لائیو, مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: چین اور پاکستان مذاکرات کے حامی، امن کی بحالی کے لیے پانچ نکات پیش کر دیے
پاکستان کے دفتر خارجہ نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ دونوں ممالک نے امن مذاکرات فوری شروع کرنے، شہریوں اور غیر فوجی مقامات کا تحفظ یقینی بنانے سمیت پانچ نکاتی اقدامات تجویز کیے ہیں۔
خلاصہ
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران ٹرمپ کے ساتھ کسی معاہدے پر راضی نہ ہوا تو ’مزید شدت سے‘ کارروائیاں کریں گے۔
امریکی صدر نے برطانیہ کو ’خود آبنائے ہرمز سے تیل لانے‘ کا مشورہ دیا ہے اور اسرائیل کے لیے عسکری امداد پہنچانے والے طیاروں کو فضائی حدود سے نہ گزرنے دینے پر فرانس پر تنقید کی ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ چار اسرائیلی فوجی لبنان میں ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ دو ایسے واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں اقوام متحدہ کے اہلکار ’ہلاک ہوئے۔‘
کویت کا کہنا ہے کہ ایران نے دبئی کی ایک بندرگاہ پر لنگر انداز اس کے ایک بڑے خام تیل کے ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔
لائیو کوریج
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ایران میں ہلاک پاکستانی شہری کی میت پاکستان کے حوالے کر دی گئی, محمد کاظم، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہYasir Khan TikTok
امریکہ اور
اسرائیل کے حملوں سے ایران میں ہلاک ہونے والے پاکستانی شہری یاسر خان کی لاش
بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان میں پاکستانی
حکام کے حوالے کردی گئی۔
یاسر خان چند روز قبل ایران کے شہر بندرعباس میں
ہونے والے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
چاغی میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے تصدیق
کی کہ یاسر شاہ کی لاش تفتان میں ایرانی حکام نے پاکستانی حکام کے حوالے کی۔
اہلکار
کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے قانونی کارروائی مکمل کر کے لاش ورثاء کے حوالے
کر دی۔
آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے کا سب سے ممکنہ راستہ اب بھی مذاکرات ہی ہے, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک معروف
محاورے کا حوالہ دیا جائے تو ’تمام پتے‘ ایران کے ہاتھ میں ہیں۔
باوجود اس کے کہ ایران کے پاس روایتی
بحریہ اب موجود نہیں رہی اور اس کی بحریہ کے سربراہ بھی ہلاک کیے جا چکے ہیں، تاہم
ایک چیز ایسی ہے جو ایران سے چھینی نہیں جا سکتی؛ اس کا جغرافیہ۔
سٹریٹیجک طور پر اس انتہائی اہم سمندری
راستے کے ساتھ ایران کا صوبہ ہرمزگان واقع ہے۔ یہ صوبہ مشرق میں خلیجِ عمان سے لے
کر مغرب میں عسلویہ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں اسرائیل
نے ایران کی پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیا تھا۔
خلیج کے تمام ممالک میں سب سے طویل
ساحل ایران کے پاس ہے۔ اس کے ساتھ قشم، لارک، ہرمز اور ابو موسیٰ سمیت متعدد جزائر
موجود ہیں۔
ایران چاہے تو ان میں سے کسی بھی
جزیرے کو ڈرون حملے کرنے، سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے یا بحری جہازوں سے ٹکرا
کر پھٹ جانے والی کشتیوں کے حملے کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
ماضی میں ہرمزگان اور اس سے ملحقہ
جزائر کے اپنے دوروں کے دوران میں نے دیکھا کہ اس سر زمین کی ساخت دفاع کے لیے کس
قدر موزوں ہے۔ یہ چٹانی، پہاڑی علاقہ ہے جس میں بے شمار غار، سرنگیں اور قدرتی
پناہ گاہیں موجود ہیں۔
امریکہ ہر ایک میزائل اور ڈرون لانچ
سائٹ کو تباہ کر دے، یہاں تک کہ اپنے فوجی بھی اس سر زمین پر اتار کر ’یہ بات
یقینی بنا لے کہ کام مکمل ہو گیا ہے،‘ اس کے باوجود ایران اپنے ہتھیاروں کا ذخیرہ دوبارہ بنا لے گا،
غالباً چین اور روس کی مدد سے۔
اسی
لیے، آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے کا سب سے ممکنہ راستہ مذاکرات ہی ہے۔
لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد 1268 تک پہنچ گئی: سرکاری میڈیا
