آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, محسن نقوی کی اپنے ایرانی ہم منصب سے 24 گھنٹے میں دوسری ملاقات: ’جنگ نہیں چاہتے مگر اپنے دفاع میں بھرپور جواب دیں گے،‘ ایران

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم اگر اس پر کوئی جارحیت مسلط کی گئی تو وہ اپنے دفاع میں بھرپور جواب دے گا۔ دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ نے ملاقات میں خطے کے امن کے لیے سفارتی کوششوں کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے۔

خلاصہ

  • عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم اگر اس پر کوئی جارحیت مسلط کی گئی تو وہ اپنے دفاع میں بھرپور جواب دے گا
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کے درمیان اہم ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
  • آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بلوچستان کے ضلع پنجگور میں تین اور چار جون کو سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں چھ مبینہ شدت پسند ہلاک ہو گئے
  • حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کوئی بھی معاہدہ 'ہتھیار ڈالنے اور شکست تسلیم کرنے' کے مترادف ہو گا۔

لائیو کوریج

  1. زیلنسکی کا پوتن کو کھلا خط، بالمشافہ مذاکرات کی پیشکش

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ایک کھلے خط میں بالمشافہ ملاقات کی پیشکش کی ہے، جسے وہ جنگ کے خاتمے کی جانب ایک نئی کوشش قرار دیتے ہیں۔

    اپنے خط میں زیلنسکی نے کہا کہ یورپ میں جاری جنگ کے حوالے سے یہ انتظار کرنا ’غلط‘ ہوگا کہ وہ دوبارہ امریکہ کی توجہ کا مرکز بنے۔ ان کے مطابق امن صرف روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

    انھوں نے مجوزہ مذاکرات کے دوران مکمل جنگ بندی کی تجویز بھی پیش کی، جسے پوتن اس سے قبل مسترد کر چکے ہیں۔

    کریملن نے تصدیق کی ہے کہ اسے زیلنسکی کا خط موصول ہو چکا ہے، جبکہ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر ماسکو آ کر کسی بھی وقت روسی قیادت سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

    زیلنسکی نے خط میں لکھا: ’یوکرین اس جنگ کو ہمارے اور آپ کے درمیان براہِ راست مکالمے کے ذریعے ختم کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ میں ملاقات کی پیشکش کرتا ہوں۔‘

    یوکرینی صدر نے یہ بھی عندیہ دیا کہ یہ ملاقات سوئٹزرلینڈ یا ترکی جیسے کسی تیسرے ملک میں بھی ہو سکتی ہے۔

    خط میں سخت جملے بھی تحریر کیے گئے ہیں ہیں جن میں زیلنسکی نے حالیہ یوکرینی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے روسی قیادت پر تنقید کی اور کہا کہ جنگ دونوں ممالک پر بوجھ بن چکی ہے۔

    ادھر روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے ساتھ معاہدے کے لیے ’تیار اور آمادہ‘ ہیں، تاہم اس کے لیے دونوں فریقوں کو سمجھوتے کرنا ہوں گے۔

    روس کا مؤقف ہے کہ یوکرین کو ڈونیٹسک، لوہانسک، خیرسون اور زاپوریزیا جیسے علاقوں سے دستبردار ہونا اور نیٹو میں شمولیت کی کوششیں ترک کرنا ہوں گی، جسے یوکرین مسترد کرتا رہا ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ممکنہ ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت اچھا ہوگا اگر دونوں رہنما ملیں‘ اور انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    یوکرین اور روس کے درمیان حالیہ مہینوں میں جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ جنیوا، استنبول اور ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو چکے ہیں۔

  2. مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ 50 فیصد منجمد اثاثے فوری جاری کیے جائیں: ایران کا مطالبہ

    ایران کے نائب وزیر خارجہ اور جوہری مذاکراتی ٹیم کے رکن کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوری بعد اس کے منجمد اثاثوں کا 50 فیصد جاری کیا جائے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر سے گفتگو کرتے ہوئے غریب آبادی کا کہنا تھا کہ باقی ماندہ اثاثے بھی ایک ’معقول مدت‘ کے اندر ایران کے حوالے کیے جانے چاہییں، جو ان کے بقول ایک یا دو ماہ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں ’اہم اور کلیدی‘ موضوعات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق کس مرحلے پر کتنی رقم جاری کی جائے، یہ معاملہ مذاکرات کے ذریعے طے ہو سکتا ہے۔

