لائیو, مقبوضہ مغربی کنارے میں ’بڑے اور بے مثال آپریشن‘ کا جائزہ لیا ہے: اسرائیلی وزیرِ اعظم کا دو فوجیوں کی ہلاکت پر ردِعمل
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جمعے کی صبح گولی لگنے سے زخمی ہونے والے دو اسرائیلی فوجی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے ہیں، یہ فائرنگ شہر الخلیل کے داخلی راستے پر قائم ایک فوجی چوکی پر ہوئی تھی۔ ان ہلاکتوں پر اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ اُنھوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک ’بڑے اور بے مثال آپریشن‘ کا جائزہ لیا ہے، جو ’1967 کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن‘ ہو گا۔
خلاصہ
سعودی عرب پر تازہ حملوں کے بعد برینٹ کروڈ 113.75 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے: صدر ٹرمپ کا الزام
سعودی فوجی اتحاد کا حوثیوں کی جانب سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ
تبت میں زلزلے سے کم از کم 16 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات
لائیو کوریج
مقبوضہ مغربی کنارے میں ’بڑے اور بے مثال آپریشن‘ کا جائزہ لیا ہے: اسرائیلی وزیرِ اعظم کا دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بیان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیا مین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اُنھوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک ’بڑے اور بے مثال آپریشن‘ کا جائزہ لیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ اُنھوں نے ایک ایسے فوجی آپریشن کے منصوبوں کا جائزہ لیا ہے جو ’1967 کے بعد سے اپنی نوعیت کا پہلا (بے مثال) آپریشن‘ ہوگا۔
نیتن یاہو نے یہ منصوبہ الخلیل (ہیبرون) میں ہونے والے اس مسلح حملے کے فوراً بعد پیش کیا جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے تھے۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ اس منصوبے کے نفاذ کے لیے وقت کا تعین کریں گے۔
اے ایف پی کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ اس آپریشن کے پہلے مرحلے میں ’رہائشیوں کو بے دخل کرنا، گھروں کی تلاشی لینا اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا‘ شامل ہوگا۔
دریں اثنا حماس نے، حملے کی ذمہ داری قبول کیے بغیر، اسے ایک ’بہادرانہ کارروائی‘ قرار دے کر سراہا اور اپنے حامیوں سے مزید حملے کرنے کا مطالبہ کیا۔
لسبیلہ میں دو مسافر گاڑیوں میں تصادم میں 12 مسافر ہلاک، 20 سے زائد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہJabbar Baloch
،تصویر کا کیپشنتصادم ایک مسافر کوچ اور ایک مسافر ویگن کے درمیان ہوا۔
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں دو مسافر گاڑیوں میں تصادم کے باعث کم ازکم 12مسافر ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ حادثہ جمعہ کے روز ضلع میں وندر کے قریب پیش آیا۔
فون پر رابطہ کرنے پر ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی نے بتایا کہ تصادم ایک مسافر کوچ اور ایک مسافر ویگن کے درمیان ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسافر کوچ گوادر سے کراچی کی جانب جارہی تھی جبکہ ویگن کراچی سے لسبیلہ کی جانب آرہی تھی۔
،تصویر کا ذریعہJabbar Baloch
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں
انھوں نے بتایا کہ تصادم کی شدت کے باعث دونوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا لیکن مسافر کوچ کے مقابلے میں ویگن کو زیادہ نقصان پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ تصادم کی وجہ سے دونوں گاڑیوں میں سوار کم ازکم 12افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔
ضلعی پولیس کے سربراہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ واقعے کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
،تصویر کا ذریعہJabbar Baloch
بلوچستان میں کوئٹہ اور کراچی کے درمیان اس شاہراہ پر زیادہ حادثات پیش آتے ہیں اور ان میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی وجہ سے اس شاہراہ کو خونی شاہراہ بھی کہا جاتا ہے۔
اس شاہراہ کا شمار بلوچستان میں مصروف ترین بین الصوبائی شاہراہوں میں ہوتا ہے ۔ سرکاری حکام کے مطابق اس شاہراہ پر حادثات کی بڑی وجوہات میں سے ایک اس کا سنگل ٹریک ہونا ہے جبکہ دوسرا اوور سپیڈنگ ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق کوئٹہ اور کراچی کے درمیان اس شاہراہ کو دو رویہ بنانے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔
