آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز: غیر ملکی مہمانوں کی تہران آمد کا سلسلہ جاری، شہباز شریف آج ایران روانہ ہوں گے

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین اور نمازِ جنازہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ایک وفد تہران پہنچ چکا ہے جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد آج (جمعہ) تہران روانہ ہو گا۔

خلاصہ

  • ایران کے سابق رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کا تابوت ’امام خمینی مصلیٰ تہران‘ میں رکھ دیا گیا ہے جہاں بڑی تعداد میں سوگواران موجود ہیں
  • سید علی خامنہ ای کی سات روزہ جنازہ اور تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز آج سے ہو رہا ہے جس میں شرکت کے لیے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں وفد تہران پہنچ چکا ہے
  • ان تقریبات میں شرکت کے لیے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ آج ایران روانہ ہوں گے
  • دمشق کے ایک کیفے میں بم دھماکے کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں
  • یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں روسی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 27 ہو گئی، 90 افراد زخمی

لائیو کوریج

  1. علی خامنہ ای کی آخری رسومات، مختلف ممالک کے وفود کی آمد جاری

    علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے مختلف ممالک کے وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

  2. منی پور میں 20 گھر نذر آتش، راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کی تقسیم کرنے والی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا, مرزا اے بی بیگ، بی بی سی اُردو

    انڈیا کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں آتشزدگی کے تازہ واقعے نے ایک بار پھر یہ باور کرایا ہے کہ تین سال قبل پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات کی آگ ابھی تک پوری طرح سے نہیں بجھ سکی ہے۔

    یکم جولائی کو منی پور کے ضلع کامجونگ میں میانمار کی سرحد کے ساتھ واقع ایک گاؤں کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعے نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ایک وقفے کے بعد کوکی اور ناگا برادریوں کے درمیان کا تنازع دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔

    کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو متعدد مکانات کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسے مودی حکومت کے 'تقسیم پسندانہ نظریے' کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

    حزب اختلاف کے رہنما نے کہا کہ 'منی پور برسوں سے جل رہا ہے، اور نفرت اور تشدد کی آگ میں ایک بار پھر 20 گھر جل کر خاکستر ہو گئے۔'

    انھوں نے ہندی زبان میں ایک پوسٹ میں لکھا: 'دو حکومتوں اور صدر راج کے ہوتے ہوئے بھی، تنازع مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ہزاروں لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، لاتعداد خاندان بکھر چکے ہیں۔ منی پور جس ناقابل برداشت اذیت کو برداشت کر رہا ہے، اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔'

    انھوں نے مزید لکھا: 'یہ مودی سرکار کے تفرقہ انگیز نظریے کا نتیجہ ہے، جو لوگوں کو مذہب، ذات، زبان، علاقہ اور شناخت کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے۔'

    دریں اثنا دو کوکی تنظیموں نے دو الگ الگ بیانات میں گھر جلائے جانے کی مذمت کی ہے۔ کمیٹی آن ٹرائبل یونیٹی اور کوکی سی ایس او (سول سوسائٹی آرگنائزیشن) ورکنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالم (این ایس سی این) اور میانمار میں قائم شانی نیشنلسٹ آرمی کے تعاون سے اس 'منصوبہ بند حملے' کو انجام دیا گيا ہے۔

    کوکی تنظیموں کے مطابق مسلح گروہوں نے یہ حملہ آسام رائفلز کی جانب سے فائیمول میں قائم سکیورٹی چوکی خالی کرنے کے ایک دن بعد کیا ہے، جس کے نتیجے میں گاؤں غیر محفوظ رہ گیا تھا۔ انھوں نے 11 جون کو سرحدی گاؤں کلتوہ پر ہونے والے اسی نوعیت کے حملے کا بھی حوالہ دیا، جو ان کے بقول کامجونگ ضلع میں کوکی دیہاتیوں کے خلاف 'منظم اور مہدف تشدد' کے ایک تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

    انڈین خبررساں ادارے پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق تنظیم کا کہنا ہے کہ 'عینی شاہدین کے مطابق جدید ہتھیاروں سے لیس تقریباً 20 کوکی جنگجو سرحدی ستون نمبر 102 کے قریب واقع فائیکوہ گاؤں سے دریائے نامیا عبور کر کے آئے اور ناگا آبادیوں پر منظم حملہ کیا۔ مقامی لوگ جان بچانے میں کامیاب ہوگئے، لیکن ان کے مکانات جلا دیے گئے۔'