    ادھر امریکہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں ایران کو کوئی رقم فراہم نہیں کی جائے گی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس حوالے سے کہا تھا کہ اگر وہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کریں گے تو وہ ’بہتر معاہدہ‘ ہو گا اور اس میں ایران کو ویسے بڑی مقدار میں نقد رقم نہیں دی جائے گی جیسا کہ ان کے بقول سابق صدر باراک اوباما کے دور میں جوہری معاہدے کے تحت ہوا تھا۔

  3. ایران، چین اور روس کے سفیروں کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات

    ویانا میں تعینات ایران، چین اور روس کے مستقل نمائندوں نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رفال گراسی کے ساتھ ایک مشترکہ ملاقات کی۔

    یہ ملاقات آئندہ ہفتے ویانا میں ہونے والے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس سے قبل منعقد ہوئی۔

    ویانا میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے مستقل مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس ملاقات کی ایک ویڈیو شائع کرتے ہوئے لکھا کہ فریقین نے بورڈ آف گورنرز کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    اس ملاقات سے چند گھنٹے قبل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال سے متعلق اپنی نئی رپورٹ بورڈ آف گورنرز کے ارکان کو پیش کی۔

    اس خفیہ رپورٹ، جس کا متن بعض خبر رساں اداروں نے حاصل کیا ہے، میں ایجنسی نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ایران کی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی تصدیق کے لیے اس کی تنصیبات تک رسائی نہ ہونا ’پھیلاؤ کے خدشات‘ کا باعث ہے۔

    رپورٹ میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایجنسی کے ساتھ ’تعمیری انداز میں تعاون اور روابط قائم کرے‘۔

    آئندہ ہفتے ہونے والا بورڈ آف گورنرز کا اجلاس 29 مارچ کو ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملے اور چالیس روزہ جنگ کے بعد منعقد ہونے والا پہلا اجلاس ہوگا۔

  4. روس کی ایران اور عرب ممالک کے درمیان ’عدم جارحیت‘ کے معاہدے کی تجویز

    روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’عدم جارحیت کا معاہدہ‘ ایران اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف ایک اہم پہلا قدم ہو سکتا ہے۔

    آر ٹی عربی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، سرگئی لاوروف نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے علاوہ، ’دیگر تکمیلی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔‘

    اپنے مجوزہ اضافی اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے، سرگئی لاوروف نے کہا کہ ان میں ’فوجی سرگرمیوں میں شفافیت اور فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کے معاہدے‘ اور دیگر امور شامل ہو سکتے ہیں جو اجتماعی طور پر ایران اور خطے کے عرب ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مضبوط کرنے میں مدد کریں گے۔

  5. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاجی کال، حکومت کی سفری ہدایات جاری

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 9 جون کو عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کے پیش نظر کشمیر حکومت نے سیاحوں اور دیگر افراد کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔

    کشمری کے ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز کی جانب سے 4 جون 2026 کو جاری بیان کے مطابق حکومت نے کہا ہے کہ ممکنہ صورتحال کے پیش نظر عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    حکام کے مطابق 5 جون سے 20 جون 2026 تک سیاحت یا دیگر مقاصد کے لیے کشمیر آنے والے افراد کو یہ مشورہ ہے کہ وہ اس عرصے میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ پریشانی یا ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ ہدایات عوامی سہولت اور تحفظ کے پیش نظر جاری کی گئی ہیں۔ تاہم جن افراد کا پہلے سے سفر کا پروگرام طے ہے اور وہ 5 جون تک کشمیر میں داخل ہو سکتے ہیں، ان سے کہا گیا ہے کہ وہ بروقت پہنچ جائیں تاکہ کسی دشواری سے بچا جا سکے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ احتجاجی کال کے باعث خطے میں سکیورٹی اور انتظامی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں، جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

    یاد رہے کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاجی کال کے بعد کشمیر میں ممکنہ طور پر سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے اپنی تیاریاں مکمل کر رہے ہیں۔

  6. اسلام آباد سے کشمیر تک سکیورٹی الرٹ: احتجاجی کال کے پیش نظر بڑی نفری تعینات, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کے تناظر میں سکیورٹی انتظامات کو سخت کر دیا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد پولیس کی 1500 سے زائد اہلکاروں پر مشتمل ایک بڑی نفری کو وہاں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق کشمیر میں امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے یہ بین الصوبائی پولیس تعاون کا بڑا اقدام ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ برس عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران جب اسلام آباد پولیس کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں تعینات کیا گیا تھا تو اس اقدام پر کمیٹی کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا تھا۔

    جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے پیش کیے جانے والے 38 نکات پر مشتمل ’چارٹر آف ڈیمانڈ‘ میں جو مطالبات شامل ہیں ان میں حکومتی اخراجات میں کمی سے لے کر اسمبلی نشستوں پر اعتراضات ، مفت تعلیم و علاج کی سہولت اور فضائی اڈے کے قیام سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کرنا شامل ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق آئی جی اسلام آباد کی منظوری کے بعد 1505 اہلکاروں اور افسران پر مشتمل ایک خصوصی فورس کو کشمیر بھیجا جا رہا ہے، جس میں اعلیٰ پولیس قیادت بھی شامل ہے۔ اس نفری میں ایک ڈی آئی جی، دو ایس ایس پیز اور چار ایس پیز کے علاوہ دیگر سینیئر و جونیئر افسران بھی شامل ہوں گے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ تعینات کی جانے والی فورس میں آٹھ اے ایس پی/ڈی ایس پی، 16 انسپکٹرز، اسسٹنٹ سب انسپکٹرز اور بڑی تعداد میں کانسٹیبلز شامل ہیں، جن کی مجموعی تعداد 1382 بتائی گئی ہے۔

    یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کشمیر میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو مکمل اینٹی رائٹ گیئر کے ساتھ روانہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

    سکیورٹی پلان کے تحت اسلام آباد پولیس کی مختلف یونٹس، جن میں سی ٹی ڈی، سیف سٹی، آپریشنز اور سکیورٹی ڈویژن شامل ہیں، کو بھی اس تعیناتی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد امن و امان کو ہر صورت برقرار رکھنا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق نفری کی نقل و حرکت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے بھی خصوصی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    اہلکاروں کو طبی امداد، لاؤڈ سپیکرز، ٹارچز اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔

    مظفر آباد میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں واضح کیا ہے کہ ’ہم نہ پاکستان اور نہ اس کے اداروں کے خلاف ہیں۔‘

    انھوں نے آرمی چیف عاصم منیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’فیلڈ مارشل صاحب آپ قابل احترام ہیں۔

    شوکت نواز میر نے کہا کہ ’ہم نام نہاد سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی نالائقیوں کے باعث عام آدمی کی محرومیوں کے ازالے اور بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘ اان کے مطابق ’کشمیری اور پاکستانی عوام کا بھائی چارے کا رشتہ دہائیوں سے قائم ہے اور تاقیامت قائم رہے گا۔‘

  7. ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم جارحیت مسلط کی گئی تو اپنے دفاع میں بھرپور جواب دیں گے: عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم اگر اس پر کوئی جارحیت مسلط کی گئی تو وہ اپنے دفاع میں بھرپور جواب دے گا۔

    عراقچی کا یہ بیان ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ہوا ہے۔

    بیان کے مطابق عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران اپنے مؤقف میں واضح ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔

  8. وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، خطے کے پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کے تسلسل پر زور

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کے درمیان اہم ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    وزارت داخلہ کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس ملاقات میں کشیدگی میں کمی اور داخلی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    بیان کے مطابق دونوں وزرائے داخلہ نے خطے کے پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    یاد رہے کہ بی بی سی فارسی کے مطابق یہ ملاقات کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی ہے۔

    پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی حالیہ ہفتوں میں متعدد مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انھوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔

    اس سے قبل وہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ بھی ایک مرتبہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔

  9. پنجگور میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں چھ شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بلوچستان کے ضلع پنجگور میں تین اور چار جون کو سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں چھ مبینہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق ’خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی جانے والی اس کارروائی میں انڈیا سے منسلک گروہ ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع تھی۔

    فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق ’اس کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چھ مبینہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے علاقے میں مختلف کارروائیوں میں ملوث رہے تھے جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ بم اور ایک گاڑی بھی برآمد ہوئی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید عسکریت پسندوں کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    بیان کے مطابق ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  10. اسرائیلی فوج کا غزہ میں حماس کے کئی سینیئر سکیورٹی اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے غزہ میں رات گئے کیے جانے والے حملوں کے دوران حماس کی ’جنرل سکیورٹی سروس‘ کے کئی سینیئر ارکان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج اور ملک کے داخلی سلامتی کے ادارے شن بیٹ کے مشترکہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں حماس کے جنرل سکیورٹی آپریٹس کے نائب سربراہ حسن رباح حسن لباد مارے گئے۔