پیرس کے مضافاتی علاقے میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک،’ واقعے کی تحقیقات دہشت گردی کے پہلو کو مدِنظر رکھ کر کی جا رہی ہیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیرس کے مضافاتی علاقے میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک شخص ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق مبینہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات دہشت گردی کے ممکنہ پہلو کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہیں۔
جمعے کو پیرس کے جنوب مغرب میں واقع ٹراپس اور قریبی لا ویریئر میں گاڑی سے فائرنگ کے کئی واقعات پیش آئے۔ وزیرِ داخلہ لوراں نونیز کے مطابق یہ سلسلہ تقریباً 15 منٹ تک جاری رہا۔ زخمیوں میں 12 سالہ ایک لڑکی بھی شامل ہے۔
حکام کے مطابق حملے کی وجہ تاحال واضح نہیں، تاہم قومی انسدادِ دہشت گردی استغاثہ دفتر کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ واقعہ دہشت گردی سے منسلک معلوم ہوتا ہے۔
ٹراپس کے میئر علی رابح نے کہا کہ ’جمعے کی صبح ایک شخص نے اپنی گاڑی سے ان تمام افراد پر فائرنگ کی جن کا اسے راستے میں سامنا ہوا۔ میئر علی رابح نے کہا کہ ملزم نے اندھا دھند فائرنگ کی اور بظاہر اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔ وہ بڑے پیمانے پر قتلِ عام کرنا چاہتا تھا۔‘
عینی شاہدین کے مطابق مسلح شخص سرمئی رنگ کی رینالٹ کلیو گاڑی میں سوار ہو کر کئی محلوں سے گزرا۔
میئر کے مطابق حملہ آور نے قریبی لا ویریئر جانے سے پہلے ٹراپس میں ایک پٹرول سٹیشن، ایک طبی مرکز اور ایک کھیل کے میدان کے قریب لوگوں کو نشانہ بنایا۔
پولیس کے مطابق مشتبہ شخص کو لا ویریئر میں شہر سے گزرنے والی مرکزی شاہراہ این 10 پر حراست میں لیا گیاہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی چوکی پر حملے میں زخمی ہونے والے دو اسرائیلی فوج دم توڑ گئِے
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جمعے کی صبح گولی لگنے سے زخمی ہونے والے دو اسرائیلی فوجی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق، دو مبینہ مسلح حملہ آور بھی، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فلسطینی تھے، فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں پیش آنے والے اس فائرنگ کے واقعے میں پانچ اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ دیگر تین فوجیوں کی حالت کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع جاری نہیں کی گئی ہے۔
یہ فائرنگ شہر الخلیل کے داخلی راستے پر قائم ایک فوجی چوکی پر ہوئی۔
اس سے قبل ہم نے رپورٹ کیا تھا کہ اس واقعے کے بعد، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے شہر الخلیل کو ’مکمل بندش اور سخت پابندیوں‘ کے تحت لانے کا حکم دیا ہے۔
نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی فوج نے ایک ’بڑے حملے‘ کو ناکام بنا دیا ہے۔
جاری کی گئی ویڈیوز میں شہر الخلیل کے شمالی داخلی راستے پر ایک فوجی چوکی کے قریب اسرائیلی افواج اور فلسطینی مسلح افراد کے درمیان طویل مسلح تصادم دیکھا جا سکتا ہے۔
بریکنگ, اردن کے چرچ میں فائرنگ، چھ افراد ہلاک، 20 سے زائد زخمی
اردن کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے وسطی علاقے میں ایک جنازے کی تقریب کے دوران چرچ میں دو مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جمعے کو صوبہ کرک کے ایک چرچ میں ہونے والے اس حملے میں 20 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔
بتایا جا رہا ہے کہ نامعلوم حملہ آور ایک گاڑی میں آئے اور چرچ کے اندر داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گئے۔
حکومتی ترجمان محمد المومنی کے مطابق علاقے میں امن و امان کے لیے سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔
بی بی سی عربی کے مطابق اردن کے نیم سرکاری ’المملکہ ٹی وی چینل‘ نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ’کرک کے حمود چرچ میں اس وقت ایک جنازے کی آخری رسومات کا سلسلہ جاری تھا جب دو بندوق بردار گاڑی سے باہر نکلے اور جنازے کے اجتماع کے دوران فائرنگ کی۔‘
عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ بندوق سے لیس افراد نے ’چرچ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی، لیکن مقامی لوگوں نے دروازے بند کر کے انھیں اندر جانے سے روک دیا۔‘
پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت، علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکالمے اور سفارت کاری پر زور