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے
مطابق دو مارچ سے اب تک لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1268 تک پہنچ گئی
ہے۔
ملک کی وزارت صحت کے حوالے سے یہ بھی
بتایا گیا ہے کہ اسی مدت میں 3750 افراد زخمی ہوئے۔
جنگ کے آغاز سے اسرائیل بیروت اور
جنوبی لبنان میں مسلسل حملے کر رہا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ سے
منسلک مقامات کو ہدف بناتا ہے، جو کہ ایران کا حمایت یافتہ گروہ ہے۔
زمینی
کارروائی کے آغاز کے بعد سے اسرائیل نے لبنان میں اپنے نو فوجیوں کی ہلاکت کی
اطلاع دی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں تہران کے اندر 230 اہداف کو نشانہ بنایا: اسرائیل کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہMajid Saeedi/Getty Images
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس
نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران میں ’حکومت کے‘ 230 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
فوج
کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف فضائی دفاعی نظام، بیلسٹک میزائل لانچرز اور ہتھیار
تیار کرنے کی تنصیبات تھیں۔
مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان اور چین کے پانچ نکات
،تصویر کا ذریعہForeign Office
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی
بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کے بعد دفتر خارجہ نے اس کی
تفصیلات جاری کی ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری
بیان کے مطابق 31 مارچ کو اسحاق ڈار اور وانگ ژی کی ملاقات کے دوران خلیج اور مشرق
وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں
کہا گیا ہے خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے دونوں ممالک نے یہ پانچ نکاتی
اقدامات تجویز کیے ہیں۔
کشیدگی کا فوری خاتمہ کیا جائے اور جنگ
سے متاثرہ تمام علاقوں تک انسانی بنیادوں پر امداد کی بلا تعطل رسائی یقینی بنائی
جائے۔
امن مذاکرات فوری طور پر شروع کیے
جائیں کیوں کہ گفت و شنید اور سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کا واحد قابل عمل راستہ
ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اور خلیج کی ریاستوں کی خود مختاری، علاقائی سالمیت،
قومی آزادی اور سکیورٹی یقنی بنائے جائے۔ تمام فریق تنازعات کا پر امن حل تلاش
کریں اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں۔
شہریوں اور غیر
فوجی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ توانائی کے مراکز، پانی کو قابل استعمال بنانے والے مراکز اور پر امن
مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی جوہری تنصیبات پر حملے روکے جائیں۔
بحری گزر گاہوں کی حفاظت کی جائے۔ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں
اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے، سول اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال
ہونے والے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ دیا جائے اور آبنائے ہرمز میں معمول کی آمد
و رفت جلد از جلد بحال کی جائے۔
اقوام متحدہ کے
تحت جامع امن کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دیا جائے۔
ایران ٹرمپ کے ساتھ کسی معاہدے پر راضی نہ ہوا تو ’مزید شدت سے‘ کارروائیاں کریں گے: پیٹ ہیگسیتھ
،تصویر کا ذریعہWin McNamee/Getty Images
امریکی وزیر دفاع
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ اگر ایران امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی معاہدے پر رضا
مند نہ ہوا تو امریکی فوج ’مزید شدت سے‘ کارروائیاں جاری رکھے گی۔
پینٹاگون میں پریس
کانفرنس کے دوران امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران میں حکومت تبدیل ہو چکی ہے اور
ملک کی نئی قیادت کو چاہیے کہ وہ ’پچھلی قیادت سے زیادہ سمجھ دار‘ ہو۔
پیٹ ہیگسیتھ کے
بعد امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف ڈین کین نے بھی بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ
امریکی نیوی نے 150 سے زیادہ بحری جہازوں کو تباہ کر دیا ہے اور امریکی بی 52
بمبار طیاروں کے مشن بھی شروع ہو چکے ہیں۔
ایرانی فوج کا مورال ختم ہو رہا ہے: امریکی وزیر دفاع
،تصویر کا ذریعہWin McNamee/Getty Images
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا
ہے کہ حملے کرنے کے لیے امریکہ کی طاقت بڑھ رہی ہے جبکہ ایران کی کم ہو رہی ہے اور
’صدر ٹرمپ وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو کرنے کی کسی دوسرے صدر میں ہمت نہیں تھی۔‘
پینٹاگون میں پریس کانفرنس کے دوران
امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے داغے جانے
والے میزائلوں کی تعداد سب سے کم رہی۔
انھوں نے کہا کہ ’ایرانی فوج کا
مورال ختم ہو رہا ہے جس کی وجہ سے فوجی بھاگ رہے ہیں اور عسکری قیادت میں مایوسی پائی
جاتی ہے۔‘
امریکی وزیر دفاع نے بتایا کہ ہفتے
کے آخر میں وہ ان فوجیوں سے ملے جو عسکری کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
پیٹ
ہیگسیتھ کے مطابق امریکی فوج حوصلے میں ہے، اس کی اپنے مشن پر مکمل توجہ ہے اور وہ
کام کو ’جلد‘ ختم کرنا چاہتی ہے۔
آپ نے ہماری مدد نہیں کی، آبنائے ہرمز جا کر اپنا تیل خود لے آئیں: امریکی صدر برطانیہ اور فرانس سے ناراض
،تصویر کا ذریعہNathan Howard/Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ
’برطانیہ جیسے ممالک‘ جو آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے جیٹ فیول حاصل نہیں کر پا
رہے، انھیں چاہیے کہ ’خود میں ہمت پیدا کریں، آبنائے ہرمز جائیں اور بس تیل لے
آئیں۔‘
انھوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ
’امریکہ سے تیل خرید لیں کیونکہ ہمارے پاس بہت زیادہ ہے۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر
پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ ملکوں کو ’سیکھنا پڑے گا کہ اپنی
خاطر لڑائی کیسے لڑی جاتی ہے۔ امریکہ اب آپ کی مدد کو نہیں آئے گا، بالکل ویسے
ہی جیسے آپ ہمارے لیے نہیں آئے تھے۔‘
ٹرمپ کے مخاطب وہ ممالک تھے جنھوں نے
ایران کے خلاف کی جانے والی امریکی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کیا۔
امریکی صدر کی پوسٹ میں مزید کہا
گیا: ’ایران بنیادی طور پر تباہ ہو چکا ہے، یہ مشکل کام اب ختم ہو گیا ہے۔‘
پوسٹ کا اختتام ان الفاظ پر ہوا:
’جا کر اپنا تیل خود لے آئیں!‘
،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump
ٹروتھ سوشل کی ایک اور پوسٹ میں امریکی صدر نے فرانس کے خلاف بھی اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔
انھوں نے لکھا: ’فرانس نے اسرائیل کے لیے عسکری سامان لے جانے والے طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی۔‘
ٹرمپ نے ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت میں کردار ادا نہ کرنے پر بھی فرانس سے شکوہ کیا اور لکھا: ’فرانس بہت غیر مدد گار رہا، امریکہ یہ بات یاد رکھے گا۔‘
پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ایران پر مذاکرات ’دفاعی اتحاد‘ کے ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ترک میڈیا, بی بی سی مانیٹرنگ
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ترکی میں حکومت کے حامی اخبار ترکیہ نے
کہا ہے کہ اسلام آباد میں ایران جنگ پر ہونے والی حالیہ بات چیت سے اس بات کا
اشارہ ملتا ہے کہ ترکی، پاکستان، سعودی عرب اور مصر ایک ’دفاعی اتحاد‘ بنانے جا
رہے ہیں۔
31 مارچ کی اپنی رپورٹ میں اخبار نے کہا
کہ چار ممالک کے نمائندوں کے اجلاس کا محور ایران کی جنگ، اس کے اثرات اور ممالک
کے درمیان ممکنہ عسکری ہم آہنگی تھا۔
رپورٹ نے ایک نا معلوم ترک اہلکار کے
حوالے سے کہا: ’امریکہ اور یورپ کی اسلامی دنیا اور
مشرق وسطیٰ میں سٹریٹجک پوزیشننگ، جس کا واحد مقصد اسرائیل کی حفاظت ہے، عالمی
استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ حالیہ اجلاس میں سکیورٹی اور استحکام کے نئے
تصورات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔‘
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں کئی
