لائیو, یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حوثیوں کے حملے میں کم ازکم 53 افراد ہلاک، 200 زخمی

مقامی حکام کے مطابق، پیر کے روز جنوبی وسطی یمن کے صوبہ شبوہ میں ’انصار اللہ‘ (حوثی) گروپ کے حملے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے۔ سرکاری سکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ پر یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک بھر میں لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حوثیوں کے حملے میں کم ازکم 53 افراد ہلاک، 200 زخمی

    مقامی حکام کے مطابق، پیر کے روز جنوبی وسطی یمن کے صوبہ شبوہ میں ’انصار اللہ‘ (حوثی) گروپ کے حملے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ سرکاری سکیورٹی فورسز کے ایک تربیتی کیمپ پر کیا گیا، ایسے وقت میں جب ملک بھر میں لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے۔

    خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کی جانب سے تصدیق کی گئی ویڈیوز میں صوبہ شبوہ کے اس مقام پر زخمی افراد اور خون میں لت پت لاشیں زمین پر بکھری ہوئی دکھائی دیں۔

    مقامی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ حوثیوں نے کیمپ میں جاری تربیتی مشقوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر تین بیلسٹک میزائل داغے۔

    حوثیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

    صوبہ شبوہ جنوبی وسطی یمن کے ساحلی علاقے میں واقع ہے اور توانائی کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے۔

    شبوہ میں موجود ایک سرکاری فوجی ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ حوثیوں نے اتوار کے روز اس سڑک کو بند کر دیا جو صوبہ شبوہ کو صوبہ بیضا سے ملاتی ہے۔ واضح رہے کہ صوبہ بیضا اس وقت حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔

  2. روس کبھی بھی ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا: روسی وزیرِ خارجہ کی تہران میں نیوز کانفرنس

    تصویر

    روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا۔

    پیر کو تہران میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اور روس کے درمیان سٹریٹجک تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ روس دونوں ممالک کے مشترکہ سٹریٹجک معاہدے کے حوالے سے مکمل طور پر پرعزم ہے اور ماسکو کبھی بھی ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا۔

    روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ایران کو خوراک اور طبی امداد کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسعود پزشکیان ماسکو میں ہونے والی گیس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

    اس موقع پر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

    اُنھوں نے خطے میں عدم تحفظ کی وجہ امریکہ، ایران کے ساتھ جنگ ​​اور بحری ناکہ بندی کو قرار دیا۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ اُنھوں نے روسی وزیرِ خارجہ کے ساتھ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی صورتحال پر گفتگو کی ہے۔

  3. فرانس میں پرتشدد احتجاج کے بعد مقامی میئرز کو جزوی کرفیو لگانے کے اختیارات

    تصویر

    فرانس کے وزیرِ اعظم سیباستیاں لیکورنو نے کہا ہے کہ اُنھوں نے مقامی میئرز کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ ملک کے کچھ حصوں میں جزوی کرفیو نافذ کر سکتے ہیں۔ اُن کے بقول اس اقدام کا مقصد عوام اور کاروباری اداروں کا تحفظ کرنا ہے۔

    پیرس میں کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم لیکورنو کا کہنا تھا کہ پیر سے پیرس میں ایک اہم آپریشن شروع ہو رہا ہے جس میں 200 تفتیش کار شامل ہوں گے، یہ تفتیش کار ہفتے کے آخر میں ہونے والے تشدد کی فوٹیج کا جائزہ لیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت متاثرہ علاقوں کو پہنچنے والے نقصانات سے نمٹنے اور بحالی کے لیے فنڈز بھی مختص کرے گی اور یہ رقم ان لوگوں سے وصول کی جائے گی جو ان پرتشدد کارروائیوں کے ذمہ دار ہیں۔

    لیکورنو نے کہا، ’ایک ایسا قانون لایا جائے گا جس کے ذریعے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ جن لوگوں نے املاک کو نقصان پہنچایا ہے، انھیں اس کا ہرجانہ ادا کرنا پڑے۔‘

    تصویر

    خیال رہے کہ مہنگائی اور سکولوں میں پیدا ہونے والے مسائل کے خلاف سنیچر کے روز فرانس بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔

    فرانسیسی حکومت کے مطابق، جسے 'تشدد میں اضافہ' قرار دیا جا رہا ہے، اس دوران کم از کم ساڑھے پانچ لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