،تصویر کا ذریعہMOFA
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بات چیت پر یقین رکھتا ہے جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے 18 اکتوبر کو مصر اور ایران کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطوں کے حوالے سے بتایا کہ اس گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال اور باہمی تعاون پر بات چیت کی گئی۔
ترجمان کے مطابق مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی۔
ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت اور یکجہتی کا اعادہ بھی کیا۔
ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب پر مشتمل ریجنل فور (آر-4) تعاون کے فریم ورک کے تحت ہونے والے تعاون کا جائزہ لیا اور علاقائی امور پر رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس کے آئندہ اجلاس کے انعقاد کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بغداد میں جاری اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس پر تبادلۂ خیال کیا۔
انھوں نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق یہ رابطے سفارتی روابط، علاقائی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
یمن کے قریب مبینہ حملے کا شکار کشتی میں سوار 14 انڈین شہری محفوظ ہیں، انڈین سفارتخانے کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
یمن میں انڈیا کے سفارتخانے نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ بحیرۂ احمر میں مبینہ حملے کا شکار ہونے والی کشتی میں سوار 14 انڈین شہری محفوظ ہیں اور وہ یمن کے مغربی شہر الحدیدہ کے قریب موجود ہیں۔
یاد رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 22 اکتوبر کو جزیرہ جبل زقر کے قریب ایک کشتی پر حملہ ہوا ہے جس میں 14 انڈین شہری سوار تھے۔ حوثیوں نے اس حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا تھا۔
انڈین سفارتخانے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تمام 14 انڈین شہری محفوظ ہیں اور الحدیدہ کے علاقے میں موجود ہیں۔
انڈین سفارتخانے کے مطابق ان کی خیریت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
،تصویر کا ذریعہ@IndiaInYemen
اس سے قبل سفارتخانے نے کہا تھا کہ وہ واقعے کے حالات اور حقائق جاننے کے لیے مختلف فریقوں سے رابطے میں ہے۔
سفارتخانے کا کہنا ہے کہ 22 اکتوبر کو یمن کے ساحل کے قریب پیش آنے والے اس واقعے کی مزید تفصیلات جاننے کی کوششیں جاری ہیں، جس میں بظاہر ایک کشتی پر انڈین شہری سوار تھے۔
یاد رہے کہ رواں برس جولائی سے حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں ان جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جنھیں وہ سعودی عرب سے منسلک قرار دیتے ہیں۔
گروپ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں صرف سعودی جہازوں پر لاگو ہوتی ہیں اور آبنائے باب المندب، جو بحیرۂ احمر کا جنوبی دروازہ ہے، بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بدستور کھلی ہوئی ہے۔
تائیوان میں شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کا الرٹ، لہروں میں بہنے سے ایک شخص ہلاک، سینکڑوں پروازیں منسوخ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنچیمپی حالیہ عرصے میں آنے والے کئی شدید طوفانوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے
طاقتور طوفان چیمپی تائیوان کے شمال مشرقی ساحل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ تائیوان کے حکام کے مطابق سمندری لہروں میں بہہ جانے سے ایک شخص ہلاک جبکہ 171 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ طوفان کے سبب ایک ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
طوفان کی شدت کے باعث وہاں کے سکول اور دفاتر بند کر دی گئی ہیں، جبکہ پورے مشرقی ایشیا میں سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ شمال مشرقی علاقوں میں ہفتے کے روم تک 90 سینٹی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے اور اس دوران تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
سینٹرل ویدر ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ بارش کی شدت ہفتے کی صبح اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے اور ہفتے کی شام تک شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ حکام نے لوگوں کو ساحلی اور پہاڑی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