اصولی فیصلے کیے گئے اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ اگلا اجلاس ترکی میں ہوگا، تاہم
مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔
تجزیہ کار احمت خان کے حوالے سے کہا
گیا کہ ترکی اور پاکستان کے اتحاد میں مصر اور سعودی عرب کی شمولیت سے پیغام ملتا
ہے کہ اسلامی دنیا کے فیصلے ’اب ہم خود کریں گے۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ: ’چار مسلم
ممالک کے درمیان قائم ہونے والا 'دفاعی اتحاد' اتحادیوں کے لیے اعتماد کا باعث ہے
جبکہ اسرائیلی میڈیا نے اس پیشرفت کو ’اسرائیل کے لیے انتہائی خطرناک‘ قرار دیا
ہے۔‘
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے ایک
تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا: ’ایران
کمزور ہوا ہے، ترکی مضبوط ہوا ہے۔ پاکستان سمٹ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقائی
مسلم قیادت کے لیے ترکی اب بھی سب سے مضبوط امیدوار ہے۔ بلا شبہ ترک عوام کی نظر
میں اسرائیل کو ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔‘
ترکی کے میڈیا میں وقتاً فوقتاً مسلم
اکثریتی ممالک کے درمیان نیٹو طرز کا ایک اتحاد بنانے کا خیال پیش کیا جاتا رہا ہے
تاکہ خطے کے سکیورٹی مسائل حل کیے جا سکیں۔
رپورٹ
کے مصنف یلماز بلگن علاقائی معاملات پر عموماً سخت گیر ترک قوم پرست مؤقف رکھتے
ہیں۔ اگرچہ وہ شام کی زمینی صورتحال پر رپورٹس بھی دیتے رہے ہیں لیکن ان کی
رپورٹنگ میں اکثر غیر مصدقہ معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ: سعودی ولی عہد کی قطر اور اردن کے رہنماؤں سے ملاقات, بی بی سی مانیٹرنگ
،تصویر کا ذریعہX/SPA
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق سعودی ولی عہد نے 30 مارچ کو جدہ میں قطر کے امیر اور اردن
کے بادشاہ سے ایران کے خلاف جاری جنگ پر گفتگو کی۔
ایس پی اے کے مطابق تینوں رہنماؤں نے
خبردار کیا کہ خلیجی ریاستوں اور اردن پر ایران کے مسلسل حملے کشیدگی میں
’خطرناک حد تک اضافہ‘ کر رہے ہیں۔
انھوں نے تہران کی جانب سے شہریوں اور اہم تنصیبات
پر حملوں کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو
سکتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق رہنماؤں نے بین
الاقوامی بحری گزرگاہوں کی آزادی، توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت کو لاحق
خطرات پر بھی گفتگو کی۔
یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب
ایران خلیجی ممالک میں اہداف پر مسلسل میزائل اور ڈرون برسا رہا ہے۔
30 مارچ
کو سعودی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کی فورسز نے پانچ بیلسٹک میزائلوں اور کم از کم
سات ڈرونز کو روکا۔
گذشتہ ہفتے سعودی حکام نے ان رپورٹس
کی تردید کی تھی کہ ریاض ایران کے ساتھ جنگ کو طول دینا چاہتا ہے اور کہا تھا کہ
سعودی عرب کشیدگی کم کرنے کا حامی ہے۔
28 مارچ کو یمن کی ایران نواز حوثی
تحریک بھی اس تنازع میں شامل ہو گئی، جس سے بحیرہ احمر کے راستے ہونے والی بحری
تجارت میں بھی خلل پیدا ہونے اور توانائی کی عالمی فراہمی کو مزید خطرات لاحق ہونے
کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے خطے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیل
،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے
بعد سے خطے میں ہلاکتوں کی تعداد
مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ایران: امریکہ
میں قائم تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس اِن ایران کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک تین ہزار 492 افراد ہلاک ہو
چکے ہیں۔ ان میں کم از کم 236 بچوں سمیت 1574 عام شہری شامل ہیں۔
اسرائیل: اسرائیل
کی ایمبولینس سروس ماگن ڈیوڈ ایڈوم (ایم ڈی اے) کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک
میزائل حملوں سے 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق نو اسرائیلی
فوجی لبنان میں ہلاک ہوئے ہیں۔
لبنان: لبنان کی