    بیان کے مطابق اس کے علاوہ اس یونٹ کے تین دیگر اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ حماس نے تاحال ان دعووں پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

    اسرائیل کے مطابق یہ سروس حماس کے اندر ایک خفیہ یونٹ ہے جو گروپ کی قیادت کی حفاظت اور معاونت کی ذمہ دار ہے۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس یونٹ کے فرائض میں حماس کے رہنماؤں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھنا، ان کی حفاظت کرنا، انھیں ہنگامی مراکز تک منتقل کرنا، معلومات اکٹھی کرنا اور انٹیلی جنس جائزے فراہم کرنا شامل ہے۔

  11. عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی ٹریڈنگ میں بھی بڑھتے رجحان کا سامنا رہا۔

    یہ اضافہ حزب اللہ کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی کی نئی پیشکش مسترد کیے جانے اور عمان کے ایک آئل ٹرمینل پر دھماکے کے بعد تیل کی لوڈنگ معطل ہونے کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، امریکہ ایران مذاکرات میں تعطل، اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی محدود آمدورفت کے باعث یہ اضافہ ہو رہا ہے جبکہ عمان کے ایک آئل ٹرمینل پر دھماکے کے بعد لوڈنگ رکنے کی اطلاعات نے بھی قیمتیں بڑھنے کی ایک وجہ قرار دی جا رہی ہے۔

  12. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 27 جولائی کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن نے ریاست بھر میں عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔

    عام انتخابات 27 جولائی کو منقعد ہوں گے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمشنر غلام مصطفی مغل کا نیوز کانفرنس میں کہنا تھا کہ ’الیکشن کو پر امن اور شفاف بنانے کے لیے فوج اور رینجرز کی مدد طلب کر لی گئی ہے۔ ‘

    انھوں نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن یقینی بنائے گا لوگ اپنا حق رائے رہی استعمال کریں کوئی مشکل نہ آئے۔‘

    یاد رہے کہ یہ اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جو پاکستان کے زیر انتظامن کشمیر کی اسمبلی مںی مہاجرین مقیم پھاکستان کی نشستوں کے حوالے سے تنازع جاری ہے۔

    جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ یہ نشستیں ختم کی جائیں اور اس کے مسئلے کو آئندہ اسمبلی کے قیام سے پہلے حل کیا جائے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج سے قبل 14 ہزار اضافی اہلکار طلب کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے اپنے مطالبات کے حل کے لیے 9 جون کو احتجاجی کال دی گئی ہے، جس کے تحت کشمیر اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اس تناظر میں کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس لیاقت علی نے امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لیے حکومتِ پاکستان سے 14 ہزار اہلکار فراہم کرنے کی تجویز چیف سیکرٹری کو ارسال کر دی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیرمیں حکومتِ نے سیاحوں اور دیگر مقاصد کے لیے خطے کا رخ کرنے والے افراد کو ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے 5 جون سے 20 جون 2026 تک آزاد کشمیر کے سفر سے روک دیا

  13. چین کے صدر شی جن پنگ سات سال بعد اتحادی ملک شمالی کوریا جائیں گے

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے رہنما شی جن پنگ تقریباً سات سال بعد پہلی بار اپنے دیرینہ اتحادی شمالی کوریا کا دورہ کر رہے ہیں۔

    شی 8 سے 9 جون تک شمالی کوریا میں اپنے ہم منصب کم جونگ اُن کی دعوت پر موجود ہوں گے۔ شی نے آخری بار 2019 میں پیانگ یانگ کا دورہ کیا تھا۔

    یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب چند ہفتے قبل شی نے بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی میزبانی کی تھی، یہ دونوں ممالک شمالی کوریا کی خارجہ پالیسی پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔

    چین شمالی کوریا کا ایک اہم اقتصادی اور سیاسی شراکت دار ہے، جو اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث سخت بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

    پیانگ یانگ امریکہ کو اپنا بنیادی سیاسی دشمن سمجھتا ہے، جبکہ روس کو ایک بڑھتا ہوا دوست قرار دیتا ہے جس کے لیے کم نے غیر متزلزل حمایت کا وعدہ کیا ہے۔

    بیجنگ کے پیانگ یانگ اور ماسکو کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود، شی کم اور پوتن کے درمیان بڑھتے ہوئے اتحاد سے محتاط ہیں۔