    پیرس میں شام تک انسدادِ فسادات پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

    تصویر

    دارالحکومت پیرس اور دیگر علاقوں میں متعدد عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔ لیموج میں واقع ٹاؤن ہال میں لگنے والی شدید آگ کے باعث عمارت کی چھت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔

    کئی شہروں میں لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے، جن کے دوران ٹاؤن ہالز اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔

  4. حکومتِ پنجاب کا خفیہ کیمروں، ریکارڈنگ والی عینکوں، پن اور گھڑیوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    تصویر

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے خفیہ کیمروں اور ریکارڈنگ آلات سے لیس عینکوں، پین، گھڑیوں اور دیگر ڈیوائسز پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ فیصلہ پیر کو پنجاب کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز نے کی۔

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ اطلاعات و نشریات اعظمی بخاری کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ خاص طور پر خواتین اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔

    پنجاب حکومت کے مطابق جاسوسی کے آلات اور خفیہ الیکٹرانک ڈیوائسز کے استعمال اور خرید و فروخت پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق جاسوسی کے آلات کے ذریعے غیر قانونی نگرانی، ہراسانی اور بلیک میلنگ کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ خفیہ کیمروں سے لیس روزمرہ استعمال کی اشیاء کے غیر قانونی استعمال پر سخت سزا ہو گی۔

  5. امریکہ کے کسی بھی نئے حملے کا نتیجہ عالمی سطح پر توانائی کا سنگین بحران ہو گا: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا انتباہ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس نئی کارروائیاں کرنے کی ’فنی اور عسکری‘ صلاحیت نہیں، تاہم ’وہ شاید کچھ کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔‘

    ایرانی میڈیا کے مطابق، حسین محبی نے کہا: ’امریکہ یقیناً اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ کوئی نیا تنازع شروع کرے جس سے اسے نئی کامیابیاں حاصل ہوں۔‘

    اُنھوں نے وضاحت کی کہ خطے میں موجود امریکی اڈوں کا بیشتر حصہ غیر فعال کر دیا گیا ہے اور یہ کہ ان کی افواج، تھکاوٹ کا شکار ہونے کے علاوہ، ایران سے سینکڑوں کلومیٹر دور منتقل ہو چکی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی بحری جہاز بھی خلیج فارس سے 700 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر موجود ہیں۔

    تاہم، حسین محبی نے فوجی حملے کے امکان کو مسترد نہیں کیا اور کہا: ’امریکہ کے پاس نئی کارروائیاں انجام دینے کی فنی اور عسکری صلاحیت نہیں، لیکن یہ ممکن ہے کہ چونکہ امریکی انتخابات قریب آ رہے ہیں، اس لیے وہ کچھ کامیابیاں حاصل کرنا چاہے۔‘

    سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا: ’ہم ان امکانات کو نظرانداز نہیں کرتے اور کسی بھی اقدام کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، اور اس بار ہمارا جواب کہیں زیادہ سخت ہو گا۔‘

    انھوں نے خبردار کیا: ’امریکہ کی کسی بھی نئی کارروائی، خواہ وہ محدود ہی کیوں نہ ہو، کے نتیجے میں دنیا کو توانائی کے ایک سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

  6. ایران اور روس کے وزرائے خارجہ کی تہران میں ملاقات

    تصویر

    پیر کو تہران پہنچنے والے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔

    ملاقات میں عباس عراقچی کے علاوہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے نائبین اور ترجمان بھی موجود تھے۔

    دونوں فریقین کے سفارتی وفود کے درمیان مشاورت کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔

    اس ملاقات کے بعد سرگئی لاوروف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات طے ہے۔

    روسی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ماسکو کا مقصد ایک ’بڑے پیمانے کی جنگ‘ کو روکنا ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد دوطرفہ معاہدوں کو آگے بڑھانا ہے۔

    سرگئی لاوروف بحرین میں ہونے والے ’خلیجی تعاون کونسل‘ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد تہران روانہ ہوئے تھے۔

  7. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید 25 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو، اسلام آباد

    تصویر

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے مزید 25 افراد کے نام انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول میں ڈال دیے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے افراد کی تعداد 400 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

    جن افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے ان میں سے زیادہ تر کا تعلق کالعدم قرار دی گئی تنظیم جملوں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے ہے اور زیادہ تر افراد کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پونچھ ڈویژن سے ہے۔

    محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے اس فہرست میں پونچھ سے 16 سدھنوتی سے پانچ نیلم سے دو جبکہ باغ اور میر پور سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کا ایک ایک نمائندہ شامل ہے۔

    محکمہ داخلہ نے چند روز قبل جن افراد کی فہرست جاری کی تھی اس میں راولاکوٹ کے ایک مقامی صحافی کا نام بھی شامل ہے۔

    اگر کسی شخص کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے تو اس کو مقامی تھانے میں ہفتے میں ایک مرتبہ حاضری لگوانا پڑتی ہے اور اگر اس شخص کو کسی دوسرے علاقے میں جانا ہو تو اسے متعلقہ تھانے میں پیشگی اطلاع دینا ضروری ہے۔

    ضلعی سطح ہر ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جس میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں اور ان کی طرف سے تیار کی گئی رپورٹ کی روشنی میں ضلعی کمیٹی کسی بھی شخص کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی منظوری دیتی ہے۔

  8. پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

    تصویر

    پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور اس کے خلاف کسی بھی حملے کو روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

    انڈپینڈنٹ العربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدے کے تحت رُکن ممالک کے خلاف کسی بھی جارحیت کا اجتماعی جواب دیا جائے گا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اگربین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت فوجی معاونت کے لیے باضابطہ درخواست کرتی ہے تو اسلام آباد اس پر غور کرے گا۔

    حوثیوں کے نام ایک انتباہی پیغام میں پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی کہ سعودی عرب پر حملوں کا جواب ’مکہ اتحاد‘ کے رکن ممالک کی جانب سے اجتماعی سطح پر دیا جائے گا۔

    انھوں نے زور دیا کہ ان کا ملک سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔

    بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو براہِ راست فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکان کے بارے میں احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انھیں معلوم نہیں کہ آیا اسلام آباد کو اس مقصد کے لیے کوئی باضابطہ درخواست موصول ہوئی ہے یا نہیں۔ تاہم انھوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنے پاس آنے والی کسی بھی درخواست کا جائزہ لے گا اور اس کے بارے میں مناسب فیصلہ کرے گا۔

    مکہ اور مدینہ پر حملوں کے بارے میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ حملوں کے بعد ان کے ملک میں ’گلیوں میں عام لوگوں، بچوں اور نوجوانوں سے لے کر ہماری سیاسی اور عسکری قیادت تک، سب کے جذبات غصے پر مبنی تھے۔ ہم حیران تھے کہ کوئی سمجھدار شخص سعودی عرب پر حملہ کیسے کر سکتا ہے یا مقدس مقامات کو دھمکی دینے یا انھیں خطرے میں ڈالنے کا تاثر کیسے دے سکتا ہے؟‘

  9. مشرقِ وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت

    تصویر

    مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر حصوں میں قائم امریکی سفارت خانوں نے امریکی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’پیچیدہ سکیورٹی صورتحال‘ اور سفری رکاوٹوں کے پیشِ نظر چوکس رہیں۔

    خلیجِ فارس کے ممالک، اسرائیل، عراق، لبنان اور اردن میں قائم امریکی سفارت خانوں کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی الرٹ میں کہا گیا ہے کہ: ’مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت موجود امریکی شہریوں کو پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کے باعث زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔‘

    سکیورٹی الرٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ: ’پروازیں منسوخ ہونے، فضائی حدود بند ہونے اور سفر میں رکاوٹیں پیش آنے کے امکانات سے آگاہ رہیں۔‘

    انتباہ میں کہا گیا ہے کہ یہ جنگ تیزی سے دیگر علاقوں تک ’پھیل‘ سکتی ہے۔

    امریکی شہریوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پروازوں سے متعلق معلومات پر نظر رکھیں اور ہنگامی صورتحال کے لیے متبادل منصوبے تیار رکھیں۔

    اس انتباہ میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے گئے حملوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ حوثیوں کے حملوں میں 18 افراد کی ہلاکت کے بعد ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ بدستور بند ہے۔

    امریکی شہریوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پروازوں سے متعلق معلومات پر نظر رکھیں اور ہنگامی صورتحال کے لیے متبادل منصوبے تیار رکھیں۔

  10. یمن میں سرکاری افواج کے کیمپ پر حوثیوں کے حملے میں کم از کم 18 ہلاکتوں کی اطلاعات