    تنظیم نے مزید کہا کہ کھیروں گرام میں سنہ 2023 سے مقیم 365 برمی پناہ گزینوں کے لیے قائم 20 عارضی کیمپ بھی نذرِ آتش کر دیے گئے ہیں۔

    جبکہ ناگا ولیج گارڈ کا کہنا ہے کہ 'ناگا آبادیوں پر حملے اس وقت ہوئے جب دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے فائیمول کے 20 متروک گھروں کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی تھی، اور صرف چند منٹ بعد ناگا بستیوں پر یلغار کی گئی۔'

    تنظیم نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ اسی طرز پر ترتیب دیا گیا تھا جیسے لانچاہ (کوکی) گاؤں کو جلائے جانے کے بعد 7 مئی کو تین تانگکھل ناگا دیہات 'زی چورو، وانگلی، اور ناملی پر حملہ کیا گیا تھا۔

    دریں اثنا، منی پور پولیس نے پیپلز ریوولیوشنری پارٹی آف کانگلیپاک نامی میتئی شدت پسند تنظیم کے تین ارکان کو گرفتار کر لیا۔ ان پر امپھال ایسٹاور امپھال ویسٹ اضلاع میں گھروں پر کیے گئے متعدد گرینیڈ حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

    اس سے قبل اپریل میں راکٹ نما حملے میں دو کمسن بچوں کی ہلاکت کے بعد ٹرونگلوبی میں مشتعل ہجوم نے جلمول میں واقع سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے کیمپ پر دھاوا بول دیا، جو ریاست کے دو اہم متحارب قبائل میتئی اور کوکی زور والے علاقوں کے درمیان ایک بفر زون میں واقع ہے۔ اسی دوران سی آر پی ایف کی فائرنگ میں تین مظاہرین ہلاک ہو گئے۔

    بی بی سی کی ٹیم نے موقع پر دیکھا کہ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں اور احتجاج کرنے لگیں۔ ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا: 'ہمیں حکومت سے کوئی امید نہیں رہی۔ پچھلے کئی برسوں میں جتنی بھی ہلاکتوں کے واقعات ہوئے، آج تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔'

    انھوں نے مزید کہا کہ 'یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ تشدد میں بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہو، اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں، مگر کسی کو انصاف نہیں ملا۔'

    دو سال قبل لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے کہا تھا 'منی پور ایک سال سے امن کا انتظار کر رہا ہے، اس سے پہلے یہ 10 سال تک پرامن تھا۔ منی پور میں اب بھی جل رہا ہے، اس پر کون توجہ دے گا؟'

  3. یورپ اور افریقہ میں امریکی فوج کے کمانڈر باضابطہ طور پر اپنے عہدے سے سبکدوش

    یورپ اور افریقہ میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈونا ہیو، اس عہدے پر صرف 18 ماہ فائز رہنے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔

    ان کے استعفے کا اعلان جون کے اواخر میں کیا گیا تھا، لیکن وہ جمعرات دو جولائی تک باضابطہ طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہے۔

    امریکی فوج کی جانب سے اس تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ میجر جنرل کرسٹوفر نوریگا، ڈونا ہیو کے جانشین کے نام کے اعلان اور تقرری کی توثیق ہونے تک ’یورپ اور افریقہ میں امریکی فوج‘ کے قائم مقام کمانڈر کے فرائض انجام دیں گے۔

    ڈونا ہیو کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے اعلیٰ عہدوں میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں لا رہے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق اس عہدے کا درجہ ’فور اسٹار‘ سے کم کر کے ’تھری اسٹار‘ کمانڈ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

    جنرل ڈونا ہیو جو اس سے قبل 18ویں ایئر بورن کور اور 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کی کمان سنبھال چکے ہیں، بنیادی طور پر وہ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے دوران افغانستان سے نکلنے والے آخری امریکی فوجی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

  4. آیت اللہ علی خامنہ ای اور اُن کے اہلخانہ کی میتیں تہران کی مسجد میں رکھ دی گئیں

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور اُن کے اہلخانہ کی میتوں کو تہران کی ایک مسجد میں رکھ دیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے ’اسنا‘ کے مطابق ایران آنے والے کچھ غیر ملکی مہمانوں نے تہران میں دعائیہ تقریب میں شرکت کر کے ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری رہے گا۔