طوفان کے پیش نظر جمعے کو تائیوان کے تقریباً تمام اضلاع اور شہروں میں دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے۔
شدید موسم کے باعث تائیوان کی سٹاک ایکسچینج بھی بند کر دی گئی۔ تاہم مغربی ساحل کے قریب واقع کِن مین کاؤنٹی میں معمول کے مطابق کام اور تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں۔
جمعے کی سہ پہر طوفان کے جھکڑوں کی رفتار 191 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ رواں ہفتے اپنے عروج پر چیمپی کو اس سال دنیا کا سب سے طاقتور طوفان قرار دیا گیا تھا۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق طوفان تائیوان کے شمال مشرقی حصے اور جاپان کے جنوبی جزائر اوکیناوا کے قریب سے گزرنے کے بعد چین کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں رہے گا اور پھر شمال مشرق کا رخ کرتے ہوئے جاپان کے مرکزی جزیرے کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
تائیوان، ہانگ کانگ اور جاپان کے محکمہ موسمیات کی پیش گوئی ہے کہ طوفان کا مرکز تائیوان سے ٹکرائے بغیر گزر جائے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طوفان کی رفتار سست پڑ گئی یا اس کا رخ تبدیل ہوا تو اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب جاپان کے جنوبی صوبے اوکیناوا میں تقریباً 8,400 گھروں کی بجلی منقطع ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ملک کی چار فضائی کمپنیوں کی 160 سے زیادہ پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
چیمپی حالیہ عرصے میں آنے والے کئی شدید طوفانوں میں سے ایک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں سپر ایل نینو کے باعث سمندر کے درجہ حرارت میں اضافہ طوفانوں کی شدت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
شوکت نواز میر مبینہ گرفتاری کیس، عدالت نے ایس ایچ او دھیرکوٹ کو 29 اکتوبر کو طلب
،تصویر کا ذریعہAWAMI ACTION COMMITTEE/FACEBOOK
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری کے مقدمے میں عدالت نے تین درخواستیں منظور کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
یاد رہے کہ 30 جون 2026 کو عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا تھا کہ شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ کے علاقے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل رہی۔
شوکت نواز میر کی بہن یاسمین میر کی جانب سے دائر ان درخواستوں پر ان کے وکیل شاہد علی اعوان نے پیروی کی۔
شاہد علی اعوان نے سماعت سے متعلق بی بی سی اردو کو بتایا کہ پہلی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شوکت نواز میر کو تھانہ دھیرکوٹ کے ایس ایچ او کی موجودگی میں گرفتار کیا گیا، ان کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بھی شوکت نواز میر کو ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ایس ایچ او کو طلب کرکے وضاحت لی جائے کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا واقعہ کیا تھا اور آیا شوکت نواز میر کو پولیس نے گرفتار کیا تھا یا نہیں۔
دوسری درخواست میں ایک یو ایس بی میں محفوظ مواد کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔
وکیل شاہد علی اعوان کے مطابق اس مواد میں شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری کی ویڈیو اور اُس وقت کے وزیرِ قانون میاں عبدالوحید کا مبینہ بیان شامل ہے، جس میں انھوں نے شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ سے گرفتار کیے جانے کی کارروائی کو درست قرار دیا تھا۔
اس درخواست کو بھی عدالت نے منظور کرتے ہوئے یو ایس بی ڈیوائس کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
وکیل شاہد علی اعوان نے بتایا کہ تیسری درخواست سمیت تینوں درخواستوں پر حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے وکلا نے اعتراضات اٹھائے تھے، تاہم عدالت نے یہ اعتراضات مسترد کرتے ہوئے درخواستیں منظور کر لیں۔
عدالت نے ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو 29 اکتوبر کو طلب کر لیا ہے تاکہ شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری سے متعلق معاملے پر وضاحت حاصل کی جا سکے۔
وکیل کے مطابق یاسمین میر کے بھائی گل نواز میر کو بھی اس مقدمے میں درخواست گزار بنانے کی درخواست منظور کر لی گئی ہے۔