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے چار سرکاری اور طبی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پیر کو صوبہ شبوہ میں یمنی سرکاری افواج کے ایک فوجی تربیتی کیمپ پر حوثیوں کے حملے میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے۔

    حوثی، تسلیم شدہ یمنی حکومت سے منسلک مراکز اور سعودی قیادت والے اتحاد سے وابستہ افواج کو بارہا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

    اس سے قبل، حوثیوں نے ’المعاشیق محل‘ پر پانچ بیلسٹک میزائل داغے تھے، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ سعودی قیادت والے اتحاد کا آپریشنل مرکز ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اس حملے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

    یہ محل بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومتی ہیڈ کوارٹر ہے۔

  11. مبینہ بم دھمکی کے بعد اسرائیل سے آسٹریا جانے والا طیارہ بلغاریہ میں اُتار لیا گیا

    تصویر

    آسٹریئن ایئرلائنز کی اسرائیل سے آسٹریا جانے والی ایک پرواز کا رُخ مبینہ بم دھمکی کے بعد بلغاریہ کی جانب موڑنے کی تصدیق ہوئی ہے۔

    بلغاریہ کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ایئربس اے 320 طیارہ اتوار کی شب تل ابیب سے ویانا جا رہا تھا، تاہم اسے ہنگامی طور پر صوفیہ میں اتارا گیا جہاں مسافروں کو طیارے سے نکال لیا گیا۔

    بیان کے مطابق بلغاریہ کی فضائیہ نے مسافر طیارے کو حفاظتی حصار فراہم کرنے کے لیے ایک مگ-29 جنگی طیارہ بھی روانہ کیا۔ کسی زخمی کی اطلاع نہیں ملی اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    یہ واقعہ گذشتہ ماہ پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جب تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز میں ایک پائلٹ نے کپتان پر حملہ کر کے طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم پرواز کے عملے اور مسافروں نے اسے قابو میں کر لیا تھا اور طیارہ بحفاظت سعودی عرب میں اتار لیا گیا تھا۔

    بلغاری اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ بم کی دھمکی دی گئی تھی۔

    آسٹریئن ایئرلائنز نے دھمکی دیے جانے کی تصدیق کی، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ایئرلائن کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ طیارے میں 51 مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔

    حکام نے صوفیہ میں لینڈنگ کے بعد طیارے کی سکیورٹی تلاشی لی، جو اس وقت سے تقریباً 30 منٹ بعد تھی جب پہلی مرتبہ الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ طیارہ بلغاریہ کی جانب جانے سے قبل رومانیہ کی فضائی حدود میں تھا۔

    آسٹریئن ایئرلائنز نے تصدیق کی کہ کسی قسم کا خطرہ نہیں ملا اور پرواز تمام مسافروں کے ساتھ اپنا سفر مکمل کرتے ہوئے ویانا پہنچ گئی۔

  12. ہمارے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب نو ممالک کے بجلی گھروں اور تنصیباب پر حملوں سے دیا جائے گا: ایرانی رہبرِ اعلی کے مشیر کا انتباہ

    ایران کے رہبر کے مشیر ڈاکٹر محمد مخبر نے کہا ہے کہ اگر ہمارے بجلی گھروں اور پیٹرو کیمیکل تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو ایران نو ممالک کے بجلی گھروں اور پیٹرو کیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔

    اُنھوں نے 40 روزہ جنگ کے دوران قطر کے راس لفان میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی پیداوار کی تنصیب پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے نے ’پوری دنیا کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔‘

    قطر نے اس حملے پر سخت احتجاج کیا تھا۔

    جنوبی پارس میں اپنی تیل کی تنصیبات پر حملے کے جواب میں ایران نے قطر میں مائع قدرتی گیس برآمد کرنے والی ایک بڑی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

    قیمتوں میں اضافے کے علاوہ، اس حملے نے عالمی توانائی کی رسد کے بارے میں خدشات بھی بڑھا دیے۔

    اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں محمد مخبر نے کہا: ’کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز سے دستبردار ہو جانا چاہیے تاکہ ملک کے دیگر حصوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔‘

  13. 40 روزہ جنگ کے بعد روسی وزیرِ خارجہ کا دورہ ایران

    تصویر

    روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف آج ایران کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ان کا ایران کا پہلا دورہ ہو گا۔ ایرانی ٹیلی وژن نے اعلان کیا ہے کہ روسی وزیر خارجہ اس دورے کے دوران مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کریں گے۔