    اس تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی تہران میں موجود ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق، تاجکستان، چین اور انڈیا کے حکام بھی اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

    متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ منصوبے کے مطابق، علی خامنہ ای کی ’الوداعی اور جنازے‘ کی تقریب کئی مراحل میں اور مسلسل کئی دنوں تک منعقد کی جائے گی۔

    تہران اور پھر قم میں جنازے کے بعد، ان کی تدفین کی تقریب آئندہ جمعرات کو مشہد میں متوقع ہے، تاہم اس سے قبل انھیں عراق کے شہروں نجف اور کربلا بھی لے جایا جائے گا۔

  5. افغان طالبان نے ٹریفک اور بارڈر پولیس کا نام تبدیل کر کے ’شرطہ‘ رکھ دیا

    افغانستان میں طالبان حکومت نے ٹریفک اور بارڈر پولیس کا نام تبدیل کر کے ’شرطہ‘ رکھ دیا ہے۔

    طالبان حکومت کی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے سرکاری فرمان کے مطابق کیا گیا ہے جس میں ’غیر ملکی اور اجنبی‘ اصطلاحات کے خاتمے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    عربی اصطلاح شرطہ کا مطلب پولیس ہے اور سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک میں پولیس کے لیے یہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

    اس سے پہلے تین مئی کو اخوندزادہ کی ہدایت پر ریاستی اداروں کے ناموں سے انگریزی لفظ ’نیشنل‘ ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔

    اس کے بعد متعدد سرکاری محکموں نے اس لفظ کا استعمال ترک کر دیا تھا۔ مثال کے طور پر وزارت قومی دفاع کا نام تبدیل کر کے وزارت دفاع رکھ دیا گیا۔ نیشنل انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کا نام تبدیل کر کے جنرل ڈائریکٹوریٹ پروٹیکشن رکھ دیا گیا۔

  6. ایرانی حکام کو خامنہ ای کے جنازے میں دو کروڑ افراد کی شرکت کی توقع

    ایران میں سرکاری سطح پر منعقد ہونے والی تقریبات کو اکثر حکمران اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ ایرانی قیادت بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کو اسلامی جمہوریہ اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے عوامی وفاداری کی تجدید کے طور پر پیش کرے گی۔

    یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا نئے سپریم لیڈر ان تقریبات کے دوران عوام کے سامنے آئیں گے یا نہیں۔ خامنہ ای کے صاحبزادے جنگ کے بعد سے عوامی منظرنامے سے دور رہے ہیں اور بیانات کے ذریعے ہی رابطے میں رہے ہیں۔

    صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین سمیت اعلیٰ حکام نے ایرانی عوام سے ان تقریبات میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

    انتظامی کمیٹی کے سربراہ اور اول نائب صدر محمد رضا عارف نے بتایا کہ تہران صوبے میں چار اور پانچ جولائی کو عام تعطیل ہوگی، جبکہ چھ جولائی کو ملک بھر میں چھٹی ہوگی۔

    تہران میں تقریبات کی نگرانی کرنے والے آئی آر جی سی (IRGC) کے سینئر کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ نے کہا کہ حکام کو ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ افراد کی شرکت کی توقع ہے اور یہ تعداد دو کروڑ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

    حکام نے شدید گرمی اور ہجوم کے پیشِ نظر خبردار بھی کیا ہے اور لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ صحت اور حفاظت سے متعلق ہدایات پر عمل کریں۔

    فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے بتایا کہ سکیورٹی اور معاونت کی فراہمی کے لیے 10 ہزار سے زائد اہلکاروں اور 10 فوجی ہسپتالوں کو متحرک کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تقریبات کے دوران ڈیڑھ لاکھ اہلکار الرٹ رہیں گے۔

    ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ چھ جولائی کو تہران اور نو جولائی کو مشہد کی فضائی حدود بند رہیں گی۔

  7. تہران کے ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ کی تجہیز و تدفین کی تقریبات کا آغاز

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے ہو گیا ہے۔

    اس دوران ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں خامنہ ای کا تابوت اس مرکز میں لایا گیا۔

    دیکھیے یہ تصویری جھلکیاں۔۔

  8. ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی سات روزہ تقریبات، کب کیا ہو گا؟