    چین اور شمالی کوریا کے درمیان 1400 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے اور دونوں کے درمیان ایک دفاعی معاہدے بھی ہے۔ یہ واحد معاہدہ ہے جو چین نے کسی بھی ملک کے ساتھ کر رکھا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک پر حملہ ہو تو باہمی حمایت کی ضمانت دی گئی ہے۔

    اس سال اس معاہدے کی 65ویں سالگرہ بھی ہے۔

    بیجنگ ایک طویل عرصے سے کم کی عالمی سطح پر تنہا حکومت اور دنیا کے دیگر ممالک کے درمیان اہم ثالث کا کردار بھی ادا کرتا رہا ہے۔

    کم کے لیے شی کے اس دورے کی تشہیری اہمیت واضح ہے۔ شمالی کوریا نے وبا کا مقابلہ کرنے اور یوکرین کی جنگ میں روس کے ساتھ شامل ہونے کے بعد عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو بہتر بنایا ہے۔

    کورین رہنما کِم اپنے جوہری اور میزائل ہتھیاروں کے ذخیرے کو فخر سے ظاہر کر رہے ہیں۔ انھوں نے دارالحکومت پیانگ یانگ کو بھی غیر ملکی مہمانوں کے لیے ترقی دی ہے۔ اور وہ دنیا کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ یہ سب انھوں نے امریکہ کے سامنے جھکے بغیر یا جنوبی کوریا سے مذاکرات کیے بغیر حاصل کیا ہے۔

    اب پیانگ یانگ کے پاس چین سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کی پوزیشن موجود ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کم زمینی سرحد کے ذریعے زیادہ تجارت اور نئے بنائے گئے ساحلی اور سکی ریزورٹس کے لیے زیادہ چینی سیاحوں کا مطالبہ کریں گے۔

    سیول کو امید ہے کہ شی اس دورے میں ثالث کا کردار ادا کریں گے اور پیانگ یانگ کو جنوبی کوریا اور واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ کریں گے۔

    جب سے کم نے دسمبر 2024 میں جنوبی کوریا کے ساتھ اتحاد کی کوششوں کے خاتمے کا اعلان کیا، انہوں نے جنوبی کوریائیوں کو کھلا دشمن قرار دیا اور سیول کے ساتھ ہر سطح پر رابطہ منقطع کر دیا ہے۔

    گذشتہ ماہ جب شمالی کوریا کی خواتین کی پیشہ ور فٹبال ٹیم جنوبی کوریا کی ٹیم کے خلاف کھیلنے کے لیے وہاں گئی، تو اس کشیدگی اور سرد مہری کا کھل کر اظہار ہوا۔

  14. میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان چین کے کنٹرول میں ہے: روسی صدر ولادیمیر پوتن

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ہم انڈیا اور پاکستان کے درمیان سرحدی مسائل کی پیچیدگیوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو مکمل طور پر چین کے کنٹرول میں ہے۔

    جمعرات کو صدر پوتن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا روس کا قابل اعتماد شراکت دار ہے۔

    پڑوسی ممالک کے تعلقات کے انڈیا پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ایک بڑا ملک ہے اور اس کے مختلف ممالک کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات ہیں، اسے چین کے ساتھ اپنے تعاون کو ذہن میں رکھنا ہوگا، لیکن ہر کوئی چین کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے انڈیا اور چین کے تعلقات کو انتہائی حساس اور کثیر جہتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں مداخلت کرنا اچھا خیال نہیں ہے۔

    روسی صدر نے کہا کہ ’ہم انڈیا اور چین دونوں میں اپنے دوستوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ صدر شی اور وزیر اعظم مودی دونوں ہی سرحدی تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    روس کے چین کے ساتھ تعلقات پر انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک روس کا تعلق ہے چین اور انڈیا دونوں کے ساتھ ہمارے اپنے تعلقات ہیں، روس اور انڈیا کے تعلقات چین کو پریشان نہیں کرتے اور چین کے ساتھ ہمارے تعلقات انڈیا کو پریشان نہیں کرتے۔‘

    برکس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایک وقت میں میں نے مشورہ دیا تھا کہ انڈیا اور چین کے لیڈر یہاں ملیں، اسی طرح روس-انڈیا-چین فورم کا قیام عمل میں آیا۔‘

