زیلنسکی کا پوتن کو کھلا خط، بالمشافہ مذاکرات کی پیشکش
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ایک کھلے خط میں بالمشافہ ملاقات کی پیشکش کی ہے، جسے وہ جنگ کے خاتمے کی جانب ایک نئی کوشش قرار دیتے ہیں۔
اپنے خط میں زیلنسکی نے کہا کہ یورپ میں جاری جنگ کے حوالے سے یہ انتظار کرنا ’غلط‘ ہوگا کہ وہ دوبارہ امریکہ کی توجہ کا مرکز بنے۔ ان کے مطابق امن صرف روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
انھوں نے مجوزہ مذاکرات کے دوران مکمل جنگ بندی کی تجویز بھی پیش کی، جسے پوتن اس سے قبل مسترد کر چکے ہیں۔
کریملن نے تصدیق کی ہے کہ اسے زیلنسکی کا خط موصول ہو چکا ہے، جبکہ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر ماسکو آ کر کسی بھی وقت روسی قیادت سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
زیلنسکی نے خط میں لکھا: ’یوکرین اس جنگ کو ہمارے اور آپ کے درمیان براہِ راست مکالمے کے ذریعے ختم کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ میں ملاقات کی پیشکش کرتا ہوں۔‘
یوکرینی صدر نے یہ بھی عندیہ دیا کہ یہ ملاقات سوئٹزرلینڈ یا ترکی جیسے کسی تیسرے ملک میں بھی ہو سکتی ہے۔
خط میں سخت جملے بھی تحریر کیے گئے ہیں ہیں جن میں زیلنسکی نے حالیہ یوکرینی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے روسی قیادت پر تنقید کی اور کہا کہ جنگ دونوں ممالک پر بوجھ بن چکی ہے۔
ادھر روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے ساتھ معاہدے کے لیے ’تیار اور آمادہ‘ ہیں، تاہم اس کے لیے دونوں فریقوں کو سمجھوتے کرنا ہوں گے۔
روس کا مؤقف ہے کہ یوکرین کو ڈونیٹسک، لوہانسک، خیرسون اور زاپوریزیا جیسے علاقوں سے دستبردار ہونا اور نیٹو میں شمولیت کی کوششیں ترک کرنا ہوں گی، جسے یوکرین مسترد کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ممکنہ ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت اچھا ہوگا اگر دونوں رہنما ملیں‘ اور انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یوکرین اور روس کے درمیان حالیہ مہینوں میں جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ جنیوا، استنبول اور ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو چکے ہیں۔