز لینڈیل، سفارتی امور کے نامہ نگار/بی بی سی

،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنیورپی وفد پر مبینہ طور پر نقاب پوش آبادکاروں نے حملہ کیا یورپی سفارت کاروں کے ایک وفد پر مقبوضہ مغربی کنارے میں نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے حملہ کیا ہے۔
بیلجیئم نے اپنے قونصل جنرل اور دیگر سفیروں پر حملے کی مذمت کی ہے اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
تاہم وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے واقعے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ انھوں نے عندیہ دیا کہ یہ اسرائیل کو ’بدنام کرنے کی مہم کا حصہ ہو سکتا ہے۔‘
یہ حملہ ایک ایسے واقعے کے صرف ایک دن بعد ہوا ہے جس میں مغربی کنارے کے ایک اور گاؤں میں آبادکاروں کے حملے میں متعدد فلسطینی اور واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر ہیڈی لیوین زخمی ہو گئی تھیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے لیوین پر حملے کو ’تشویش ناک‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ’اچھی بات نہیں۔‘
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکبی نے بھی اس واقعے کی مذمت کی اور اسے ’نقاب پوش بزدلوں کی جانب سے کیا گیا دہشت گردی کا قابلِ نفرت عمل‘ قرار دیا۔
ہکبی نے کہا کہ حملہ آوروں کے خلاف ’قانون کی مکمل حد تک کارروائی‘ ہونی چاہیے۔
واقعے کے دوران کیا ہوا؟
سنیچر کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں بیلجیئم، فرانس، پولینڈ اور کیتھولک چرچ کے یورپی سفارت کار رام اللہ کے قریب واقع مسیحی آبادی کی اکثریت والے گاؤں طیبہ آئے تھے۔ وہ وہاں زمینی صورتحال کا جائزہ لینے آئے تھے کیونکہ اسرائیلی آبادکار تقریباً روزانہ ان فلسطینیوں پر حملے کر رہے ہیں جو زیتون کی فصل اکٹھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جائے وقوعہ کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نقاب پوش آبادکار قافلے کو روکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کی جانب سے پتھر بھی پھینکے گئے۔
بیلجیئم کے حکام نے کہا کہ ان کے قونصل خانے کی ایک گاڑی کا شیشہ توڑ دیا گیا جبکہ ایک فرانسیسی میئر پر بھی حملہ کیا گیا۔ ویڈیو میں فرانسیسی ترنگے کی پٹی پہنے ایک شخص کو گاڑی کے ساتھ جھکا ہوا دیکھا گیا۔
بیلجیئم کے وزیرِ خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اسرائیل کی ذمہ داری ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’فلسطینی ہر روز اس تشدد کا سامنا کرتے ہیں۔ آبادکار اس کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں اور سفارت کاروں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ زیتون کی فصل کاٹنے، خبریں رپورٹ کرنے یا سفارتی فرائض انجام دینے پر کسی کو حملے کے خطرے سے دوچار نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشننیتن یاہو کے دفتر نے زخمی ہونے والے فرانسیسی عہدیدار کی شناخت برنار بودو کے طور پر کی۔ وہ شمالی فرانس کے ایک قصبے کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے میئر ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’قابض طاقت ہونے کے ناطے اسرائیلی حکام کو فلسطینیوں کا تحفظ کرنا چاہیے، سفارت کاروں اور صحافیوں کی سلامتی یقینی بنانی چاہیے اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔‘
’پرتشدد آبادکاروں کو حاصل استثنی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ بیلجیئم اس تشدد کے ذمہ دار افراد اور ان کے حامیوں کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کے لیے دباؤ ڈالتا رہے گا۔‘
اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ وہ ’ہنگامہ برپا کرنے والے اسرائیلیوں‘ کی جانب سے کیے گئے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزارتِ خارجہ اس واقعے میں شامل ممالک کے سفیروں سے رابطے میں ہے۔
تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ’واقعے کی سنگینی کو کم کیے بغیر یہ افسوس ناک ہے کہ اس دورے کے بارے میں پیشگی آئی ڈی ایف سے رابطہ اور ہم آہنگی نہیں کی گئی۔ ایسی ہم آہنگی مہمانوں کی سلامتی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی تھی۔‘
نیتن یاہو کے دفتر نے کیا کہا؟
آئی ڈی ایف نے کہا کہ وہ ’طیبہ کے علاقے میں پیش آنے والے شدید نوعیت کے تشدد کی سخت مذمت کرتی ہے، جس کے دوران سفارتی نمائندوں پر حملہ کیا گیا۔‘
اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ ’ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے کے وقت جائے وقوعہ پر آئی ڈی ایف کا کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔‘
تاہم نیتن یاہو کے دفتر نے حملے سے متعلق رپورٹس کی بنیاد پر ’نتائج اخذ کرنے میں احتیاط برتنے کی اپیل کی۔‘
دفتر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر موجود تصاویر ’واقعات کے مکمل تسلسل یا انفرادی ذمہ داری کا تعین نہیں کرتیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ان حالات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اسرائیلی پولیس اور فرانزک تفتیش کاروں نے حقائق معلوم کرنے اور ذمہ دار افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سالانہ زیتون کی فصل کے دوران اسرائیل اور یہودا و سامرہ میں رہنے والے یہودی باشندوں کو بدنام کرنے کی ایک مربوط مہم کے خدشات موجود ہیں، جس میں مکمل حقائق سامنے آنے سے پہلے سنسنی خیز سرخیوں پر انحصار کیا جا رہا ہے۔‘
فرانسیسی میئر پر ’لوہے کی سلاخوں سے تشدد کیا گیا‘
نیتن یاہو کے دفتر نے زخمی ہونے والے فرانسیسی عہدیدار کا نام برنار بودو بتایا ہے۔
شمالی فرانس کے قصبے اولنوائے ایمریز کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے میئر نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ یہ حملہ آبادکاروں کے تشدد کے بارے میں اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت کی برداشت کو ظاہر کرتا ہے۔
میئر نے کہا کہ آبادکاروں نے انھیں لاتیں ماریں، لوہے کی سلاخوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور زمین پر گرا دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے تشدد کی بلاجواز نوعیت حیران کرتی ہے۔ وہ مکمل غصے کی حالت میں آئے تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’پوری دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ میں تو اپنے ملک واپس چلا جاؤں گا اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن جو لوگ سب سے زیادہ تکلیف برداشت کرتے رہتے ہیں، وہ وہی ہیں۔‘