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تین جولائی سے ہو رہا ہے جو نو جولائی تک جاری رہیں گی۔

    سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی تدفین کی تقریبات کے منتظمین نے ایران اور عراق میں کئی تقریبات کا اعلان کیا ہے۔

    ایران نے 13 جون کو جنازے اور تدفین کے منصوبوں کے بارے میں بتایا تھا۔ یہ اعلان 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں خامنہ ای کی ہلاکت کے لگ بھگ تین ماہ بعد کیا گیا تھا۔

    تین جولائی، بین الاقوامی خراج عقیدت کی تقریب

    تین جولائی کو بین الاقوامی خراجِ عقیدت کی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں دُنیا کے مختلف ممالک کے رہنما ایک خصوصی تقریب میں خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ غیر ملکی عوامی وفود کے لیے تقریبات کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ہو گا جبکہ دیگر ممالک کے اعلی حکام دوپہر دو بجے اُنھیں خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔

    چار، پانچ جولائی: عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب

    تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز ’گرینڈ مصلیٰ‘ میں عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب منعقد کی جائے گی۔ چار جولائی کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے دروازے کھولے جائیں گے اور پانچ جولائی کو رات آٹھ بجے بند کر دیے جائیں گے۔ مرکزی نمازِ جنازہ پانچ جولائی کی صبح ادا کی جائے گی۔

    خامنہ ای کے علاوہ، ان کی صاحبزادی بشریٰ حسینی خامنہ ای، بہو زہرا حداد عادل (مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ)، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور نواسی زہرا محمدی کے تابوت بھی سوگواروں کے لیے رکھے جانے کی توقع ہے۔

    چھ جولائی: تہران میں جنازے کا جلوس

    یہ جلوس مقامی وقت کے مطابق صبح چھ شروع ہوگا۔ منتظمین نے دارالحکومت میں پھیلے ہوئے ایک راستے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ متوقع ہجوم کے لیے کوئی ایک سڑک کافی نہیں ہوگی۔ حکام کو امید ہے کہ یہ تقریب شام تک اختتام پذیر ہو جائے گی۔

    سات جولائی: قم میں جنازے کا جلوس

    یہ تقریب ایران کے مذہبی مرکز میں مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً پانچ بجے شروع ہو گی جس میں جمکران مسجد کے اندر ایک سینئر عالمِ دین نماز کی امامت کریں گے۔

    آٹھ جولائی: نجف اور کربلا میں جلوس

    عراق میں ایران کے ثقافتی اتاشی، غلام رضا اباذری نے بتایا کہ میت سات جولائی کی شام نجف پہنچے گی۔ میت کی ایران واپسی سے قبل، آٹھ جولائی کو نجف میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے اور کربلا میں سہ پہر چار بجے جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے۔

    نو جولائی: مشہد میں تدفین

    خامنہ ای کی تدفین شمال مشرقی شہر مشہد میں واقع شیعوں کے آٹھویں امام، امام رضا کے مزار پر کی جائے گی۔

  9. علی خامنہ ای کی سات روزہ آخری رسومات کا آغاز: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے سربراہی میں وفد تہران پہنچ گیا، وزیر اعظم شہباز شریف آج ایران روانہ ہوں گے

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین اور نمازِ جنازہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ایک وفد تہران پہنچ چکا ہے جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد آج (جمعہ) تہران روانہ ہو گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی تہران پہنچ چکے ہیں جہاں آمد پر ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے اُن کا استقبال کیا۔

    سید علی خامنہ ای کے جنازہ اور تدفین کی سات روزہ تقریبات کا آغاز آج (تین جولائی) سے تہران میں ہو رہا ہے جبکہ اِن تقریبات کا اختتام نو جولائی کو مشہد میں حرم امام رضا میں تدفین پر ہو گا۔

    آج تہران میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ’خراج عقیدت‘ کی تقریب منعقد ہو گی جس کے لیے دنیا بھر سے عالمی رہنماؤں کو دعوت دی گئی ہے۔

    جمعرات کو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں تہران پہنچنے والے وفد میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، جماعتِ اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ اور مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنما شامل تھے۔

    سات روزہ تقریبات کے دوران علی خامنہ ای کی میت جلوس کی شکل میں ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں لے جائی جائے گی اور بلآخر نو جولائی کو اُنھیں مشہد میں سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