    پاک چین تعلقات کے انڈیا پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ’ہمیں کسی کے ساتھ تعاون کرنے میں کوئی حرج نہیں، چاہے وہ انڈیا ہو یا چین، ہم انڈیا کے ساتھ جدید ہتھیاروں کے نظام کے شعبے میں تعاون کرتے ہیں، انڈیا نے براہموس میزائل تیار کیے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’روس نے انڈیا کو سکھوئی-57 لڑاکا جیٹ ٹیکنالوجی پر مل کر کام کرنے کی تجویز دی تھی۔ لیکن ہمارے انڈین دوستوں نے کہا کہ آپ اسے خود تیار کریں اور ممکن ہے کہ ہم بعد میں اس میں شامل ہو جائیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم اس شعبے میں انڈیا کے ساتھ کام کرنے، اس طیارے کی فراہمی اور اس کی مزید ترقی میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ فضائی دفاعی نظام کے معاملے میں بھی یہی صورتحال ہے۔‘

  15. ایران کے ساتھ اگر معاہدہ طے پاتا ہے تو مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات اعزاز کی بات ہو گی: ٹرمپ

    امریکی صدر نے نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ممکنہ ملاقات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ اس ملاقات کے لیے تیار ہوں گے۔

    امریکہ میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ فی الحال ملاقات کے خواہش مند نہیں، تاہم اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ ان کے لیے باعثِ اعزاز ہو گی۔

    ایران کے سپریم لیڈر سے ممکنہ ملاقات کے حوالے سے صحافی نے پوچھا کہ ’کیا آپ کے خیال میں آپریشن ایپک فیوری جس میں اُن کے والد، اہلیہ اور بچے ہلاک ہو گئے، وہ دل میں ناراضی رکھتے ہوں گے اور ملاقات نہیں چاہیں گے؟‘ جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں شاید ان کے لیے پسندیدہ شخص نہ ہوں تاہم میرے خیال میں وہ پروفیشنل شخص ہیں(غالباً ٹرمپ کا اشارہ خامنہ ای کی بطور قابل اور طاقتور شخصیت اور ان کے فوجی پس منظر کی جانب ہے۔)

    انھوں نے کہا کہ کچھ حلقوں میں ایرانی رہنما کی اچھی شہرت بھی ہے۔

    ٹرمپ کے مطابق ’کچھ لوگ ان کے بارے میں منفی باتیں کہتے ہیں لیکن بہت سے لوگ میرے بارے میں بھی منفی باتیں کہتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے یا نہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر معاہدہ طے پاتا ہے تو ملاقات ممکن ہے اور وہ اس پر آمادہ ہوں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس نوعیت کی ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہو سکتی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ انھوں نے اس بارے میں زیادہ نہیں سنا۔

    صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے خود اس تجویز کو پیش نہیں کیا، تاہم بعض افراد نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ’اگر ایسا ہوتا ہے تو میرے لیے اعزاز کی بات ہو گی۔‘

  16. یوکرین روس جنگ بندی کے لیے زیلنسکی کا پوتن سے ’بالمشافہ‘ ملاقات کا مطالبہ

    یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کی نئی کوشش کے تحت روسی صدر پوتن کے ساتھ آمنے سامنے ملاقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    روسی صدر کے نام ایک کھلے خط میں یوکرینی رہنما نے کہا کہ یہ ’محض انتظار کیا جانا اب غلط ہو گا کیونکہ یورپ میں جاری جنگ دوبارہ امریکہ کی توجہ کا مرکز بن سکتی ہے۔‘

    یاد رہے کہ یوکرین کے رہنما کی جانب سے کوئی نئی پیشکش نہیں ہے تاہم اس میں جو بات قابلِ توجہ تھی وہ کیئو کی جانب سے یہ عوامی اعتراف تھا کہ امریکہ کی توجہ ’مکمل طور پر ایران کے معاملے پر مرکوز ہے۔‘

    زیلنسکی نے مزید کہا کہ امن صرف یوکرین اور روس کے درمیان ’براہِ راست روابط‘ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

    انھوں نے مجوزہ مذاکرات کے دوران مکمل جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا جسے پوتن نے جمعرات کو اس سے قبل مسترد کر دیا تھا۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ان کے خیال میں ’یہ بہت اچھا ہو گا کہ اگر دونوں رہنما ملاقات کریں۔‘

    کریملن نے خط موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر پوتن کو اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

    تاہم دیکھا جائے تو روسی علاقے پر یوکرین کے حالیہ حملوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے اس خط کا انداز جارحانہ اور کسی حد تک تمسخر آمیز بھی تھا