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک 124 بچوں سمیت 1247 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
خلیج: اب تک خلیجی خطے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے
ہیں، جن میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار یا غیر ملکی کارکن شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے 11، کویت نے سات جبکہ عمان، سعودی عرب اور بحرین نے دو،
دو ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔
دبئی میں نشانہ بننے والے آئل ٹینکر کو آگ لگنے سے نقصان
،تصویر کا ذریعہReuters
دبئی میں لنگر انداز ایک آئل ٹینکر
پر مبینہ حملے کے بعد اب اس کی تصاویر سامنے آ گئی ہیں۔
کویتی پرچم بردار آئل ٹینکر السامی 20 لاکھ
بیرل تیل لے کر چین کی جانب جا رہا تھا جب حملے کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
دبئی
میڈیا آفس کے مطابق کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی تیل کا اخراج
ہوا۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر حملے جاری، متعدد افراد زخمی
خلیجی ممالک میں رات بھر ہونے والے
حملوں کے بعد متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
میڈیا آفس کے مطابق دبئی میں حملے
روکے جانے کے نتیجے میں شہر کے جنوبی حصے کے رہائشی مکانات پر ملبہ گرا، جس سے چار
ایشیائی افراد زخمی ہوئے۔
اس سے پہلے صبح دھماکے رپورٹ کیے گئے
اور لوگوں کو پناہ لینے کی ہدایت کی گئی۔
جنرل
ڈائریکٹوریٹ آف سعودی سول ڈیفنس کے مطابق، سعودی عرب کے علاقے الخرج میں ڈرون کے
ٹکڑے گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے جبکہ متعدد گاڑیوں اور تین گھروں کو نقصان پہنچا۔
ٹرمپ کے بیانات تیل کی قیمتوں کو کیسے اوپر نیچے کر رہے ہیں؟, جیما کریئو، ٹومی لیمبیئانڈ اور نیٹلی شرمین
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے ایک ماہ بعد
بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کس بنیاد پر جنگ سے متعلق فیصلے کر رہے
ہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ اُن کی نظر تیل کی منڈی پر ضرور ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد ابتدائی دنوں میں امریکی صدر کے
ایک بیان یا سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد تیل کی قیمتوں میں بڑی تبدیلی آتی تھی کیونکہ سرمایہ
کار اُن کی سوشل میڈیا پوسٹس سے اس بات کے اشارے تلاش کرتے تھے کہ آیا مستقبل قریب
میں تنازع بڑھ سکتا ہے یا ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں سرمایہ کاروں نے اُن
کے بیانات کی ساکھ پر بھی شکوک و شبہات ظاہر کرنا شروع کر دیے ہیں۔
28 فروری
(ایران پر حملے کا دن) سے پہلے تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔ نو مارچ کو
یہ قیمت 119.50 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی اور منگل (آج) کے روز یہ 113 ڈالر سے کچھ کم ہے۔
گذشتہ ایک ماہ کے دوران ٹرمپ اور تیل کی عالمی منڈی
کے درمیان کئی مواقع پر ردعمل دیکھنے کو ملا:
9
مارچ: ٹرمپ نے امید دلائی کہ جنگ طویل نہیں
ہو گی، چنانچہ ان کے اس بیان کے بعد تیل کی قیمت90 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا
13-16
مارچ: ٹرمپ کے ایران سے متعلق متعلق بیانات کا کوئی فوری اثر نہیں ہوا
20
مارچ: ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اشارہ دیا کہ
جنگ اختتام کے قریب ہے
23
مارچ: ٹرمپ کے مثبت دعووں کے چند منٹ بعد ہی
تیل کی قیمت 13 فیصد گر گئی
25-27
مارچ: امن مذاکرات مشکوک ہونے پر تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر انرجی کی قیمتیں وسیع تر جغرافیائی اور معاشی خطرات کی علامت بن گئی ہیں۔ کوئلٹر شیویٹ کے انویسٹمنٹ مینیجر جوناتھن ریمونڈ کہتے ہیں کہ جب ٹرمپ کی زبان جارحانہ ہوتی ہے تو قیمتیں بڑھتی ہیں اور جب وہ نرم لہجہ اختیار کرتے ہیں تو قیمتیں کم ہو جاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار حقیقی غیر یقینی صورتحال کو قیمت میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’مارکیٹ بظاہر غیر مستحکم یا الجھی ہوئی لگتی ہے، لیکن اصل میں وہ حقیقی وقت میں خطرات کو سنبھال رہی ہے، اور تیل اس کے مرکز میں ہے۔‘