    اطلاعات کے مطابق روس ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ثالث کے طور پر زیادہ نمایاں کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    سرگئی لاوروف، جن کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات طے ہے، نے کہا کہ ماسکو کی کوششوں کا مقصد ’ایک بڑے پیمانے کی جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنا‘ ہے۔

    ایران کے دورے سے قبل سرگئی لاوروف بحرین گئے تھے۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ’روس-جی سی سی سٹریٹجک ڈائیلاگ‘ کے نویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے خلیجی ممالک اور ان کے ہمسایہ ممالک، بشمول عراق اور اردن، کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا مطالبہ کیا۔

    سرگئی لاوروف کا ایران کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے حالیہ دوطرفہ ملاقات میں مسعود پزشکیان سے کہا تھا کہ ماسکو ثالثی کی کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں تنظیمِ تعاونِ اسلامی (او آئی سی) کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ممکنہ شمولیت بھی شامل ہو سکتی ہے۔

    روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ سرگئی لاوروف کے دورۂ ایران کے دوران ہونے والی بات چیت میں ’ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی جارحیت سے پیدا ہونے والے شدید بین الاقوامی بحران کے حل کے طریقوں‘ پر توجہ مرکوز کیے جانے کی توقع ہے۔

    روسی وزارتِ خارجہ نے دوبارہ لڑائی بھڑک اٹھنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ اس جنگ نے ’نہ صرف قریب اور مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر‘ استحکام اور سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔

  14. ایرانی حملوں کے بعد قطر کا علاقائی ممالک کے مابین نئی دفاعی شراکت داری کا اعلان

    تصویر

    قطر نے علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر ایک نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔

    پیر کو دوحہ میں ہونے والے گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے ڈپٹی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ قطر خلیج تعاون کونسل ممالک کے درمیان شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ قطر نے حال ہی میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے جس میں فضائی دفاعی نظام، انسدادِ ڈرون اقدامات اور آبی تحفظ کو ترجیح دی گئی ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق قطر کے ڈپٹی وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایران جنگ کے دوران 90 فیصد سے زیادہ حملوں کو مشترکہ مہارت اور کئی دہائیوں کی فوجی سرمایہ کاری کے ذریعے روک دیا گیا۔

    ایران کے ساتھ تعلقات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے شیخ مسعود نے کہا کہ حملے شروع ہونے سے پہلے قطر اور ایران کے درمیان اعتماد پر مبنی تعلقات تھے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ جون تک ہمارا ایران کے ساتھ کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔

    قطر کے راس لفان گیس تنصیب پر ایران کے حملے کے بارے میں پوچھے جانے پر شیخ سعود نے کہا کہ دوحہ اس حملے پر’حیران‘ تھا اور اس کے بعد تہران کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم کبھی بھی رابطہ منقطع نہیں کرتے۔ اختلافات کے باوجود قطر مختلف سطحوں پر ایران کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق ایک ’مشترکہ مفاہمت‘ تک پہنچ گئے ہیں۔

  15. فرانس میں جاری بد امنی کے باوجود میکخواں خلیجی ممالک کے دورے پر روانہ

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں ملک بھر میں ہونے والی پرتشدد بدامنی کے بعد خلیجی ممالک کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔

    اتوار تک یہ واضح نہیں تھا کہ میخواں اپنا یہ دورہ جاری رکھیں گے یا نہیں، تاہم انھوں نے اتوار کی شام قوم سے خطاب کے دوران تصدیق کی کہ یہ دورہ منصوبے کے مطابق ہوگا۔

    اپنی تقریباً دس منٹ کی تقریر میں میخواں نے کہا: ’میں نے بین الاقوامی سطح پر متعدد اقدامات کیے ہیں تاکہ ایندھن اور گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے، اور اسی مقصد کے تحت خلیجی ممالک کا دورہ جاری رکھوں گا تاکہ سپلائی محفوظ بنائی جا سکے۔‘

    میکخواں تین روزہ دورے پر پیر کی صبح کویت پہنچے۔

    اس کے بعد وہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر کا بھی دورہ کریں گے، جبکہ بدھ کے روز فرانس واپس لوٹنے کا پروگرام ہے۔

    یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فرانس کی حکومت ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد احتجاج، لوٹ مار اور ہنگامہ آرائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  16. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت میں چار ماہ دس دن بعد موبائل انٹرنیٹ سروس بحال, صحافی، نصیر چوہدری

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں چار ماہ دس دن کی بندش کے بعد موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے تاہم خطے کے بعض دیگر اضلاع میں تاحال موبائل انٹرنیٹ سروس بند ہے۔

    حکام نے یہ سروس پانچ جون کو کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے نو جون کو دی گئی احتجاج کی کال کے تناظر میں بند کر دی تھی اس دوران موبائل فون کالز کی سہولت بحال رہی جبکہ موبائل انٹرنیٹ اور ڈی ایس ایل سروس متاثر ہوئی تھی۔

    اس سے قبل دارالحکومت میں ڈی ایس ایل انٹرنیٹ سروس بھی بحال کر دی گئی تھی۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِاعظم نے گذشتہ روز انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد گذشتہ رات سے موبائل انٹرنیٹ سروس بھی بحال ہونا شروع ہو گئی۔

    تاہم راولاکوٹ، باغ، کوٹلی اور سدھنوتی سمیت دیگر اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی بحالی تاحال نہیں ہو سکی دوسری جانب کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے ضلع راولاکوٹ میں پانچ جون سے احتجاجی دھرنا دیے ہوئے ہے جو تاحال جاری ہے۔

    موبائل انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو آن لائن رابطوں معلومات تک رسائی اور روزمرہ کے ڈیجیٹل امور میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

  17. صدر میخواں نے فرانس کے وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا

    فرانس کے صدر ایمانویل میخواں نے ملک میں حالیہ پرتشدد بدامنی کے بعد وزیرِ داخلہ لوراں نونیز کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    میخواں نے کہا ہے کہ لوراں نونیز کو اپنے عہدے پر برقرار رہنا چاہیے اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد نئی حکمتِ عملی اور اقدامات پیش کرنے چاہیں۔

    فرانسیسی صدر نے تشدد کے واقعات کا ذمہ دار سکیورٹی اداروں کی منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے میں ناکامی کو قرار دیا۔

    یہ بدامنی ملک بھر میں زندگی گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت اور عوامی خدمات کی بگڑتی صورتحال کے خلاف ہونے والے وسیع احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آئی۔

    میخواں نے اتوار کو اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں ایک بار پھر خبردار کیا کہ تشدد میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ جائز مطالبات رکھنے والے مظاہرین اور توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والے افراد کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔

    فرانس کے وزیرِ اعظم سیباستیاں لیکورنو آج ہفتے اور اتوار کو ملک بھر میں ہونے والی بدامنی اور تشدد کے واقعات پر غور کے لیے ہنگامی کابینہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    یہ اجلاس مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے شروع ہونے کی توقع ہے، جس میں تشدد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، معیشت، انشورنس کے معاملات اور امن و امان سے متعلق امور کا جائزہ لیا جائے گا۔

    دوسری جانب، ملک بھر کے میئرز کا ایک گروپ دوپہر کے وقت مختلف ٹاؤن ہالز کے باہر جمع ہوگا تاکہ ان کے بقول ’جمہوری اداروں پر سنگین حملوں‘ کی مذمت کی جا سکے۔

    گذشتہ ہفتے کے آخر میں فرانس کے مختلف شہروں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے بعد حکومت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیرِ داخلہ لوراں نونیز سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں کے دفتر کے مطابق، لوراں نونیز نے اتوار کو استعفیٰ دینے کی کوشش کی تھی، تاہم صدر نے انھیں عہدے پر برقرار رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ موجودہ صورتحال میں مسلسل قیادت کی ضرورت ہے۔

  18. اسرائیل سے آسٹریا جانے والی پرواز کو بم کی دھمکی کے بعد بلغاریہ موڑ دیا گیا

    آسٹرین ایئرلائنز کی ایک پرواز

    اسرائیل سے آسٹریا جانے والی آسٹرین ایئرلائنز کی ایک پرواز کو مبینہ بم کی دھمکی موصول ہونے کے بعد بلغاریہ کا رخ کرنا پڑا۔