    زیلنسکی نے کہا کہ ’26 سال اقتدار میں رہنے کے بعد (پوتن پر) عمر اب اثر انداز ہونا شروع ہو گئی ہے‘

    اس خط کے متن کے مطابق ’یوکرین تجویز کرتا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ ہمارے اور آپ کے درمیان براہِ راست روابط کے ذریعے کیا جائے۔ میں ایک ملاقات کی تجویز دے رہا ہوں،‘

    سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اور بظاہر خط کے مندرجات دیکھے بغیر پوتن نے کہا کہ وہ ’یقیناً یوکرین کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار اور آمادہ ہیں تاہم اس کے لیے سمجھوتے کرنا ہوں گے۔‘

  17. حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی مسترد کردی

    حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے اپنے بیان میں اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کوئی بھی معاہدہ ’ہتھیار ڈالنے اور شکست تسلیم کرنے‘ کے مترادف ہو گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اپنے ایک بیان میں انھوں نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو ’بلا ضرورت، ذلت آمیز اور شرمناک‘ قرار دیا اوردعویٰ کیا کہ لبنانی عوام کا ایک بڑا حصہ ان مذاکرات کو ’دوٹوک طور پر‘ مسترد کرتا ہے۔

    دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ کم از کم آٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی عربی کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کا سلسلہ جاری رہنے کے دوران ایک اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔

    یہ پیش رفت لبنان اور اسرائیلی حکومتوں کے درمیان جنگ بندی کے منصوبے پر اتفاق کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔ اس معاہدے کا اعلان جمعرات کی ابتدائی ساعتوں میں واشنگٹن میں کیا گیا تھا۔

    حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے کی شرائط کو مسترد کیے جانے کے بعد لبنان میں امن عمل کا مستقبل غیر یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔

    لبنان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ جمعرات کو مشرقی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ جنوبی شہر صور کے قریب ایک اور حملے میں مزید تین افراد مارے گئے۔

    ان حملوں کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے جن میں تین بچے اور دو خواتین شامل ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران ایک ٹینک کمانڈر کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔

  18. امریکہ اور ایران کے درمیان مخلص ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے امریکی صدر کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے اور صدر ٹرمپ کو ’امن کے داعی‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

    جمعرات کو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ’امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔‘

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اعتماد کے اظہار پر امریکہ اور ایران کے شکر گزار ہیں۔

    اپنے خطاب میں انھوں نے ’علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو آگے بڑھانے‘ کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ وہ دعا گو ہے کہ جلد خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔ اس موقع پر پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے 1979 کے انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان اعلی ترین مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کروانے پر پاکستان کی تعریف کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کے باعث دو مخالف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے حوالے سے پاکستان کو منفرد حیثیت حاصل تھی۔

    ’یہ پاکستان کا لمحہ تھا اور پاکستان اس پر پورا اترا۔‘

  19. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ڈال لیتے ہیں۔

    • پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خفیہ معلومات امریکہ سے شیئر کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
    • بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام پارٹی کے سینیئر رہنما سردار نصیر احمد موسیانی کے بیٹے میر خلیل احمد زہری کی فائرنگ سے ہلاکت کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں جمعرات کو احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے لیے ایوانِ نمائندگان کے ووٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب وہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ’حتمی مذاکرات‘ میں مصروف تھے۔
    • ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی فٹبال ٹیم کے باقی ماندہ دو ارکان کے ویزوں کے اجرا کے بعد فٹبال ٹیم میکسیکو کے سفر کے لیے تیار ہے اور تمام ارکان کے ویزوں کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔
    • سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ نے بحرین پر ایرانی حملے کی مذمت کرتے ہوئے ہمسایہ ملک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
    • ایران کے سپریم لیڈر مجبتیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ میں ناکامی کے بعد ایران کے اندر تقسیم کا بیج بونا چاہتے ہیں۔
    • پاکستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی کے ایوان میں بجٹ پیش کریں گے جس میں آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی حکومت کی مالی ترجیحات، معاشی حکمتِ عملی اور پالیسی اقدامات کا خاکہ پیش کیا جائے گا۔
  20. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں آپ سب کو خوش آمدید!

    اس صفحے پر ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے تازہ اور اہم خبریں و تجزیے شامل کرتے ہیں۔ اگر آپ 4 جون کی خبریں پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