فوجی چوکی پر حملے میں دو مبینہ حملہ آوروں کی ہلاکت، نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے محاصرے کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے فوجی چوکی پر حملے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کو مکمل طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے یہ فیصلہ الخلیل میں اسرائیلی چوکی کے داخلی راستے کے قریب ایک فوجی چوکی پر ہونے والی فائرنگ کے بعد کیا گیا، جس میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق، جمعے کے روز الخلیل میں ’فرش الہویٰ‘ کے داخلی راستے کے قریب ایک فوجی چوکی پر فائرنگ کرنے کے شبے میں اسرائیلی فورسز نے دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔
طبی عملے نے بتایا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں شہرِ الخلیل کے قریب ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں کم از کم پانچ اسرائیلی زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کے مطابق، مختصر تعاقب کے بعد اسرائیلی فوج نے ان دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا جن پر اس حملے میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔
اسرائیلی فوج نے شہرِ الخلیل اور اس کے آس پاس کے کئی دیہات کا محاصرہ کر لیا ہے۔ ایک بیان میں فوج نے دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے ’دو دہشت گردوں کو ہلاک‘ کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ میں نے ابھی وزیر دفاع، آئی ڈی ایف (IDF) کے چیف آف اسٹاف، آئی ایس اے (ISA) کے ڈائریکٹر، قومی سلامتی کے مشیر اور آئی ڈی ایف کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کے ساتھ مل کر سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔
اُنھوں نے الزام لگایا کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حماس بے گناہ شہریوں کے قتلِ عام کے لیے ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی، جس کی تصدیق بڑی مقدار میں برآمد ہونے والے اسلحے اور گولہ بارود سے ہوتی ہے۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’میں نے آئی ڈی ایف اور سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر شہرِ ہیبرون (الخلیل) کا محاصرہ کر لیں اور یہودیہ اور سامریہ کی جانب سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کریں۔‘
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی چوکی پر فائرنگ میں پانچ اہلکار زخمی، آئی ڈی ایف کا دو مبینہ حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں اس کی چوکی پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق الخلیل کے علاقے فرش الہوا کے داخلی راستے کے قریب واقع ایک فوجی چوکی پر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے۔
طبی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والوں میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔
اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق مختصر تعاقب کے بعد اسرائیلی فوج نے حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔
اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے الخلیل شہر اور اس کے گرد و نواح کے متعدد دیہات کا محاصرہ کر لیا ہے۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ’دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے‘ جبکہ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے اہلکار علاقے میں تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حالات معمول پر آنے کے بعد تیل کی طلب میں یومیہ 30 لاکھ بیرل اضافہ ہو گا: آرامکو سربراہ
،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
سعودی عرب کی سرکاری تیل اور گیس
کی کمپنی آرامکو کے صدر اور چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے پیش
گوئی کی ہے کہ خطے میں حالات معمول پر آنے کے بعد تیل کی طلب میں یومیہ تقریباً 30
لاکھ بیرل اضافہ ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس میں یومیہ 20 لاکھ بیرل اضافی کھپت اور بحران کے
دوران مختلف ممالک کی جانب سے استعمال کیے گئے ذخائر کی بحالی کے لیے مزید 10 لاکھ
بیرل یومیہ شامل ہوں گے۔
العربیہ بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امین ناصر کا کہنا ہے کہ خطے
میں جنگ سے پیدا ہونے والے بحران کے آغاز سے اب تک تقریباً تین ارب بیرل تیل کی
سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
آرامکو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سٹریٹجک ذخائر سے تیل جاری
نہ کیا جاتا، چین کی سمندری راستے سے تیل کی درآمدات میں کمی نہ ہوتی اور ایسٹ-ویسٹ