بہنسن گروپ کے برائن سزیٹل کے مطابق بعض اوقات ٹرمپ کے بیانات پالیسی کے بجائے تیل کی قیمتوں کو متاثر کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ’جیسا کہ کہا جاتا ہے، جنگ کا پہلا شکار سچائی ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ مذاکرات کے بارے میں مثبت یا منفی بیانات زیادہ تر تیل کی قیمت کو اوپر نیچے کرنے کے لیے ہیں۔‘
جمعرات کو، جب امریکی سٹاک مارکیٹ نے ایران جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی گراوٹ دیکھی، تو ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’بہت اچھے‘ جا رہے ہیں اور انھوں نے ایران کی توانائی کے ڈھانچے پر حملے چھ اپریل تک مؤخر کر دیے ہیں۔ لیکن اس اعلان کے باوجود تیل کی قیمت پھر بھی بڑھتی رہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریبو بینک کی جین فولی کے مطابق جنگ کے طوالت کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کا ردعمل ’زیادہ محتاط‘ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ٹرمپ کی یقین دہانیوں اور ایران کی خاموشی کے درمیان ’بڑا خلا‘ موجود ہے۔ ’بہت سے سرمایہ کار تنازع کے جلد خاتمے کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں اور مارکیٹ اور سرمایہ کار بدستور پریشان ہے۔‘
اے جے بیل کے رس مولڈ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ ٹرمپ کے اس رویے کی عادی ہو گئی ہے کہ وہ سیاسی یا معاشی دباؤ کے وقت اکثر اپنی حکمتِ عملی بدل لیتے ہیں۔ ’اب شکوک و شبہات، بلکہ کھلی بدگمانی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔‘
آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے: سابق امریکی نیول کمانڈر
سابق امریکی نیول کمانڈر ٹام شارپ کا کہنا ہے کہ وہ
نہیں سمجھتے کہ آبنائے ہرمز، جو دنیا کے سب سے مصروف آبی گُزر گاہ ہے کو طاقت کے
ذریعے کھولا جا سکتا ہے جیسا کہ امریکہ دھمکی دے رہا ہے۔
شارپ نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ’ٹوڈے‘ سے
بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب تک ایران ان کشتیوں پر حملے بند کرنے پر رضامند نہیں
ہوتا جو اس راستے سے گزر رہی ہیں، طاقت استعمال کرنا ’ممکنہ طور پر کامیاب‘ ثابت نہیں
ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے پاس اس صورتحال کا
کنٹرول ہے یہ بات واضح ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ آگے بھی ایسا ہی کرتے رہیں گے
اور یہ ان کے مفاد میں نہیں کہ وہ اسے سے پیچھے ہٹ جائیں۔‘
شارپ نے یہ بھی کہا کہ سب کچھ ایران پر منحصر ہے کہ
وہ اگلے چند ہفتوں یا مہینوں میں کیا فیصلہ کرتا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کی زیر صدارت ’جنگ کے معاشی اثرات‘ پر ہنگامی اجلاس آج ہوگا
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر آج مشرقِ وسطیٰ کی
جنگ کے معاشی اثرات پر غور کے حوالے سے کوبرا اجلاس کی صدارت کریں۔
وزیرِاعظم نے پیر کے روز کہا کہ اس اجلاس میں ’اس
بات کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے گی کہ جو کچھ بھی ضروری ہے وہ اپنی جگہ موجود
ہو اور ہر چیز کی مناسب نگرانی اور جانچ پڑتال ہو۔‘
یہ اجلاس اس ملاقات کے بعد ہو رہا ہے جس میں انھوں
نے گزشتہ روز ڈاؤننگ سٹریٹ میں توانائی، شپنگ اور بینکاری کے شعبوں کے سربراہان سے
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی جاری ناکہ بندی پر بات چیت کی۔
سٹارمر نے کاروباری رہنماؤں سے کہا کہ جنگ کے اثرات
سے نمٹنے کے لیے یہ ایک ’مشترکہ کوشش‘ ہونی چاہیے، کیونکہ حکومت ’اکیلے یہ کام
نہیں کر سکتی۔‘
کوبرا ایک ایسا فورم ہے جہاں سینئر برطانوی وزراء
اور حکام دارالحکومت میں جمع ہو کر کسی بحران کے دوران ہنگامی اقدامات اور فیصلے
کرتے ہیں۔
صحافیوں کو اس اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں ہوتی،
تاہم جیسے ہی اس اجلاس کے حوالے سے معلامات میسر ہوں گی بی بی سی اپنے سامعین اور