    بلغاریہ کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق ایئربس A320 طیارہ اتوار کی شب تل ابیب سے ویانا جا رہا تھا، تاہم ہنگامی صورتحال کے باعث اسے صوفیا میں اتار لیا گیا، جہاں مسافروں کو بحفاظت طیارے سے نکال لیا گیا۔

    وزارت کے بیان کے مطابق بلغاریہ کی فضائیہ نے طیارے کی نگرانی اور حفاظت کے لیے ایک مگ-29 لڑاکا طیارہ بھی روانہ کیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    بلغاریہ اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق طیارے کے بارے میں بم کی دھمکی دی گئی تھی، جبکہ آسٹرین ایئرلائنز نے بھی دھمکی موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    اے ایف پی کے مطابق ایئرلائن کے ترجمان نے بتایا کہ طیارے میں 51 مسافر اور عملے کے 6 ارکان سوار تھے۔

    دھمکی موصول ہونے کے تقریباً 30 منٹ بعد صوفیا میں لینڈنگ کے فوراً بعد طیارے کی مکمل سکیورٹی تلاشی لی گئی۔ اس وقت طیارہ رومانیہ کی فضائی حدود میں تھا جب اسے صوفیا کی جانب موڑ دیا گیا۔

    فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق آسٹرین ایئرلائنز کی پرواز 82 اتوار کی شام تل ابیب کے بین گوریون ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی تھی اور تقریباً تین گھنٹے بعد صوفیا کے واسیل لیوسکی ایئرپورٹ پر اتری۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گذشتہ ماہ تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز میں ایک پائلٹ نے کپتان پر حملہ کر کے طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم عملے اور مسافروں نے اسے قابو کر لیا تھا اور طیارہ بحفاظت سعودی عرب میں اتار لیا گیا تھا۔

    گذشتہ ہفتے بھی یونان کے جزیرے کورفو سے جرمنی کے شہر نیورمبرگ جانے والی ایک تجارتی پرواز سے غلطی سے ہائی جیکنگ کا الرٹ جاری ہونے پر کروشیا اور جرمنی نے اپنے لڑاکا طیارے روانہ کیے تھے۔

  19. حالیہ دنوں میں سائبر حملوں میں اضافہ ہوا ہے:ایران کی وزارتِ مواصلات کے معاون

    سائبر حملوں

    ایران کی وزارتِ مواصلات کے معاون اور کمپنی ارتباطاتِ زیرساخت کے چیف ایگزیکٹو بہزاد اکبری کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران ایران پر سائبر حملوں میں ’نمایاں اضافہ‘ دیکھا گیا ہے۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں ایران کے سرکاری اداروں، نجی کمپنیوں اور آن لائن کاروباروں کو خبردار کرتے ہوئے لکھا کہ ’گذشتہ دو دنوں کے دوران ملک کے مواصلاتی نیٹ ورکس اور بنیادی ڈھانچے کے خلاف ڈی ڈی او ایس (DDoS) حملوں کی شدت اور تکرار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔‘

    اکبری کے مطابق ان حملوں کا بڑا حصہ ملک کے اندر اور باہر موجود دفاعی نظاموں کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا اور نیٹ ورک کا استحکام برقرار رکھا گیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’تنظیمیں، آن لائن کاروبار، ڈیٹا سینٹرز اور ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے والے ادارے سکیورٹی نگرانی میں اضافہ کریں اور اپنے حفاظتی نظاموں کی تیاری اور دفاعی ترتیبات کو مزید مضبوط بنائیں۔‘

    وزارتِ مواصلات کے معاون کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان لفظی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کے بارے میں رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔

  20. روس پر بعض پابندیوں کی معطلی کا مقصد ماسکو کو مذاکرات میں شامل رکھنا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس پر بعض پابندیوں کو معطل کرنے کا ان کا فیصلہ ماسکو کو امن مذاکرات کے عمل میں شامل رکھنے کے لیے کیا گیا۔

    ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہا ہوں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’کسی غیر دانشمندانہ اقدام کے ذریعے روس کو مذاکرات کی میز سے دور نہیں کرنا چاہتے۔‘

    ٹرمپ نے جمعے کی شام، روس کے خلاف نئی پابندیوں کے ایک پیکیج کے نافذ ہونے سے صرف دو دن قبل، ان پابندیوں پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

    یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب ان کے اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان اختلافات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب زیلنسکی نے اتوار کو این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرنا ’ایک تاریخی غلطی‘ ہوگی۔