پائپ لائن سپلائی کو برقرار رکھنے میں کردار ادا نہ کرتی تو تیل کی قیمتیں کہیں
زیادہ بلند سطح تک پہنچ سکتی تھیں۔
تیل کی برآمد کے راستوں کے بارے میں ناصر نے کہا کہ آرامکو ایسٹ۔ویسٹ لائن
کی استعداد موجودہ 70 لاکھ بیرل یومیہ سے بڑھا کر ایک کروڑ بیرل یومیہ کرنے پر کام
کر رہی ہے، جبکہ اضافی برآمدی راستوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا
کہ ان منصوبوں پر انجینیئرنگ کا کام بحران کے ابتدائی دنوں ہی میں شروع کر دیا گیا
تھا۔
انھوں
نے مزید کہا کہ کمپنی اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر سعودی عرب سے باہر خاص طور
پر اپنی سب سے بڑی منڈی ایشیا میں تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو دوگنا کرنے پر کام
کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد سپلائی کو مزید لچک پیدا کرنا اور اسے بہتر
بنانا ہے۔
امریکی افواج آبنائے ہرمز سے 700 کلومیٹر دور ہیں، ان کے جہاز اس علاقے میں دکھائی نہیں دیتے: پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر
علی عظمایی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’امریکی
اب خلیج فارس میں موجود نہیں۔‘
بی بی سی فارسی کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ’آج امریکی خلیج فارس میں موجود نہیں اور
آبنائے ہرمز سے 600 سے 700 کلومیٹر دور ہیں، جبکہ اس علاقے میں ان کے جہاز دکھائی
نہیں دیتے۔‘
علی عظمایی کا مزید کہنا ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں اب امریکہ کی کوئی
جگہ نہیں رہی۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد
کیا تھا کہ وہ امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں بڑھانے کے لیے بارودی
سرنگوں کے دھماکوں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے بارے میں ’جھوٹی خبریں گھڑ‘ رہا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب آبنائے ہرمز سے
زیادہ تیل گزر رہا ہے، اور اسی وجہ سے ایران تیل کی قیمتیں بڑھانے کے لیے ہر ممکن
اقدام کر رہا ہے۔
آج عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 113 ڈالر سے اوپر چلی
گئی جو گذشتہ پانچ ماہ کے دوران اس جنس کی بلند ترین سطح ہے۔
امریکہ نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام پر اپنے ٹیکس دہندگان کے 11 ارب ڈالر خرچ کیے: عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ
نے گذشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کے لیے اپنے ٹیکس
دہندگان کے 11 ارب
ڈالر خرچ کیے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے دفاع میں امریکہ نے خود
اسرائیل سے بھی زیادہ انٹرسیپٹر میزائل داغے ہیں۔ اُن کے مطابق یہ کوئی باہمی
فائدے پر مبنی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا تعلق ہے جس میں ایک فریق دوسرے پر
غیر متناسب حد تک انحصار کرتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہ@araghchi
سعودی عرب پر تازہ حملوں کے بعد برینٹ کروڈ 113.75 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنسعودی تیل تنصیب پر حملے کی فائل فوٹو
سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں اور اس کے نتیجے میں مشرقِ
وسطیٰ سے توانائی
کی فراہمی میں مزید خلل کے خدشات کے باعث جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں میں مزید
اضافہ ہوا ہے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر (مستقبل کے) معاہدوں کی قیمت 0.5 فیصد
اضافے کے ساتھ 113.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس
انٹرمیڈیٹ خام تیل کے فیوچر
معاہدوں کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 100.13 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
گذشتہ روز (22 اکتوبر) کو برینٹ خام تیل چار مئی کے بعد سے اپنی
بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔
یاد رہے کہ تیل تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد سعودی عرب کی
سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے جمعرات کو ظہران شہر میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر
کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے
مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ
ملک اور یمن میں قائم حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی۔
مالیاتی ادارے آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے جمعہ کو جاری کیے گئے ایک نوٹ میں کہا کہ تیل