قارعین تک انھیں لے کر آئے گا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامدادی کارکن 31 مارچ 2026 کو اسرائیل کے شہر پتاح تکوا میں ایک ایرانی میزائل حملے کے باعث تباہ ہونے والی گاڑیوں اور عمارتوں کے قریب امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنتہران میں امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد تباہ شدہ عمارت کے مناظر
دبئی میں نشانہ بننے والا کویتی آئل ٹینکر 20 لاکھ بیرل تیل چین لے جا رہا تھا, جوشوا چیتھم، بی بی سی ویریفائی
میری ٹائم انٹیلیجنس کمپنی وینگارڈ کے مطابق رات کے
دوران کویت کے پرچم بردار ٹینکر ’السلمی‘ کو متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک
’نامعلوم پروجیکٹائل‘ نے نشانہ بنایا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ جہاز میں لگی آگ پر قابو پا
لیا گیا ہے، تمام عملہ محفوظ ہے اور جہاز سے تیل کے رساؤ کی بھی اطلاعات نہیں ہیں۔
دبئی حکام نے بھی ان تفصیلات کی تصدیق کی ہے تاہم
روایت کے مطابق انھوں نے جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا۔
سنہ2011 میں تیار ہونے والا ’السلمی‘ سرکاری ملکیت والی کویت آئل ٹینکر کمپنی
کی ملکیت میں ہے۔ اس حوالے سے کمپنی سے رابطہ بھی کیا گیا ہے۔
ایک اور میری ٹائم انٹیلیجنس فرم ’ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ
کام‘ کے مطابق جہاز پر تقریباً 12 لاکھ بیرل سعودی خام تیل اور آٹھ لاکھ بیرل
کویتی خام تیل موجود ہے اور گزشتہ ماہ اس پر یہ تیل لادا گیا تھا۔
میرین ٹریفک کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق یہ ٹینکر چین
کے شہر چنگ ڈاؤ کی جانب جا رہا تھا جس وقت اس پر حملہ ہوا۔
،تصویر کا ذریعہMarineTraffic
اسرائیلی فوج کا لبنان کے علاقے بقاع میں کئی دیہات خالی کرنے کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج نے آج صبح جنوبی لبنان کے اُن دیہات
کے رہائشیوں کو ایک نیا انتباہ جاری کیا جو دریائے الزہرانی کے جنوب میں واقع ہیں
اور انھیں دریا کے شمالی علاقوں کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج کے ترجمان آویخائے ادرعی
مارچ کے وسط میں بھی اسی نوعیت کے انتباہ جاری کر چکے ہیں۔
دریائے لیتانی اور الزہرانی کے درمیان علاقوں کو
خالی کرنے کے حکم کے بعد، میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک جنوبی لبنان کے کم از کم 10
فیصد رقبے کو خالی کرنے کے لیے کہا جا چکا ہے۔
اسرائیلی فوج نے رات کے وقت بقاع الغربی کے مزید چھ
دیہات زلایا، لبایا، یحمر، سحمر، قلایا اور دلافی کو خالی کرنے کی وارنگ بھی جاری کی،
جس کے باعث ان دیہات کے مکین بارش میں رات کے وقت نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, دبئی میں دھماکوں کی آوازیں، شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی کی دبئی میں موجود نامہ نگار لورنا گورڈن
کے مطابق گزشتہ چند منٹوں میں دبئی میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ دبئی میں حکام کا کہنا ہے کہ ان
کا فضائی دفاعی نظام اس وقت میزائل حملوں کا جواب دے رہا ہے۔
نامہ نگار لورنا گورڈن نے کہا کہ حملے کے آغاز پر
ہمیں اور دبئی میں موجود تمام افراد کو فونز پر سرکاری الرٹس موصول ہوئے، جن میں
ہدایت دی گئی کہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور وہیں رہیں۔
یہ الرٹس جو دیگر خلیجی ممالک میں بھی بھیجے جاتے
ہیں عموماً دن کے مقابلے میں رات کے وقت زیادہ آتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے حکام
کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا جاتا ہے۔
بریکنگ, متحدہ عرب امارات پر ایران کے حملے جاری ہیں: وزارتِ دفاع
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اس وقت متحدہ عرب امارات پر میزائلوں اور ڈرونز کے
ذریعے حملے کر رہا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں
سنائی دینے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل بیلسٹک، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو
روکنے یعنی انٹرسیپٹ کرنے کے حوالے سے کی جانے والی کارروائیوں کی ہیں۔