و گیس کی منڈیاں خلیج فارس میں کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات پر بہت زیادہ فکر مند ہیں، کیونکہ ایسی صورتحال
تیل کی سپلائی کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ’کشیدگی میں دوبارہ اور مزید اضافہ اب
سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر حالات مزید خراب نہ
بھی ہوں، تب بھی اس امکان کے باعث تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خطرات کا
نمایاں عنصر شامل رہنے کا امکان ہے۔‘
حوثیوں اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی
حمایت کرنے والے سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان جھڑپیں اس وقت سے جاری ہیں جب
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع اہم تجارتی بحری
گزرگاہ باب المندب کی جانب پیش قدمی کی ہے۔
ایکس ایس ڈاٹ کامکے تجزیہ کار لنہ ٹران نے کہا کہ اس وقت
نگرانی کے اہم عوامل میں سپلائی میں حقیقی خلل کی شدت اور معمول کی سرگرمیاں بحال
کرنے میں درکار وقت شامل ہیں، کیونکہ یہی عناصر طے کریں گے کہ مارکیٹ سپلائی کے
خطرات کے عوض کتنا اضافی پریمیم ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ان کے بقول ’اگر حملے جاری رہے اور ترسیل میں تاخیر کا سبب
بنے، تو بلند قیمتوں کو مزید مضبوط بنیاد حاصل ہو جائے گی۔‘
دوسری جانب لیبیا میں حمادہ اور تہارہ آئل فیلڈز سے زاویہ
بندرگاہ تک جانے والی تیل پائپ لائن کا ایک والو بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے
میں دونوں فیلڈز میں پیداوار کم ہو گئی ہے۔
ایران امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے: صدر ٹرمپ کا الزام
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ ایران امریکی
وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر
رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں
کہا ہے کہ ایران ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ امریکہ میں مڈ ٹرم انتخابات سے قبل تیل
کی قیمتیں اوپر چلی جائیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے لیے ایرانی حکام جعلی حملوں، بارودی
سرنگوں اور دیگر واقعات کے دعوے بھی کر رہے ہیں۔
انھوں مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے اس وقت ایران تنازع کے آغاز
سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل گزر رہا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی
دی ہے کہ اگر امریکی فوج آبنائے ہرمز میں جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کا سلسلہ
جاری رکھتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنی ویب سائٹ ’سپاہ نیوز‘ پر شائع ہونے والے ایک
بیان میں کہا ہے کہ ’امریکی
فوج کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ اپنی
موجودہ راہ چلتے رہے تو تنازع خطے میں موجود اس کے اڈوں تک پھیل جائے گا۔‘
یوکرین کا روس پر کلسٹر وار ہیڈز استعمال کرنے کا الزام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنیوکرینی ایمرجنسی سروسز کئیو پر روس کی جانب سے داغے گئے میزائل کے ٹکرے زمین سے نکالنے کے لیے کرین کا استعمال کر رہے ہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے رات بھر جاری رہنے والے حملوں میں کلسٹر وار ہیڈز استعمال کیے ہیں۔
یوکرین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق کئیو اور دیگر متعدد مقامات پر ہونے والے حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ پانچ بچوں سمیت 34 افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب روس نے امریکی شہری اسٹیفن ہبارڈ کو رہا کیا، جبکہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ وٹکوف نے بعد ازاں پوتن کو ’انسان دوست‘ قرار دیا۔
زیلنسکی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’گذشتہ رات روسیوں نے کئیو کے خلاف دیگر ہتھیاروں کے ساتھ کلسٹر وارہیڈز سے لیس تین بیلسٹک میزائل بھی استعمال کیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان میزائلوں کی خاص بات یہ ہے کہ ہدف کے قریب پہنچ کر فضا میں پھٹتے ہیں اور تقریباً 400 میٹر قطر کے علاقے میں ہر چیز کو نشانہ بناتے ہیں۔
کلسٹر بموں پر 2008 میں منظور ہونے والے کنونشن آن کلسٹر میونیشنز کے تحت 100 سے زیادہ ممالک پابندی عائد کر چکے ہیں۔ یہ گولہ بارود ایک وسیع علاقے میں چھوٹے بم نما ذرات بکھیرتا ہے، جو شہری علاقوں کو بھی بلاامتیاز نشانہ بنا سکتے ہیں۔
تاہم روس اور امریکہ دونوں اس کنونشن کے فریق نہیں ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور برطانیہ سمیت سات ممالک کے وزارئے خارجہ کا استنبول میں اجلاس: خطے میں امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا، وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ
(23 اکتوبر) کے روز ترکی کے شہر استنبول میں سات ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس
ہو گا۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا
ہے کہ ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاقان فیدان کی دعوت پر نائب
وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار 23 اکتوبر کو استنبول آر فور ممالک
(پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے آر فور ممالک کے اجلاس کے بعد ای تھری ممالک جس
میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں کی شرکت کے ساتھ آر فور + ای تھری وزرائے
خارجہ کا مشترکہ اجلاس منعقد ہو گا۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس نوعیت کے فارمیٹ میں سات ممالک کا
یہ پہلا اجلاس ہو گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اجلاس میں خطے کی اہم پیش رفت پر غور کیا
جائے گا۔ اس کے علاوہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے
مربوط سفارتی حکمتِ عملیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اپنے
ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
’پاکستان
کی شرکت تعمیری سفارت کاری، علاقائی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اس کے
مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔‘
تبت میں زلزلے سے کم از کم 16 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
مقامی رپورٹس کے مطابق تبت کے دارالحکومت لہاسا کے شمال مشرق میں واقع ناگو کے علاقے میں 7 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔ یہ ایک وسیع اور کم آبادی والا پہاڑی خطہ ہے۔
چینی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک کم از کم 16 افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں سیکڑوں گھر منہدم ہو گئے ہیں۔
سڑکوں اور بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے، جبکہ متاثرہ دیہات سطح سمندر سے تقریباً 4,800 میٹر (15,750 فٹ) کی بلندی پر واقع ہیں۔
یہ 2023 کے بعد علاقے میں آنے والا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ ہے۔ 2023 میں چین کے صوبے گانسو میں 6.2 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں 120 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے جاری کیے گئے ایک بیان میں صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ ’زلزلے کے نتیجے میں ملبے تلے پھنسے افراد کی تلاش اور انھیں نکالنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جائے اور جانی نقصان کو کم سے کم رکھا جائے۔‘
اب تک دستیاب زیادہ تر معلومات چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کی جانب سے مقامی حکام اور ہنگامی خدمات کے حوالے سے جاری کی گئی ہیں۔ تبت کے بارے میں معلومات کے ذرائع محدود ہیں کیونکہ 1950 کی دہائی میں چین کے الحاق کے بعد سے اس علاقے پر سخت حکومتی کنٹرول برقرار ہے۔
ایلون مسک نے یوکرین کے لیے سٹارلنک کی انٹرنیٹ سروس بحال کر دی ہیں: صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایلون مسک نے یوکرین کے لیے سٹارلنک کی انٹرنیٹ سروس بحال کر دی ہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے اس شکوے کے بعد سامنے آیا تھا کہ فوجی استعمال کے لیے مسک کے سیٹلائٹ پر مبنی سٹارلنک نظام کے ذریعے فراہم کی جانے والی مختص سٹار شیلڈ نیٹ ورک کی کنیکٹیویٹی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی ہے۔
مسک اس سے قبل اس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ سروس کی رفتار میں کمی کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا۔ اس کمی سے یوکرین کی روس پر حملوں کے لیے ڈرونز استعمال کرنے اور اپنے دفاع کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
ٹرمپ نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا انھوں نے مسک کو سروس پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے فون کیا تھا، تاہم اس بارے میں پوچھے جانے پر انھوں نے کہا: ’مختصر بات یہ ہے کہ انھوں نے اسے بحال کر دیا۔‘
ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل اس بات کی تردید کر چکی ہے کہ اس نے مسک کی کمپنی کو رسائی محدود کرنے کی ہدایت دی تھی۔